Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

پنجاب کی تازگی نگلتا اسموگ کا عفریت

SAMAA | - Posted: Oct 15, 2020 | Last Updated: 5 days ago
Posted: Oct 15, 2020 | Last Updated: 5 days ago

بشکریہ اے ایف پی

پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں آلودگی پر قابو پانا ایک چیلنج اور بڑا مسئلہ ہے۔ جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں اپنا اثر دکھا رہی ہیں ،کہیں سیلاب و طوفان اور زلزلے شدت اختیار کر گئے ہیں تو کہیں زراعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کو 4 طرح کی آلودگی کا سامنا ہے، نمبر 1 فضائی آلودگی، 2 زمینی آلودگی، 3 شور کی آلودگی اور 4 آبی آلودگی اول ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق دنیا میں چند ہی ایسے ممالک ہیں جہاں شہریوں کو صاف ستھری اور صحت مند آب و ہوا میسر ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کام کرنے والی این جی اوز اور اداروں کا کہنا ہے کہ دیگر بنیادی حقوق کی طرح صاف ہوا بھی عوام کا حق ہے۔ تاہم ہمارے ملک کے بڑے شہروں میں یہ حق ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ہے۔ لاہور ہی کی بات کرلیں جہاں کچھ روز قبل سرکاری میٹرز کے مطابق شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس یعنی فضا کا معیار ایک سو ترپن بتایا ہے، جو عالمی سطح پر انتہائی نقصان دہ ہے۔

فائل فوٹو

پنجاب میں اسموگ کی شدت زیادہ کیوں؟

اسموگ کوئلے اور فصلوں کی بقایاجات کو جلانے سے پیدا ہونے والے ذرات سے بننی والی گیس ہوتی ہے جو گزرتے وقت میں زیادہ مسئلے کا سبب بن رہی ہے۔ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر لاہور بھی اب آلودہ دھند سے متاثرہ دنیا کے دیگربڑے شہروں میں شمار ہونے لگا ہے، جس کے بعد یہ مسئلہ اب گزشتہ کئی سالوں کے دوران تسلسل کے ساتھ مزید بد سے بدتر ہو رہا ہے۔ کئی برسوں سے جاری شدید دھند کے باعث جہاں لاہور سمیت پنجاب کے دیگر علاقوں میں نظامِ زندگی بْری طرح مفلوج ہوا ہے، وہیں شہریوں کو بھی سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ بات صرف آلودہ فضا کی نہیں، اس کا بڑی حد تک تعلق انسانی صحت سے بھی ہے۔ وقت کیساتھ پھپڑوں، نزلہ کھانسی، بچوں اور بوڑھوں کو کئی سنگین مسئلے لاحق ہوئے ہیں۔

لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، بہاولپور، ملتان، فیصل آباد، گوجرہ اور چنینوٹ سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں آنکھوں میں جلن کی شکایات بھی بڑھنے لگی ہیں، جب کہ دمے اور ٹی بی کے مریضوں کیلئے سانس لینا مشکل ہوگیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی برسوں تک تو لاہور سمیت پنجاب میں ایسا کوئی ایئر ٹیسٹنگ سسٹم موجود ہی نہیں تھا کہ جس کی مدد سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ آیا موسمیاتی تبدیلوں میں غیرمعمولی تبدیلی کی وجہ کیا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اس موسم میں سانس کے مریضوں کا تناسب 80 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ صاف ہوا میں رہنا ہر انسان کا قدرتی حق ہے، مگر آج کے بڑھتے صعنتی دور اور ترقی کی دوڑ میں صاف اور قدرتی ہوا محض ایک خیال لگتا ہے۔ وہ دیہات اور گاؤں جو ایک تازہ اور خوشگوار آب و ہوا کا مرکز تھے اب وہ بھی شہروں کے بڑھتے جال میں کہیں گم ہو رہے ہیں۔

اسموگ کیخلاف اقدامات اور پی ڈی ایم اے

پنجاب میں اسموگ کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے صوبائی کابینہ کی جانب سے اسے آفت قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے سپرد کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے کام کا آغاز بھی کردیا گیا ہے، جو ابتدائی مرحلے میں ہے۔ صورت حال سے نمٹنے کیلئے ورکنگ گروپ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ یہاں یہ سوال کہ اسموگ میں پی ڈی ایم اے کا کیا تعلق؟ اس پر بات کرنے کیلئے ہم نے ماحولیاتی آلودگی اور تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے والے ڈان کے سینیر صحافی عمر فاروق سے رابطہ کیا، جس میں انہوں نے ہمیں بتایا کہ پی ڈی ایم اے کا کردار اس میں اس لیے شامل ہوا ہے کیوں کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا ادارہ ہے۔ حکومت کی جانب سے اسے آفت قرار دیتے ہوئے پنجاب کلائمٹیٹی ایکٹ 1958 میں شامل کیا گیا ہے، جب کہ پنجاب کابینہ کی جانب سے بھی اس کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اے ایف پی

انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی ایم اے تمام اداروں کی نگرانی کرسکے گا۔ وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صوبائی سطح پر تمام ادارے ایک مکینزم اور سسٹم کے تحت آپس میں مل کر کام کریں۔ جیسے ای پی ڈی اے، یا دھان کی باقیات کو جلاتے ہیں تو اس کیلئے ایگریکلچرل کا ادارہ شامل ہے۔ اسی طرح ماحولیاتی آلودگی میں 63 فیصد حصہ دھوئیں کا ہے، جو ٹرانسپورٹ کی وجہ سے، اس کو دیکھنے کیلئے الگ ادارہ موجود ہے، سو تمام امور کی دیکھ بھال پی ڈی ایم اے کے ذمے لگائی گئی ہے، جب کہ اس سلسلے میں اسموگ مانٹیرنگ سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔

یہ مانٹیرنگ سیل اس گھمبیر مسئلے کے تدراک اور لوگوں میں آگاہی کیلئے بھی کام کرے گا۔ اس سیل کا اہم مشن اسپارکو کی مدد سے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے ایسی جگہوں کی نشاہدہی کرکے کارروائی عمل میں لائی جانا ہے، جہاں لوگ فصلوں کی باقیات جلاتے ہیں۔ ایسے افراد جو فضا کو آلودہ اور گرد و غبار پھیلانے کا سبب بننے گئے، ان کے خلاف ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اے ایف پی

ڈپٹی کمشنر کے مطابق ملوث افراد کے خلاف جی پی ایس کوآرڈیشین کے ذریعے کارروائی کریں گے۔ پنجاب نے بڑے آلودگی کے مسائل اور اسموگ کے اثرات پر اسے آفت قرار دیا ہے، جب کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر اب 200 روپے نہیں فی گاڑی 2000 روپے چالان کیا جائے گا۔ مزید اقدامات کرتے ہوئے صوبے کی آب و ہوا کو بہتر اور سانس لینے کے قابل بنانے کیلئے دھواں چھوڑنے والے کارخانوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی اور ایسے مالکان پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ کوڑا کرکٹ یا چربی جلانے والے ورکشاپس یا فیکڑیاں بھی اس فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

اے ایف پی

مزید اقدامات کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے اگلے ماہ نومبر کے آغاز پر اینٹوں کے بھٹوں کو بھی فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ادارہ آلودہ دھند کا سبب بننے والے کسانوں اور مالکان کے خلاف صابطے کی سخت کارروائی بھی کرنے کا مجاز ہوگا۔ حال ہی میں گوجرانوالہ میں گرد و غبار پھیلانے والے اور ماحول دشمن 87 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جب کہ آلودگی کا باعث بننے والے 88 یونٹس کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔ حکومت کی یہ کارروائیاں بے شک خوش آئند اقدام ہے، تاہم شہریوں نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے ایسے صعنتی یونٹس اور بھٹوں کو شہر سے باہر اور دور منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو فی الحال ممکن نہیں۔ 33 سالہ عبدالرزاق کا تعلق ملتان سے ہے۔ سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں ان کا کہنا ہے کہ مربوط حکمت عملی اور آگاہی کیساتھ اس زہریلی دھند کے پھیلاؤ کو روکنے میں کسی حد تک کمی ضروری لائی جاسکتی ہے، جیسے حکومت فصلوں کے بھوسے کو آگ لگانے پر پابندی عائد کرے۔

تہمینہ کی عمر 40 سال ہے اور وہ گزشتہ کئی سالوں سے وکالت کے پیشے سے وابستہ ہے۔ منڈی بہاؤ الدین سے تعلق رکھنے والی تہمینہ نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس اسموگ سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کیلئے گزشتہ سال حکومت کی جانب سے وہیکل پول سسٹم نافذ کرانے کا اعلان سامنے آیا تھا، تاہم یہ ممکن نہ تھا اور اس پر اسی وجہ سے عمل نہ ہوسکا، یعنی ایک علاقے سے آنے والے افراد ایک گاڑی استعمال کریں۔ وہیکل پول سسٹم کے ذریعے سڑک پر موٹر سائیکلوں کی تعداد میں کمی لانی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے اس سے قبل پنجاب حکومت کلین ایئر کمیشن کا قیام بھی عمل لا چکی ہے، جس کا مقصد چنگ چی رکشوں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی بندش کیلئے حکمت عملی بنانے پر غور، اسموگ اور دیگر ماحولیاتی تغیرات سے بروقت آگاہ کرنے کیلئے سسٹم وضح کرنا تھا۔

اے ایف پی

اسموگ سے بچاؤ پر بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آلودگی کی روک تھام کیلئے پنجاب کے ریڈ زون (جہاں اسموگ زیادہ ہوتی ہے ) میں قائم 800 بھٹوں کو زیک زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا، جس کے تحت بھٹہ مالکان کو آسان اقساط پر قرضہ بھی فراہم کیے۔ بھٹہ مالکان کو 2 فیصد سروسز چارچز پر قرضہ دیاگیا۔ جس کی واپسی کی مدت 2 سال مقرر ہوئی۔

زگ زیگ ٹیکنالوجی کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے تحت دھوئیں کے اخراج میں 40 فیصد تک کمی آتی ہے۔ زگ زیگ ٹیکنالوجی والا بھٹہ سفید دھواں خارج کرتا ہے، جو کم نقصان دہ ہے۔ سیاہ دھواں نہایت آلودہ اور زہریلا ہوتا ہے جو ماحول کیلئے بے حد خطرناک ہے۔ سیاہ دھواں اسموگ کا سبب بھی بنتا ہے جو شہریوں میں دمہ، سانس کی بیماریاں، آنکھوں کے انفیکشن اور پھیپھڑوں کی بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

زگ زیگ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر اینٹوں کے بھٹے کے اندر بنایا گیا ایک اسٹرکچر ہوتا ہے جو اینٹیں پکانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کے دھوئیں کے اثرات زائل کرکے اس کو ماحول کے لیے کم نقصان دہ بناتا ہے۔ ایک بھٹے کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے 25 سے 30 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، جس کا بندوبست کرنا بہت سارے بھٹہ مالکان کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا ایک خیال یہ بھی ہے کہ حکومت کی مالی اور تکنیکی مدد کے بغیر 100 فیصد بھٹوں میں اس ٹیکنالوجی کی تنصیب عمل میں نہیں آسکے گی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کسی بھی بھٹے کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔ اس وقت نیپال، بنگلہ دیش اور بھارت میں بھٹوں میں زِگ زیگ ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت وہاں کے بھٹے 70 فیصد کم دھواں چھوڑتے ہیں، کوئلہ بھی 25 سے 30 فیصد کم استعمال ہوتا ہے اور پکی ہوئی اینٹوں کی مقدار اور تعداد بھی زیادہ نکلتی ہے۔ توانائی کے بحران اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے نیپال کے تعاون سے پاکستان میں پہلا ماحول دوست بھٹہ خشت رائیونڈ روڈ پر قائم ہوا، جس کا افتتاح 18جنوری 2018 میں ہوا۔

اے ایف پی

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان کا شمار ایشیاء کے آلودہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا میں اینٹیں بنانے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ پاکستان میں تقریباَ 20 ہزار اینٹوں کے بھٹے ہیں جو ایک سال میں 45 ارب اینٹیں بناتے ہیں، جب کہ 20 ہزار میں سے سب سے زیادہ یعنی 10ہزار 300 بھٹے صرف پنجاب میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب اسموگ سے سب سے زیادہ متاثر پوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباَ50 لاکھ مزدور ان بھٹوں پر کام کرتے ہیں۔ اینٹیں پکنے کے دوران مختلف قسم کی گیسیں خارج ہوتی ہیں جن میں کاربن مونو آکسائیڈز اور سلفیورک آکسائیڈ شامل ہیں جو آنکھوں، دمہ، کھانسی، سینہ، الرجی، سانس ، کینسر اور گلے کی بیماریوں کے مرض کا باعث ہے۔ نیز ایسی فضائی آلودگی بالخصوص بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب میں بھٹوں کے حوالے سے پہلا ماحولیات ایکٹ 1934ء میں منظور ہوا تھا۔

ورلڈ وائلٹ لائف

سما ڈیجیٹل کی جانب سے اس مسئلہ پر تفصیلاً گفتگو کیلئے ہم نے ڈائریکٹر جنرل سی ای او ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان حماد نقوی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے تفصیل سے ہمیں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصے سے پاکستان خصوصاً پنجاب میں فضا آلودہ ہونا شروع ہوئی اور اس میں اسموگ کا مسئلہ گزشتہ 4 سے 5 سال میں زیادہ سنگین ہوگیا ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ لوگ جو مستقل طور پر ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں ان کو سانس کی تکالیف اور پھیھیڑے متاثر ہوئے ہیں، جو ایسے افراد کیلئے خطرناک ہے اور بچوں اور بوڑھوں کیلئے یہ خطرہ زیادہ سنگین اور سنجیدہ نوعیت کا ہے۔

بشکریہ اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں جہاں دنیا میں لوگوں کو کرونا وائرس جیسی وبا کا سامنا ہے ،وہاں ایسے افراد کی صحت کو دہرے محاذ پر اپنا دفاع کرنا ہوگا۔ ایسے شہر جہاں بغیر کسی پلاننگ کے آبادی میں اضافہ ہوا ہے، جیسے آپ لاہور کی مثال لے لیں کہ اس شہر کے جو مضافاتی علاقے ہیں، ان کو جب شہر کیساتھ جس طرح انٹر لنک کیا گیا وہ طریقہ کار ٹھیک نہیں تھا۔ جیسے کہ بحریہ ٹاؤن والا جو روڈ ہے وہ اب لاہور سے مل رہا ہے، وہ پہلے مضافاتی علاقہ تھا، اس کو بنانے کیلئے انہوں نے یہاں کھیت کھلیان تھے انہیں ختم کیا، جو درختوں کے جھنڈ تھے انہیں کاٹا، جس سے ماحول پر کافی اثر پڑا۔

سما ڈیجیٹل کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ مسائل تو پہلے بھی لوگوں کو درپیش تھے تاہم اب یہ مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اقدامات پر ڈائریکٹر جنرل سی ای او ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان حماد نقوی نے بتایا کہ مسئلہ سنگین ہونے پر لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بھی اس کا نوٹس لیا گیا تھا، جس پر ہائی کورٹ کے حکم پر ایک کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ جس کے بعد کمیشن کی جانب مختلف سفارشات دی گئی ہیں اور ڈبلیو ڈبلیو ایف بھی اس کمیشن کا حصہ ہے۔ یہ ہی وہ کمیشن تھا جس پر حکومت کی جانب سے اسموگ پالیسی بنائی گئی۔ مگر بات پھر وہی آجاتی ہے کہ ہمارے پاس کمیشن، تجاویز اور سب کچھ ہے مگر بات ہے حکومت یا اعلیٰ سطح سے اس پر عمل کرنے کی۔

بشکریہ اے ایف پی

انہوں نے بتایا کہ ماحولیات پر قانون سازی اور فضائی آلودگی پر بہت سی ایسی تجاویز یا سفارشات پہلے بھی تھیں جیسی فضلے کو نہیں کھلے علاقے میں جلانا، کسانوں کو تلقین کرنی کہ فضلہ نہیں جلانا، ایندھن کا معیار بہتر رکھنا ، صعنتی زون کو ایک محدود حد میں رکھنا، یہ سب چیزیں موجود ہیں، مسئلہ وہی ہے کہ مسئلہ سر پر آکر کھڑا ہوتا ہے تو ہمیں خیال آتا ہے، ہمیں مسئلے کو وقت سے پہلے آنے ، اس کے آنے اور اس کے گزرنے کے بعد بھی تدراک سے متعلق سوچنا اور حل کی جانب جانا چاہیئے۔ تھوڑا تھوڑا کرکے ہی ہم اس پر ایک خاص انداز میں قابو پانے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ کوئی پتھر پر لکیر نہیں کہ ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف اس کیلئے کوشش کرتی رہے گی اور ہم گاہے بگاہے اس حکومت پر عمل درآمد کیلئے زور بھی دیتے ہیں۔

سردیوں میں ہی زیادہ اسموگ کیوں؟

سرديوں کے موسم ميں شام، رات اور اعلیٰ صبح کے اوقات ميں جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو ايسے ميں زمين کے قريب موجود ہوا اوپر موجود ہوا کے مقابلے ميں زیادہ ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔ اس ہوا ميں شامل آبی بخارات پانی کے ننھے ننھے قطروں ميں تبديل ہوجاتے ہيں اوريہ قطرے ايک ساتھ مل کردھند کی چادر بناتے ہيں جس کو فوگ کہتے ہیں۔ اس دھند کی وجہ سے حد نگاہ کم رہ جاتی ہے۔ اگر اس فوگ میں فيکٹريوں، گاڑيوں سے نکلنے والا دھواں اور دیگر گرد و غبار مل جائے تو يہ اسموگ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ دن کے مقابلے میں شام سے رات اور رات سے اعلیٰ صبح درجہ حرارت کم ہونے پر اسموگ کی شدت بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ شدت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں کی آمد یا خزاں کے موسم میں دھند یا اسموگ کی شکایات زیادہ ہوتی ہیں اور اس کی بڑی وجہ ہوا کا کم دباؤ اور مسلسل خشک موسم ہے۔ جب کہ درجہ حرارت بھی 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو تو فضا میں آلودہ ذرات کی موجودگی کے باعث کیمیائی عمل ہوتا ہے جس کے باعث فضائی آلودگی کی یہ شکل سامنے آتی ہے۔ اس تمام عمل کو “لوئر اوزون” کہا جاتا ہے۔ فرانسیسی ایجنسی کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ان بارہ ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ موسمی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ پاکستان میں آنے والی یہ موسمیاتی تبدیلیاں خشک سالی اور سیلاب کے ساتھ ساتھ غذائی پیداوار میں کمی کا سبب بھی بنتی ہے۔

موسمی تبدیلیوں میں شدت

موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے، جب کہ کئی علاقوں میں غذائی قلت کا بھی امکان پیدا ہو رہا ہے۔ گرمی اور سردی کے موسموں میں شدت آرہی ہے، جس اس سے پہلے نہیں تھا۔ وہ علاقے جہاں شاذو نادر ہی سردی پڑتی تھی، اب وہاں بھی شدید سردی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق موجودہ 2 دہائیوں میں (2010 سے 2030 ) کے دوران موسم میں حیران کن اور ڈرامائی تبدیلیاں واقع ہوں گی، جیسے سال 1950سے 1990کے دوران 4 مرتبہ دنیا کے مختلف خطوں کو شدید ترین گرمی کا شکار ہونا پڑا تھا، اسی طرح ان 2 دہائیوں میں پھر دنیا کے مختلف ممالک میں شدید ترین گرمی پڑنے کا امکان ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں پاکستان کے ساحلی علاقوں کو ترک کرکے دیگر مقامات کی طرف نقل مکانی کرنے والے باشندوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سمندری پانی کی سطح میں اضافہ اور نمکین و آلودہ پانی ہے۔ ماہرین اس نقل مکانی کی مہم کو ابھی محض آغاز قرار دیا ہے۔

بشکریہ اے ایف پی

کلاؤڈ سیڈنگ

پاکستان سمیت مختلف ممالک میں اسموگ کی شدت کم کرنے کیلئے کلاؤڈ سیڈنگ کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں اسموگ سے متاثرہ علاقوں میں مصنوعی بارش کرائی جاتی ہے۔ مصنوعی بارش کیلئے وہاں کے محکمہ موسمیات اور محکمہ ماحولیات کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ دونوں محکموں کے احکامات پر کلؤوڈ سیڈنگ راکٹ فائر کئے جاتے ہیں۔ کلؤڈ سیڈنگ مصنوعی بارش برسانے میں سب سے تیز ٹیکنالوجی ہے۔

بشکریہ اے ایف پی

ترجمان محکمہ تحفظ ماحولیات ساجد

ان مسائل پر گفتگو کیلئے ہمارا تجسس ہمیں پنجاب کے محکمہ تحفظ ماحولیات تک لے گیا۔ چھٹی کے باوجود ترجمان محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب ساجد بشیر نے اسموگ سے متعلق صوبائی حکومت کے اقدامات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ اسموگ کے تناؓظر میں صوبے بھر میں اینٹوں کے بھٹے اگلے ماہ کی 7 تاریخ سے 7 دسمبر تک کیلئے بند کردیئے جائیں گے، تاہم اگر صورت حال زیادہ متاثر ہوئی تو اس مدت کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ اس وقت پنجاب میں 10 ہزار اینٹوں کے بھٹے ہیں اور ان تمام اینٹوں کے بھٹوں کو بند کیا جائے گا۔ سما ڈیجیٹل نے جب بھٹہ مزدوروں کے روزگار سے متعلق سوال کیا کہ اس دوران مزدرو کیا کریں گے تو، ساجد بشیر نے بتایا کہ گزشتہ 2 سے 3 سال سے یہ پالیسی جاری ہے اور اس دوران بھٹہ مالکان ان مزدوروں کو مہینے کی تنخواہ دینے کے مجاز ہوتے ہیں اور ان کو دی بھی جاتی ہے، یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہو رہا، انہیں خود بھی اس بات کا علم ہوتا ہے تو اس دوران یہ لوگ خود اپنے لئے متبادل روزگار کا بندوبست کرلیتے ہیں، جب کہ انہیں تنخواہ برابر سے ملتی ہے۔ سوال کے ساتھ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اب اس معاملے کو ماحولیات کا محکمہ نہیں دیکھ رہا، بلکہ پی ڈی ایم اے یہ معاملات دیکھ رہی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ڈی جی اس معاملے کے سربراہ ہیں۔

کلاؤڈ سیڈنگ یا مصنوعی بارش سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان محکمہ تحفظ ماحولیات نے بڑے معصومانہ انداز میں بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں جنریٹر چلانے کیلئے ڈیزل پوری طرح میسر نہیں، تو مصنوعی بارش کیسی؟۔ اس وقت نہ ایسا کوئی پلان نہ ایسی کوئی امکان کہ حکومت اسموگ سے چھٹکارے اور بارش کی کمی پورا کرنے کیلئے کلاؤڈ سیڈنگ کا سہارا لے۔ حکومت یہ کرسکتی ہے کہ ہم فرنس سمیت دیگر ماحول کو زیادہ نقصان پہنچانے والے انڈسٹریوں کو بند کردیں، جو کہ ہم پہلے ہی کرچکے ہیں۔ بھٹوں کو بھی اگلے ماہ سے بند کردیا جائے گا، مگر جو اسموگ جو سب سے زیادہ بڑھتی ہے وہ دھان کی فضل کے فضلے باعث بڑھتی ہے۔ جب لوگ پیسے بچانے کیلئے اسے روٹر کے بجائے اس سے جان چھڑانے کیلئے آگ لگا دیتے ہیں تو وہاں سے مسئلہ خراب ہوتا ہے۔

پاکستان میں اسموگ کی وجہ بھارت؟

ایک اندازے کے مطابق لاہور میں اسموگ کی وجہ بھی بھارت میں کٹائی کے بعد جلائی جانے والی فصلیں اور بھارتی انڈسٹریل زون سے اُٹھنے والا مہلک دھواں ہیں، جو ایک مصدقہ حقیقت ہے، جب کہ دہلی میں فصلوں کو جلائے جانے کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے متعدد علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں گزشتہ 34 سال کے دوران گاڑیوں کی تعداد دگنے اضافے کے ساتھ 60 لاکھ سے زائد ہو چکی ہیں، جو یہاں فضائی آلودگی میں 80 فی صد اضافے کا باعث بنی ہیں۔ آلودگی پر کام کرنے والے ادارے سی ایس ای کے مطابق نئی دہلی میں ہر سال زہریلی ہوا سے 10 سے 30 ہزار کے درمیان اموات ہوتی ہیں، جب کہ شہر کے 44 لاکھ بچوں میں سے تقریباً نصف کے پھیپھڑے ہمیشہ کیلئے متاثر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں نئی دہلی میں فضائی آلودگی بلند ترین سطح پر رہی۔ بنگلا دیشی دارالحکومت ڈھاکا کا حال یہ ہے کہ سالانہ 15 سے 18 ہزار افراد فضائی آلودگی کے باعث ہلاک ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں 30 ٹن تنکوں کو جلایا جاتا ہے، جو چاؤلوں کی کٹائی کے بعد بچ جاتے ہیں۔ یہ دھواں اڑ کر قریبی پاکستانی علاقوں کا رخ کرتا ہے اور آلودگی کا سبب بنتا ہے۔

بشکریہ اے ایف پی

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کو دنیا میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ ادارہ کی ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ فضائی آلودگی ہے اور دنیا میں ہر سال 55 لاکھ لوگ فضائی آلودگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ان ہلاکتوں میں بیشتر اموات فیکٹریوں کے دھوئیں، لکڑی اور کوئلے کے زیادہ استعمال کے باعث ہوتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے افراد حقیقتاً اس خطرناک صورت حال کو سنجیدہ لے کر عملی کام کرتے ہیں۔ یہ مراحل کھٹن ضرور ہیں تاہم اس کیلئے اقدامات ہمیں اسموگ کے شروع ہونے سے قبل اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بے شک انتظام کوتاہی بھی ہے مگر اس میں بڑا ہاتھ خود شہریوں کا ہے۔ ہم نے صنعتوں کو تو شہر سے نکال دیا تاہم کوئلہ اب بھی بڑی تعداد میں شہروں میں جلتا ہے، بجلی کا دور آیا تو گیس سے بجلی پیدا کرنی شروع کردی۔ دنیا میں روزانہ 90 ملین بیرل تیل نکالا جاتا ہے جس کا بیشتر حصہ جلنے کے بعد کاربن ڈائی آکسائیڈ بن کر فضا میں تحلیل ہوجاتا ہے۔

تمام دعوے، اعلانات اور ادارے اپنی جگہ مگر ان بھٹوں کا ایندھن اور گاڑیوں کے پیٹرول کی کوالٹی کو بہتر بنایا فی الحال ہوتا نظر نہیں آتا۔ عوامی طاقت اور سوچ تبدیل کیے بغیر پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی میں واضح اور مستقل بہتری ممکن نہیں ہے۔ امید ہے کہ ان اقدامات اور اعلانات کا واضح فرق انسانی آنکھ نہ بھی دیکھ سکے مگر فضا خراب ہونے سے ضرور بچے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube