ایک سال کی عمرتک بچوں کوشہد دینادرست نہیں،ڈاکٹرانوکھی خانم

SAMAA | - Posted: Mar 2, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Mar 2, 2021 | Last Updated: 1 month ago

بچوں کو صرف ماں کا دودھ دینا چاہئے

ڈاکٹرانوکھی خانم نے کہا ہے کہ وٹامن ڈی میں کمی کی صورت میں چھوٹی عمرکےبچوں کواس کے قطرے پلانے ٹھیک ہے اور ناشتےکےبعدیہ دئیےجاسکتےہیں۔6 ماہ کی عمر تک بچوں کو صرف ماں کا دودھ دینا چاہئے۔

سماءکے پروگرام نیا دن میں بات کرتےہوئے بچوں کی ڈاکٹرانوکھی خانم نےبتایا کہ ایک سال کی عمر تک بچوں کو شہد نہیں دینا چاہئے۔انھوں نے بتایا کہ شہد کے اندر ایک خاص قسم کا بیکٹیریا یعنی جراثیم ہوتا ہے۔یہ بچوں کو بیمارکرسکتا ہے کیوں کہ اس عمر کے بچوں میں بیماری سے لڑنے کی مدافعت نہیں ہوتی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ایک سال سے کم عمر بچوں میں اگر یہ جراثیم چلا جائے تو وہ معذور ہوسکتا ہے اور اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹرانوکھی خانم نے کہا کہ بچوں کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات دینا بھی درست نہیں۔ تین ماہ سے کم عمر بچوں کوبخار ہو توفورا ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بچوں کا سر گول بنانے کےلیے پلیٹ کا استعمال ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بچوں کو انجکشن یعنی ٹیکہ لگنے کےبعد اگرجلد لال ہویا بخار کی علامات ہوں تو اس مقام کی سکائی نہیں کرنی چاہئے۔ براہ راست بچوں کی جلد پر برف رکھنا بھی مضر صحت ہے۔

دودھ پلانےسےمتعلق انھوں نے کہا کہ پہلے 6ماہ میں بچوں کوصرف ماں کا دودھ پلایا جائے اور پانی بھی نہیں دینا چاہئے۔

دودھ کےلیے بچوں کے بوتل استعمال کرنے سے متعلق انھوں نے کہا کہ 15 سے 18 ماہ کے اندر بچوں کو دودھ پلانے کےلیے بوتل کا استعمال بند کردینا چاہئے۔ بچوں کو کپ سے دودھ پلانا زیادہ اہم ہے۔ دو سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو بوتل سے دودھ دینےمیں دانت اورجبڑے کےمسائل درپیش ہونگے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube