Thursday, June 17, 2021  | 6 ZUL-QAADAH, 1442

رقص کا مقدمہ اور سوات کا خاموش معاہدہ

SAMAA | - Posted: Jan 7, 2021 | Last Updated: 5 months ago
Posted: Jan 7, 2021 | Last Updated: 5 months ago

سوات کے پہاڑوں میں جنم لینے کے بعد اب تک زندگی میں 27 بہاریں دیکھ چکا ہوں اور زندگی سے ابھی اتنا مایوس نہیں کہ 27 پر ہی اکتفا کرلوں۔ اس لیے 28 ویں بہار کا بھی شدت سے انتظار ہے۔

ان 27 برسوں میں ہم نے سوات میدانوں، جنگلوں اور دریا کنارے شہروں سے آئے بے ضرر سیاحوں کو بے فکری کے ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہوتے دیکھا ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد والوں کو یہاں آکر چھینا جھپٹی اور ڈکیتی کا خوف لاحق نہیں ہوتا۔ خواتین شہر کی شاہراہوں کے برعکس یہاں کے جنگلوں میں خود کو زیادہ محفوظ تصور کرتی ہیں اور بچے کتابوں میں پڑھنے کے بجائے بہتے دریاؤں کا اپنی آنکھوں سے نظارہ کرتے ہیں۔

ہم نے وادی کالام کے میدانی جنگل اور اس کے اطراف پھیلے میدانوں میں بچپن سے ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے منچلوں، لوک گیت گاتے فنکاروں، پشتو ٹپے گاتے گلوکاروں اور دلوں کے تار چھیڑتے موسیقاروں کو زندگی کے حسین لمحات جیتے ہوئے دیکھا اور سنا ہے۔ ہم مقامی باشندے یہ بات جانتے ہیں یہ لوگ شہر کی مشینی زندگی اور چکاچوند سے بھاگ کر فطرت کی آغوش میں عافیت ڈھونڈنے آتے ہیں۔

اس لیے ہم انہیں ’گاہگ‘ کے طور پر نہیں بلکہ مہمان سمجھ کر سلوک کرتے ہیں۔ آپ کو یہ بات بہت عجیب محسوس ہوگی مگر سوات میں آپ کو سیاح یا ٹورسٹ کا لفظ بہت کم سننے کو ملے گا۔ وہاں لوگ سیاحوں کو ’مہمان‘ ہی کہتے ہیں۔ وہ لاشعوری طور پر سیاحت کو محض ’انڈسٹری‘ نہیں بلکہ ایک ’انسانی رشتہ‘ سمجھتے ہیں۔

ہم نے بچپن سے ہی سیاحوں اور مقامی باشندوں کے مابین ایک ’خاموش معاہدہ‘ دیکھا ہے۔ سیاح مقامی آبادی اور گھروں کے اطراف محفلیں نہیں سجاتے جبکہ گھروں سے دور کھلے میدانوں، جنگلوں اور ہوٹلوں کی چاردیواری میں تفریحی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں۔ مقامی لوگ البتہ اپنے گھر سے چٹائی لاکر دیتے ہیں۔ کوئی پانی بھر کے لاتا ہے اور راہگیر بھی رک رک کر ان محفلوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔

ان علاقوں میں آنے والے سیاحوں اور مقامی کلچر میں کافی چیزیں مختلف ہیں مگر مقامی لوگ سیاحوں پر اپنا کلچر مسلط نہیں کرتے اور سیاح مقامی کلچر کا احترام کرتے ہیں۔ مقامی لوگ سیاحوں کی کوتاہیوں سے بھی درگزر کرتے ہیں۔ وہ سڑک پر گاڑی غلط چلائیں تو یہ کہہ کر خاموش ہوجاتے ہیں کہ ہمارے مہمان ہیں۔ سیاح کسی سے تلخ کلامی کریں تو آس پاس لوگ جمع ہوکر معاملہ رفع دفع کرواتے اور مقامی لوگوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مالم جبہ میں ڈانس پارٹی پر ہوٹل مالک کیخلاف مقدمہ

پولیس اہلکار سیاحوں کو بہت زیادہ پروٹوکول دیتے ہیں۔ ان کی معمولی شکایت پر پوری پولیس فورس متحرک ہوجاتی ہے اور کسی قدرتی آفت کی صورت میں حکومتی امداد پہنچنے تک مقامی لوگ ہی سیاحوں کو بھی اپنے گھروں میں ہی چھت فراہم کرتے ہیں۔

میں نے اپنی 27 سالہ زندگی میں آج تک سوات کے کسی تھانے میں کسی سیاح کے خلاف ’فحاشی‘ کا مقدمہ ہوتے نہیں دیکھا۔ کسی مقامی باشندے کو سیاحوں کو بزور بازو کوئی تفریحی سرگرمی سے روکتے ہوئے نہیں سنا جبکہ میں نے ایک پولیس اہلکار کو سیاح کے ساتھ تلخ کلامی کرتے اور 10 منٹ بعد مقامی لوگوں کے دباؤ پر معافی مانگتے دیکھا ہے جبکہ ایک سیاح کی جانب سے ٹریفک اہلکار کو پستول دکھانے کا بھی عینی شاہد ہوں۔

سوات کا 2008 سے 2013 تک کا باب بہت سیاہ ہے۔ اس میں بہت کچھ ہوتے دیکھا ہے۔ ہم اس کو اپنی اصل تاریخ اور شناخت نہیں سمجھتے۔ وہ ہمارے اوپر مسلط کردہ کردار تھے۔ وہ ہماری غیرفطری اور مصنوعی تاریخ تھی۔ ہماری اصل تاریخ میاں گل جہاں زیب نے مرتب کی ہے۔ ہمارا اصل چہرہ ملالہ یوسفزئی ہیں۔ ملالہ نے یہ مصنوعی تاریخ مرتب ہوئے دیکھی۔ اس کے مقابلے میں اپنی اصل تاریخ مرتب کرنے کی کوشش کی اور اس پاداش میں سر پر گولی کھائی۔

یہ ساری باتیں آج اس لیے یاد آئیں کہ مالم جبہ میں سیاحوں اور ہوٹل مالکان کے خلاف رقص کرنے کی پاداش میں مقدمہ درج ہوگیا ہے۔ یہ مقدمہ ’سوشل میڈیا‘ پر ایک پریشر گروپ اور ’کرونا وائرس‘ کے دباؤ پر درج ہوا۔ جس طرح کراچی میں سماجی فاصلہ نہ رکھنے پر ریسٹورنٹس پر جرمانے ہوتے ہیں، اسی طرح ہوٹل مالک پر جرمانہ ہوا۔ اس نے جرمانہ ادا کیا۔ پریشر گروپ کو مقامی کاؤنٹر پریشر گروپ نے دبا دیا اور عدالت نے مقدمہ ختم کردیا۔

ہم سوات کے لوگ مقدمات سے گریز کرتے ہیں۔ کچہریوں اور تھانوں کے چکر لگانے کے بجائے آپس کے معاملے مل بیٹھ کر طے کرتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے بھی بزرگوں کی منصفی میں نمٹاتے ہیں۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جو بندہ شہر سے دو دن گھومنے آتا ہے، وہ حسین نظاروں کا لطف اٹھانے کے بجائے تھانوں کے چکر لگائے تو کتنا افسوس ہوگا۔

آپ سوات آئیں، ہم آپ کے ساتھ دریا کنارے پتھر پر بیٹھ کر لوک کہانیاں سنائیں گے۔ آپ ہمیں شہروں کے بارے میں بتائیں، ہم آپ کو پہاڑوں کے بارے میں بتائیں گے۔ آپ ہمیں مصروف زندگی کا دکھ سنائیں، ہم آپ کو فراغت کی کہانیاں سانئیں گے۔

پاؤں لٹکاکر جانب دنیا

آؤ بیٹھیں کسی ستارے پر

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube