Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

جسٹس عیسیٰ کیس: فیصلے کے چیدہ نکات

SAMAA | - Posted: Oct 23, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Oct 23, 2020 | Last Updated: 1 month ago

سپریم کورٹ نے جسٹی عیسیٰ کیس کے تفصیلی فیصلے کا آغاز قرآن مجید کی آیت سے کیا ہے جس میں حق کی گواہی دینے پر زور دیا گیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی بنچ کا 224 صفحات پر مبنی فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے کا آغاز قرآن مجید کی سورۃ النسا کی آیت نمبر 35 سے کیا گیا۔ آیت کا ترجمہ یوں ہے۔

اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو (اور وقت آنے پر) اللہ کی خاطر گواہی دو، اگرچہ خود پر ہو یا اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں پر، اگر کوئی مالدار یا فقیر ہے تو اللہ ان کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم انصاف کرنے میں دل کی خواہش کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم کج بیانی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو بلاشبہ اللہ تمہارے سب اعمال سے با خبر ہے۔

بنچ میں جسس عمر عطا بندیال، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ جسٹس عیسیٰ کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کا ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے بدنیتی کے تحت ان کے خلاف بیرون ملک اثاثوں کا الزام عائد کرکے ریفرنس دائر کیا۔ اس درخواست کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے ریفرنس خارج کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فائزعيسیٰ کو خفيہ رياستی جاسوسی کا نشانہ بنایاگیا، سپریم کورٹ

جسٹس عیسیٰ کی حمایت میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے ہائیکورٹس کے بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، کراچی بار ایسوسی ایشن سمیت درجن سے زائد وکلاء تنظیموں اور سپریم کورٹ کے سنیئر ترین وکیل بھی مقدمہ میں فریق بنے جبکہ دوسری جانب صدر مملکت، حکومت پاکستان اور سپریم جوڈیشل کونسل فریق تھے۔

عدالت نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزیرقانون بیرسٹر فروغ نسیم کو جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا اصل کردار قرار دیا ہے۔ معزز عدالت نے اپنے الفاظ میں انہیں ’چیف آرکٹیکٹ‘ لکھا ہے۔

تفصیلی فیصلے نے ایسٹ ریکوری یونٹ اور اس کے سربراہ شہزاد اکبر کے عہدے کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔ اس کے بعد ان تمام کیسوں پر سوالات اٹھیں گے جو ایسٹ ریکوری یونٹ نے تیار کرکے نیب، ایف آئی اے و دیگر اداروں کے حوالے کیے۔

صدر مملکت کو اپنا دماغ استعمال کرنے میں ناکام قرار دیا گیا ہے جس کے بعد عارف علوی کی بطور صدر پاکستان برقرار رہنے پر سوالات اٹھیں گے۔

فیصلے سے یہ صاف واضح ہوگیا کہ ججوں کے خلاف تحقیقات کی منظوری صرف صدر مملکت اور وزیراعظم دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی حکومتی عہدیدار ججوں کے خلاف تفتیش یا تحقیق کا خود سے آغاز نہیں کرسکتا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ وزیرقانون فروغ نسیم، چیئرمین اے آر یو شہزاد اکبر کے اقدامات قابل تعذیر جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کے ساتھ چیئرمین ایف بی آر اور انکم ٹیکس حکام نے بھی غیرقانونی طور پر معلومات جاری کرکے جرم کا ارتکاب کیا۔ اس لیے فروغ نسیم، شہزاد اکبر اور اس وقت کے چیئرمین ایف بی آر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اب یہ اختیار حکومت کے پاس ہے کہ وہ ان کرداروں کو کیا سزا دیتے ہیں۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کے خلاف سب سے پہلے شکایت درج کرانے والے مبینہ صحافی عبدالحمید ڈوگر کے بارے میں معزز ججوں نے لکھا ہے کہ وہ صحافی کم اور اسٹیبلشمنٹ کے منحرف عناصر کے پراکسی کا کردار زیادہ ادا کر رہے ہیں۔ ڈوگر نے سرینہ عیسیٰ کی جائیداد سے متعلق معلومات وفاقی حکومت کے حکم پر جاسوسی اور خفیہ اداروں کی مدد سے حاصل کیں۔

اس وقت کی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو جج کے خلاف پریس کانفرنس کرنے اور زیرسماعت مقدمہ پر بیان بازی کے جرم میں توہین عدالت کی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube