Wednesday, January 20, 2021  | 5 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > کھیل بلاگز

اےٹی پی فائنلز: ڈینیل میڈویڈیف کی تاریخی فتح

SAMAA | - Posted: Nov 25, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 25, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: یوایس اوپن

روس کے 24سالہ ٹینس اسٹار ڈینیل میڈویڈیف نے اے ٹی پی فائنلز کے فائنل میں یوایس اوپن چیمپئن اور عالمی نمبر 3 ڈومینک تھیم کو سخت اور جاں گسل مقابلے میں شاندار انداز میں کم بیک کرتے ہوئے 3سیٹ میں شکست دی اور اپنے ٹینس کیریئر کا سب سے بڑا ٹائٹل جیت لیا۔ انہوں نے ٹینس سیزن کے اختتامی ایونٹ میں شکست کے جبڑوں سے اپنی فتح کو کشید کیا۔ لندن میں منعقد ہونے والے آخری اے ٹی پی فائنلز ایونٹ کیلئے ڈومینک تھیم کو اس فائنل میچ میں فیورٹ قراردیا جارہا تھا۔ پہلا سیٹ ڈومینک تھیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے 4-6 سے اپنے نام کر لیا تھا جبکہ دوسرے سیٹ میں بھی آسٹرین کھلاڑی تھیم کا پلہ بھاری تھا۔ وہ فائنل جیتنے کے قریب تھے اور صرف ایک پوائنٹ کی دوری پر تھے جب روسی اسٹار میڈویڈیف نے ٹائی بریک میں غیر معمولی اور ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم بیک کیا اور ٹائی بریکر میں مسلسل سات پوائنٹ حاصل کر کے دوسرا سیٹ 7-6(7-2) سے اپنے نام کر لیا۔

وہ میچ کو تیسرے اور فیصلہ کن سیٹ میں لے گئے۔ تیسرے سیٹ میں بھی دونوں کھلاڑیوں نے سبقت حاصل کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کیں تاہم میڈویڈیف نے اپنی برق رفتار سروس‘ لمبی ریلیز‘ فور ہینڈ شاٹس اور گراؤنڈ اسٹروکس کے ذریعے میچ پر گرفت کو مضبوط کیا۔ روسی کھلاڑی نے اپنی ساڑھے چھ فٹ طویل قامت کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وہ برق رفتاری سے نیٹ کے قریب آتے تھے اور ڈراپ شاٹ سے میچ کی رفتار کو یکدم سلو کر دیتے تھے۔ڈینیل میڈویڈیف نے تیسرا سیٹ 6-4 کے مارجن سے جیت کراے ٹی پی فائنلز ٹائنل پہلی بارجیت لیا۔ میچ کا حتمی اسکور 4-6,7-6(7-2),6-4 رہا۔اس فتح کے ساتھ میڈویڈیف کو1500 رینکنگ پوانٹس اور1564000 ڈالر کی انعامی رقم بھی مل گئی۔ ڈومینک تھیم کی اے ٹی پی فائنلز کے فائنل میں یہ مسلسل دوسری شکست تھی۔ گزشتہ سال یونان کے سسٹیپاس نے فائنل میں تھیم کو ہرا دیا تھا۔

Daniil Medvedev was red hot in London.

روسی کھلاڑی میڈویڈیف کی یہ کامیابی اور ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے ریکارڈ ساز ہے۔ کیونکہ اے ٹی پی فائنلز کی 50 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی کھلاڑی نے عالمی رینکنگ کے ٹاپ 3کھلاڑیوں کو ایک ہی ایونٹ میں زیرکیا۔ میڈویڈیف پورے ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہے۔ یہ اے ٹی پی فائنلز کی تاریخ کا طویل ترین فائنل میچ تھا جو 2گھنٹے 43منٹ جاری رہا۔میڈویڈیف نے راؤنڈ میچ میں عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ اور سیمی فائنل میں عالمی نمبر 2رافیل نڈال کو زیر کیا تھا۔ ڈومینک تھیم عالمی نمبر 3کی پوزیشن پر فائز ہیں۔ یہ پہلاموقع ہے کہ کسی ایونٹ میں نڈال اور جوکووچ کو2،2 میچوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ ڈومینک تھیم نے بھی سیمی فائنل میں جوکووچ اور راونڈ میچ میں نڈال کو ہرایا تھا۔ 20 گرینڈ سلام اعزازات جیتنے والے رافیل نڈال اپنے کیریئر میں کبھی اے ٹی پی فائنلز ٹائٹل کو اپنے نام نہیں کر سکے۔

میڈویڈیف کے کیریئر کا یہ 9واں ٹائٹل ہے۔ وہ نومبر 2019 سے اکتوبر 2020تک عالمی رینکنگ کے ٹاپ 10 کھلاڑیوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں ہراسکے تھے لیکن گزشتہ چار ہفتوں نے عالمی رینکنگ کے ٹاپ10 کھلاڑیوں میں سے 7کو شکست دی جو ان کی شاندار کارکردگی اور مثالی فارم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میڈویڈیف مسلسل پانچویں کھلاڑی ہیں جس نے پہلی بار ٹینس سیزن کا یہ اختتامی ٹورنامنٹ جیتا ہے۔ ان سے قبل2016 میں اینڈی مرے‘ 2017 میں گریگور دیمتروف‘ 2018 میں الیگزینڈر زیوریف اور 2019میں ستسیپاس نے یہ اعزاز جیتا تھا۔

Daniil Medvedev beats Dominic Thiem to win ATP Tour Finals – as it happened  | Sport | The Guardian

میڈویڈیف نے فاتحانہ شاٹ کھیلنے کے بعد دوسرے کھلاڑیوں کی طرح جشن نہیں منایا بلکہ انہوں نے باکس اور خالی اسٹینڈز کی جانب دیکھا اپنی جیب سے گیندیں نکال کر پھینکیں اور کندھوں کو دو مرتبہ جھٹکا۔ پھر وہ اپنے حریف ڈرمینک تھیم سے کافی دیر تک گلے ملے اور اسے دلاسہ دیا۔میڈویڈیف کا کہنا تھا کہ تھیم نے شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کیا وہ ایک مشکل حریف ہے لیکن قسمت نے میرا ساتھ دیا وہ فتح کے قریب پہنچ کر دور ہو گیا۔ روسی کھلاڑی نے کہا کہ میں دوسرے کھلاڑیوں کی طرح اپنی کامیابی کا جشن نہیں مناتا بلکہ خاموش رہتا ہوں یہ میرا اپنا اسٹائل ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کئی ایسے فٹبالر ہیں جو میچ میں گول کرنے کے بعد دوسرے کھلاڑیوں کی طرح خوشی میں شور و غوغا نہیں کرتے۔ میں نے بھی ان جیسا خاموشی کا انداز اپنایا ہے اور آئندہ بھی آپ میرے اس انداز کو دیکھیں گے۔

میڈویڈیف کا کہنا تھا کہ ٹینس کی دنیا میں فتح کے بعد یہ انداز اپنانے والا میں شاید واحد کھلاڑی ہوں۔ میں نے یہ انداز 2019 کے یو ایس اوپن ٹینس میں اپنایا تھا جہاں کراؤڈ کی جانب سے مجھے مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میڈویڈیف 2019 کے یوایس اوپن کے فائنل میں پانچ سیٹ کے سخت مقابلے کے بعد رافیل نڈال کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ یہ ان کے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام فائنل تھا۔ آسٹریلین اوپن2020 کے چوتھے راؤنڈ میں میڈویڈیف کو سٹان واورنکا نے زیر کیا تھا جبکہ گزشتہ ماہ روسی کھلاڑی نے پیرس ماسٹرز 1000کا اعزاز پہلی مرتبہ اپنے نام کیا تھا۔ روسی کھلاڑی کی برق رفتاری کی وجہ سے ان کے حریفوں نےانہیں ”مشین“ کا نام دیا ہے۔انہیں گیند کی ڈائریکشن کو تبدیل کرنے میں زبردست مہارت حاصل ہے۔

اے ٹی پی فائنلز 2020کیلئے کوالیفائی کرنے والے 8کھلاڑیوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ گروپ ٹوکیو 1970 میں عالمی نمبر ایک نواک چوکووچ‘ ڈینیل میڈویڈیف‘ الیگزینڈر زیوریف اور ڈیگو شوارٹزمان تھے جبکہ گروپ لندن 2020 میں رافیل نڈال‘ ڈومینک تھیم‘ دفاعی چیمپئن سٹیفانوس ستسیپاس اور آندری روبلیف تھے۔ راجر فیڈررنے ایونٹ کیلئے کوالیفائی کیا تھا لیکن گھٹنے کی سرجری کی وجہ سے انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا تھا جس کے بعد رینکنگ میں نمبر 9ڈبگو شوارٹزمان کو ان کی جگہ شامل کیا گیا۔ دفاعی چیمپئن ستسیپاس اس بار صرف روبلیف کے خلاف ایک میچ جیت پائے جبکہ نڈال اور تھیم کے ہاتھوں انہیں شکست اٹھانا پڑی تھی۔

Pin on NEWS

ڈینیل میڈویڈیف نے 2019میں عالمی رینکنگ میں ٹاپ8 میں آنے پراے ٹی پی فائنلزمیں ڈیبیو کیا تھا۔ وہ گزشتہ سال کے اس ایونٹ میں کوئی میچ نہیں جیت پائے تھے اور پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک سیٹ جیتا تھا۔وہ گزشتہ سال آندرے اگاسی گروپ میں رافیل نڈال‘ ستسیپاس اور الیگزرینڈر زیوریف کے ساتھ تھے۔ انہیں پہلے راؤنڈ میچ میں رافیل نڈال نے تین سیٹ کے سخت مقابلے میں شکست دی تھی اور میڈویڈیف ایک سیٹ جیت سکے تھے۔ انہیں دیگر راؤنڈ میچوں میں ستسیپاس اور زیوریف نے زیر کیا تھا۔

اے ٹی پی فائنلز میں میڈویڈیف کے تاریخی کارنامے سے قبل دیگراے ٹی پی ماسٹرز ٹورنامنٹس میں 3مواقع ایسے ہیں جب کسی کھلاڑی نے ٹورنامنٹ میں عالمی رینکنگ کے تین ٹاپ کھلاڑیوں کو شکست دی۔1994 میں اسٹاکہوم میں جرمنی کے بورس بیکر نےیہ کارنامہ انجام دیا تھا جبکہ 2007 میں مانٹریال میں ہونے والے ماسٹرز ایونٹ میں سربیا کے نواک جوکووچ اور2007 میں میڈرڈ میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں ارجنٹینا کے ڈیوڈ نلبینڈیان نے ٹاپ تین کھلاڑیوں کو زیر کیا تھا۔

ڈینیل میڈویڈیف نےاپنے کیریئر کا پہلا اے ٹی پی ٹائٹل 2018ء میں سڈنی انٹرنیشنل جیتاتھا۔اس کے بعد انہوں نے ونسٹن سلم آؤٹ ڈور ہارڈ کورٹ ٹورنامنٹ اور ٹوکیو انڈور ٹورنامنٹ اپنے نام کیے۔ 2019 می روسی کھلاڑی نے چار ٹورنامنٹ صوفیا انڈور ہارڈ کورٹ ایونٹ‘اے ٹی پی ماسٹرز1000 سنسناٹی‘ سینٹ پیٹرزبرگ انڈور ہارڈ کورٹ اور اے ٹی پی ماسٹرز شنگھائی کے اعزازات جیتے۔2020 میں روسی کھلاڑی سال کے اختتامی ٹورنامنٹ کے علاوہ پیرس اے ٹی پی ماسٹرز 1000ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب رہے۔

ATP Finals: Daniil Medvedev snaps Rafael Nadal win streak to set Thiem final  | Metro News

برطانوی دارالحکومت لندن نے2020 میں آخری بار اے ٹی پی فائنلز ایونٹ کی میزبانی کی اور اب اگلےسال سے یہ ٹورنامنٹ تورن اٹلی میں منعقد ہوگا۔ لندن کو12مرتبہ اس ٹورنامنٹ کی میربانی کا اعزاز حاصل رہا۔ لندن 2009 سے اس ایونٹ کی میزبانی کررہا تھا۔ اس سے پہلے یہ ایونٹ شنگھائی میں ہوتا تھا۔ 2009 میں لندن میں ہونے والے پہلے اے ٹی پی فائنلز کا اعزاز روس کے نکولائی ڈیوڈنکو نے جیتا تھا جب انہوں نے فائنل میں ارجنٹینا کے مارٹن ڈل پوٹرو کو فائنل میں 6-3، 6-4 سے شکست دی تھی۔ برطانیہ کے اینڈی مرے نے 2016 کے اے ٹی پی فائنلز کے فائنل میں سربیا کے نواک جوکووچ کو زیر کر کے اپنا پہلا اور واحد اے ٹی پی فائنلز ٹائٹل جیتا تھا اور اس کے ساتھ وہ عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر بھی فائز ہوئے تھے۔ لندن میں ہونے والے 12 اے ٹی پی فائنلز ایونٹس میں سے نواک جوکووچ نے سب سے زیادہ 11 مرتبہ شرکت کی اور چھ مرتبہ فائنل میں پہنچے اور یہاں چار مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کیا۔

جوکووچ نے فائنل میں دو مرتبہ راجر فیڈرر ایک مرتبہ نڈال کو ہرایا اور ایک بار واک اوور ملا جبکہ راجر فیڈرر 10 بار شریک ہوئے۔2014 میں اے ٹی پی فائنلز کے فائنل میچ کا انعقاد نہیں ہو سکا کیونکہ راجر فیڈررکمر میں انجری کی وجہ سے فائنل سے دستبردار ہوگئے تھے اور نواک جوکووچ فائنل میچ کھیلے بغیر ہی چیمپئن بن گئے تھے یہ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اس نوعیت کا واحد واقعہ ہے۔فائنل نہ ہونے کی وجہ سے نمائشی میچ کرایا گیا تھا جس میں اینڈی مرے کے پارٹنر جان میکنرو اور ٹم ہینمین کے پارٹنرپیٹ کیش تھے۔ لندن منتقلی سے قبل یہ ایونٹ ماسٹرز ٹینس کپ کہلاتا تھا۔

سوئس ماسٹر راجر فیڈرر کو سب سے زیادہ ریکارڈ 17بار اے ٹی پی فائنلز ایونٹ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ 6مرتبہ اے ٹی پی فائنلز ٹائٹل اپنے نام کر کے سرفہرست ہیں جبکہ چیکوسلواکیہ کے ایوان لینڈل‘امریکہ کے پیٹ سمپراس اور سربیا نواک جوکووچ نے پانچ پانچ مرتبہ یہ اعزاز جیتا ہے۔ رومانیہ کے ایلی نستیسی نے چار امریکہ کے جان میکنرو اور جرمنی کے بورس بیکر نے تین تین سویڈن کے بیجورن بورگ اور آسٹریلیا کے لیٹن ہیوٹ نے دو دو مرتبہ اے ٹی پی فائنلز ٹائٹل اپنے نام کیا۔ 1970میں شروع ہونے والے اس ایونٹ کے اولین فاتح امریکہ کے سٹان اسمتھ تھے۔

ایک بار جیتنے والوں میں آنذرے اگاسی‘ اسٹیفن ایڈبرگ‘نکولائی ڈیوڈنکو‘ گولیرمو ولاس‘ جمی کونرز‘مائیکل شٹخ‘ایلکس کوریجا‘گستاؤ کیورٹن‘ڈیوڈ نلبینڈیان‘ اینڈی مرے گریگور دیمتروف‘ الیگزینڈر زیوریف‘ سٹیفانوس ستسیپاس اور نئےچیمپئن میڈویڈیف شامل ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube