Monday, April 12, 2021  | 28 Shaaban, 1442

بلوچستان میں سینٹ انتخابات کا احوال

SAMAA | - Posted: Mar 3, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Mar 3, 2021 | Last Updated: 1 month ago

بلوچستان میں 3 مارچ کو ایوان بالا کی بار ہ نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں کل 28 امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔ جنرل کی سات ، ٹیکنوکریٹس اور خواتین کی دو دو اور ایک اقلیتی نشست پر نئے سینیٹرز کا انتخاب کیا گیا۔

بلوچستان عوامی پارٹی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی پر مشتمل حکمران اتحاد نے بارہ میں سے آٹھ نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کرلی۔ جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور آزاد رکن نواب اسلم رئیسانی پر مشتمل حزب اختلاف نے چار نشستیں جیتی ہیں۔

حکومتی کے آٹھ کامیاب امیدواروں میں نوابزادہ عمر فاروق کاسی عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار تھے جبکہ محمد عبدالقادر آزاد حیثیت سے سینیٹر ہیں۔ باقی تمام چھ نشستیں حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کو ملی ہیں۔ سرفراز احمد بگٹی، منظور احمد کاکڑ، پرنس آغا احمد عمر زئی جنرل نشست پر، سعید احمد ہاشمی ٹیکنوکریٹس پر، ثمینہ ممتاز خواتین جبکہ دھنیش کمار اقلیتی نشست پر کامیاب ہوئے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ثمینہ ممتاز کا تعلق کراچی سے ہے، ان کو باپ پارٹی نے بلوچستان سے منتخب کرایا۔

حزب اختلاف کے جنرل نشست پر جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے محمد قاسم رونجھو سینیٹرز بنے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر حزب اختلاف کی جماعت جے یوآئی کے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ جیتے۔ خواتین کی نشست پر بی این پی مینگل نے نسیمہ احسان کو کامیاب کرایا جو آزاد حیثیت سے انتخاب لڑرہی تھیں اور صرف 24 گھنٹے قبل بی این پی میں شامل ہوئیں۔ گویا بی این پی نے اپنی دیرینہ خواتین کارکنوں کو نظر انداز کرکے انہیں منتخب کرایا۔

نسیمہ احسان بلوچستان اسمبلی کے رکن سید احسان شاہ کی اہلیہ ہیں۔ سید احسان شاہ 2018ء کے عام انتخابات میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر تربت سے کامیاب ہوئے لیکن وزارت نہ ملنے اور چند دیگر اختلافات کی بناء پر پارٹی سے منحرف ہوئے اور اپنی الگ جماعت پاکستان نیشنل پارٹی تشکیل دے دی۔ ممکن ہے کہ آئندہ احسان شاہ بھی سردار اختر مینگل کی بی این پی مینگل میں شامل ہوں۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ جیسے دیرینہ اور پارٹی کے سینئر کارکن کو جنرل اور ٹیکنوکریٹ کی نشست پر بی این پی کے امیدوار تھے۔ بی این پی نے انہیں پہلی ترجیح میں رکھا تھا لیکن انتخاب کے دن ہوا یہ کہ بی این پی کے لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے قاسم رونجھو کامیاب ہوئے جبکہ ساجد ترین حاصل کردہ ووٹوں کے اعتبار سے مقابلے سے کوسوں دور رہے۔ ساجد ترین کو سینیٹ ٹکٹ دینے پر عوامی حلقوں میں بی این پی کا فیصلہ بہت سراہا جارہا تھا،کہ بلوچ اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود ایک پشتون رہنما کو ٹکٹ دیا مگر ساجد ترین کے ساتھ ہونے والے سلوک کا احوال شاید آئندہ دنوں عام ہوں۔

حکمران اتحاد کو پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کی دوبارہ زقند کا فائدہ ملا۔ جس نے پہلے اعتراضات، شکوﺅں کا طوما ر باندھ رکھا تھا کہ انہیں تحریک انصاف نے پارلیمانی بورڈ میں لیا نہ ہی انہیں عمران خان ملاقات کے لیے وقت دیتے ہیں اور وزیراعلیٰ جام کمال نے بھی نظر انداز کر رکھا ہے۔ یوں سردار رند اپنے بیٹے سردار خان رند کو آزاد حیثیت سے سامنے لے آئے۔ چناں چہ الیکشن سے ایک دن قبل وزیراعلیٰ جام کمال خان اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی جن پر وہ سخت تنقید بھی کرچکے تھے ان کے گھر گئے اور سارے معاملات حل ہو گئے۔ جس کے بعد سردار یار محمد رند نے بیٹا دستبردار کرادیا۔ اس دستبرداری کا پورا فائدہ حکمران اتحاد کو ہوا وگرنہ حزب اختلاف کو فائدہ ہوتا۔

تحریک انصاف کے بلوچستان اسمبلی میں سات اراکین ہیں مگر اس جماعت نے سینیٹ میں امیدوار کھڑا نہیں کیا سب کچھ باپ پارٹی کی جھولی میں ڈال دیا۔ ممکن ہے کہ سردار یار رند سے وعدے کئے ہوں گے تب ہی وہ موقف سے پیچھے ہٹے۔ گویا تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی نے آزاد امیدوار محمد عبدالقادر کو ووٹ دیا جسے پہلے تحریک انصاف نے ٹکٹ جاری کیا تھا۔ انہوں نے سب سے زیادہ یعنی گیارہ ووٹ حاصل کئے۔

بی اے پی کے اپنے امیدواروں نے آزاد امیدوار عبدالقادر سے کم ووٹ لیے۔ محمد عبدالقادر اب شاید تحریک انصاف اور بی اے پی میں سے کسی جماعت میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلیں۔ حکمران اتحاد میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ سردار اسرار زہری بھی بی اے پی کے حق میں دستبردار ہوئے۔

حزب اختلاف کے اندر مسئلہ یہ بھی ہوا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سینیٹ الیکشن سے دستبردار نہ ہوئی۔ اس جماعت کے عثمان کاکڑ جنرل نشست پر امیدوار تھے۔ بلوچستان اسمبلی میں پشتونخوا میپ کا ایک ہی رکن ہے۔ جس کا حزب اختلاف کو نقصان ہوا۔ ن لیگ کے نواب ثناءاللہ زہری حکمران اتحاد کی طرف گئے۔ یعنی ان کو سپورٹ کیا جن کے وہ زخم خوردہ تھے۔ یہی سیاسی گروہ ان کی حکومت کے خلاف تحریک اعتماد لا یا تھا۔ دیکھا جائے تو حکمران اتحاد نے بہتر بازی کھیلی ہے۔ بالخصوص باپ پارٹی کی ایوان بالا میں عددی حیثیت بڑھ گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube