Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

بیرون ملک ملازمت کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت

SAMAA | - Posted: Oct 24, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Oct 24, 2020 | Last Updated: 1 year ago

فوٹو: اے ایف پی

بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی اپنی قوم کے لیے خوب محبت رکھتا ہے اور برسر روزگار دیکھنا چاہتا ہے ایسی ہی مثال جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے فریدخان (فرضی نام) نے قائم کی۔ فرید خان 20 سال قبل روزگار کمانے کے لئے سعودی عرب گیا جہاں ایک قصبے میں مال برداری کا کام کرنے لگا۔ دن رات محنت کرکے چند سالوں میں اپنی سبزی کی  دکان کھولی آہستہ آہستہ کاروبار چمکنے لگا۔ اپنے پسماندہ علاقے کے نوجوانوں کی غربت کا درد ستاتا رہتا تھا۔ فرید خان نے رقم جمع کی اور ایک دن اپنے علاقے سے دو لوگوں کو سعودی عرب بلایا اور اپنے کام میں ملازمت دی یہ سلسلہ چل پڑا۔ پھر وہ دن آیا جب سعودی عرب میں 5 ہوٹل چل رہے تھے اور گاؤں کے 200 افراد روزگار کما رہے تھے ان سب کے اقامے (ویزوں) کے اخراجات ہر سال میں خود اٹھاتا تھا۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ اچانک کرونا نے پوری دنیا کی معیشت کے ساتھ ساتھ کاروبار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہوٹل بند ہوگئے یہاں کام کرنے والے افراد کو واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔ سعودی قانون کے مطابق کاروبار ایک سعودی کفیل کے نام رجسٹرڈ تھا اور اپنے کاروبار کی حفاظت کے لیے وہ چند ملازمین کے ساتھ سعودی عرب میں مقیم رہا۔ شہر میں مکمل کرفیو ہونے کی وجہ سے ذخیرہ خوراک اور پینے کا پانی بھی ناکافی تھا۔ اسی حال میں عید الفطر اور عیدالاضحیٰ بھی اپنے گھر والوں سے دور ایک کمرے میں گزاری۔ سعودی عرب کے قانون کے مطابق اسلامی سال محرم میں تمام کاروباری معاہدے، کرایہ جات کی تجدید کی جاتی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں کاروبار نا کھل سکے۔ ایک ایسا شخص جو ہرسال 200 افراد کو باعزت روزگار فراہم کر رہا تھا اب وہ ایک ایک پائی کا محتاج ہوچکا تھا، بچوں کی اسکول فیس 3 ماہ سے ادا نہیں کرسکا۔ فرید خان کا کہنا کہ سعودی حکومت سے بات چیت کرکے اوورسیز پاکستانیوں کو باقاعدہ کاروبار کی اجازت دلوائی جائے انکا کاروبار محفوظ رہے۔

وزارت سیاحت سعودی عرب اور سیاحت انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق مکہ مکرمہ میں کام کرنے والے ہوٹلز کی تعداد مملکت سعودی عرب کے ہوٹلز کا 8.65 فیصد ہے۔ 2019 میں 9 فیصد اضافہ کے ساتھ ہوٹلز کی تعداد 2621 ہوگئی تھی۔

اوورسیز پاکستانی وہ غریب مزدور یا مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہیں جو روزگار کمانے یا حصول تعلیم کے لیے بیرون ممالک جاتے ہیں۔ گزشتہ دہائیوں میں بیرون ممالک جانے والے تارک وطن کو مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا رہا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اوورسیز پاکستانیز کمیشن کا قیام امیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت 8جولائی 1979 کو عمل میں آیا، جس کا مقصد بیرون ممالک جانے والے پاکستانیوں کے مفاد اور فلاح و بہبود کا خیال رکھنا، انشورنس كا تحفظ فراہم كرنا اور افرادی قوت كیلئے بیرون ممالک کے ساتھ قانونی طور پر معاہدے کرنا تھا۔ پاکستان بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایملائمنٹ کے مطابق 1971 سے ستمبر 2020ء تک ایک کروڑ 12 لاکھ 94ہزار 335 پاکستانی روزگار کے سلسلے میں دنیا کے 52 ممالک میں نقل مکانی کر گئے۔ رواں سال 1لاکھ 79ہزار 487 پاکستانی بیرون ممالک جا چکے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان میں ایک کروڑ پاکستانی مقیم ہیں۔ کرونا اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک کڑا امتحان تھا ایسے افراد جو  بیرون ممالک جانے سے قبل پروٹیکٹوریٹ آف امیگرنٹس سے اپنے روزگار کے معاہدے کو رجسٹرڈ کروا کر گئے تھے انہیں کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان سے سعودی عرب واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے لیکن بیرون ملک جانے والے افراد کو سہولت دینے کے بجائے نجی ائیرلائینز کی جانب سے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا۔ بہاولپور کے رہائشی افتخار قریشی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی نجی کمپنی میں ملازم ہوں اور چھٹی ملنے پر 50 ہزار کی ریٹرن ٹکٹ لیکر پاکستان آیا لیکن فلائٹ بند ہونے کی وجہ سے پاکستان رکنا پڑا۔ میرا اقامہ بھی ایکسپائر ہونے والا تھا جیسے ہی فلائٹ کا آغاز ہوا تو ائیر لائن کی جانب سے پرانی ٹکٹ کینسل کرکے مجھے 1لاکھ 30ہزار کی نئی ٹکٹ لینے کا کہا گیا کیونکہ اقامہ اور نوکری کا مسئلہ تھا مجبوراً مجھے ٹکٹ لینا پڑا ایسی صورتحال مزدور پیشہ افراد کے لیے پریشان کن ہوتی ہے۔

سعودی عرب میں مقیم نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد جو باقاعدہ معاہدوں اور جاب سیکیورٹی کے ساتھ کام کر رہے تھے انہیں کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے کاشف فرید ایک نجی کمپنی میں کام کرتے ہیں جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے حرمین میں خدمات سرانجام دیتی ہے۔ انکا کہنا ہے اس کمپنی میں 5 ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ کرونا کے دنوں میں مسجدالحرام اور مسجد نبوی دونوں بند رہیں چند لوگ وہاں کام کے لیے جاتے تھے، کمپنی کی جانب سے تمام ملازمین کو مکمل تنخواہیں ادا کیں، رہائش اور کھانے پینے کی بھی کی مکمل سہولت دستیاب رہی۔

تارک وطن افراد آگاہی نا ہونے کی بنا پر اکثر دھوکہ دہی کا نشانہ بن کر اپنے حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔ نیشنل پراجیکٹ کوارڈینیٹر منور سلطانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یورپی یونین کے تعاون سے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن شفاف اور قانونی طریقے سے بیرون ملک ملازمت اور بھرتی کے لیے کام کر رہی ہے جس کا مقصد عالمی ادارہ محنت، دیگر تنظیموں، قومی مجلس قانون ساز اور سماجی شراکتوں کو معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ موجودہ اور مستقبل کے کام میں شفاف اور قانونی طریقے سے بھرتی کو یقینی بنا سکیں اوراسے فروغ دیا جا سکے۔ قانون کے مطابق انسانی حقوق اور محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ ملازمت کی شرائط و ضوابط مناسب، قابل تصدیق اور آسان الفاظ میں تحریر ہوں۔ محنت کشوں سے بھرتی کے لیے کسی قسم کی فیس یا اخراجات وصول نا کیے جائیں، بیرونِ مُلک محنت کشوں کی نقل وحرکت کی آزادی اور شناختی دستاویزات کو اپنی تحویل میں رکھنے کا حق دیا جائے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی سہولت کے لیے حکومت پاکستان نے 10 ستمبر کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ منصوبے کا افتتاح کر دیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک کے 8 بڑے بینکوں کے تعاون سے پہلی بار اوورسیز پاکستانیوں کو ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اکاؤنٹ کھلوانے کے لئے کسی برانچ، سفارتخانے یا قونصل خانے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی اس اقدام کو بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے سراہا ہے۔

پاکستان میں ایک موثر آگاہی مہم کے ذریعے محنت کشوں اور ملازمت تلاش کرنے والے افراد تک بھرتی اور ملازمت کے حقوق اور شرائط کے حوالے سے جامع اور درست معلومات تک رسائی دی جاسکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube