Friday, January 15, 2021  | 30 Jamadilawal, 1442
ہوم   > بلاگز

پاکستان میں ’’تھانہ کلچر‘‘ کی استعماری جڑیں

SAMAA | - Posted: Jan 11, 2021 | Last Updated: 4 days ago
SAMAA |
Posted: Jan 11, 2021 | Last Updated: 4 days ago
ISB police personnel

فوٹو: آن لائن

وفاقی دارالحکومت میں 2جنوری 2021 کو 21سالہ نوجوان اسامہ ندیم ستّی اپنے دوست کو نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں اتار کر اپنی گاڑی پر واپس جا رہا تھا تو پولیس کے اہلکاروں نے اس پر فائر کھول دیا۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق انہوں نے ایسا اس لیے کیا کہ انہیں کچھ ہی دیر قبل یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ کچھ چور ایک سفید گاڑی میں اسی علاقے میں گھوم رہے ہیں۔ چونکہ اسامہ ستّی کی گاڑی بھی سفید رنگ کی تھی اور پولیس کے مطابق ان کے روکنے پر رکی بھی نہیں تو گویا کہ یہ ان کے مطابق اس بات کا قطعی ثبوت تھا کہ وہ گاڑی چوروں کی تھی! لہٰذا ان کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجہ میں کم سے کم 6 گولیاں اسامہ کو جا کر لگیں جن میں سے ایک گولی سر میں اور ایک سینے میں بھی لگی جس سے اسامہ کی موقع پر ہلاکت ہوگئی۔

لیکن یہ اپنی طرز کا کوئی پہلا واقعہ ہرگز نہیں۔ پاکستان کے ماضی اورحال کے وہ تمام حکمران جنہوں نے خوشحالی اور تبدیلی لانے کے بڑے بڑے دعوے کیے، ان سب کے ادوارِ حکومت میں پولیس نے نااہلی، ظلم و جبر اور کرپشن کی داستانیں رقم کی ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاوٴن اور سانحہ ساہیوال اُن اَن گنت واقعات کی صرف چند مثالیں ہیں جہاں پولیس نے نا صرف مردوں بلکہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو بھی بلا تفریق ریاستی رِٹ نافذ کر نے کے نام پر قتل کیا۔ ایک ریاست میں پولیس کا کردار تو ایسا ہونا چاہیئے کہ اس کی بنا پر عوام کے ذہنوں میں اپنے لیے تحفّظ اور امن کے جذبات پیدا ہونے چاہئیں لیکن پاکستان جیسی ریاست میں پولیس پر نظر پڑتے ہی عوام کے ذہنوں میں خوف اور ناپسندیدگی کے احساسات ہی جنم لیتے ہیں۔ تفتیش کے نام پر اذیت ناک جسمانی تشدّد، تھانے کے اندر اور تھانے سے باہر کے نجی عقوبت خانے، ماورائے عدالت قتل، رشوت ستانی، عوام کے لیے ہمدردی کے جذبات سے عاری برتاوٴ، مظلوموں کی دادرسی کی بجائے ظالموں اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے نام نہاد شرفاء کے ہاتھوں کٹھ پتلی بننا جیسے رویّے پولیس کے ادارے سے منسوب ہیں۔ اِن تمام رویّوں کو ہمارے ہاں ’’تھانہ کلچر‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان ہی کے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے 2010 میں ریاست کے تمام سرکاری اداروں کے تفصیلی سروے کے بعد جو رپورٹ جاری کی اُس میں پولیس کے ادارے کو پاکستان کا سب سے زیادہ کرپٹ اور بد عنوان ترین ادارہ قرار دیا لیکن یہ بات ہمارے لیے کوئی نئی نہیں نہ ہی یہ کوئی حیرت انگیز انکشاف ہے کیونکہ پولیس کےادارے کا یہی طرزِ عمل ہمیں بر صغیر سمیت دنیا کے اُن تمام خطوں میں بھی ملتا ہے جو ماضی میں کفّار کے ظالمانہ نو آبادیاتی نطٓام کا حصّہ رہے ہیں۔ پاکستان میں پولیس کے ادارے کا مکمل انتظامی ڈھانچہ اور وہ قوانین جن کے تحت یہ ادارہ کام کرتا ہے انگریز سامراج کی ہی دین ہیں۔

بر صغیر میں برطانوی سامراج کے قبضے سے قبل مسلم حکمرانوں کے دورِ حکومت میں جو کئی صدیوں پر محیط تھا معاشرہ عمومی طور پر جرائم سے کافی حد تک پاک تھا اور اسلام کے نافذ شدہ نظام عدل اور پولیس کے نظام کی بدولت عوام کو تحفّظ اور امن حاصل تھا۔ لیکن برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی اور پھر براہِ راست تاجِ برطانیہ کے استعماری قبضے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ اس خطہ کی عوام اِس قبضے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھی اور جب موقع ملتا وہ اس برطانوی سامراج کے قبضے کے خلاف چھوٹی یا بڑی مزاحمتی  تحریکیں اِس تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے بر پا کرتی رہی جن کو استعمار طاقت کے زور پر کچلتا گیا اور اِس خطّے پر اپنی گرفت مضبوط کرتا گیا مگر جس عظیم بغاوت نے استعماری قبضے کو حقیقی طور پر ایک خطرے سے دوچار کیا وہ 1857 کی جنگ آزادی تھی جس میں عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ فوج اور پولیس کے وہ جوان جو انگریز نے برصغیر کے مختلف حصّوں سے ہی بھرتی کیے تھے وہ بھی اِس جنگ آزادی میں انگریز سے پیچھا چھڑانے کے لیے بڑی تعداد میں شامل ہوئے۔ اگرچہ یہ کوشش ناکام ہوئی مگر اِس جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد کہ جس میں استعمار نے ہزاروں لوگوں اور سپاہیوں کو شہید کیا، انگریز وں کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ اِس خطّے پر صرف ظلم و جبر اور ظالمانہ قوانین کے ذریعے ہی اپنے تسلّط کو بر قرار رکھ پائیں گے اور اسی حقیقت کو ذہن میں رکھ کر برطانوی استعمار کی طرف سے 1861 میں وہ بدنام زمانہ پولیس آف ایکٹ 1861 برصغیر میں نافذ کیا گیا کہ جِس کا مقصد یہاں کے عوام کو سخت قابو میں رکھنا، مستقبل میں ممکنہ بغاوتوں کے اِمکان کو ختم کرنا اور یہاں کی مقامی آ بادی کو یہ احساس دلانا تھا کہ وہ اب انگریز کے غلام ہیں۔ پس پولیس کے ادارے کو نئے سِرے سے ترتیب دیا گیا تا کہ اِس کے وہ جوان جو برصغیر سے ہی بھرتی کیے جاتے تھے اُنکی طرف سے بھی کسی ممکنہ مہم جوئی کا امکان ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔

لہٰذا برصغیر میں برطانوی قبضے کے بعد سے پولیس کے ادارے کوعوام کے جان و مال کی حفاظت کرنے اور انہیں امن و سلامتی فراہم کرنے کی بجائے محض ظلم کو نافذ کرنے اور ظلم کی حکومت کا مدد گار ادارہ بنا دیا گیا اور یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ بے شک ہم نے 1947 میں برطانوی حکمرانوں کی بلاواسطہ حکمرانی سے تو نجات حاصل کرلی، مگر برطانوی استعمار نے بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے اِس بات کو یقینی بنایا کہ نئی بننے والی ریاست پاکستان میں اقتدار اُس نام نہاد اشرافیہ کے ہی حوالے کیا جائے جو برطانوی نظام تعلیم اور نظام حکومت کی تربیت یافتہ تھی اور مغرب کی فکری یلغار سے انتہائی متاثر اور مرعوب تھی۔ مغرب کی اِس تربیت یافتہ اشرافیہ نے پولیس کے ادارے کا بنیادی ڈھانچہ اور برطانوی قوانین پر بنی ان کی عمارت کو چند برائے نام تبدیلیوں کے علاوہ اسی طرح رہنے دیا جس طرح برطانوی استعمار یہاں پر چلا رہا تھا۔ اِسی لیے آج بھی ہم پولیس کے ادارے کو اُسی ظالمانہ تشخص کے ساتھ پاتے ہیں جو برطانوی سامراج کے دور میں اُس کی پہچان تھا۔ آج بھی پولیس کا ادارہ 1861 کا پولیس ایکٹ اور 1934 کے پولیس رولز کے مطابق ہی چلایا جا رہا ہے جو برطانیہ نے اِس ادارے کے لیے وضع کیے تھے اور پاکستان کے ماضی اور حال کے حکمران تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کے بڑے بڑے مگر کھوکھلے دعوے کرتے رہے۔ اگرچہ یہ حکمران بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ پولیس کا یہ نظام یا تھانہ کلچر عوام دشمن ہے اور یہ عوام کو کوئی تحفّظ فراہم نہیں کر سکتا لیکن یہ سیاسی اشرافیہ اور حکمران اس پولیس کو اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے اور اپنے اپنے علاقوں کی عوام کو اپنے دباوٴ میں اور زیر اثر رکھنے کے لیے اپنے معاون اور آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں لہٰذا اِس ادارے میں کوئی بھی ایسی تبدیلی جو اس ادارے کے اِس کردار کو بدل دے وہ اس سیاسی اشرافیہ کے مفاد میں نہیں۔

آج ہمارے تقریباً تمام سِول اور کرمنل قوانین مثلاً کرمنل پروسیجر کوڈ، سِول پروسیجر کوڈ، قانونِ شہادت، لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ اسی دور کی پیداوار ہیں کہ جن کی وجہ سے یہاں کی عوام انصاف کے لیے دَر دَر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور استعماری بنیاد پر کھڑا پورا عدالتی نظام انہیں یا تو اُن کا حق سِرے سے دے ہی نہیں پاتا یا اِس میں عشرے لگا دیتا ہے اور کئی معاملات میں تو ایک شخص کی زندگی میں دائر کیے گئے مقدمات کا حتمی فیصلہ اُس کے مرنے کے بعد سنایا جاتا ہے۔ قتل کے اَن گنت مقدمات کہ جن میں ملزمان کو محض ایف آئی آر میں نامزد ہونے پر گرفتار کر لیا گیا۔ 10، 15 حتیٰ کہ 20 سال کی جیل کی قید بُھگتنے کے بعد شواہد نہ ہونے پر اُن کا ’’با عزت بری‘‘ ہونا اِس پولیس اور عدالتی نظام کا نا صرف عوام سے ایک سنگین مذاق ہے بلکہ اِس نظام کے منہ پر خود ایک طمانچہ ہے۔ پاکستان کی پولیس اور عدلیہ کے ظالمانہ پروسیجرل لَاز (قوانین) اور سُست اور نااہل نظام ِعدل کو دیکھ کر ہی یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہاں انصاف حاصل کرنے کے لیے حضرت نوحؑ کی عمر، قارون کا خزانہ اور حضرت ایوب ؑ کا صبر چاہئے۔

پاکستان میں پولیس کا ادارہ سیاسی اشرافیہ کے اور سرمایہ دارانہ مفادات کے تحت ہی کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کےآئین کے کوڈ آف کرمنل پروسیجر کی شق 154 کے تحت پولیس کو کسی بھی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار ہے جس کے خلاف کوئی بھی شکایت پولیس اسٹیشن میں لائی جائے۔ اِس ایف آئی آر کے اختیار کو انتہائی استحصالی انداز سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر شکایت کنندہ ایک امیر یا سیاسی طور پر مضبوط شخص ہو تو اُسکی ایف آئی آر فوراً درج کرکے مخالف شخص کو فوراً گرفتار کیا جاتا ہے چاہے شکایت کنندہ نےاُس شخص پر اپنی ذاتی دشمنی یا اُس کی کِسی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی نیت سے ہی جھوٹا الزام لگایا ہو۔ جبکہ غریب یا سیاسی طور پر کمزور شکایت کنندہ کی طرف سے کسی طاقتور کے ظلم کے خلاف ایف آئی آر کی درخواست پر مختلف حیلے بہانوں سے کام لیا جاتا ہے اور اگر کبھی ایسی نوبت آبھی جائے کہ پولیس کو کسی امیر یا سیاسی طور مضبوط شخص کے خلا ایف آئی آر درج کرنی پڑجائے تو وہ ایف آئی آر میں ایسے نقائص یا کمزوریاں چھوڑ دیتی ہے جسکا فائدہ اٹھا کر اُسے ضمانت مِل جائے یا عدالت اُس پر کیس ہی بد نیتی پر مبنی قرار دے کر اسے رہا کر دے ایف آئی آر  درج کرنے کا مطلق اختیار پولیس کو لوگوں سے بھاری رشوتیں لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

گرفتاری کے دوران بعض اوقات ملزمان کے سہولت کاروں کے نام اُگلوانے یا جرم قبول کروانے کے لیے ملزمان پر بے پناہ تشدد بھی پولیس کا مخصوص طریقہ کار ہے۔ پولیس کے ظلم کی ایک بد ترین مثال پولیس کی طرف سے پولیس مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں یہ پولیس مقابلے زیادہ تر جعلی ہی ہوتے ہیں اور اِن میں جان بوجھ کر ملزمان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ صرف 2015 کی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہی پاکستان میں صرف ایک سال میں کُل 2108 مرد ملزمان اور 7 عورتوں کو پولیس مقابلوں میں قتل کر دیا گیا اور حیران کُن حد تک 95فیصد پولیس مقابلوں میں کوئی پولیس اہلکار ہلاک تو دور کی بات زخمی تک نہ ہوا۔ سانحہ ساہیوال اور کراچی کے نقیب اللہ محسود قتل کیس اس ظالمانہ پریکٹس کی بد ترین اور ہائی پروفائل مثالیں ہیں۔

کوئی بھی ریاست چاہے وہ بڑی ہو یا چھوٹی اپنی عوام کے جان و مال کی حفاظت اور امن قائم رکھنے کے لیے جن ریاستی اداروں  پر انحصار کرتی ہے اُن میں پولیس کا ادارہ سب سے اہم ہے۔ لیکن اگر بات ایک نظریاتی ریاست کی ہوتو اُس کے لیے پولیس کا ادارہ اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ادارہ عدلیہ کے ساتھ مل کر اُس ریاست کے اندر اُس نظریۂ حیات کے نفاذ اور حفاظت کا فریضہ ادا کرتا ہے جس کی وہ ریاست علمبردار ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلام میں پولیس کا ادارہ دو اہم ترین امورسر انجام دیتا ہے۔ ایک، عوام کی جان، مال اور عزت کو محفوظ رکھنا اور انہیں امن فراہم کرنا اور دوسرا، ریاست کے اندر ریاست کے نظریے (یعنی اسلام ) کی تنفیذ کو یقینی بنانا۔

پاکستان میں پولیس کے ادارے کو ماضی کے ظالمانہ تشخص اور برطانوی راج کے اثرات سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے، جائز و ناجائز اور انسانی و اخلاقی اقدار سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ عوام کو ڈرانے دھمکانے، ملزمان پر تشدّد کرنے اور جعلی پولیس مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل جیسے غیر شرعی اعمال اور کبیرہ گناہوں پر مشتمل اپنے ماضی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پیچھا چھڑا سکے اور انسانی جان کی قدرو قیمت کو پہچان سکے۔ علاوہ ازیں موجودہ نظام میں ایس ایچ اور کو دو لوگوں اور گروہوں کے درمیان کسی تنازعے کو طے کرنے کا ایک جج یا قاضی جیسا جو اختیار حاصل ہے وہ اِسلام میں جائز نہیں۔ پولیس کا کام عدالت کے احکامات پر عمل درآماد یا قاضی کے کہنے پر کسی معاملے کی تفتیش میں مدد فراہم کرنے تک محدود ہے۔ اِسی طرح ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار پولیس کے پاس ہونا درست نہیں اور کسی کو محض شک کی بنیاد پر گرفتار کرنا غیر شرعی ہے۔ یہ اختیارات موجودہ نظام میں مظلوم اور انصاف کے درمیان بہت بڑی رُکاوٹ ہیں۔ ایف آئی آر شکایت کنندہ کی شکایت کے بعد پولیس کی ابتدائی تفتیش پر پولیس کا موقف ہوتا ہے جبکہ اِس میں شکایت کنندہ کی اصل شکایت یا الفاظ پولیس اپنے انداز سے تحریر کرتی ہے۔ ایک اسلامی ریاست میں شکایت کنندہ یا مظلوم شخص سیدھا عدالت جاکر اپنی شکایت خود یا اپنے وکیل کے ذریعے درج کروا سکتا ہے اور عدالت سے انصاف حاصل کر سکتا ہے۔ یعنی مظلوم اور عدالت کے درمیان سے پولیس اور تھانے کی رکاوٹ ختم ہو جاتی ہے۔ اسلام میں شرعی احکامات کی روشنی میں یہ قاضی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خود معاملے کی تہہ تک پہنچے، خود ملزم یا اس کے وکیل سے سوال کرے اور اُس کی طرف سے جوابات کو اچھی طرح پَرکھے اور خود تمام حقائق کی جانچ پڑتال کرے گو کہ اس ضمن میں اگر اُسے کسی پہلوکی مزید تفتیش درکار ہو تو وہ پولیس کو احکامات صادر کرسکتا ہے، جو تفتیش کے بعد اپنے دریافت کردہ حقائق قاضی کے سامنے لے کر آئے گی۔ پولیس صرف عدالت کے حکم پر ہی کسی سے تفتیش کرنے کی مجاز ہوتی ہے اور اِس تفتیش کے دوران وہ ملزم کو تشدّد کا نشانہ ہرگز نہیں بنا سکتی کیونکہ یہ شرعاً حرام ہے۔ ہاں البتہ یہ ضروری ہے کہ پولیس کے تفتیشی افسران اور اہلکاروں کو تفتیش کے جدید ترین طریقوں سے آراستہ کیا جائے اور انہیں فرانزک شواہد کی جانچ پڑتال کی مہارت حاصل کرنے کے لیے بہترین انداز سے تربیت دی جائے تا کہ وہ اپنی تفتیش کے ذریعے معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کریں۔

لہٰذا ایک اسلامی ریاست پولیس کے ادارے کے اختیارات کی شرعی احکامات کے مطابق درست انداز سے تحدید کرتی ہے۔ عوام کی حفاظت اور ریاست میں اسلامی نظریے کے نفاذ میں معاونت سے متعلق فرائض کی انجام دہی کے لیے ریاست اپنے پولیس کے ادارے کی انتہائی پیشہ وارانہ انداز اور اعلیٰ معیار کی ذہنی اور جسمانی تربیت کرتی ہے، اسے جدید ترین ساز و سامان اور ٹیکنالوجی سے لیس کرتی ہے اور اِسے جدید خطوط پر استوار کر کے ایک انتہائی مستعد فورس بناتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube