Wednesday, January 20, 2021  | 5 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

لیاری کی باہمت باکسر سمیّہ بلوچ

SAMAA | - Posted: Nov 30, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 30, 2020 | Last Updated: 2 months ago

تحریر: کلثوم جہاں

کراچی کا علاقہ لیاری کسی زمانے میں گینگ وار، منشیات، اسلحہ، غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کی وجہ سے مشہور تھا، اس علاقے کی الگ ہی دہشت تھی۔ کوئی بھی لیاری کا رخ کرنے سے پہلے سوچتا تھا لیکن اس علاقے میں غربت اور بیروزگاری کے باوجود ٹیلنٹ کی کمی نہیں رہی۔

اس علاقے سے فٹبال، باکسنگ اور مارشل آرٹس کے ایتھلیٹس نے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا، اب ان کھیلوں میں خواتین بھی خوداعتمادی سے قدم جمارہی ہیں، ان ہی میں ایک باہمت باکسر سمیّہ بلوچ ہیں، جنہوں نے چھوٹی سی عمر میں زندگی کے کئی نشیب و فراز دیکھے اور ازدواجی زندگی میں بھی مسائل کا شکار رہیں لیکن طلاق کو روگ بنانے کی بجائے باکسنگ میں نام پیدا کررہی ہیں۔

سمیّہ بلوچ 23 اکتوبر 1995ء میں لیاری میں پیدا ہوئیں، انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز اسکول گبول روڈ، لیاری سے حاصل کی۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کا خاندان اورنگی ٹاؤن کے علاقے فقیر کالونی منتقل ہوگیا تھا تاہم سن 2017ء میں وہ لوگ دوبارہ لیاری آگئے۔ انہوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج فقیر کالونی سے انٹر کیا اوراب گریجویشن کرنے کی خواہشمند ہیں۔

سمیّہ کا ایک بھائی اور 3 بہنیں ہیں اور وہ اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑی ہیں، ان کے والد اور بھائی مزدوری کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’میرے والد واحد شخص ہیں جنہوں نے میرا حوصلہ بڑھایا اور باکسنگ کی دنیا میں لے کر آئے اور یہی وجہ ہے کہ آج میری دو چھوٹی بہنیں بھی قومی باکسر ہیں‘‘۔

بلوچ روایات کو توڑ کر پروفیشنل باکسر بننا کتنا مشکل تھا، اس سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’ہمارے قبیلے میں لڑکیوں کو اتنی آزادی نہیں دی جاتی اورچھوٹی عمر میں ان کی شادی کردی جاتی ہے، وہ بچے اور گھر سنبھالتی ہیں لیکن میرے والد چاہتے ہیں کہ ان کی لڑکیاں پڑھ لکھ کر کچھ بن جائیں اپنے پیروں پرکھڑی ہوجائیں‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ بھی سننے کو ملا کہ وہ غلط راستے پر چل پڑی ہیں یہاں تک کہ لوگ اپنی بچیوں کو کہتے کہ سمیّہ سے نہ ملو لیکن ان کی باتیں ہمت و حوصلہ نہ توڑ سکیں اور میری نظریں منزل کی طرف مرکوز رہیں۔

ہم نے سمیّہ سے پوچھا کہ جب آپ گھر سے باہر نکلتی ہیں تو اردگرد کے لوگوں کا  کیا ردعمل ہوتا ہے؟، جس پر انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں خاندان اور گلی محلے والے کہتے تھے کہ لڑکی ہوکر مردوں کے ساتھ باکسنگ سیکھے گی تو ہمارے خاندان کی عزت خاک میں مل جائے گی لیکن اب لوگوں کی سوچ بدل چکی ہے۔ لیاری میں لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ فٹبال کھیلتی، فائٹ کرتی اور سائیکل چلاتی ہوئی نظر آئیں گی۔

 وہ کراچی کے دیگر علاقوں اور سندھ کے مختلف شہروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کررہی ہیں اور انہوں نے  سندھ گیمز 2017ء اور گزشتہ سال دبئی میں ہونیوالی ورلڈ باکسنگ چیمپئن شپ میں بھی شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ “میں پہلی بار انٹرنیشنل لیول پر باکسنگ رنگ میں اتری تھی جہاں میں نے ہم وطن باکسر کیخلاف کامیابی حاصل کی، اس کا تعلق بھی لیاری سے تھا جبکہ دوسرا میچ آسٹریلوی باکسر سے ہوا جس میں، میں شکست کھا گئی تھی‘‘۔

 سمیّہ نے سن 2016ء میں فقیر کالونی باکسنگ کلب، اورنگی ٹاؤن میں استاد فدا حسین اور شیر محمد سے ٹریننگ حاصل کی۔ وہ اب بھی لیاری کے گبول باکسنگ کلب سے وابستہ ہیں اور ماسٹر عبدالرشید سے باکسنگ کی باقاعدہ تربیت حاصل کررہی ہیں۔ کلب میں اس وقت 25 لڑکیاں باکسنگ سیکھ رہی ہیں۔

سمیّہ کے والدین نے ان کی شادی چھوٹی عمر میں کردی تھی لیکن ان کی ازدواجی زندگی زیادہ دن نہ چل سکی۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں چھوٹی عمر میں ہی طلاق ہوگئی تھی اور وہ وقت ان کیلئے بہت مشکل تھا کیونکہ وہ بالکل ٹوٹ چکی تھیں اور ہر وقت روتی رہتی تھیں لیکن ان کے والدین اور بھائی بہنوں نے ان کا ساتھ دیا اور انہوں نے زندگی میں کچھ بننے کافیصلہ کرلیا۔

اس تلخ تجربے کے بعد انہیں لوگوں کے باتیں بنانے پر غصہ آتا تھا تاہم اس کے باوجود انہوں نے محنت اور لگن جاری رکھی اور والد کا سہارا بننے کیلئے کئی جگہ نوکریاں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’طلاق نے میری زندگی بدل دی تھی اور میں نے باکسنگ گلوز پہن کر اپنا سارا غصہ پنچنگ بیگ پر نکالا‘‘۔

سمیّہ  کے پسندیدہ باکسر محمد علی ہیں اور وہ آرمی کی ٹیم  کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا “میں بچپن میں آرمی میں جانا چاہتی تھی اور ابھی بھی میری خواہش ہے کہ میں آرمی کی باکسنگ ٹیم کا حصہ بن کر پاکستان کا نام روشن کروں‘‘۔

سمیّہ نے  لڑکیوں سے کہا کہ اگر وہ کچھ کرنا یا باکسر بننا چاہتی ہیں تو دنیا کی پرواہ نہ کریں اور اپنے دل کی سنیں، خود پر یقین رکھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ باکسنگ سے سیلف ڈیفنس آتا ہے اور چوں کہ لڑکیوں کو ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا وہ باکسنگ سیکھ کر اپنی حفاظت خود کرسکتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube