Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > پاکستان

پاکستانی خواتین پہاڑی علاقوں میں امدادی ٹیموں کےشانہ بشانہ ہیں

SAMAA | - Posted: Feb 23, 2021 | Last Updated: 1 week ago
SAMAA |
Posted: Feb 23, 2021 | Last Updated: 1 week ago

[تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی]

تحریر: زوفین ابراہیم

پاکستان کے پہاڑی دیہاتوں میں خواتین تباہی سے نمٹنے کا مرکزی کردار ہیں اور دوسری خواتین کی جان بچانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہی ہیں۔

اس تربیت میں رسیوں اورہارنسنز کا استعمال کرتے ہوئے پہاڑوں اور گھاٹیوں پرچڑھنے،زپ لائنوں اور ریپلنگ کا استعمال سکھایا گیاہے۔انہوں نےبتایا کہ کوئی غلط قدم اورآپ چٹان سے نیچےگرسکتے ہیں۔انہوں نےمزید کہا کہ ہڈیوں،سر،گردن اورکمر کی چوٹوں کےساتھ شدید جانی نقصان سےنمٹنا بھی اس تربیت کا حصہ تھا۔

ایک  لڑکی کی حیثیت سےبانو ریسکیو کے کاموں میں حجاب (پردہ) کی رکاوٹ سےکافی پریشان تھیں۔انہوں نے کہا کہ آفات کے دوران مردوں کے لئے پردہ دار خواتین کوبچاناعجیب لگتا تھا نتیجتاً انہیں مرنے کے لئےچھوڑدیاجاتاتھا۔سال 2008 میں انہیں تلاش اور بچاؤ کی رضاکار بننے کا موقع ملا۔ بحیثیت ایک ٹرینر،وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتربنانےکےلئےماہانہ ڈرل میں حصہ لیتی رہتی ہیں۔

سی پی آر کی تربیت ( تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی )

خطرات بہت ہیں

بانو پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان میں رہتی ہیں، ایسی جگہ جہاں دنیا کے3 بلند ترین پہاڑی سلسلے ہندوکش، قراقرم سلسلہ اور ہمالیہ اکٹھے موجود ہیں۔اس میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے 2 سمیت 50 پہاڑی چوٹیاں شامل ہیں جو 7،000 میٹرسےزیادہ ہےاور5 وہ چوٹیاں جو 8،000 میٹر سے تجاوز کرتی ہیں۔ طاقتور پہاڑی ندیاں، بشمول ہنزہ اور گلگت کے خطے میں سے گزرتی ہیں، اور یہاں سیکڑوں گلیشیر بھی ہیں۔

شمسل گلیشیر -(صویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی)

لیکن یہ شاندار زمینی تزئین عموماً زلزلوں، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈ اور گلیشیر جھیلوں کے سیلابوں سے متاثر رہتا ہے جو یہاں کے رہنے والوں کی زندگیوں کو ہلا کررکھ دیتا ہے۔

پاکستان کے پہاڑوں میں تباہی،2010۔2020

بدلتی آب و ہوا

آغا خان ایجنسی برائے ہیبی ٹیٹ،پاکستان(اےکےاے ایچ پی) میں ایمرجنسی مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سلمان الدین شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں گلگت بلتستان کی کمیونٹیز شامل ہیں۔

بانو 50،000 رضاکاروں (ان میں سے نصف خواتین) میں سے ایک ہیں، جنہیں اے کے اے ایچ-پی نے 1998 میں فوکس پاکستان کی بنیاد رکھے جانے کے بعد سے کمیونٹی پر مبنی ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (سی بی ڈی آر ایم) میں تربیت دی ہے۔

شاہ نے کہا کہ دیگر کمیونٹیز جو تباہی کے خطرات کا سامنا کررہی ہیں وہ صوبہ خیبر پختون خوا کے پہاڑی چترال اور صوبہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہیں۔اے کے اے ایچ کے افغانستان کے  پہاڑی علاقوں،تاجکستان،شام اوربرصغیر پاک و ہند کے ساحلی میدانی علاقوں میں بھی دفاتر ہیں۔ اے کےاےایچ پی کےچیف ایگزیکٹوآفیسرنواب علی خان نےکہا کہ “حالیہ برسوں میں گلیشیرزسرکنےمیں اضافےاورجی ایل او ایف کےواقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

شمسل گلیشیر -(صویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی)

انہوں نے حال ہی وادئ ہنزہ میں 2 گلیشیر سرکنے کے واقعات کا حوالہ دیا جن میں شمشال میں خروڈپین گلیشیراورحسن آباد میں ششپرشامل ہہں۔”دونوں گلیشیر میلوں تک وادیوں کو روک کر اندر تک چلے گئےاور نتیجتاً مصنوعی جھیلیں بن  گئیں۔اسی طرح ضلع خضرمیں بادسوات گلیشیئر کے اچانک ٹوٹنے سے اور خضر دریا کےرکنےسےپورا گاؤں بادسوات ڈوب گیا۔انہوں نےکہا کہ پاکستان کے موسمیاتی خطرے سے دوچار زون (علاقوں) کی 777 بستیوں  میں سے خان کا کہنا ہے کہ 40 فیصد متعدد قدرتی خطرات کی زد میں ہیں جن میں پہاڑی کمیونٹیز سب سے زیادہ غیرمحفوظ ہیں۔

عطاآ باد جیسی آفات تباہ کن ہوسکتی ہیں ( تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی )

خان نےکہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے ہونے والی ماحولیاتی تنزلی نے پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کو درپیش تباہی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے جوکہ ” غریب ترین ، پسماندہ اور دنیا سے الگ تھلگ” آبادیوں میں سے ہیں۔

آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے انوائرنمنٹ اینڈ کلائمیٹ کمیٹی کے چیئر رحیم آغا خان کہتے ہیں کہ دہائیوں سےاےکےڈی این غیرمحفوظ کمیونٹیزکےساتھ کام کررہی ہے تاکہ زندگیاں بہترکی جاسکیں اورخطرات کم کیے جاسکیں۔ آج آب و ہوا کے بحران کے سامنے ان خطرات کو سمجھنا اور ان سے نمٹنا پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ان کمیونٹیوں کواپنی غیرمحفوظ رہائش گاہوں کےساتھ ہم آہنگی میں ڈھالنےاورپروان چڑھنےمیں مدد کرکےہی موسمیاتی تبدیلی کےاثرات کوکم کرنےکی امیدکرسکتےہیں۔

 اے کےاے ایچ-پی کو ٹیکنالوجی اور مقامی علوم کو مربوط کرنے کے طریقہ کار اورکمیونٹی کی سطح پر ترقیاتی کاموں اور آفاتی خطرات سے نمٹنے کے مابین “نایاب” سطح کے انضمام کے لئے پرگولڈ 2020 ورلڈ ہیبی ٹیٹ ایوارڈ ملا – وہ ماہر ارضیات ، سیٹلائٹ امیجری اور رسک میپنگ ٹولز کو مقامی کمیونٹیز کے ساتھ اکٹھا کرتے ہیں تاکہ مقامی ہیزرڈ اور ولنربیلیٹیی رسک اسسمنٹ  (ایچ وی آر اے) تشکیل دیا جاسکےجو زمین کےاستعمال کی بہترین شکلوں اور تعمیر کے لئے محفوظ مقامات کی نشاندہی کرسکیں۔

رضاکاررسی استعمال کرنےکی مہارت کی تجدید کررہےہیں( تصویربشکریہ اےکےاےایچ-پی )

اس نے 2004 سے اب تک 785 بستیوں میں ایچ وی آر اے انجام دیئے ہیں ، جن میں زیادہ تر گلگت بلتستان اور چترال میں ہیں۔ اس کام میں متعدد طرح کے رضاکار شامل ہیں،کیونکہ وہ پناہ گاہیں بناتےہیں،کمیونٹی ڈیزاسٹرمینجمنٹ کےمنصوبے تیارکرتےہیں اورموسم کی نگرانی کے پوسٹس اورکمیونٹی پرمبنی ابتدائی انتباہی نظام نصب کرتے ہیں۔

زندگی بچانےوالے

خان نے کہا ، “کمیونٹیز ہمارے کام کا بنیادی مرکز ہیں اور ان کی کامیابی کی کلید ان کے رضاکار ہیں۔” خواتین رضاکاروں کی وقف ٹیمیں کمیونٹیز کے ساتھ موثر طریقے سے کام کرنے کا ایک اہم حصہ ہیں ، حالانکہ مرد اور خواتین کو ایک ساتھ تربیت دی جاتی ہے۔کریم آباد کی 40 سالہ نرس بی بی نصرت سال 2000 سے اےکےاےایچ-پی کےچترال آفس میں سی بی ڈی آرایم ٹریننگ آفیسرکی حیثیت سےکام کررہی ہیں۔وہ آفات سے دوچار دیہاتوں کا دورہ کرتی ہیں تاکہ کمیونٹیزکوحفاظت کرنے کے طریقےسکھا سکیں- 2020 میں،انہوں نے چترال کے 150 برفانی تودے سے متاثرہ دیہاتوں میں سے 15 کا دورہ کیا۔

سوسم پربرفانی تودےگرنےکےبعدامدادی کارکن کام کررہے ہیں-(تصویربشکریہ اےکےاے ایچ-پی )

بانو کی طرح،نصرت نے بھی خواتین کو ان ٹیموں کا بنیادی جزو ہونے کی اہمیت پر زور دیا۔ “میرے خیال میں خواتین کو ریسکیو ٹیم میں شامل ہونا ضروری ہے کیوں کہ تباہی کے وقت  ممکن ہے خاندانوں کے مرد  وہاں نہ ہوں اور مقامی لوگوں کے لئے ثقافتی حساسیت اور پردہ کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے”۔

پردہ کےسبھی حامی یہ نہیں مانتے ہیں کہ کسی آفت کے وقت اس کا اطلاق ہونا چاہئے۔ نصرت کے گاؤں سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ نواز خان پردہ کے سخت پیروکار ہیں وہ کہتے ہیں ، “اگر کوئی اجنبی آدمی میرے خاندان کی خواتین کو بچا لے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا”۔

بدقسمتی سے بعض اوقات اس طرح کے خیالات  شہری علاقوں میں بھی نظر نہیں آتے یا دور دراز علاقوں سے بہت کم ہیں جہاں قدرتی آفات معمول ہیں۔

گذشتہ سال کراچی کےگولیمار علاقے میں رضویہ سوسائٹی میں عمارت گرنے کا ایک المناک حادثہ پیش آیا جس میں دو درجن خواتین اور بچے پھنس گئے۔شاہ نے بتایا کہ رہائشیوں نے مرد  بازیافتگار کو روک دیا جو ملبے تلے دبے خواتین تک پہنچنے کی کوشش کررہے تھے- منیرا برکات سن 2013 سے ٹیم میں شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ”ہمارے معاشرہ اتنا قدامت پسند ہے اوریہ مسائل بار بار سر اٹھاتے ہیں۔زندہ بچ جانےوالے مرد اس بات پربضدرہتےہیں کہ کوئی بھی مرد بازیافتگاران کی خواتین کی لاش کونہیں چھوئے گا۔ وہ بھلے انہیں ملبے میں دبا چھوڑدیں،خواتین کوریسکیو کے کام میں رکھنا انتہائی اہم ہے”۔

سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم میں 40فیصدخواتین ہیں۔خان نے بتایا کہ “مرد اور خواتین دونوں کو ایک ہی مہارت کے سیٹ پر تربیت دی جاتی ہے”۔

تربیت کو کام میں لانا

بانو کا پہلا بڑا ریسکیو مشن سن 2010 میں تھا جب وادی ہنزہ کےعطا آباد نامی گاؤں میں زبردست لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی۔عطا آباد جھیل کا پانی کنارےتوڑتا ہوا،گھروں ، باغات ، کھیتوں اور اسکولوں کوڈبوگیا اور6000 افراد بےگھرہوگئے۔بانو نے کہا ، “پہلی بار ، مجھے حقیقی صورتحال اورلاشوں کا سامنا کرنا پڑا”۔

نصرت کےلئے سوسوم میں مارچ 2016 میں گرنے والا برفانی تودہ کےواقعہ بھی ناقابل فراموش ہے جس میں 9 طلباء جاں بحق ہوئے تھے۔انہوں نے دو ہفتہ خیمے میں گزارے ، برف کے طوفان اور بارش کا سامنا کیا تاکہ لاشوں، بے ہوش افراد ، زخمیوں اور ہائپوٹرمیا کے شکار لوگوں کی دیکھ بھال کرسکیں- انہوں نے یاد کیاکہ “میں نے کوئی درجنوں افراد کی مدد کی تھی اور آٹھ لاشوں کو ان کے اہل خانہ کو بھیجنے سے پہلے ان کو صاف اور تیار کیا تھا”۔

دیہاتیوں کی تربیت

نصرت نے بتایا کہ کس طرح دیہات میں دن بھر کے تربیتی سیشن کرائےجاتےہیں تاکہ مقامی رسک مینجمنٹ کے منصوبے تیار کیےجاسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہم انھیں برفانی تودوں،اقسام ، موسموں اور اس طرح کی صورتحال میں اپنی حفاظت کرنے کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔اس گاؤں کا تاریخی پروفائل تیار کرنے کے بعدخیموں،خوراک اورادویات وغیرہ سےآراستہ کسی پناہ گاہ تک پہنچنے کے لئے محفوظ راستے کی نشاندہی کرنے والا انخلا کا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔

 کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں اورمقامی سرچ اینڈریسکیوٹیموں کی مشترکہ مشق(تصویربشکریہ اےکے اےایچ-پی)

ان کی ٹیم برفانی تودوں کے خطرے سےدوچارگھروں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کرتی ہے۔اس کےبعدصنفی شمولیت کی حامل کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں (سی ای آر ٹی)،مقامی سرچ اینڈریسکیوٹیمیں(ایس اے آرٹی) اور ڈیزاسٹراسسمنٹ اینڈرسپانس ٹیمیں(ڈیاےآرٹی) تشکیل دی جاتی ہیں اور ہنگامی تیاری اور ردعمل کے لئے استعداد سازی کی جاتی ہے۔

ایک اور دیہاتی ، جن کا بھی نام نواز خان ہے،انھوں نے سی بی ڈی آر ایم سیشن کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے اپنا اکلوتا بیٹا،19 سالہ مبشرحسن سوسم برفانی تودےکےحادثے میں کھودیا۔انہوں نےکہا کہ”اگریہ اےکے اے ایچ-پی کےلوگ نہ ہوتے تو مجھے اپنے بیٹے کی لاش کبھی نہ مل پاتی”۔

سوسم سےتعلق رکھنےوالی 37 سالہ صافی گل نےبتایا کہ “یہ مشکل تھا اورمیں خوفزدہ تھی، لیکن میں اب بغیر کسی خوف کے یہ کہہ سکتی ہوں کہ عورت ایسا کچھ بھی کرسکتی ہےجومردکرسکتا ہے۔انھوں نےبرفانی تودےکےحادثے کے دوران نصرت کے ساتھ مل کر رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔

اس آرٹیکل کا انگریزی لنک یہ ہے:۔
https://www.thethirdpole.net/en/nature/pakistani-women-scale-the-heights-in-rescue-teams/

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube