Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > بلاگز

آخر ہم کیا کریں؟

SAMAA | - Posted: Jan 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Baghdad

فوٹو: اے ایف پی

سال کا آغاز ہو یا دن کا آغاز ہو، دماغ میں جھٹ سے ایک خیال آتا ہے کہ بھئی کیا کریں۔ مگر کرنے کے لیے تو بہت کچھ ہے مگر کچھ ایسا کیا جائے، جس سے دوسروں کو بھی فائدہ ہو اور تعلقات میں بھی خلش نہیں آئے۔ سال 2020 ختم ایسے ہوا جیسے کوئی فلم ختم ہوئی ہو لیکن اب 2021 کا کیا ہوگا؟ خدا جانے ۔ ۔ ۔

لیکن 2020 میں جو جنگ کی چنگاری اٹھی، امن معاہدے ہوئے، حکومتیں قائم ہوئیں اور ختم بھی ہوئیں، اگرچہ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ 2020 کا آغاز جس خطرناک طرح سے ہوا تھا شاید اس سال کا آغاز ایسے نہیں ہوا ہے۔ کیونکہ سال 2020 کے شروعات میں جہاں امریکا نے فضائی حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا مارا تھا، تو اختتام بھی امریکی انتخابات کے پیچیدہ مرحلے سے گذر کر صدر بائیڈن نے صدارت کی کمان ہاتھ میں لی اچھا روکیں، زیادہ آگے نہیں جائیں، پیچھے نظر دوڑائیں کیونکہ مستقبل کا تعین ہمیشہ ماضی ہی کرتا ہے۔ تو ہھر وہ ہی سوال، کیا کریں؟

جس تیزی کے ساتھ عالمی سطح پر پیش رفت ہوئیں ہیں، تو اہم بات یہ ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی وجہ ہمیشہ ایران بنا جو اب ہمارے لیے وبال جان چکا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے قبل ایران کے باغی گروہ عراق میں امریکی افواج پر مسلسل حملے تو کرتے تھے، لیکن پھر سفارت خانے پر بھی حملہ کیا گیا اس کے فوراً بعد امریکا نے ایران کے اہم ترین جنرل کو عراق کے شہر بغداد میں ہلاک کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے اِس حملے کو اپنی بہترین کامیابی کے طور پر تصور کیا، تو بس اب پھر بدلے کی آگ نے جنم لیا اور دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیلنا شروع کردیا۔

چنانچہ اس ضمن میں ایران چونکہ ایک کمزور ملک ہے اس نے بس عراق میں امریکی دفاعی اڈے پر حملے کیے، جس کو صدر ٹرمپ نے ایرانی کی بزدلی قرار دیا مگر پھر وہ ہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کریں؟ اب ذرا سوچیں، نہ ایران امریکا سے اتنے تنازعات پیدا کرتا نہ ہی امریکا کو اپنے دفاع میں کارروائی کی ضرورت محسوس ہوتی، خیر اب تو ہوگیا۔

پھر کیا کریں، میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ کچھ اچھا کرنا چاہیے مگر یہاں تو سب الٹا ہوا ہے۔ لیکن کیا کریں، بدلے کی آگ اور کم عقلی انسانیت کو ختم کر دیتی ہے۔ ان کشیدہ حالات میں جب یوکرین کا مسافر طیارہ جو ایرانی حدود سے گزر کر کینیڈا کی جانب رواں دواں تھا، تو اچانک ایران کے بدلے کی آگ نے امریکی طیارہ تصور کرکے میزائل داغ دیا، 176 مسافر ہلاک ہوئے جس میں 82 ایرانی اور 63 کینڈین شہری تھے۔ اس عمل نے پھر کینیڈا اور ایران تعلقات میں نفرت پیدا کر دی، جبکہ ایران نے عالمی دباؤ پر اس غلطی کا اعتراف کیا، مگر پھر کیا کریں سوال نےجنم لیا لیکن ثابت یہ ہوا کہ کچھ کرنے کے لیے بھی عقل کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

لیکن کیا کریں بھئی ہمیشہ سب خراب نہیں اچھا بھی ہوا ہے، جنگ کے بادلوں نے خوفزدہ کیا ہو مگر امن معاہدوں نے دنیا کو اپنا اسیر کر لیا ہے، جسے امن کی مثال بھی کہا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی عرب کے تعاون سے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان طے پائے تھے اور بڑی تیزی کے ساتھ ہی مستقبل کے معاہدوں کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں، جس میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کو قبول کیا ہے۔

لیکن پھر سعودی عرب نے کویت کے ساتھ بھی تنازعات کو حل کر لیا کیونکہ امریکا کی خواہش ہے کہ خطے میں جنگ کے بجائے امن قائم ہوجائے، مگر یمن اور شام کی صورتحال پر مشترک ایجنڈا طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اچانک جنوری 2021 میں مشرقی وسطیٰ میں تبدیلی رونما ہوئی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر جون 2017 سے ان 4 ممالک نے قطر پر سفارتی، تجارت اور سفری پابندی عائد کی تھی، اب وہ ختم کر دی ہے۔ جس میں سفارتی، تجارت اور سفری پابندیاں شامل تھیں۔ اس کا مقصد یہ ہے، عربوں کے درمیان اتحاد قائم ہوجائے تاکہ خطے میں اسرائیل سے تعلق کی رہ ہموار ہوسکے۔

لہذا یہ خیال رہے کہ تمام مسائل کا حل صرف بات چیت کے ذریعے امن معاہدوں اور خارجہ پالیسی میں لچک پیدا کرنے سے ہی نکلتا ہے، جبکہ علاقائی، نظریاتی اور مذہبی تعصب سے نکل کر جدید دنیا کی تشکیل کے لیے مشترکہ پالسیاں بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube