انسانوں کا حملہ

SAMAA | - Posted: Mar 31, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 31, 2021 | Last Updated: 2 months ago

۔”نہیں نہیں،یہاں سر سبز کھیت کھلیان تھے او رایسے ایسے خوبصورت پرندے تھے کہ انہوں دیکھ کر دل بھرتا نہیں تھا۔ نایاب جانور تھے اور یہاں اتنا سبزہ تھا کہ یہاں کے لوگوں کا پیشہ ہی گلہ بانی تھا۔ارد گرد کے علاقوں میں یہاں کا مکھن اور کھویا بہت مشہور تھا”۔ یہ سب باتیں مجھے سابق انسپکٹرجنرل فارسٹ آف پاکستان ناصر صاحب نے بتائیں۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ ایبٹ آباد اب بدل گیا ہے۔ بے ہنگم ٹریفک ہےاور یہاں پر چیڑ کی بہتات ہے جو کہ ان علاقوں کا مقامی پودا نہیں ہے۔جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ چیڑ یہاں پر برطانوی دور میں لگائی گئی کیونکہ برطانیہ کو ریل کے ایندھن کے لئے اس کی لکڑی درکار ہوتی تھی لیکن انگریز چلا گیا لیکن اس کا فارمولا آج بھی موجود ہے جس وجہ سے ان علاقوں میں جانوروں کی کمی ہوگئی ہے۔جانور یہاں سے بھاگ گئے کیونکہ اس کے پتے نوکیلے ہیں اور جانور اس کو کھاتے نہیں ہیں اور نہ ہی اس کا پھل ہوتا ہے جو پرندے اس پر آئیں۔انسانوں نے ایکو سسٹم تباہ کر ڈالے۔

جب سے سیروسیاحت کا بول و بالا ہو رہا ہے،لوگوں نے درختوں کی کٹائی کرکےقدرتی خوبصورتی تباہ کر ڈالی۔چراگاہوں میں اب پلاسٹک کی بوتلیں ملتی ہیں۔آبادی بڑھ رہی ہے اور انسانوں کی بڑھتی ضروریات کے تحت درخت کاٹ دئیے گئے۔ جانوروں کے مسکن تباہ کر دئیے گئے کئی ممالک میں تو ہر قسم کا جانور بطور خوراک استعمال ہو رہا ہے۔ انسان سمجھ رہا ہے کہ اللہ نے یہ دنیا صرف اس کے لئے بنائی ہے اور یہی سے اس کی تباہی شروع ہو گئی ہے۔

حالیہ ایبٹ آباد میں ہونیوالے واقعے نے اس گفتگو کی ساری ویڈیو میرے ذہن میں دوبارہ چلا دی کہ ایبٹ آباد توجنگلی حیات کا گڑھ تھا۔اس کو کچھ انگریز سرکار تباہ کرگئی اور بچا کچا حصہ رہائشیوں نے جنگل جلا کراورکاٹ کراس کی لکڑی بیچ کرپورا کردیا۔اب جب کوئی اکادکا جانور اپنی سر زمین پر انسانوں کا حملہ دیکھتا ہے تو اپنا بدلہ لینا چاہتا ہے اور ظالم انسان اسے قتل کرڈالتا ہے لیکن اس سے ایکو سسٹم مکمل تباہ ہوچکا ہے اور یہی انسانوں کی تباہی کی شروعات ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube