Wednesday, January 20, 2021  | 5 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

گلگت بلتستان میں کس طرح ’دھاندلی‘ کی گئی

SAMAA | - Posted: Nov 20, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 20, 2020 | Last Updated: 2 months ago

گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 میں سے 23 حلقوں کے انتخابات میں پی ٹی آئی اور آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا ہے۔ 8 نشستوں پر برتری کے ساتھ تحریک انصاف پہلی پوزیشن پر آئی ہے جبکہ 7 آزاد امیدوار بھی نامی گرامی سیاستدانوں کو پچھاڑ کر اسمبلی پہنچ گئے۔ ایک نشست پر تحریک انصاف کے اتحادی جماعت کے امیدوار بھی جیت چکے ہیں۔

مگر اپوزیشن جماعتیں انتخابات سے پہلے اور نتائج آنے کے بعد بھی مسلسل دھاندلی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

حافظ حفیظ الرحمان، جو کہ سابق وزیراعلی بھی ہیں اور مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ انتخابات سے 4 ماہ قبل مسلم لیگ ن کی حکومت کے تمام جاری منصوبوں اور نئے ترقیاتی منصوبوں پر پابندی عائد کردی گئی۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے سے چار ماہ پہلے ہی حکومت کے اختیارات ختم کردئے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان،کس کے حصے میں کتنی مخصوص نشتیں آئیں گی

کرونا وائرس کی عالمی وبا سر پہ منڈلارہی تھی اور اس پر قابو پانے کے لئے  متعدد اقدامات اٹھانے کی بھی ضرورت تھی لیکن حکومتی اختیارات کو منجمد کرکے پولیٹیکل انجینئرنگ کا آغاز کردیا گیا۔ اس غیر قانونی اقدام پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ جس طرح انہوں نے صوبائی حکومت کو کسی بھی قسم کے اعلان سے روکنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے، اسی طرح وفاقی حکومت کو بھی نئے منصوبوں کے اعلان کرنے سے روکیں اور کسی بھی منصوبے کا افتتاح کرنے سے بھی روک دیا جائے۔

مگر انتخابی شیڈول جاری ہونے اور الیکشن میں محض 15 دن رہ گئے تو وزیراعظم نے یوم آزادی کے بہانے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کردیا جبکہ تمام وزراء بشمول وفاقی وزیر امور کشمیر و جی بی نے یہاں دھیرے ڈال دئے۔

پہلی مرتبہ دیکھا کہ وفاقی وزراء نے انتخابی مہم چلائی، بالخصوص علی امین گنڈاپور، جس نے 2 سال تک اس علاقے کا دورہ تک نہیں کیا، وہ انتخابی مہم چلانے کے لیے پہنچ گئے۔ انتخابی مہم میں تحریک انصاف کے پاس کوئی منشور تھا ہی نہیں۔ اس لئے نقد اعلانات کرکے ووٹ خریدے گئے۔

حافظ حفیظ الرحمان کے مطابق وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ ہمارے ووٹروں کا ڈیٹا نکال کر انہیں واپڈا اور دیگر اداروں کا ملازم ظاہر کیا گیا اور ان کے پوسٹل بیلٹ پیپرز جاری کرادئے گئے۔ جب وہ ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے پولنگ اسٹیشن پہنچ گئے تو پتہ چلا کہ ان کا ووٹ پہلے ہی کہیں اور کاسٹ ہوچکا تھا۔

پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات و امیدوار جی بی اسمبلی سعدیہ دانش کہتی ہیں کہ گورنر ہاؤس انتخابی دھاندلی اور پولیٹیکل انجینئرنگ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ انتخابات سے قبل ہی ہم نے متعدد امور کی نشاندہی کی لیکن کمال ڈھٹائی سے دھاندلی جارہی رہی اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:جوبیانیہ کابوجھ نہیں اٹھاسکتا، وہ جاسکتا ہے، ن لیگ

حلقہ 13 استور سے پی ٹی آئی کے امیدوار کو جتوانے کے لئے 2700 پوسٹل بیلٹ پیپرز ملک کے مختلف کونوں سے جعلی اسٹمپ پر بھجوادیئے گئے۔ نگران حکومت کو بھی صرف پارٹی امیدواروں کی جوڑ توڑ میں مصروف رکھا گیا۔

سعدیہ دانش مزید کہتی ہیں کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ پیپلز پارٹی کو پڑے ہیں اور سیٹیں تحریک انصاف کو ملی ہیں۔ کوئی اندھا بھی اس صورتحال کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ ہمارے امیدواروں کو ہرانے کے لئے بھی ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے۔ جہاں سے ہمیں ووٹ پڑنے تھے وہاں جان بوجھ کر مسائل پیدا کئے گئے۔

حلقہ 2 گلگت میں 5 دنوں کے بعد بھی سرکاری اعلان نہیں ہوسکا ہے اور جس طرح راتوں رات 619 ووٹوں کی برتری کو 2 ووٹوں کی شکست میں تبدیل کیا گیا ہے وہ انتہائی شرمناک یے۔

تانگیر میں خواتین کو ووٹ پول کرنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔ ان کے شناختی کارڈ اٹھاکر اپنی مرضی سے ووٹ دئے گئے۔ یاسین میں بیلٹ باکس دریا سے برآمد ہوئے۔ سکردو میں بھی امیدواروں کو ہرانے کے لئے مسلکی کارڈز سے لیکر لالچ اور نقد رقم کے ہر ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دھاندلی کے الزامات پر احتجاج جاری، گلگت میں فوج طلب

گندم سبسڈی کے 2 لاکھ بوری کاٹے گئے تھے اور الیکشن میں اسے بحال کرکے شکریہ عمران خان کے بینرز بناکر عوام میں تقسیم کئے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر کا کردار انتہائی منفی رہا، جہاں اس نے وزراء کو انتخابی مہم چلانے کی بھرپور آزادی دی لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو انتخابی مہم چلانے پر رکاوٹیں کھڑی کیں۔

جمعیت علماء اسلام نے بھی انتخابات کو صاف شفاف قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک امیدوار کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئی جس کی وجہ سے حلقہ 17 داریل دیامر میں امن و امان کی صورتحال بھی پیش آئی۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے الزامات کو چیف الیکشن کمشنر نے روایتی طور پر رد کرتے ہوئے انتخابات کو صاف شفاف اور اپنے کردار کو غیر جانبدار قرار دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان کے مطابق انہوں نے ایک قدم بھی الیکشن ایکٹ 2017 سے باہر نہیں اٹھایا۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق پہلی مرتبہ چیف (ہائی) کورٹ کے جسٹس کی سربراہی میں الیکش ٹریبونل قائم کیا ہے جہاں ہر بروقت اور تیزی سے انتخابی دھاندلی کے الزامات اور اپیلوں کی سماعت ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube