Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

کراچی: حقیقی آبادی جانچےبغیر ترقی ومنصوبہ بندی ممکن نہیں

SAMAA | - Posted: Jan 1, 2021 | Last Updated: 11 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 1, 2021 | Last Updated: 11 months ago

فوٹو: ٹوئٹر

مردم شماری کسی بھی ملک یا شہر میں ہر قسم کی منصوبہ بندی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم اسے قابل توجہ نہیں گردانتے- دنیا بھر میں ماہرین شہری منصوبہ بندی اپنے شہروں کی سماجی، معاشی اور آبادیاتی صورتحال کو سمجھنے کے لئے مردم شماری کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں اور اسکی بنیاد پر مختلف تجزیے کرتے ہیں پھر منصوبہ سازی کے وقت اس کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں۔

مردم شماری کے اعداد و شمار کے معیار اور عام غلطیوں کا جائزہ لینا بھی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مردم شماری کے اعداد و شمار میں غلطیاں ترقی پذیرممالک میں نسبتا زیادہ پائی جاتی ہیں جس کی وجہ تمام لوگوں کی گنتی کرنے میں ناکامی، جواب دہندگان کی صحیح معلومات فراہم کرنے میں ناکامی یا مردم شماری کے اعداد و شمار مرتب کرکے کمپیوٹرز میں داخل کرتے وقت انسانی غلطی ہو سکتی ہے۔-
مردم شماری شہروں کے مستقبل کا تعین کرتی ہے کیونکہ مردم شماری کی بنیاد پر ہی تعلیم، صحت کی دیکھ بھال ، رہائش اور دیگر سماجی پروگراموں کے لئے بجٹ مختص کئے جاتے ہیں- مستقبل کے منصوبوں اور اہداف کا تعین کیا جاتا ہےاس کے ساتھ ساتھ مردم شماری سیاسی نمائندگی کا بھی تعین کرتی ہے کیونکہ مردم شماری کے بعد شہر کے نمائندوں اور مختص نشستوں کی تعداد بدل سکتی ہے۔

ماہر شماریات ڈاکٹر سید نوازالھدیٰ کہتے ہیں کہ پاکستان میں مردم شماری کے مقاصد رہائش پذیر لوگوں کی گنتی،وسائل کی تقسیم، انتخابی حلقہ بندیاں اور معیار زندگی کی جانچ کاری ہے ان کے مطابق مردم شماری کی ہیر پھیر کی بنیاد مردم شماری کے بلاک کی باقاعدہ تعریف کا نہ ہونا ہے جس کے تحت ایک بلاک 175 سے 250 گھروں پر مشتمل ہوتا ہے مگر یہ بات نہیں بتائی جاتی کہ یہ تعداد پلاٹ اور بنیادی ڈھانچوں کی ہے یا گھرانوں کی ہے؟ یوں بلاک کی حلقہ بندی کی متنازعہ تعریف مردم شماری پر عدم اعتماد کی وجہ بنتی ہے۔

سال 2017ء کی مردم شماری میں بہت سی غلطیاں نظر آتی ہیں جو اسے متنازعہ بنا دیتی ہیں اس وقت صورتحال یہ ہے کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے کوئی نہیں جانتا کہ اس کی اصل آبادی کتنی ہے؟ 2017ء کی مردم شماری کے عبوری اعداد وشمار کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق کراچی کی دیہی اور شہری آبادی ڈیڑھ کروڑکے قریب ہے۔مگر ماہرین سے لے کر کراچی میں رہنے والا ایک عام شخص بھی ان اعداد وشمار کے درست ہونے پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اکثریت کے مطابق کراچی شہر کی آبادی ڈھائی کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔

اگر 2017کی مردم شماری کے عبوری نتائج کا 1998کی مردم شماری سے تقابل کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ پچھلے19سالوں کے دوران لاہور شہر کی آبادی میں 113 فیصد، اسلام آباد کی آبادی میں 90 فیصد، پشاور کی آبادی میں 100 فیصد جبکہ شہر کراچی کی آبادی میں صرف 60 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ایسی بات ہے کہ جس پر یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ زمینی حقائق کے مطابق ایسے مضبوط عوامل موجود ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف دوسرے صوبوں سے بلکہ سندھ کے دیہی علاقوں سے بھی شہرکراچی کی طرف نقل مکانی ہوئی ہے- 2017 میں جب مردم شماری کی گئی تھی تواس وقت بھی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مختلف خدشات کا اظہار کیا گیاتھا اور مختلف کوتاہیوں کی نشاندہی کی تھی مگر انتخابات کے انعقاد کے سبب کوئی پیش قدمی نہیں ہوسکی۔ شہر کراچی میں بہت سے بلاکس میں مردم شماری 2017 میں بتائی گئی آبادی اورگھرانوں کی کل تعدادکم تھی ،جبکہ اسی بلاک میں 2018 کے انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد زیادہ تھی اور یہ کسی طور ممکن نہیں کہ ایک علاقے کی آبادی کم اور رجسٹرڈ ووٹرز زیادہ ہوں۔

کراچی کےترقیاتی معاملات عرصہ دراز سے سست روی کا شکار ہیں اور درست اعداد و شمار کے بغیریہ ممکن نہیں کہ ضروری ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی بہتر انداز میں کی جاسکے-ایک جانب شہر کی آبادی کم دکھائی جارہی ہے تو دوسری جانب شہر کراچی کے مسائل ہیں کہ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور عام شہریوں کو حد درجہ تکالیف کا سامنا ہے جیسے کہ صاف اور محفوظ پانی کی کمی، رہائش کی کمی، کچرا اٹھانے کا ناقص انتظام، برساتی نالوں کی صفائی نہ ہونا، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، صحت و تعلیم کی ناکافی سہولیات ، بجلی کی کمی، شہر کا بے ہنگم پھیلاؤ، شہر میں کھلی جگہوں اور کچی زمین کی کمی اور ساتھ ہی شہری سیلاب کا مسئلہ اور نشیبی مقامات اور نکاسی آب مسدود کرنے والے مقامات کی نشاندہی وغیرہ۔ الغرض اس وقت شہر کراچی میں مسائل زیادہ ہیں جبکہ وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو ہیں تو ان کا درست استعمال نظر نہیں آرہا۔

شہر کے مسائل کا حل اس کے مکینوں کی تعداد کو جانے بغیر ممکن نہیں کیونکہ ایک کروڑ آبادی غائب آبادی کے لئے جو وسائل درکار ہیں ان کا کیا ہوگا؟ اسی طرح یہ جانچنا کہ شہرکے غریب طبقے کو کو رہائش کی فراہمی میں کس قدر کمی ہے؟ شہر میں بے گھرافراد کتنے ہیں؟ کتنے افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے؟ غیر رسمی معیشت سے وابستہ افراد کتنے ہیں؟ غیر ہنر مند اور نیم ہنر مند کارکنوں کی ضروریات کیا ہیں؟ بچوں کی صحت اور تعلیم کی صورتحال کیا ہے؟ عوامی مقامات اور ذرائع آمدورفت کے استعمال میں خواتین کو کن مسائل کا سامنا ہے؟ شہر میں بزرگوں تعداد کتنی ہے اور ان کے لئے سہولیات کس حد تک موجود ہیں؟ ان سب سوالوں کاجواب صرف اعدادوشمار اور حقیقی تعداد سے دیاجاسکتا ہےاور حقیقی اعداد وشمار کی غیر موجودگی میں نہ کوئی مستحکم منصوبہ بندی کامیاب ہے اور نہ وسائل کی تقسیم ممکن ہے۔

شہر کراچی کے مکین اپنی حقیقی تعداد جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی تعداد کتنی ہے ان کے لئے یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ اس ملک کے شہری اور اس شہر کے باسی ہونے کے باوجود انہیں شمار نہیں کیا جارہا۔کراچی کے مسائل حل کرنے سے لے کر مستقبل کی ‘منصوبہ بندی’ اور اس پر’عمل درآمد’ کے لئے حقیقی اعداد و شمارجاننے کی ضرورت ہے جن کی بنیاد پر ماہرین تحقیق کرتے ہوئے‘عوامی شرکت ‘ کے ساتھ شہر کے لیے ناگزیر ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کرسکیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube