Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > بلاگز

ناؤمی اوساکا نے آسٹریلین اوپن ویمنز ٹائٹل اپنے نام کرلیا

SAMAA | - Posted: Feb 21, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Feb 21, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago
Naomi Osaka

فوٹو: اے ایف پی

جاپان کی ناؤمی اوساکا نے ملیبورن نے راڈ لیور ایرینا میں امریکہ کی جینیفر براڈی کو 6-4، 6-3 سے زیر کر کے سال رواں کا پہلا ویمنز سنگلز گرینڈ سلام اعزاز اپنے نام کر لیا۔ یہ ناؤمی اوساکا کے کیریئر کا چوتھا گرینڈ سلام ٹائٹل ہے۔ وہ 2018 میں یو ایس اوپن اور 2019 میں آسٹریلین اوپن اور 2020 میں یوایس اوپن کا اعزاز اپنے نام کر چکی ہیں۔ وہ چار مرتبہ ہی گرینڈ سلام ایونٹس کے فائنل میں پہنچیں اور ہر بار فاتح کی حیثیت سے کورٹ سے باہر آئیں۔ وہ اوپن ایرا میں مونیکا سیلیز کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والی پہلی کھلاڑی ہیں جنہوں نے 1991 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا جبکہ دنیائے ٹینس کی لیجنڈ کھلاڑی  مارٹینا نیورا ٹیلووا‘ اسٹیفی گراف‘ کرس ایورٹ اور سرینا ولیمز اپنے پہلے 4 گرینڈ سلام فائنلز میں چار ٹائٹلز نہیں جیت سکی تھیں۔ اوساکا نے گزشتہ سال یو ایس اوپن کے بعد تاخیر سے منعقد ہونے والی فرنچ ٹینس چیمپئن شپ میں شرکت نہیں کی تھی اور کرونا کے خدشات کی وجہ سے اپنانام واپس لے لیا تھا جبکہ ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ کا انعقاد ہی نہیں ہو سکا تھا۔ ناؤمی اوساکا فرنچ اوپن اور ومبلڈن میں تیسرے راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی ہیں۔ اب ان کے سامنے فرنچ اوپن اور ومبلڈن کے چیلنج ہیں۔

کرونا وائرس اور سخت قرنطینہ ماحول میں کھلاڑیوں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن جاپانی ٹینس اسٹار نے پورے ٹورنامنٹ میں شان دار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حریف کھلاڑیوں کو نا صرف شکست سے دوچار کیا بلکہ اپنی مسلسل فتوحات کے سلسلے کو بھی 21 میچز تک دراز کر دیا ہے۔ انہیں فروری 2020 کے بعد کوئی میچ نہیں ہاری ہیں۔ گزشتہ سال کرونا وائرس کی وجہ سے ٹینس مقابلے منسوخ کر دیے گئے تھے اور یو ایس اوپن ٹینس چیمپئن شپ کے تاخیر سے انعقاد سے ٹینس ایونٹس کو بحال کرنے میں مدد ملی تھی لیکن ابتدا میں یہ مقابلے شائقین کے بغیر ہی منعقد ہوتے رہے۔ ٹینس مقابلوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سے ناؤمی اوساکا ناقابل شکست کھلاڑی ہے۔ آسٹریلین اوپن میں تماشائیوں کو محدود تعداد میں اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ناؤمی اوساکا نے گزشتہ سال جب یو ایس اوپن کا اعزاز جیتا تھا تو انہیں وننگ ٹرافی دینے کیلئے کوئی شخصیت موجود نہیں تھی بلکہ ٹرافی میز پر رکھی تھی جو انہیں خود ہی اٹھانا پڑی تھی۔ تاہم اس فائنل کو دیکھنے کیلئے 7500 تماشائی اسٹیڈیم میں موجود تھے۔

آسٹریلین اوپن کے ویمنز فائنل میں ناؤمی اوساکا اپنی حریف کھلاڑی پر بالا دست رہی۔ پہلے سیٹ میں دونوں کھلاڑیوں نے ایک دوسری کا جم کر مقابلہ کیا اور شائقین ٹینس کو خوبصورت شاٹس اور طویل ریلیز سے محظوظ کیا لیکن عالمی نمبر 3 اوساکا نے جلد ہی اپنے تجربے اور جارحانہ کھیل کی وجہ سے اپنی حریف پر کنٹرول حاصل کر لیا اور مسلسل چھ گیمز جیت کر پہلا سیٹ 6-4 سے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ دوسرے سیٹ کی ابتدا بھی اوساکا نے جارحانہ انداز میں کی اور ابتدائی چار گیمز جیت کر اپنی حریف کو اپنے خطرناک ارادوں سے آگاہ کر دیا۔

گزشتہ 17 گرینڈ سلام ٹورنامنٹس میں سے 8 میں نئی چیمپئن سامنے آئی ہیں اور ان میں ناؤمی اوساکا چار ٹائٹز کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ تاہم اپنے کیریئر میں پہلی بار گرینڈ سلام اوپن کا فائنل کھیلنے والی 25 سالہ امریکی جینیفر براڈی کے اس فائنل میں ٹائٹل کو اپنے نام کرنے میں ناکام رہی۔ براڈی کو یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں ناؤمی اوساکا کے ہاتھوں شکست اٹھا ناپڑی تھی جو کہ ان کے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام سیمی فائنل تھا۔

سال 2016 میں گرینڈ سلام ایونٹس میں حصہ لینے والی جاپانی اسٹار نے تیزی کے ساتھ ٹینس کورٹ میں قدم جمائے اور جلد ہی فاتح کے روپ میں سامنے آئیں وہ اب تک چار گرینڈ سلام سات ٹائٹلز اپنے ڈرائنگ روم کی زینت بنا چکی ہیں۔ وہ ہارڈ کورٹ کی ماہر کھلاڑی ہیں اور ان کو ہارڈ کورٹ کی انتہائی خطرناک کھلاڑی تصور کیا جاتا ہے جو اپنی حریفوں کو اپنے تیز اور جارحانہ شاٹس سے بع بس کرنغ میں مہارت رکھتی ہیں۔ سروس اور فور ہینڈ شاٹ ان کا مہلک ہتھیار ہے جو ہمیشہ انتہائی کارگر ہوتا ہے۔ 2018 میں پہلا گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے کے بعد ناؤمی اوساکا کا ہارڈ کورٹ پر ریکارڈ دیگر کھلاڑیوں سے کہیں بہتر ہے۔ انہوں نے ہارڈ کورٹ پر 33 میچ جیتے اور صرف دو میچوں میں انہیں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اس دوران وہ ہارڈ کورٹ پر چھ اعزازات اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

ناؤمی اوساکا نے آسٹریلین اوپن کے سیمی فائنل میں اپنی بچین کی آئیڈیل کھلاڑی سرینا ولیمز کو شکست سے دو چار کر کے ان کا 24 واں گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے کا خواب چکنا چور کر دیا۔ اس کی دل شکستگی کا اندازہ اس سے ہوتا تھا کہ وہ پریس کانفرنس میں بھی اپنے اس دکھ کو چھپانے میں ناکام رہیں اور ان کی آنکھوں سے انسو امڈ آئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے سیمی فائنل میں شکست کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر سب کا شکریہ ادا کیا تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ ریٹائر ہو رہی ہیں تو ان کا جواب تھا کہ میں کسی کو بھی اپنی ریٹائرمنٹ کا نہیں بتاؤں گی لیکن مزید اصرار پر وہ آنسو پوچھتے ہوئے اٹھ کر چلی گئی تھیں۔ سرینا ولیمز اپنے کیریئر کا 24 واں گرینڈ سلام اعزاز جیت کر آسٹریلیا کی مارگریٹ کورٹ کا عالمی ریکارڈ برابر کرنے کی خواہاں ہیں اور اس کیلئے مسلسل جدوجہد کررہی ہیں لیکن سرینا ولیمز نے اپنا آخری گرینڈ سلام ٹائٹل میلبورن کے اسی راڈ لیور ایرینا میں 2017 میں جیتا تھا۔

سال 2020 میں امریکی کھلاڑی جنیفر براڈی عالمی رینکنگ میں ٹاپ 50میں بھی  شامل نہیں تھیں۔ وہ آسٹریلین اوپن کے آغاز پر 24 ویں نمبر پر تھیں لیکن اس ٹورنامنٹ کے دوران بہترین کارکردگی اور رنرز اپ ہونے کے نتیجے میں اب بڑ چھلانگ لگاتے ہوئے نئی عالمی رینکنگ میں 13 ویں نمیر پر پہنچ گئی ہیں۔ جبکہ ناؤمی اوساکا اب ایک نمبر ترقی کرتے ہوئے عالمی نمبر دو پر  جلی گئی ہیں۔ اب ان کا ارامدہ ایک لبار پھر عالمی نمبر ایک کے درجے پر فائز ہونا ہے۔ وہ 2019 کے دوران عالمی نمبر ایک پر پوزیشن پر فائز رہ چکی ہیں۔

ناؤمی اوساکا نے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مستقبل میں دنیائے ٹینس پر حکمرانی کریں گی۔ انہوں نے یو ایس اوپن کے دوران سیاہ فاموں کی حمایت میں پورے ٹوورنامنٹ کے دوران ایسے ماسک استعمال کیے تھے جن پر سیاہ فاموں سے مساویانہ برتاؤ کرنے کے الفاظ تحریر تھے۔ ان کے اس عمل نے دوسرے کھلاڑیوں کو بھی متاثر کیا تھا اور وہ بھی سیاہ فاموں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف کمپین کا حصہ بن گئے تھے۔ امریکی کھلاڑی جنیفر براڈی کا کہنا ہے کہ اوساکا ایک متاثر کن شخصیت کی مالکہ ہے اور وہ نئی جنریشن کی کھلاڑیوں کیلئے ایک آئیڈیل ہے۔ آسٹریلین اوپن میں کرونا قرنطینہ انتہائی سخت تھا۔ انہوں نے ازراہ تفنن کہا کہ اگر یہ قرنطینہ نہ ہوتا تو میں فاتح ہوتی۔ براڈی جس پرواز سے آسٹریلیا پہنچی تھی اس کے ایک مسافر کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کی وجہ سے جینیفر براڈی کو 15 دن سخت قرنطینہ میں گزارنے پڑے تھے۔

ناؤمی اوساکا نے ٹائٹل جیتنے کی راہ میں سات کھلاڑیوں کو زیر کیا تھا۔ وہ چوتھے راؤنڈ میں فائنل میں ایک مرحلے پر اسپین کی گاربین موگوروزا کے ہاتھوں شکست کا شکار ہونے سے بال بال بچ گئی تھیں۔ یہ مقابلہ تین سیٹ میں اوساکا کے نام رہا تھا۔ آسٹریلین اوپن کی دفاعی چیمپئن صوفیہ کینن کو دوسرے راؤنڈ میں شکست ہوئی تھی جبکہ ٹاپ سیڈ اور عالمی نمبر ایک آسٹریلوی ٹینس اسٹار ایشلے بارٹی کو تین سیٹ کے سخت مقابلے میں جمہوریہ چیک کی کیرولینا میکسووا نے 6-1,3-6,2-6 سے ہرا دیا تھا۔

آسٹریلین اوپن کا ویمنز ایونٹ اس بار اپ سیٹ سے بھرپور رہا۔ ٹورنامنٹ کی ٹاپ 32 سیڈڈ کھلاڑیوں میں سے سات کھلاڑی پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو گئی تھیں جن میں پیٹرا مارٹی‘ ماریا سکیری‘ اینجلک کیربر‘ وکٹوریو آزارنیکا بھی شامل تھیں جبکہ دفاعی چیمپئن صوفیہ کینن کو دوسرے راؤنڈ میں کایا کنیپی نے بآسانی 6-3,6-2 سے ہرا کر اپ سیٹ کیا تھا۔ بیانکا اینڈریسکو‘ پیٹرا کیویٹووا دوسرے راؤنڈ میں آؤٹ ہو گئیں۔ کیرولینا پلکسووا تیسرے راؤنڈ سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ سیمونا ہالیپ کو کوارٹر فائنل میں سرینا ولیمز نے زیر کیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube