بڑا ظالم ہے،نمازیوں کے پیچھےہی پڑگیا ہے

SAMAA | - Posted: Mar 1, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Mar 1, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Khi Jumma prayer

کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ پر نماز جمعہ کی ادائیگی۔ فوٹو: آن لائن

کچھ عرصہ قبل ایک دوست سے کراچی کے پانی میں پائے جانے والے جرثومے کے متعلق بات چل نکلی۔ ’’بڑا ظالم ہے سالا، نمازیوں کے پیچھے ہی پڑ گیا ہے۔‘‘ بات مجھے سمجھ میں نہ آئی تو میں نے وضاحت چاہی، تو گویا ہوئے ’’ارے جب نمازی وضو کرتے ہیں تو یہ ناک کے راستے دماغ میں گھس کر ادھم مچاتا ہے‘‘۔

میں نے اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے دی کہ ایسا قطعاً ضروری نہیں ہے اور دوسرے افراد مثال کے طور پر تیراک بھی اس جرثومے کا شکار بن سکتے ہیں۔ اس پر انہوں نے مجھ پر واضح کیا کہ، ’’ہاں لیکن باقی سب خودکش حملے ہیں اور اِس جرثومے کا اصل نشانہ نمازی ہی ہیں‘‘۔ اس ہی کہ ساتھ انہوں نے اپنی گفتگو کا رخ ’’ایڈیس ایجپٹی‘‘ المعرف ڈینگی مچھر کی طرف موڑ لیا، ’’اب اس کی مثال ہی لے لیں، یہ بھی مسلمانوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہے‘‘۔

میں پھر ان کا منطق نہ سمجھ پایا اور پوچھا کہ وہ ایسا کس بنیاد پر کہہ سکتے ہیں۔ اس پر انہوں نے مجھے بتایا کہ ’’میں نے پڑھا ہے کہ یہ مچھر فجر اور مغرب کے اوقات میں زیادہ متحرک ہوتا ہے اور یہی وہ وقت ہے جس میں مسلمان بھی زیادہ متحرک ہوتے ہیں، کیونکہ یہ وقت ہیں ہی مسلمانوں کے، تو لازم سی بات ہے کہ اس کا نشانہ مسلمان ہی ہیں‘‘۔ میں نے پھر ان کی دلیل سے اختلاف کیا اور کہا کے کوئی بھی ڈینگی وائرس کا شکار ہو سکتا ہے۔ ’’ہاں برادر میں نے کب کہا کہ یہ کلمہ پڑھوا کر کاٹتا ہے، پر اس کا نشانہ مسلمان ہی ہیں اور باقی سب خودکش حملے ہیں‘‘۔

مجھے اپنے دوست کے دلائل بڑے ہی فرسودہ معلوم ہوئے۔ میں نے ان سے تاریخ کہ مشہور وباؤں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ’’برادر طاعون وغیرہ پچھلی قوموں کے لیے تھے، ہاں ہاں آپ دریافت کریں گے کہ اس نے پورے کے پورے مسلم شہر اجاڑ ڈالے۔ بھائی یہی تو شیطان کی خاصیت ہے، ایک دفعہ کوئی بھروپ بھر لے تو کبھی ختم نہیں ہوتا‘‘۔

میری ناقص رائے میں ایسی باتوں سے اختلاف کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ میں نے اس بحث کو طول نہ دینے کے غرض سے موضوع کو سمیٹنے کی کوشش کی اور کہا کہ ’’بھائی موت تو موت ہے آنی تو ہے ہر صورت، اب بیماری اور پریشانی تو کسی کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے‘‘۔

میں ان کے چہرے کے تاثر سے یہ سمجھ پایا کہ ان کو میری بات پسند نہ آئی ہے۔ ’’آپ کے خیال میں مرنے کے طریقے سے فرق نہیں پڑتا کیا؟ کیا آپ باؤلے کتے کے کاٹے جانے سے مرنا پسند کریں گے، چاہے کاٹے جانے کے وقت آپ کی عمر نوے برس ہی کیوں نہ ہو؟‘‘ میرے انکار پر انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی بیماریوں سے مسلمان کو نہیں مرنا چاہیے۔ ’’مسلمان کی موت مسلمان کی ہونی چاہیے۔ اس طرح کی بیماریاں کے ہاتھوں مرنا امت کے ایمان کی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہیں‘‘۔ اس کے بعد کیا بات ہوئی مجھے یاد نہیں، میں شاید کوئی بہانہ بنا کر اٹھ آیا۔ میں اپنے دوست کی بات سے اختلاف نہیں کرتا، ان کا اپنا زاویہ ہے دنیا کو دیکھنے کا۔ اس پوری گفتگو نے مجھے ایک سوال میرے ذہن پر ثبت کردیا کہ موت کیسی ہونی چاہیے؟

کسی بھی دن کی خبروں کا دیکھ لیں، کئی اموات ایسی ملیں گی جو نہیں ہونی چاہیں تھیں۔ بھوک، بیماری، جنگ، قتل، زندگی سب ہی موت کی موجب ہیں۔ موت سے فرار نظر نہیں آتا۔ ہم نے اپنے بزرگوں کو اچھی موت کی آرزو کرتے دیکھا کہ یا رب چلتا پھرتا اٹھا لینا، کسی کا محتاج نہ بنانا۔ موت کے متعلق یہ سوال بہت الجھا ہوا ہے کہ کون سی موت بہتر ہے اور کون سی باعث عبرت۔ کیا ریچل کوری کی موت، جس نے صرف 24 برس کی عمر میں فلسطینی بستیوں کے تحفظ میں اسرائیلی ٹینک کے نیچے آکر جان دی، بہتر تھی یا پھر اعتزاز حسن کی شہادت یا پھر مِرزا غالب کی جنہوں نے دلی کی وبائے عام میں مرنا اپنی شان کے خلاف جانا اور عرصے بعد طبعی موت پائی۔ تحریر کا غرض مِرزا غالب پر تنقید نہیں ہے بلکہ یہ واضح کرنا کہ غالب بھی کسی مقصد کے لیے جان دینے کو تیار تھے اور وباء میں موت اس کی نفی تھی۔

میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا، ریچل کی موت ایک المیہ تھی، اعتزاز کی شہادت بھی ایک المیہ تھی اور مرزا غالب کی موت بھی ایک المیہ تھی۔ اس ہی طرح وباء کی صورت میں ہونے والی ہر موت ایک المیہ ہے۔ پر لوگ کسی مقصد کے لیے مرنے کو وباء سے مرنے پر ترجیح دیتے ہیں اور اس بات سے مکمل طور پر متفق ہوں۔ اب کئی مہینوں بعد ہم کو اس کرونا وائرس کی نئی آفت کا سامنا ہے۔ میں نے سوچا کے اپنے دوست سے اس کے بارے میں بھی آگہی لوں لیکن ہمت نہ کرسکا۔

مجھے اس پورے معملے میں ایک بات نظر آئی کے کہ اس وائرس نے بلا تفریق سب پر ہی وار کیا ہے۔ میں نے بڑا غور کیا کہ اس وائرس نے ایسا کیوں کیا؟ میں نہ تو ڈاکٹر ہوں اور نہ ہی سائنس کی ذیادہ سمجھ رکھتا ہوں لیکن دو باتیں جو میں اس وائرس سے سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہیں کہ زمین ہم سے اپنے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ جس بیدردی سے ہم اس سیارے کا استحصال کر رہے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ اس سے بھی ذیادہ سخت امتحانات ہمارے منتظر ہوں۔ اسکے ساتھ اس وباء نے ہم کو ایک نیا مقصد دیا ہے، ایک دوسرے کی نصرت کا مقصد۔ سوچیئے کہ کل تک ہم اپنے ڈاکٹروں کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے۔ نئے ڈاکٹروں کی ہڑتالوں اور ان کی وجوہات سے اپنا دامن بچا لیتے تھے بلکہ ہم میں سے اکثر ان ہڑتالوں پر تنقید کرتے تھے۔ آج وہی ڈاکڑ سب سے بامقصد سپاہی ہیں۔ ایسے سپاہی جو ہم کو بھی اپنی صفوں میں شامل کر رہے ہیں، ہم کو سمجھا رہے ہیں کہ کس طرح اس وباء کے ہاتھوں اپنی جان نہیں گنوانی چاہیے۔

موت ایمان کا جز ہے، اس سے انکار نہیں لیکن ہم یہ ضرور کرسکتے ہیں کہ زندگی کا کوئی مقصد تلاش کر لیں۔ اس دنیا کو اچھائی اور اچھے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اور اس وقت سب سے ضروری ہے کہ ہم سب کا مقصد احتیاط اور امداد ہونا چاہیے کیونکہ اس وائرس کے ہاتھوں کسی کا بھی مرنا ہم سب کی اخلاقی شکست اور ایک ایسی قیمتی جان کا زیاں ہے جو شاید اپنے مقصد کو حاصل نہ کر پائی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube