Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

حزب اختلاف کا احتجاج، پریشانی کیوں؟

SAMAA | - Posted: Oct 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago

صوبہ بلوچستان، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اہم یونٹ ہے، اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی صوبے میں عوام میں رسوخ اور اثرات رکھتی ہیں، اس بناء پر حکومت و اسٹیبلشمنٹ مخالف احتجاج میں بلوچستان نمایاں ہوگا، جسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سے متعلق تحفظات ہیں۔ ان دو بڑی جماعتوں نے یقیناً جمعیت علمائے اسلام، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کو مایوس کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ بے سود بنانے میں ان کی مصلحت پرستانہ سیاست کا دخل ہے۔ پیپلز پارٹی کے گناہ کچھ زیادہ ہیں، جو بلوچستان میں مخلوط حکومت گرانے، ازیں بعد سینیٹ الیکشن کی خرید و فروخت اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں حزب اختلاف کو ہرانے میں شامل تھی۔

بلوچستان میں عدم اعتماد کی تحریک میں شریک و مددگار جمعیت علمائے اسلام ، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی بھی تھیں۔ گویا ان جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی کو مکافات عمل کا سامنا ہے، اپنی اس خطاء و گناہ کا انہیں احساس و ادراک ہونا چاہئے، اور پیپلز پارٹی اور ان جماعتوں کو اپنے کئے پر معذرت و ندامت کرلینی چاہیے۔

جماعت اسلامی اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں ہے، باجود اس کے جماعت اسلامی حکومت مخالف بیانیہ رکھتی ہے۔ مختلف ایشوز پر پارلیمنٹ کے اندر حزب اختلاف کے ساتھ کھڑی رہی ہے، حکومت کیخلاف احتجاج بھی کررہی ہے تاہم اگر پی ڈی ایم کا حصہ بنتی ہے تو وسیع تر مقاصد حاصل ہونے کے ساتھ حزب اختلاف کی قوت میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا پہلا جلسہ کوئٹہ میں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا تھا، جس کیلئے 11 اکتوبر اور پھر 18 اکتوبر کا دن مقرر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی کے اصرار پر اب 25 اکتوبر کے دن پر اتفاق ہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ نے پی ڈی ایم کے اجلاس کے اس مسئلے کو بھی اتحاد میں اختلاف ثابت کرنے کی کوشش کی، حالاں کہ اس معاملے کا تعلق مشاورت سے ہے کہ کونسا جلسہ کب اور کہاں منعقد ہونا ہے۔

کوئٹہ کا جلسہ یقینی طور بہت بڑا ہوگا، جس سے بلوچستان حکومت پریشانی میں مبتلا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کہتے ہیں کہ کوئٹہ میں جلسہ بدامنی پھیلانے کیلئے منعقد کیا جارہا ہے اور بلوچستان کو استعمال کیا جارہا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی جام حکومت کا حصہ ہے، لہٰذا جام صاحب نے کہا ہے کہ اے این پی نے ماضی میں بھی اپنی مرکزی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ وہ بلوچستان حکومت کی اتحادی اور حکومت کا حصہ ہے اور کابینہ بلوچستان کی ترقی کیلئے جو بھی منظوری دیتی ہے، اس میں اے این پی کے اراکین شامل ہوتے ہیں۔ جام کمال کو اُمید ہے کہ اے این پی اس تناظر میں واضح مؤقف اپنائے گی۔

بہرحال فی الوقت اے این پی کی صوبائی جماعت پی ڈی ایم کے ساتھ ہے، کوئٹہ جلسہ یا یہاں حکومت مخالف احتجاج میں اے این پی کی سیاست کیا ہوگی یہ وقت پر موقوف ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ماضی میں اے این پی کی صوبائی جماعت مرکزی نظم کے برعکس اپنی ترجیحات کے تحت فیصلے اور اس پر اپنے مرکز کو بھی آمادہ کرچکی ہے، غرض حزب اختلاف کے جلسے کے بارے میں بلوچستان حکومت نے بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے ایرے غیروں سے بھی پریس کانفرنس کرائیں۔ حکومت کے ترجمان نے تو یہ تک فرمایا ہے کہ جلسہ بری طرح ناکام ہوگا۔

ان کے بعض رہنماء کہتے ہیں عوام حزب اختلاف کے ساتھ نہیں ہیں۔ چناں چہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر حکومت کو تذبذب اور پریشانی لاحق نہیں ہونی چاہئے، نہ وفاقی حکومت کی جانب سے اظہار رائے پر کسی قسم کی پابندی ہونی چاہیے۔

ذرائع ابلاغ پر حزب اختلاف کے جلسوں کی کوریج پر قدغن سے میڈیا کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہوگی، جبکہ سیاسی مخالفین پر بغاوت اور ریاست مخالف رجحانات جیسے مقدمات لوگوں کے ذریعے درج کرانا انتہائی غیر شائستہ عمل ہے، مگر بد قسمتی سے مسلم لیگ نواز کے 45 سے زائد رہنماء جن میں 2 سابق وزرائے اعظم میاں محمد نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزراء، ریٹائرڈ جنرلز اور سابق گورنر بھی شامل ہیں۔ حتیٰ کہ آزاد کشمیر کے منتخب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ خصوصاً وزیراعظم آزاد کشمیر پر مقدمے کی خبر بھارتی میڈیا نے خوب اُچھالی۔ یعنی اس عمل سے حکومت و ریاست کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔

ایف آئی آر میں نواب جنگیز مری کا نام بھی شامل کردیا گیا، جس کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ اس شخص کو حراست میں لیا جائے، متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او، ڈی ایس پی اور ایس پی تک معطل کئے جاتے کہ جنہوں نے اس خباثت میں ساتھ دے کر قانون کو بے توقیر کیا ہے۔

میر حاصل خان بزنجو مرحوم نے جب ہارس ٹریڈنگ کیخلاف سینیٹ میں تقریر کی تو پنجاب کے مختلف تھانوں میں ان کلیخلاف اس نوعیت کے مقدمے درج کرائے گئے، کسی کو سڑک حادثہ میں گھیر کر دہشت گردی کے مقدمات قائم کر دیئے جاتے ہیں، تو کسی کی شہریت منسوخ کردی جاتی ہے۔ بلوچستان کے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اشارہ ملنے پر سیاستدانوں کیخلاف تھانوں میں مقدمات درج کرادیتے ہیں۔ چناں چہ روڑے اٹکانے اور اوچھی حرکتوں سے سیاسی ماحول خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube