Monday, January 18, 2021  | 3 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

پھر ایک اور امید

SAMAA | - Posted: Nov 19, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 19, 2020 | Last Updated: 2 months ago
ADB

فوٹو: اے ایف پی

بار بار امید کی تمنا کرنا انسان کے فطری عمل میں شامل ہے۔ اس لیے ہم سب امید سے ہیں اور خواہشات کی تکمیل کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ اس میں کوئی شک نہیں کے لاک ڈاٶن کے دوران اور اس کے بعد کی زندگی نہایت مشکل تھی، چھوڑیں تصور کرکے کے بھی جی اکتا جاتا ہے۔ لیکن دنیا بھر کے افراد اسی وجہ سے معاشی طور پر کمزور ہوئے، تو بے روزگاری نے ڈیرے ڈال دیئے۔ پھر عالمی وبا کی وجہ سے دنیا کی اقتصادی ترقی رک گئی اور پاکستان کی جی ڈی پی دو فیصد سے بھی کم ہوگئی تھی۔ کیونکہ اس سال 2020 میں ملک معیشت کمزور ہوتی جارہی ہے۔

اس کے بعد پھر کچھ امید تھی، لیکن پاکستان کے اعداد و شمار بیورو (پی بی ایس) نے واضح کر دیا کہ ستمبر کے مہینے برآمدات میں 12.66 فیصد اضافے سے 463.16 ملین ڈالر کی سطح پر اضافہ ہوا ہے۔ مگر یہ انکشاف بھی کر ڈالا کہ 2020-21 کے پہلے دو ماہ کو برآمد میں منفی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کیونکہ مارچ کے لاک ڈاٶن کے بعد جولائی سے ستمبر کے دوران برآمدات 5.4 فیصد کی کمی سے 1.225 بلین ڈالر رہ گئیں ہیں، جو کہ گذشتہ سال کے اسی مہینوں کے دوران 1.295 بلین ڈالر تھیں۔

اب امیدیں ختم ہوتی جارہی تھیں، لیکن کبھی کبھی کچھ اِسی امید کے سہارے آگے بھی ہم بڑھ رہے تھے کہ کچھ تبدیلی آئے گی۔ پھر آچانک ایک امید جاگی کہ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے امداد کے طور پر 10 ارب ڈالر پاکستان کو دینے کا معاہدہ کیا ہے تاکہ پاکستان اپنی معیشت کی رفتار مزید تیز کرسکے۔ مگر معاشی اعتبار سے یہ معاہدہ کافی اہم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کئی سوالوں نے بھی جنم لیا ہے۔ کیا اس معاہدے سے ہم ترقی کر پائیں گے؟ جبکہ میڈیا میں اس معاہدے کو زیادہ توجہ نہیں دی کیونکہ اس کے اثرات فوراً مرتب نہیں ہوتے۔

اس معاہدے کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، پہلے حصے میں معاشی نظام کی بہتری؛ دوسرے حصے میں تعلیم، صحت، صاف پانی کی سہولت، فوڈ سیکورٹی، سماجی تحفظ اور رعائتی گھروں کی اسکیم؛ تیسرے حصے میں شہری ترقیاتی منصوبے، توانائی کی بحالی، دیہی ترقی، خطے میں مواصلات کے ساتھ بہتری لانا ہے۔ خیال رہے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک اپنی ترقی کے لیے قرضوں کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ پاکستان کی ہر حکومت نے قرضوں کا ہی سہارا لیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2020-22 کے لیے 7.1 بلین ڈالر مختص کیے تھے جس میں سے 6.5 بلین ڈالر کی رقم مختلف منصوبوں اور پالیسی پر مبنی پروگرامز کے لیے ’’پروگرام لونز‘‘ کی صورت میں تقسیم کی جا چکی ہے۔ پروگرام لونز قرض کی وہ قسم ہے، جو بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے لیا جاتا ہے۔

لہٰذا جنوبی ایشیا میں جو کرونا کی وجہ سے اقتصادی بحران ہے، جس میں بالخصوص پاکستان بھی شامل ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں جو غربت شرح میں اضافہ ہوا ہے کیا اس پر ہم قابو پاسکیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جن مقاصد کے لیے یہ قرض حاصل کیا ہے، کیا وہ مقاصد ہم حاصل کر پائیں گے۔ اسی لین دین کو دیکھتے دیکھتے سالوں گزرتے گئے ہیں، لیکن ہر سال وہ ہی اذیتیں اور مگر پالیساں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ سوال بے شمار مگر جواب گمشدہ

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube