Wednesday, July 28, 2021  | 17 Zilhaj, 1442

جوکووچ نے فیڈرر کو پھرایک عالمی اعزاز سےمحروم کردیا

SAMAA | - Posted: Mar 20, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 20, 2021 | Last Updated: 4 months ago

فوٹو: آسٹریلین اوپن

سربیا کے عالمی نمبر ایک ٹینس اسٹار نواک جوکووچ  نے سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر کو ایک اعزاز عالمی اعزاز سے محروم کر دیا اور اب نواک جوکووچ دنیائے ٹینس میں مردوں کی گیٹیگری میں سب سے زیادہ ہفتے عالمی نمبر ایک کے منصب پر فائز رہنے والے کھلاڑی بن گئے۔ انہوں نے سوئس ماسٹر فیڈرر کا 310ہفتےعالمی نمبر ایک رہنے کا ریکارڈ توڑ دیا۔ جوکووچ  اب  اے ٹی پی عالمی رینکنگ کی 48سالہ تاریخ میں عالمی نمبر ایک کی حیثیت سے 312ویں ہفتے میں داخل ہوگئے ہیں۔ نواک جوکووچ نے گزشتہ ماہ آسٹریلوی شہر میلبورن میں انتہائی سخت قرنطینہ کے ماحول میں آسٹریلین اوپن مینز سنگلز ٹائٹل جیت کر اپنے گرینڈ سلام اعزازات کی تعداد 18پر پہنچا دی تھی۔ یہ ان کے کیریئر کا نواں آسٹریلین اوپن ٹائٹل ہے۔ انہیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ آسٹریلین اوپن کے فائنل میں کبھی کورٹ سے ناکام و نامراد نہیں لوٹے۔  راجر فیڈرر اور ہسپانوی اسٹار رافیل نڈال 20,20گرینڈ سلام اعزازات کے ساتھ ٹاپ پر ہیں۔ نواک جوکووچ کو ان کے ہم پلہ ہونے کیلئے اب صرف دو گرینڈ سلام ٹائٹلز کی ضرورت ہے۔ مینز کیٹیگری میں گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے یہ تینوں کھلاڑی ٹینس کے افق پر چھائے ہوئے ہیں۔

نواک جوکووچ کو راجر فیڈرر کے اس ریکارڈ کو اپنے نام کرنے میں آسانی اس لیے بھی ہوئی کہ سوئس اسٹار راجر فیڈرر گھٹنے اور کمر میں انجریز کی وجہ سے تقریباً 13ماہ سے ٹیس کورٹ میں سرگرم نہیں تھے اور  اس دوران انہوں نے کسی ایونٹ میں حصہ نہیں لیا۔ نواک جوکووچ سب سے زیادہ اے ٹی پی ماسٹرز 1000ٹورنامنٹس جیتنے والے  کھلاڑی بھی ہیں۔ ان کے اے پی پی ماسٹرز 1000ٹائٹلز کی تعداد 36ہے۔ اسپین کے رافیل نڈال 35 ٹائٹلر کے ساتھ دوسرے اور راجر فیڈرر 28کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ امریکا کے آندرے اگاسی نے 17،اینڈی مرے نے 14اور پیٹ سمپراس نے 11 اے ٹی پی ماسٹرز  اعزازات جیتے ہیں۔

سربیا کے ٹینس اسٹار نے اپنے 18سالہ پروفیشنل کیریئر میں 18 گرینڈ سلام جیتے جن میں سب سے زیادہ 9آسٹریلین اوپن ایک فرنچ اوپن پانچ فرنچ اوپن اور تین یو ایس اوپن اعزازات شامل ہیں۔ جوکووچ نے پروفیشنل کیریئر کا آغاز 2003میں کیا تھا جبکہ گرینڈ سلام ایونٹس میں2005 میں حصہ لینا شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام 2008میں میلبورن میں آسٹریلین اوپن کے فائنل میں فرانس کے ان سیڈڈ کھلاڑی جو ولفریڈ سونگا کو چارسیٹ کے سخت مقابلے میں شکست دے کر جیتا تھا۔ اپنے اس پہلے گرینڈ سلام اعزاز سے قبل وہ 12گرینڈ سلام ایونٹس میں سے صرف دو مرتبہ سیمی فائنلز میں پہنچے تھے۔ 2007کے فرنچ اوپن سیمی فائنل میں نواک جوکووچ کو رافیل نڈال اور ومبلڈن سیمی فائنل میں راجر فیڈرر نے شکست دی تھی۔

نواک جو کووچ پہلی بار 4جولائی 2011ء کو عالمی نمبر ایک کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ سب سے زیادہ ہفتے عالمی نمبر ایک رہنے کا ریکارڈ اپنے نام کرنے میں انہیں ساڑھے 9سال کا عرصہ لگا۔ اس دوران وہ پانچ مختلف مواقع پر عالمی نمبر ایک کے درجے پر فائز ہوئے۔ ان سے قبل راجر فیڈرر نے امریکہ کے پیٹ سمپراس کو اس اعزاز سے محروم کیا تھا۔ راجر فیڈرر 310ہفتے اور پیٹ سمپراس 286ہفتےعالمی نمبر ایک رہے تھے۔ چیکوسلواکیہ کے ایوان لینڈل 270 اور امریکہ کے جمی کوترز 268ہفتے عالمی نمبر ایک رہے۔ عالمی نمبر ایک کی حیثیت سے جوکووچ کا پہلا دورانیہ 4 جولائی 2011 سے 8جولائی 2012  تک تھا جس میں وہ 53 ہفتے رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پر رہے۔ 5 نومبر 2012کو نواک جوکووچ نے پھر عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر براجمان ہوگئے اور وہ 6اکتوبر 2013تک 48ہفتے اس منصب پر قابض رہے۔ جوکووچ نے 7جولائی 2013کو پھر عالمی نمبر ایک کی پوزیشن سنبھال لی اور وہ 6 نومبر 2016 تک کے اس دورانیے میں اپنے کیریئر کے سب سے طویل عرصے یعنی 122 ہفتے اس پوزیشن پر براجمان رہے۔ نواک جوکووچ کا چوتھا دور 5 نومبر 2018 سے 3 نومبر 2019 تک محیط تھا جس میں وہ  52 ہفتے تک عالمی نمبر ایک رہے۔ کرونا وائرس کوویڈ 19 نے نواک جوکووچ کو راجر فیڈرر سے ریکارڈ چھننے میں کافی مدد دی کیونکہ راجر فیڈرر اور رافیل نڈال نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ٹینس ٹورنامنٹس میں شرکت محدود کردی تھی جبکہ دونوں کھلاڑی فٹنس مسائل سے بھی دو چار تھے۔ عالمی نمبر ایک پوزیشن پر جوکووچ کا پانچواں اور ریکارڈ ساز دور 2020میں آسٹریلین اوپن ٹائٹل جیتنے کے بعد 3 فروری کو شروع ہوا جب انہوں نے رافیل نڈال کو عالمی نمبر ایک کی پوزیشن سے محروم کیا تھا ۔ ان کا یہ پانچواں دور ہنوز جاری ہے اور اس کا دورانیہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔

میلبورن میں سال رواں کا پہلا گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیتنے اور راجرفیڈرر کا ریکارڈ توڑنے کے بعد نواک جوکووچ کی نظریں اس سال رواں کے دوسرے گرینڈ سلام فرنچ اوپن پر جمی ہیں جہاں ہسپانوی کلے کورٹ ماہر رافیل نڈال کا طوطی بولتا ہے۔ کلے کورٹ پر انہیں شکست دینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ وہ فرنچ اوپن جیتنے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں حالانکہ پیرس کی اس کلے کورٹ پر وہ صرف ایک بار ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ جوکووچ نے 2016میں فرنچ اوپن چیمپئن بنے تھے۔ سربیا کے 33سالہ اسٹار جوکووچ  گزشتہ سال فرنچ اوپن کے فائنل میں پہنچے تھے لیکن وہ ہسپانوی کلے کورٹ ماہر نڈال کے جارحانہ کھیل کے سامنے مزاحمت نہیں کر پائے تھے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے کچھ عرصے کورٹ سے دور رہنے کے باوجود نڈال کی کارکردگی انتہائی حیرت انگیز تھی۔

نواک جوکووچ کو آسٹریلین اوپن کے دوران پیٹ میں شدید تکلیف ہوئی تھی اور انہوں نے اسی تکلیف کے ساتھ فائنل کھیلا تھا تاہم اب وہ روبصحت ہیں۔ توقع ہے کہ وہ ماہ رواں کے آخر میں امریکہ کے شہر میامی میں ہونے والے میامی اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گے۔ جوکووچ  کا کہنا ہے کہ سال رواں کے باقی ماندہ سیزن میں میری اولین ترجیحات میں تین گرینڈ سلام اعزازات جیتنا شامل ہے میری کوشش ہو گی کہ میں رواں سیزن میں ہی فیڈرر اور نڈال کا سب سے زیادہ گرینڈ سلام اعزازات کا ریکارڈ توڑ دوں۔ باقی سیزن کیلئے میں اسی حساب سے شیڈول ترتیب دے رہا ہوں۔ میری پہلی منزل اور بڑا چیلنج پیرس کا فرنچ اوپن ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں میں کئی بار نڈال کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوچکا ہوں جبکہ صرف ایک مرتبہ اسے زیر کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔

سربین کھلاڑی کا ریکارڈ ٹینس کے تین بڑے کھلاڑیوں فیڈرر نڈال اور اینڈی مرے کیخلاف بہتزین ہے اور فتوحات کے اعتبار سے انہیں ان تینوں کھلاڑیوں پر سبقت حاصل ہے۔ جوکووچ نے اپنے کیریئر میں رافیل نڈال کو 29میچوں میں شکست دی جبکہ ہسپانوی لیجنڈ نڈال نے 27میچ جیتے۔ راجر فیڈرر کے خلاف جوکووچ کی کامیابیوں کی تعداد 27 ہے جبکہ سوئس ٹینس اسٹار فیڈرر نے جوکووچ کے خلاف 23میچزجیتے ہیں۔ اینڈی مرے نے نواک جوکووچ کو 11 میچوں میں زیر کیا جبکہ جوکووچ ان کے خلاف 25فتوحات  اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔

مینز کیٹیگری کی نئی عالمی رینکنگ میں روس کے 25سالہ ڈینیل میڈیڈیف نے دوسری پوزیشن پر قبضہ جما لیا۔ وہ 15 برسوں میں فیڈرر نڈال جوکووچ اور اینڈی مرے کے سوا اس پوزیشن پر آنے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔ 18جولائی 2005 کے بعد سے عالمی نمبر 2 کی پوزیشن پر ان چاروں کھلاڑیوں میں سے ہی کوئی ایک کھلاڑی براجمان ہو رہا تھا۔ میڈیڈیف کا کہنا ہے کہ  نواک جوکووچ عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر براجمان رہنے کا دورانیہ 400 ہفتوں تک لے جا سکتے ہیں کیونکہ وہ راجر فیڈرر اور نڈال سے کم عمر ہیں۔ ان کو پوائنٹس ٹیبل پر اپنے ان حریفوں پر خاصی یرتری حاصل ہے۔  روسی کھلاڑی ڈینیل میڈیڈیف آسٹریلین اوپن کے فائنل میں نواک جوکووچ سے شکست کھا گئے تھے۔ یہ میڈیڈیف کا  دوسرا گرینڈ سلام فائنل تھا۔ اس سے قبل 2019 کے یوایس اوپن کے فائنل میں  روسی اسٹار میڈیڈیف کو رافیل نڈال نے پانچ سیٹ کے سخت اور جاں گسل مقابلے کے بعد شکست سے دو چار کیا تھا ۔

  جوکووچ کے والد کا کہنا ہے کہ نواک جوکووچ اپنے آبائی ملک سربیا کیلئے ایک کرشمہ ہے جس نے پوری دنیا میں سربیا کے نام کو روشن کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سربیا کو قتل عام کرنے والے ملک کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن میرے بیٹے نے اس کی شناخت کو بدلنے کا کارنامہ انجام دیا ہے نواک جوکووچ جب پروان چڑھ رہا تھا تو اس وقت پورا بالکن خطہ جنگ کی لپیٹ میں تھا ہر طرف آگ اور خون کا کھیل جاری تھا۔

نواک جوکووچ نے بلغراد میں کرونا وائرس پابندیوں کے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے راجر فیڈرر کا ریکارڈ توڑنے کا جشن میں منایا جس میں سماجی فاصلے کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ وہ خود بھی لوگوں کے درمیان تھے۔ اس جشن کیلئے بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر جمع تھے۔ جوکووچ نے اپنی بیوی‘ بیٹی‘ والدہ ‘فیملی کے دیگر ارکان اور اپنی مینٹور جیلنا جینچچ کے ساتھ اس جشن میں ہونے والی آتش بازی کو اپنے ریسٹورنٹ کی بالکونی سے دیکھا۔ جلینا جینچچ نے 4سالہ نواک جوکووچ میں چھپی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا اور پھر انہوں نے جوکووچ کی تربیت کی تھی۔ جوکووچ اپنی کامیابیوں کو ان کی کاوشوں ور تربیت کا ثمر قرار دیتے ہیں۔ سربیا کے دارالحکومت کے ڈائون ٹائون میں کئی بڑی عمارتوں پر نواک جوکووچ کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں تھیں اور لائٹ شو میں ان کے ٹینس کیریئر کے اہم مواقع کی جھلکیاں پیش کی جا رہی تھیں۔ اس موقع پر جوکووچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن میری زندگی کا انتہائی خاص دن ہے۔ یہ میرے  میری فیملی اور سربیا کیلئے خاص دن ہے جب میں ایک عالمی اعزاز کا علمبردار بنا ہوں۔ یہ کامیابی صرف میری نہیں بلکہ پوری قوم اور ملک کی کامیابی ہے جس میں بجا فخر کر سکتا ہوں۔

سربیا میں کرونا وائرس کے پھیلائو کی شرح کافی زیادہ ہے۔ سربیا میں روزانہ کرونا کے اوسطاً 4ہزار نئے کیسز سامنے آرہے  ہیں۔ ملک بھر میں کرونا انفیکشن کے 49ہزار پازیٹیو کیس سامنے آچکے ہیں جبکہ 4ہزار 600 اموات ہوچکی ہیں۔ گزشتہ برس وہ کرونا کے حوالے سے ایک تنازع میں شہ سرخیوں کی زینت بن گئے تھے جب انہوں نے سماجی فاصلے کے بغیر ایڈبریا ٹور میں شرکت کی تھی۔ اس ایونٹ کے موقع پر ریکارڈ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ نائٹ کلب میں پارٹیاں کر رہے ہیں۔ کھلاڑیوں اور لوگوں سے کسی احیتاط کے بغیر گھل مل رہے ہیں۔ اس پر جوکووچ کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا بعد میں ان کا اور دیگرافراد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ نواک جوکووچ کہتے تھے کہ میں ویکسینیشن پریقین نہیں رکھتا لیکن سفر کیلئے ویکسی نیشن لازمی قرار دیئے جانے کے بعد انہیں ویکسین لگوانا پڑی تھی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube