Monday, April 12, 2021  | 28 Shaaban, 1442

بلوچستان میں پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل؟

SAMAA | - Posted: Feb 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 28, 2021 | Last Updated: 1 month ago

Senate-Elections

حالیہ تین مارچ 2021 کے سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف کی روش صوبے میں شرمناک رہی۔ بلوچستان اسمبلی میں 7ارکان کی عددی نمائندگی کے ساتھ اچھی خاصی قوت کے باوجود بلوچستان تحریک انصاف کی باگے کسی اور کے ہاتھ میں رہی۔ وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان اور یہاں اپنی جماعت اور اس کے آئینی اداروں کو پرکاء برابر اہمیت نہیں دے رکھی ہے۔ تحریک انصاف نے عبدالقادر کو ٹکٹ دیا پھر چند رہنماﺅں کے احتجاج پر فیصلہ واپس لے کر پارٹی کے رہنماء ظہور آغا کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ ظہور آغا اور صوبائی کی تنظیم پر واضح ہے کہ اس افراتفری میں ان کی اہمیت نہیں ہے۔ نا ہی اراکین اسمبلی کی ترجیح میں ظہور آغا تھے۔ عبدالقادر نے اگرچہ آزاد حیثیت میں کاغذات جمع کیے جس کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی نے اس کی بھرپور حمایت کرکے اسے اپنا امیدوار قرار دیا۔ چنانچہ 25فروری کو ظہور آغا کو پارٹی اعلیٰ قیادت نے کاغذات واپس لینے ہدایت کر دی، جس پر ظہور آغا نے فوری عمل کیا۔ یعنی ان کے لیے یہی عزت کا راستہ تھا۔ درحقیقت قادر سے ٹکٹ لینا محض کارکنوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا کیوں کہ عبدالقادر تب بھی تحریک انصاف کا محبوب تھا۔ اور ظہور آغا کو عبدالقادر کے حق میں ہی دستبردار کروایا گیا۔ ویسے بھی کروڑں روپے کے اس کھیل میں اس شخص کی سرے سے کوئی گنجائش نہ تھی۔

تحریک انصاف نے اپنے صوبائی صدر سردار یار محمد رند کو بھی اس قابل نہیں سمجھا ہے حالانکہ وہ بلوچستان اسمبلی کے رکن ہے۔ اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی قائد ہونے کے ساتھ وزارت تعلیم کا قلمدان بھی رکھتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی بھی ہیں۔ چناں چہ سردار یار محمد رند پارٹی فیصلے اور رویے کے برعکس اپنے بیٹے سردار خان رند کے لیے یکسوں ہوئے۔ گویا یہ عملاً پارٹی اعلیٰ قیادت کے خلاف احتجاج یا دوسرے معنوں میں تحریک انصاف کے سود زیاں سے مزید لا تعلقی کا اظہار ہے۔ سردار یار محمد رند نے 23فروری کو ایک ٹی وی چینل سے اس رویے پر گفتگو میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی پر برسے ہیں، کہ سنجرانی کا پاکستان تحریک انصاف سے کیا تعلق ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ سنجرانی کی کوئی اہمیت ہے اور نہ سیاسی پس منظر رکھتے ہیں۔ سردار یار محمد رند کہہ چکے ہیں کہ وہ بلوچستان کی کابینہ کے رکن ہے مگر اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان 5منٹ کے لیے بھی وقت نہیں دیتے اور سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کی جانب سے تشکیل کی گئی پارلیمانی بورڈ میں بلوچستان کو نمائندگی نہیں دی گئی اور جام کمال نے بھی انہیں ’’فار گرانٹڈ‘‘ لیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ جام کمال صوبے کے وزیراعلیٰ ہے لیکن پارلیمانی لیڈر کے حیثیت سے انہیں صوبائی کابینہ کے فیصلوں میں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ ظاہر ہے جب اپنی جماعت اور اعلیٰ قیادت نے ان سمیت صوبے کی جماعت کو نظر انداز کر رکھا ہے تو جام کمال یا دوسرے انہیں کیوں اہمیت دیں گے۔

ان رویوں سے تحریک انصاف کی جمہوریت پسندی اور سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یقینا سیاست اور سیاسی جماعتیں جمہوری اصولوں و روایات کی حامل نہ ہوں گی تو عبدالقادر اور ستارہ ایاز اور ثمینہ ممتاز جیسے لوگ ہی دولت اور غیبی تعاون سے صوبے پر مسلط ہوں گے۔ عبدالقادر اور ستارہ ایاز کی طرح ثمینہ ممتاز بھی پیراشوٹر ہیں۔ جس کی وابستگی بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ یہ خاندان سندھ سے تعلق رکھتا ہے اور شوہر ان کا سرمایہ دار ہے۔ اس خاتون نے مارچ 2018 کے سینٹ انتخابات میں بھی انٹری دی تھی جبکہ عبدالقادر نے تو 2018 سے پہلے اپریل 2004 کے سینیٹ انتخابات میں بھی سینیٹر بننے کے جتن کیے تھے۔ تب ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکمرانی قائم تھی۔ بلوچستان میں مسلم لیگ قائد اعظم کی حکومت تھی۔ جام کمال کے والد جام یوسف مرحوم وزیراعلیٰ تھے۔ اس وقت کے احوال سے ایک شناسا کی روایت ہے کہ عبدالقادر کو سعید ہاشمی کا تعاون حاصل تھا۔ اور عبدالقادر کروڑوں روپے گاڑی میں لیے اراکین اسمبلی کے ضمیر خریدنے سرگرداں رہیں، سعید ہاشمی وغیرہ ان کے لیے لابنگ کر تے رہیں مگر شاید دولت کا بروقت اور ٹھیک ٹھیک استعمال نہ کرسکے، اس بناء سینیٹر بننے کے ارمان لیے دوبارہ اسلام آباد کے راہ لی۔ چناں چہ مارچ 2021 کے سینٹ انتخابات میں اسی مکتبہ سیاست کے غول میں ر ہیں۔ جو کبھی مسلم لیگ قائداعظم کے رنگ میں رنگے رہیں۔ پھر مسلم لیگ نواز میں اکھٹے ہوگئے تھے۔ اور امروز بلوچستان عوامی پارٹی میں جمع رکھے گئے ہیں۔ اندر کا حال جاننے والے کہتے ہیں کہ اس بار رقم کی لین دین کے ضمن میں الگ میکینزم بنایا گیا۔ جس کے تحت ووٹ فروخت کرنے والے ارکان اسمبلی کو براہ راست رقم دینے کی بجائے امیدوار رقم بنائے گئے پُول میں جمع کرتے۔ یوں اس ’’پُول‘‘ سے رقم کی تقسیم ہوں گی! و اللہ اعلم بالصواب۔ بہر کیف بلوچستان میں تحریک انصاف کی سیاست شاید مزید پرکشش نہ رہے اور حالیہ سینیٹ انتخابات میں بلوچستان کے حوالے سے تحریک انصاف کی پالیسی، ترجیحات اور اپنی تنظیم کو نظر انداز کرنا خود پر تیشہ چلانے کے مترادف ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube