Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

خزاں رسیدہ پتے اور چترال

SAMAA | - Posted: Nov 20, 2020 | Last Updated: 1 week ago
SAMAA |
Posted: Nov 20, 2020 | Last Updated: 1 week ago

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی بات کی جائے تو ان کا ذکر چترال کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔

نومبر سے شروع ہونے والے سخت سرد موسم میں ان دنوں چترال میں ہر سو جہاں نظر ڈورائیں خزاں رسیدہ پتوں پر پڑتی اوس اور روئی کے گولے نظر آئیں گے۔ یہ حصہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔

شاخ سے گرتے یہ پتے کہیں اداس تو کہیں خوبصورت رومانی منظر پیش کرتے ہیں۔

سوکھے زرد، سنہری اور سرخ پتوں سے مزین چترال کی سرزمین ان دنوں جنت کے کسی ٹکرے سے کم نہیں لگ رہی۔

یہاں کے منظر اتنے دلکش ہوتے ہیں کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی زندگی کی خوبصورت یادوں میں کھو جاتے ہیں۔

خزاں کے گرتے پتوں کے دبیز قالین پر سفید روئی کے گولے گویا کینوس پر بکھیر خوبصورت رنگوں کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔

یہاں کی خزاں بھی بہار جیسی خوبصورتی رکھتی ہے، مگر جناب خزاں کے دور میں ذکرِ بہار کیا کرنا؟۔

ہوا کی زد پر چاروں سو اڑتے یہ سوکھے خشک پتے کسی انجان پگڈنڈی پر سفر کرتے مسافروں کی طرح ادھر ادھر بکھرتے رہتے ہیں۔

یہاں موجود پہاڑ درخت، مکان راستے ہر کوئی اپنی الگ داستاں بتاتا نظر آتا ہے۔

سرد موسم برف سے ڈھکے پہاڑ موتیوں جیسے لگتے ہیں، یہاں درختوں اور پہاڑوں سے جھلکتی سورج کی کرنیں جب پتوں اور درختوں پر پڑتی ہیں تو گویا انہیں نکھار دیتی ہیں۔

یہ جگہ افغانستان سے قریب ہے، جہاں سے آپ پڑوسی ملک کی برفیلی چوٹیوں کا نظارہ بھی کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے انتہائی شمالی کونے میں ضلع ترچ میر کے دامن میں واقع چترال ایک چھوٹا سے شہر ہے، جس کی بلندی 1517 میٹر ہے۔


نوٹ: یہ تصاویر ہمیں چترال سے نمائندہ سیف الرحمان نے ارسال کی ہیں

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube