Wednesday, January 20, 2021  | 5 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

کاون کی دم کے پیچھے کون تھا؟

SAMAA | - Posted: Dec 1, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 1, 2020 | Last Updated: 2 months ago

elephant islamabad zoo,elephant,zoo elephant shifted cambodia,Islamabad court decisions,elephant , Pakistan elephant shifted combidia,zoo elephant

کاون دنیا کاواحد ہاتھی ہے جس نے اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں وہ واقعات دیکھے جو کسی اور ہاتھی کو دیکھنا نصیب نہ ہونگے ۔ کاون کے جاتے ہی مرغزار چڑیا گھر دنیا کا واحد چڑیا گھر بن گیا ہے جس میں کوئی جانور نہیں اور بورڈ چڑیا گھر کا لگا ہوا ہے۔

اب اگران واقعات پر آتے ہیں تو آپ کو بتائیں کہ کاون اپنے رکھوالے یعنی مہاوت کیساتھ جتنا وفادار رہا شاید ہی کسی کیساتھ رہا ہو لیکن مہاوت کو اس کی روانگی کے وقت بلایا بھی نہیں گیا۔ یہ وہی مہاوت ہے جس پر الزامات تھے کہ یہ کاون کو شراب پلاتا ہے اور اس کا گنا اور تربوز چوری کرتا ہے۔ ان الزامات سے مہاوت صاحب کی فائل بھر چکی تھی اور مہاوت چونکہ ایک سیاسی شخص کے خاص بندے تھے اس لئے ان پر ہاتھ ڈالنا بھی گرم لوہے پر ہاتھ رکھنے کے مترادف تھا۔

ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ مہاوت صاحب کاون کو پنجرے سے چپکے سے نکالتے ہیں اور اس وقت کے چئیرمین سی ڈی اے کامران لاشاری کے دفتر کے باہر جا کر باندھ دیتے ہیں۔چونکہ کاون کی دوستی صرف مہاوت سے تھی اس لئے کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ کاون کو واپس چڑیاگھر لا سکے۔ مجبورا حکومت وقت کو کاون کےصدقے مہاوت پر لگے الزامات پر ڈیل کرنا پڑی اور یوں کاون واپس پنجرے میں آیا۔اس نوعیت کے واقعے کی دنیا میں مثال نہیں ملتی ۔

کاون کو دیاجانے والا گنا 10 روپے فی گنا میں مہاوت فروخت کردیتا اور کاون بےچارہ بھوکا رہ جاتا۔ ایسے میں ایک نوجوان  سنی جمیل نے اس حرکت کی ویڈیو بنا کر وائرل کردی اور معاملہ سلگتے سلگتے آتش فشاں بن گیا۔اس واقعے کی میڈیا پر رپورٹنگ ہوئی اورپھر جا کر دنیا کو کاون کی فکر لاحق ہوگئی۔ دس برس قبل کاون کی ساتھی ہتنھی چل بسی تو نوجوان سنی جمیل سے زیادہ اس معاملے کو اٹھانے والا کوئی شخص نہ تھا۔ مہاوت نے اس نوجوان کو ایک دفعہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور اس کا کیمرا بھی چھین لیا لیکن اس کی ٹویٹ پرامریکی اداکارہ اور گلوکارہ شئیر نے کاون کے معاملے کو اٹھایا۔

یہ دنیا حیرت کدہ ہے اوراس حقیقت جاننے والوں کواس وقت حیرانی ہوئی جب وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے سارا کریڈٹ امریکی گلوکارہ شئیر کودیا گیا کہ ان کی وجہ سے کاون کے معاملے کی نشاندہی ہوئی۔ کئی صحافیوں کو کاون پر رپورٹنگ سے روک دیا گیا اور یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزارت ماحولیات کو امریکی گلوکارہ شئیر میں ایسی کیا خوبی نظر آئی جسے امریکہ میں بیٹھے بیٹھے تاج پہنا دیا گیا اور ساتھ ہی کلین اینڈ گرین پروگرام کی سفیر بننے کی آفر بھی کردی گئی۔

اب کاون تو کمبوڈیا پہنچ چکا ہے لیکن اس کے ساتھ پاکستان میں ہونے والا سلوک اور مہاوت کا برتاؤ جانوروں کے تحفظ کرنےوالے اداروں کے لیے ایک سبق ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Faiz Paracha  December 1, 2020 6:30 pm/ Reply

    Chairman CDA Mr Kamran Lashari was chairman during 2003 till 2008.

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube