Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > بلاگز

بھارت – سرمایہ داریت کی آماجگاہ

SAMAA | - Posted: Jan 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
INDIA-POLITICS-AGRICULTURE-PROTEST

بھارت میں کسانوں کی جانب سے احتجاج کا منظر۔ فوٹو: آن لائن

گزشتہ سال 4 نومبر 2020ء کو پنجاب بھر کے کسان لاہور میں حکومت کی زرعی  پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے۔ اس احتجاج نے اس وقت خونی رنگ اختیار کرلیا جب 5 نومبر کو انتظامیہ نے ان کے خلاف لاٹھی چارج کیا اور کسانوں پر آنسو گیس کے گولے فائر کیے جس کے نتیجے میں ایک کسان رہنما زخمی ہوگئے جو بعد میں اسپتال میں انتقال فرما گئے۔ کسانوں کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ گندم اور گنّے کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا جائے کیونکہ مہنگے بیج، کیڑے مار ادویات، کیمیائی کھاد اوربجلی کے باعث پیداواری لاگت بہت زیادہ ہو چکی ہے اور وہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔

بھارت میں بھی اس وقت کسانوں کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ بھارت کی کابینہ نے 5جون 2020ء کو شعبہ زراعت سے متعلق تین نئے قوانین نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ بھارتی حکومت نے17 ستمبر کو انہیں لوک سبھا (قومی اسمبلی) سے اور پھر20 ستمبر کو راجیہ سبھا (سینیٹ) سے منظور کروایا، جن کی بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے 27ستمبر 2020ء کو منظوری دے کر انہیں ملکی قانون کا باقاعدہ حصہ بنا دیا۔ اس پر بھارتی کسانوں کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ مظاہرین نے دار الحکومت نئی دہلی کے مختلف راستوں کو اپنے دھرنے کے ذریعے بند کر دیا۔ کسانوں کے نمائندگان کا یہ کہنا ہے کہ یہ قوانین کسانوں کے استحصال کی قیمت ادا کر کے سرمایہ دار طبقہ کو نوازنے پر مبنی ہیں لہٰذا وہ سخت سردی اور بارشوں کے باوجود اس وقت تک دھرنے سے نہیں اٹھیں گے جب تک حکومت ان قوانین کو واپس نہ لے لے۔ جبکہ حکومت کا کہنا یہ ہے کہ ان قوانین میں باہمی گفت و شنید کے بعد ترمیم تو ممکن ہو سکتی ہے لیکن حکومت انہیں واپس کسی صورت نہیں لے گی۔  اس مسٔلہ پر کسانوں کے نمائندگان اور حکومتی عہدہ داران کے مابین بات چیت کے سات ادوار منعقد  ہو چکے ہیں جن میں سے آخری دور 4جنوری 2021ءکو منعقد ہوا لیکن ابھی تک صلح کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے اور ایک ڈیڈ لاک کی سی کیفیت موجود ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے ان حالیہ تین قوانین میں سے ایک قانون ’’فارمرز پروموشن اینڈ فسلٹیشن ایکٹ‘‘ ہے۔ بھارتی سرکار کے مطابق اس قانون کے تحت کسانوں پر سے وہ ٹیکس ہٹا دیا گیا ہے جو وہ اپنی فصل کو منڈی یا بازاروں سے باہر اپنے فارم پر یا گودام وغیرہ پر نجی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی صورت میں حکومت کو ادا کرتے تھے۔ لہٰذا حکومت کا کہنا یہ ہے کہ یہ قانون کسانوں کی تجارت کو فروغ  دینے اور انہیں سہولت دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ دوسرے قانون کا نام ’’فارمرز امپاورمنٹ اینڈ پروٹکشن ایکٹ‘‘ ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق اس قانون کے ذریعے کسانوں کو اجازت دی گئی ہے کی وہ کسی بھی نجی کمپنی یا کارپوریشن کے ساتھ  کانٹریکٹ (معاہدہ) کر کے زراعت کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کمپنی چند کسانوں کے ساتھ یہ معاہدہ کرتی ہے کہ اسے فلاں قسم کی فصل، ایک خاص کوالٹی کے ساتھ، ایک مخصوص مقدار میں، ایک معینہ مدت تک اور ایک باہمی طے شدہ قیمت پر درکار ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد پر کسان اپنی کاشت کی جانے والی فصل کی فروخت کو پہلے سے ہی یقینی بنا سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ قانون کسانوں کو با اختیار بناتا ہے اور ان کے منافع کا تحفظ کرتا ہے۔ تیسرے قانون کا نام ’’ایسنشل کوموڈیٹیز امینڈمنٹ ایکٹ‘‘ ہے۔ یہ قانون دراصل ایک پہلے سے موجود قانون میں ترمیم ہے جسے بھارت نے 1955ء میں لاگو کیا تھا جس میں مختلف اجناس کو ضروری قرار دے کر ان کی ذخیرہ اندوزی پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اب 2020ء کی اس ترمیم کے تحت بہت سی اجناس مثلاً گندم، چاول، مکئی، جو، باجرہ، دالی، آلو، پیاز اور تیل وغیرہ کو غیر ضروری قرار دے کر ان کی عام حالات میں ذخیرہ اندوزی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق اس قانون کے تحت کسان اپنی فصل کو ذخیرہ اندوزی کے ذریعے درست وقت پر فروخت کر کے اپنے منافع کو بڑھا سکیں گے۔

یہاں یہ جاننا نفع سے خالی نہ ہوگا کہ بھارت نے 1965ء میں زرعی اجناس کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک کمیشن قائم کیا تھا۔ ان  تین نئے قوانین کے متعارف ہونے سے پہلے تک یہ کمیشن ہر سال میں دو بار23  قسم کی اجناس کی کم سے کم قیمتیں متعین کرتا تھا۔ حکومت ان مقرر کردہ قیمتوں پر کسانوں سے اس صورت میں ان کی اجناس خرید لیتی تھی اگر منڈی میں ان اجناس کی قیمتیں ان کی پیداواری لاگت سے گر جاتیں۔ ان قیمتوں کو ’’مینیمم سپورٹ پرائس‘‘ کہا جاتا تھا اور یہ اجناس کی اوسط پیداواری لاگت سے کچھ اوپر مقرر کی جاتی تھیں۔ یہ قانون اس لیے متعارف کرایا گیا تھا کہ کسان نقصان کے ڈر سے پیداواری لاگت کو گھٹانے پر مجبور نہ ہوں جس سے ملک کی مجموعی پیداوار میں کمی واقع ہوگی۔

لیکن 27ستمبر 2020ء سے لاگو کیے گئے تین نئے قوانین میں سے پہلے قانون سے متعلق کسان برادری کے تحفظات یہ ہیں کہ چونکہ کسانوں کو حکومت کی جانب سے ان کی اجناس کو ایم ایس پی پر خرید لینے کی کوئی قانونی ضمانت موجود نہیں ہے تو اب جبکہ حکومت نے کسانوں کو اجازت بھی دے دی ہے کہ وہ نجی کمپنیوں کو براہ راست اپنی اجناس فروخت کر سکتے ہیں تو جن کسانوں کی اجناس فروخت نہ ہو سکیں گی تو ان کے سلسلہ میں حکومت  یہ کہہ کر بہت آسان سے پہلو تہی کر سکے گی کہ اگر وہ کسان اجازت ہوتے ہوئے بھی اپنی اجناس منڈی میں یا منڈی سے باہر فروخت نہیں کر پائے تو اس میں اب حکومت آخر کیا کرے! یوں کسان مکمل طور پر نجی کمپنیوں کے مرہون منت ہو کر رہ جائیں گے اور اپنی فصل کی فروخت نہ ہونے کی صورت میں اسے پیداواری لاگت سے بھی کئی گنا کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

جہاں تک دوسرے قانون کا تعلق ہے تو اسے ’’کانٹریکٹ فارمنگ‘‘ یا ’’کارپوریٹ فارمنگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کسانوں کے مطابق اس کے تحت نجی کمپنیوں کے لیے یہ بہت سہل ہوگا کہ وہ اجناس کو اپنی پسند کے مطابق نہ ہونے پر یا معاہدے میں طے کیے گئے کڑے معیار  پر پورا پورا نہ اترنے کا جواز پیش کر کے بآسانی معاہدے سے باہر نکل سکیں گے۔ یا پھر زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ وہ معاہدے میں طے شدہ قیمت سے کئی گنا کم قیمت ادا کرنے کی پیشکش کریں گے جس سے کسان کی پیداواری لاگت بھی پوری نہ ہوتی ہو۔ یوں کسان کارپوریٹ سیکٹر کے ہاتھوں ہمیشہ استحصال کا شکار ہوتے رہیں گے۔

پھر جہاں تک تیسرے قانون کا تعلق ہے تو بھارتی حکومت یہ تاثر پیش کر رہی ہے جیسے اس نے کسانوں کو ذخیرہ اندوزی کرنے کی اجازت دے کر ان کی نسلوں پر بہت بڑا احسان کر دیا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ کسان عمومی طور پر مالی اعتبار سے ذخیرہ اندوزی کے قابل نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اس کے لیے وسائل رکھتا ہے۔ اسے اپنی فصل کی فوری فروخت کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ اپنے گھر کا چولہا پانی چلا سکے۔ پھر یہ بات اس سے الگ ہے کہ گندم، چاول، دالوں اور تیل جیسی اجناس جو انسانی بقاء کے لیے انتہائی ضروری ہیں، ان میں ذخیرہ اندوزی کی اجازت دے کر عوام کو ان کی بنیادی ضروریات سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ قانون بھی بقیہ دونوں قوانین کی طرح کارپوریٹ سیکٹر یا سرمایہ دار طبقے کو نوازنے پر مبنی ہے کیونکہ اس قانون کے تحت جو طبقہ حقیقت میں ذخیرہ اندوزی کر پا رہا ہوگا، یہ وہ طبقہ ہوگا جو کسانوں سے اجناس کو بڑے پیمانے پر اور نہایت کم قیمت پر اٹھا کر انہیں اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر رہا ہوگا تاکہ ان اجناس کی قلت پیدا کی جائے اور پھر ان کی قیمتیں آسمان سے چھونے پر انہیں منڈیوں اور بازاروں میں لے کر آیا جائے۔ لہٰذا کسانوں کی جانب سے یہ بات بہت وثوق سے کہی جا رہی ہے کہ زراعت سے متعلق یہ تین نئے قوانین دراصل اڈانی اور امبانی گروپس کے لیے تشکیل دیے گئے ہیں جن کا شمار بھارت کے امیر ترین سرمایہ داروں میں ہوتا ہے۔ گوتم اڈانی کا زراعت کے شعبہ میں کاروبار پہلے سے موجود تھا جبکہ مکیش امبانی نے 2017ء میں زراعت کے شعبہ میں ہاتھ ڈالا ہے۔ اگر بھارت کے باقی تمام سرمایہ داروں کو چھوڑ کر صرف یہی دو گروہ ہی چاہیں تو پورے ملک کی پیداوار کی ذخیرہ اندوزی کر کے عوام کو بھوکا مار سکتے ہیں اور حکومت کی جانب سے اب انہیں قانونی طور پر اس کی کھلی اجازت بھی ہے۔

اس سلسلہ میں بھارت میں حزب اختلاف میں موجود کانگرس پارٹی بھی بی جے پی کی ان نئی زرعی پالیسیوں کو سرمایہ دار طبقے کی پولیسیوں کا نام دیتے ہوئے ان کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ جہاں تک کسان طبقے کی بات ہے تو یہ پالیسیاں یقیناً ان کے لیے زندگی اور موت کا مسٔلہ ہیں۔ لیکن کانگرس جماعت کا اس معاملہ میں حکومت پر تنقید کرنا بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جمہوریت کا خاصہ ہے کہ اس میں قانون سازی کا اختیار استعمال کرتے ہوئے ایسے قوانین وضع کیے جاتے ہیں جن سے ایک مخصوص سرمایہ دار طبقے کو فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ یہ وہ طبقہ ہوتا ہے جس کا سرمایہ انتخابی مہم میں اس جماعت کے حق میں صرف ہوا ہوتا ہے جو برسر اقتدار آئی ہو۔ اور ایسا صرف بھارت کی جمہوریت کے ساتھ نہیں جس کے 73 سال سے متصل اور غیر متزلزل چلے آنے کی مثالیں دی جاتی ہیں بلکہ ایسا ہر جگہ کی جمہوریت کے ساتھ ہے۔ امریکہ میں اس کی حالیہ مثال ٹرمپ کا اپنے دور صدارت میں تیل کے شعبے سے منسلک سرمایہ دار وں کے حق میں مختلف صدارتی اقدامات اٹھانا اور قانون سازی کرنا ہے جبکہ اوباما اور ان کے نائب صدر جو بائیڈن کا اپنے دور میں ٹیکنالوجی کمپنیوں سے منسلک سرمایہ دار طبقے کو خوش کرنا ہے۔ اور یہ سب عوام کے مفادات کو مکمل طور پر بالائے طاق رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے جمہوریت جہاں بھی اپنی اصلی شکل میں نافذ ہوتی ہے، وہ عوامی استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کے لیے ایک بہترین آماجگاہ ثابت ہوتی ہے۔ یہ ہے جمہوریت کا اصل ’’حسن‘‘ لیکن اس کو ہمیشہ پردے میں رکھا جاتا ہے۔

اسلام  نے شعبۂ زراعت سے متعلق تفصیلی احکام دییے ہیں۔ اسلام میں پیداوار کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا جس کے نتیجے میں بیج، کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات سستی ہوجاتی ہیں۔ پھر اسلام توانائی کے شعبے کو عوام کی مشترکہ ملکیت قرار دیتا ہے نہ کہ سرمایہ داریت کی طرح چند لوگوں کی نجی ملکیت یا پھر اشتراکیت کی طرح ریاستی ملکیت۔ اس وجہ سے پیٹرول اور بجلی کسان کو مناسب قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں اور وہ بہت کم قیمت پر اپنا ٹیوب ویل چلاسکتا ہے۔ یوں جب پیداواری لاگت کم ہوجاتی ہے تو کسان کو اپنی فروخت میں نقصان کا ڈر لاحق نہیں رہتا۔ پھر جہاں تک ایسی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کی بات ہے جن سے عوام کی بنیادی ضروریات متاثر ہوتی ہوں تو اسلام یہاں بھی قدغن لگا کر سرمایہ داروں کے استحصال سے کسان اور عوام کا بھرپور تحفظ کرتا ہے۔

برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے قبل مغلیہ دور حکومت میں ریاستی سطح پر عمومی طور پر اسلام کے احکامات کا ہی نفاذ تھا۔ تبھی صرف اس خطے کی پیداوار پوری دنیا کی پیداوار کا 25فیصد تھی۔ اور صرف حکمران ہی نہیں بلکہ عوام بھی مالی طور پر بہت خوشحال تھے یہاں تک کہ فقراء ڈھونڈنے سے نہ ملتے تھے۔ لیکن جب انگریز نے آ کر اپنے بنائے ہوئے قوانین کا نفاذ کیا تو لوگ بھوک سے مرنا شروع ہوگئے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، ہر اس جگہ پر جہاں سرمایہ دارانہ نظام اپنی اصل شکل میں نافذ ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube