امرجلیل کی4سال پرانی ویڈیوپردائیں بازوکاسخت ردعمل

SAMAA | - Posted: Apr 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سندھی مصنف امر جلیل کے 4 سالہ پرانے مکالمے کی 2 منٹ اور 18 سیکنڈ کی ویڈیو پر دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور ایک رہنما نے اُن کے سر کی قیمت لاکھوں روپے مقرر کردی ہے۔ اس ویڈیو میں امر جلیل اپنی ایک مختصر کہانی پڑھ رہے ہیں جو کہ پاکستان میں آزادی اظہار نہ ہونے سے متعلق ہے۔ یہ ویڈیو سندھ لٹریچر فیسٹول کی ہے۔

اردو سب ٹائٹل کےساتھ سندھی زبان میں ان کے مکالمے کا یہ حصہ دوسرے سندھ لٹریچر فیسٹول کے مرکزی سیشن میں اکتوبر2017 میں پڑھا گیا۔ اس حصے کو 30 مارچ 2021 کو ٹویٹر پر پوسٹ کیا گیا۔

سیشن کی موڈریٹر نے امرجلیل سے پوچھا کہ وہ کس موضوع پر اطمینان کے ساتھ بات کرسکتے ہیں۔انھوں نے جواب دیا کہ یہ غلط ہے کہ آزادی رائے پر کوئی بندش نہیں اور وہ جو چاہیں وہ کہہ سکتےہیں۔

امرجلیل نے سوال کیا کہ آزادی اظہار کہاں ہے؟۔ان کا کہنا تھا کہ شرکا میں بہت سے لوگ موجود ہیں جنھوں نے نوٹ بکس تھامی ہوئی ہیں اور وہ ان کے الفاظ لکھ رہے ہیں اور بعد میں ان میں اضافہ کرکے معانی تبدیل کردیں گے۔

انھوں نے برٹرینڈ رسل کی تحریر’ میں کرسچن کیوں نہیں ہوں‘ کا تذکرہ کیا اورشرکا سے کہا کہ اگرانھوں نے اس تحریرکونہیں پڑھا تووہ اس کوضرورپڑھیں۔ انھوں نےپوچھا کہ کیا پاکستان میں کسی کےلیے ایسا کچھ لکھنا ممکن ہے؟ انھوں نے ضیاء دور میں سامنے آنےوالی ایسی قوتوں کا حوالہ دیا جن کی وجہ سے ایسے موضوعات پر بات کرنا ممکن نہیں۔ان کے مطابق منافقت پروان چڑھی ہے۔

خشونت سنگھ کی کتاب’ اینڈ آف انڈیا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے امر جلیل نے کہا کہ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ بھی  اس جیسی کتاب لکھیں، خصوصی طورپر بنگلادیش کی علیحدگی کے تناظر میں۔

ان کے کچھ دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ پریشان نہ ہوں اور وہ انھیں کوئی غیرملکی پبلشرڈھونڈ دیں گے۔انھوں نے جواب دیا کہ یہ اچھی بات ہے لیکن میں غیرملک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کےلیے بہت بوڑھا ہوچکا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوالات ہوتے ہوئے بھی اگر وہ نہیں پوچھتے اورخاموش بیٹھتے ہیں تو یہ منافقت ہوگی۔امر جلیل نے کہا کہ ان کی عمر  80 برس سے زائد ہے اوروہ پاکستان میں جمہوریت کی صورتحال کوجانتے ہیں اور یہ بھی کہ ان کو کتنی آزادی اظہار حاصل ہے۔

موڈریٹر نے امرجلیل سے درخواست کی وہ اپنی مختصر کہانی پڑھیں جس میں کہ وہ خالق سے موجودہ حالات پر سوالات کرتےہیں۔امرجلیل کی تحریردراصل مقدس ہستی سے گفتگو کا یکطرفہ ادبی انداز ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ قبلہ ایاز نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ انھوں نے امر جلیل کی ویڈیو نہیں دیکھی ہے اس لیے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے اور اگر توہین مذہب ہوئی بھی  ہے توعدالتیں سزا دینے کی مجاز ہیں۔

دائیں بازو کی جماعتیں

مصنف امر جلیل کی یہ ویڈیو 4 سال پرانی ہے، جس کو 30 مارچ کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔ اس کے بعد ان کے حامی اور مخالفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر بیانات اور الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے متعدد شاعروں اور ادیبوں کی جانب سے بھی ان کی حمایت میں پوسٹ کی گئی ہیں، تاہم مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے انہیں توہین مذہب کا مرتکب قرار دے کر سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کی دائیں بازو کی جماعتوں کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کا مکالمہ گستاخانہ ہے۔

جمیعت علمائے اسلام ( فضل الرحمان گروپ) کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات محمد سمیع سواتی سے جب سماء ڈیجیٹل نے اس معاملے پر ان کا مؤقف جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی جانب سے امر جلیل کودھمکیاں نہیں دی گئیں، بلکہ ان کی جماعت اس پر قانونی چارہ جوئی کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

واقعہ کو طول اس وقت ملا جب تحریک لبیک پاکستان نے بھی امر جلیل کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ اور ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔ تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان نے متنازعہ مکالمے پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امر جلیل کو سزا دلوانے کیلئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

ہفتے کے روز عمر کوٹ سےتعلق رکھنے والے پیر سرہندی کی ایک ویڈیوسوشل میڈیا پر جاری کی گئی۔ اس ویڈیو میں انھیں ایک مشتعل مجمع کے سامنے امرجلیل کے خلاف بات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

فیس بک سے اقتباس

صدارتی ایوارڈ یافتہ ادیب نقاد ایم حمید شاہد نے فیس بک پر اپنے اکاؤنٹ پر اس حوالے سے لکھا ہے کہ “افسوس ہم نے اپنے خدا کے تصور کو کاٹ پیٹ کر اتنا چھوٹا کرلیا ہے کہ لفظ اور دانش کی حرمت قائم کرنے والے امر جلیل کی رمزیہ باتیں بھی کھلنے لگی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو امر جلیل نے کہا ، وہ ایک تخلیق کار کی طرف سے بات کہنے کا قرینہ ہے اور یہ قرینہ اس روایت کا حصہ ہے جو ہمارے ہاں صوفیوں، شاعروں اور لکھنے والوں کے ہاں پہلے سے موجود ہے، میرا خیال ہے کہ ہمیں امر جلیل کی نہیں بلکہ اپنے اپنے ایمان کی خبر لینی چاہیے”۔

ویڈیو کتنی پرانی ہے؟

یہاں یہ بات غیر واضح ہے کہ یہ 4 سال پرانی ویڈیو اب کیوں سامنے آئی۔اگر یہ مکالمہ اتنا متنازعہ تھا تو اس پر پہلے کوئی ردعمل سامنے کیوں نہیں آیا۔ یہ متنازع ویڈیو سال 2017 میں ہونے والے سندھ لٹریچر فیسٹول کی ہے، جس میں امرجلیل اسٹیج پر بیٹھ کر افسانوی طرز میں مکالمہ کر رہے ہیں اور سننے والے تالیاں بجا رہے ہیں۔ امر جلیل کے حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی مکمل ویڈیو کی بجائے ویڈیو کا ایک کلپ نکال کر شیئر کیا گیا ہے۔

ایسی تحریروں کی طویل تاریخ ہے

 برصغیر میں ایسے دینی اور ادبی مکالموں کی قدیم روایات موجود ہیں۔ سال 1924 میں علامہ اقبال نے نظموں کا مجموعہ ’بانگ درا‘ جاری کیا۔اس میں ان کی مشہور ’نظم شکوہ‘ اور ’جواب شکوہ‘ موجود ہیں جس میں انھوں نے خدا کو مخاطب کیا ہے۔

انگریزی شاعر ملٹن کی طرح ، جس نے مشہور نظم ’پیراڈائز لوسٹ‘ لکھی تھی، علامہ اقبال نے بھی ’شکوہ ‘ اور ’جواب شکوہ‘ لکھی جس میں اللہ کے مخلوق سے متعلق معاملات کی وضاحت کی گئی۔ ناصر محمود اور نمل کے حضرت عمر نے سال 2019 میں شائع ہونے والے اپنےتحقیقی مقالے میں اس کا ذکر کیا جس کو جرنل آف ہیومینیٹیس اینڈ سوشل سائنسز میں شامل کیا گیا۔

علامہ اقبال نے اس کو مسلمانوں کو درپیش مشکلات اور شکایات کے نظریہ کےمطابق تحریر کیا تھا۔’ شکوہ ‘ میں اسلام کی عظمت اور تاریخ میں اس کا کردار بیان کیا گیا۔ لیکن اس میں جدید دور میں مسلمانوں کودرپیش مسائل کی بھی نشان دہی کی گئی۔’شکوہ‘ میں شاعر کی جانب سےمسلمانوں کے لیےاللہ سے مدد طلب کی گئی اور’جواب شکوہ ‘میں شاعر نے اللہ کی جانب سے ان شکایات کا جواب دیا۔

یہ سب غیرمعمولی نہیں تھا۔پیغمبروں نے بھی اللہ سےشکایات کی تھیں کیوں کہ اللہ ہی سب کی شکایات سن کر حل کرنے والا ہے۔

امر جلیل کون ہیں؟

سندھ لینگویج اتھارٹی کے شائع کردہ انسائیکلوپیڈیا سندھیانا کے مطابق امرجلیل روہڑی میں 8 نومبر 1936 کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عبدالجلیل ولد عبدالغنی قاضی ہے، مگر انہوں نے امر جلیل کے قلمی نام سے شہرت حاصل کی۔

پرائمری تعلیم کراچی میں صدر ٹاؤن کے رتن تلاؤ سرکاری اسکول سے حاصل کی، بعد ازاں نواب شاہ کا رخ کیا اور وہاں سے بی اے کے بعد دوبارہ کراچی آئے اور جامعہ کراچی سے معاشیات میں ماسٹرز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے تاریخ میں بھی ماسٹرز کیا۔ زمانہ طالب علمی میں وہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

ان کی پہلی کہانی “اندرا” سال 1956 میں نواب شاہ سے نکلنے والے سندھی زبان کے رسالے “ادا” میں شائع ہوئی تھی۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کیلئے بھی متعدد اردو اور سندھی زبان میں ڈرامے لکھے، جب کہ ان کے کالم ہلال پاکستان، ہفت روزہ الفتح، اخبار جنگ اور ڈان میں بھی شائع ہوئے۔ ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ سال 1968 میں شائع ہوا۔

ان کے متعدد ناولوں نے بھی خاصی شہرت حاصل کی، جس میں “تاریخ کا کفن” اور “میں نہ رہوں گا” سر فہرست ہیں۔ انہیں کئی ادبی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ جب کہ انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور آرٹس کونسل کراچی کی جانب سے 2 سال قبل انہیں “لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ” بھی دیا گیا۔

امر جلیل سندھ لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین اور بعد میں اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی رہے۔ وہ کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان بحیثیت ریجنل مینجر بھی وابستہ رہے تاہم بعد ازاں انہیں اپنی تحریروں کے باعث استعفیٰ دینا پڑا۔ وہ کچھ عرصہ اسلام آباد کی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل ٹیکنالوجی کے بانی ڈائریکٹر اور بعد میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدوں پر بھی رہے۔

اپنی تحریروں میں اکثر انہوں نے مختلف ادوار کی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، یہ ہی وجہ ہے کہ وہ سیاست اور حکومتوں کے زیر عتاب بھی رہے۔

ملک بھر کے مختلف حصوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ادیب ، شاعر ، دانشور ، انسانی حقوق کے کارکن ، وکلاء، صحافی ، ڈاکٹر ، اساتذہ ، طلباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے پریس ریلیز کے ذریعے حالیہ  دنوں میں ملک کے معروف ادیب  ،کالم نگار اورمفکرامر جلیل کو دی جانے والی دھمکیوں اور اُن کےخلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے کی بھر پور مذمت کی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستِ پاکستان،وفاقی حکومت اورحکومتِ سندھ امر جلیل کوفوری طور تحفظ فراہم کرے اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنےپرتشددعناصر کےخلاف فوری کارروائی اوران کو گرفتار کرے۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کو لاحق خطرات کو محسوس کرتے ہوئے  اس پرانتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ امرجلیل کے خلاف حالیہ نفرت آمیز پروپیگنڈے کو اسی تناظر میں دیکھتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان میں تشدد ، انتہاپسندی   ، لاقانونیت  اور سماجی انتشار کی سازش اور پاکستان خاص طور پر سندھ کےروادار تشخص کو پامال کرنے  کی مذموم کوشش ہےاوریہ پاکستان میں دہشت گردی کے نئے محاذ کھولنے کے مترادف ہے ۔

مذمتی بیان میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیام پاکستان میں سندھ کےبنیادی کردارکےتناظر میں یہ توقع اور مطالبہ کرتےہیں کہ اس طرح کی سازشوں کےذریعےسندھ کےعوام کوپاکستان بنانےکی سزا نہیں دی جائے اورایسی سازشیں کرنے والےافراداور گروہوں کی کسی بھی شکل اورقسم کی پشت پناہی اورحوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی۔پاکستان کےعوام تمام ریاستی ادارے اور منتخب ایوان سندھ کے تاریخی روادار تشخص کے بارے میں ناصرف  آگاہ ہیں بلکہ سندھ کے اس روادار تشخص کی مثالیں پاکستان، ایشیا اور دنیا بھر میں دی جاتی ہیں تاہم حالیہ وقتوں میں دیکھا گیا ہے کہ مذہب  کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والے گروہوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ہےاور ان کی شرانگیزی سے سول سوسائٹی اور دانشوروں کو ہراساں کرکے یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ ملک میں آزادی اظہار اور قانون کی حکمرانی کے دروازے بند ہیں۔

ہم  سندھی ، اردو اور انگریزی زبان کے معروف مصنف، ملک کے بطل ِ جلیل ، امر جلیل  کے خلاف نفرت انگیزپروپیگنڈے کومندرجہ بالا تناظرمیں دیکھ رہے ہیں۔امرجلیل ایک نڈراور بےباک مصنف ہیں جنہوں نے ہر دور کے طاقتور استحصالی طبقے کو اپنے قلم کے ذریعے للکارا ہے  اور سچ کہنے کے لیے کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔  انہوں نے  ہمیشہ  مذہب ، سیاست اور سماج کے نام پر بدگمانیوں اور ابہام پھیلانے کے خلاف آواز کی ہے۔ ان کے خلاف حالیہ سازش سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان میں آزادی ِ اظہار کو  پرتشدد طریقوں کو روکا جاسکتا ہے ۔  ہم ان کے خلاف ہونے والی اس سازش کو  سماج کی اجتماعی دانش پر حملہ تصور کرتے ہیں۔

  ہم ان تمام کوششوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں جوتوہین مذہب کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کو آلہ کار بناکر آزادی ِ اظہار سلب کرنےکےلیےکی جاتی ہے، تاکہ آزادی اظہارپر ایک مخصوص انتہا پسندانہ زاویہ مسلط کیا جاسکے۔  ہم حکومتِ پاکستان ، حکومتِ سندھ ، سپریم کورٹ  ، سندھ ہائی کورٹ ، وفاقی اور صوبائی وزارتِ قانون، وزارتِ مذہبی امور، وزارتِ انسانی حقوق اور تمام متعلقہ اداروں بالخصوص نیکٹا سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ  مندرجہ ذیل مطالبات پر فوری طور پرغور اورضروری اقدام کیے  جائیں ۔

۔1۔ عمر کوٹ   میں امر جلیل کو قتل کرنے کے لیے  سر کی قیمت مقرر کرنے والے شر پسندافراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے کیونکہ  یہ سماج میں دہشت اور انتشار پھیلانے کی براہ راست کوشش ہے ۔

۔2۔ ایسے افراد اور گروہوں کے خلاف  سائبر کرائم  ایکٹ کے تحت تفتیش کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے جنہوں نے 2017 کی ایک ویڈیو کو  سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا اور اسے انتشار پھیلانے کے لیے سماجی رابطے کے ذرائع ، سوشل میڈیا پر نشر کیا۔

۔3۔ پاکستان کے آئین کی  شق نمبر 9، 11، 14 اور 19 کے تحت  ریاست تمام شہریوں کی زندگی ، آزادی ، توقیر اور ساکھ کے تحفظ کی ذمہ دار ہے  لہذا امر جلیل کی جان اور ساکھ کا تحفظ بنایا جائے ۔ علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر ان کے خلاف جاری پروپیگنڈہ مہم ، دھمکیوں اور نفرت انگیز مواد کو فوری طور پر ہٹایا جائے ۔  ریاست کو ان کی زندگی  اور آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے تمام اقدام کرنے چاہیں۔

۔4۔ نیشنل ایکشن پلان اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق نمبر 5، 8 ، 9 اور 11 کے تحت مذہب کو بنیاد بنا کر سماج میں خوف اور عدم تحفظ فضا قائم کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی  کی جائے۔

ہم ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سےقبل کہ زیادہ دیر ہوجائے مندرجہ بالا عوامل  کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری کارروائی کی جائے۔ پاکستان  کے تمام اداروں کو شہریوں کی زندگی اورآزادی  کا تحفظ یقینی بنانے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube