Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

گلگت بلتستان انتخابات2020: فاتح کون ہوگا؟

SAMAA | - Posted: Nov 13, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Nov 13, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago

تصویر کیلئے بشکریہ منظر شگری

گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 عام نشستوں میں سے 23 نشستوں کیلئے پولنگ رواں ماہ 15 نومبر کو ہو رہی ہے۔ انتخابی دنگل کیلئے پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان میں موجود ہیں، جن کی آمد سے  صوبے کا سیاسی ماحول گرم ہونا شروع ہوا۔ گلگت بلتستان کے تیسرے اقتدار کیلئے بلاول بھٹو زرداری پہلے قومی سطح کے پہلے رہنماء ہیں، جو گلگت بلتستان میں امیدوار کی کامیاب انتخابی مہم چلانے کیلئے یہاں پہنچے۔

سیکیورٹی اور الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے انتخابات کو غیر جانبدارانہ اور شفاف انداز میں انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اقتدار کی منتقلی کیلئے الیکشن صاف شفاف ہونگے، لیکن پولنگ اسٹیشن پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن کے باہر امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے فوج کی مدد بھی لی جائے گی۔ ووٹ سے زیادہ انسانی زندگیوں کی اہمیت ہے، اس لئے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ الیکشن میں حصہ لینے والے تمام پارلمانی پارٹیوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق کیا گیا ہے۔

ووٹرز کی تعداد

گلگت بلتستان میں 24 انتخابی حلقوں میں رجسٹر ووٹرز کی کل تعداد 7 لاکھ 45 ہزار 361 ہیں، جس میں3 لاکھ 39 ہزار 992 خواتین ووٹرز بھی شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن 23 جون 2020 تک گلگت بلتستان میں اپنا 5 سالہ اقتدار کا دور مکمل کرچکی ہے۔ گلگت بلتستان کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمان نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل اور بعد وفاقی حکومت کی جانب سے ن لیگ کے سابق اراکین اسمبلی اور بعض وزراء کو اقتدار ، پی ٹی آئی میں میں شامل ہونے اور مختلف انتخابی حلقوں سے الیکشن کیلئے میدان میں اتارنے کا لالچ دیا گیا ہے۔

حفیظ الرحمان سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ 2015 کے انتخابات سے بننے والی اسمبلی کے اسپیکر فدا محمد ناشاد جو کہ مسلم لیگ ن کے ووٹ کی وجہ سے اس وقت بھی گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر ہیں، انہیں بھی تحریک انصاف کی جانب سے نئے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ اسمبلی انتخابات کیلئے ن لیگ کے سابق وزیر اور اراکین اسمبلی ن لیگ کے ٹکٹ کے بجائے وفاق میں برسر اقتدار تحریک انصاف کی کشتی میں سوار ہوگئے ہیں، جس میں اسپیکر اسمبلی فدا ناشاد، سابق صوبائی وزراء ڈاکٹر محمد اقبال، حیدر خان اور ابراہیم ثنائی قابل ذکر ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی سال 2015 کے اسمبلی انتخابات میں اس وقت کے وفاق میں برسراقتدار جماعت مسلم لیگ ن سے بدترین شکست کے بعد 2020 کے الیکشن میں کامیابی کیلئے تمام 24 انتخابی حلقوں سے امیدواروں کو سامنے لاچکی ہے۔ ان میں اکثر ماضی میں اچھے سیاسی کھلاڑی سمجھے جانے والے سیاسی رہنما بھی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے خود پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس سے پیپلز پارٹی کا گراف قدرے بہتر اور مناسب لگتا ہے ۔ 24 انتخابی حلقوں میں سے 23 انتخابی حلقوں میں بلاول بھٹو زرداری کے جلسوں کا شیڈول بھی جاری کیا گیا تھا، تاہم تمام حلقوں میں جلسے وقت کی کمی کے باعث مکمل نہ ہوسکے۔

بلاول بھٹو زرداری نے ضلع گانچھے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد ہی واپس جاونگا اور کسی کو دھاندلی کا موقع نہیں دونگا۔ وفاق میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری فتع اللہ خان نے بلاول بھٹو زرداری کی گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کی انتخابی مہم چلانے پر اعتراض اٹھایا اور پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے بلاول کی انتخابی مہم میں حصہ لینا آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ کی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا بلاول کو الیکشن کمیشن گلگت بلتستان سے ڈی پورٹ کریں بصورت دیگر ہم اپنے قائدین کو بھی الیکشن مہم کیلئے بلائیں گے۔ فتع اللہ خان سے بلاول کی انتخابی مہم چلانے پر اعتراض کی وجہ دریافت کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ممبر سمیت کوئی بھی وفاقی اور صوبائی وزیر انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتا، تاہم پیپلزپارٹی اس مشترکہ اعلامیہ کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کیلئے 22 امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیئے ہیں، جب کہ 2 حلقوں میں ایم ڈبلیو ایم نامی مذہبی جماعت کیساتھ سیٹ ایڈجیسٹ کرتے ہوئے ان نشتوں پر مذہبی جماعت کے امیدواروں کی حمایت کی ہے۔ مسلم لیگ ق نے 14 حلقوں سے اپنے امیدواروں کو میدان میں اترا ہے۔ اب تک 24 حلقوں میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں سمیت آزاد امیدواروں سمیت کل 330 امیدوار 24 حلقوں سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ انتخابی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے مقامی صحافی معراج عالم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا مقابلہ پیپلزپارٹی سے ہوگا، البتہ ماضی کی روایات کے تحت وفاق میں برسراقتدار جماعت حکومت بنانے کیلئے ہر سیاسی حکمت عملی اختیار کریگی، آزاد امیدواروں و دیگر چھوٹی جماعتوں کیساتھ ملکر حکومت سازی کے لیے کام کریگی، تاہم پیپلز پارٹی بھی ایسی صورت میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتی اگر ن لیگ 5 نشستوں پر کامیاب ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا، کیونکہ ن لیگ کی انتخابی مہم کافی کمزور دیکھائی دیتی ہے۔ وفاق کو دیکھتے ہوئے اکثر لوگ تحریک انصاف کی جانب متوجہ ہے اور ووٹ بھی تحریک انصاف کو توقع سے زیادہ ملنے کا قوی امکان ہے، چونکہ تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے اور اکثر سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں صوبہ کے حق میں مظاہرے کررہے ہیں جو کہ براہ راست تحریک انصاف کو الیکشن میں مثبت نتائج دیے سکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube