Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

ٹک ٹاک، فحاشی یا غریب کی تفریح پر پابندی؟

SAMAA | - Posted: Oct 10, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 10, 2020 | Last Updated: 2 months ago

نوجوانوں میں مقبول ترین ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کے دنیا بھر میں اربوں صارفین ہیں جہاں اپنے فن کا مظاہرہ کرکے ایسے لوگ بھی اپنے مداح بنالیتے ہیں جو شاید کبھی مین اسٹریم میڈیا میں اپنی جگہ نہ بناسکیں۔

گزشتہ روز پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ٹاک ٹاک ایپ پر ’غیر اخلاقی اور غیرمہذب‘ مواد کے خلاف عوام کی بڑھتی ہوئی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے پابندی عائد کردی تھی۔

اعلامیہ کے مطابق عوام کی شکایات اور ٹک ٹاک پر موجود مواد کا معائنہ کرنے کے بعد ایپ حکام کو ایک نوٹس بھیج کر ہدایت کی گئی کہ غیرقانونی مواد کی روک تھام اور اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانے کیلئے فعال طریقۂ کار متعارف کرایا جائے مگر ٹاک ٹاک نے ان ہدایات پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث پاکستان میں ٹک ٹاک بلاک کرنے کا حکم دیا گیا۔

ٹک ٹاک ایک چینی کمپنی ’’بائٹ ڈانس‘‘ کی ملکیت ہے اور چین میں دوسرے نام سے ٹک ٹاک جیسی ایپلی کیشن بھی یہی کمپنی چلاتی ہے۔ ٹک ٹاک کو 2017ء میں لانچ کیا گیا اور اس نے بہت کم وقت میں دنیا بھر سے کروڑوں نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کیا۔ اس کی تیزرفتار مقبولیت کے باعث امریکی سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور اسنیپ چیٹ اس کو اپنا حریف سمجھنے لگے۔

ویسے تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کافی عرصہ سے لاکھوں صارفین ٹک ٹاک کا استعمال کرتے ہیں تاہم عالمی وباء کرونا کے باعث ہونیوالے لاک ڈاؤن کے دوران اس ایپ نے گھر گھر میں اپنی جگہ بنائی، خاص طور پر اس جگہ جہاں نیٹ فلیکس، ایمازون پرائم جیسے تفریح کا ذریعہ حاصل کرنے پر پیسے خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہیں فراغت میں اس ایپ نے ان لوگوں کا ساتھ دیا جن کے پاس ٹیلنٹ ہے مگر وسائل نہیں ہیں۔
ٹک ٹاک نے ایسے لوگوں کے بھی مداح بنادئیے جو کبھی خود بھی نہیں سوچ سکتے تھے، چھوٹی سے بڑی عمر کے ایسے افراد جو ٹھیک سے اسمارٹ فون استعمال بھی نہیں کرسکتے، وہ بھی ٹک ٹاک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ٹک ٹاک کے مثبت پہلوؤں میں ایک اور بات سمجھ آئی کہ اس ایپ نے لوگوں کا اعتماد بحال کیا جو لوگ اسکرین پر نظر آنے والے فنکاروں کے مداح تھے آج ان کے مداحوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
گزشتہ روز ہمارے ایک آفس بوائے نے مجھ سے پوچھا ’بھائی ٹک ٹاک پر پابندی کیوں لگی؟، تفصیل بتانے کے بعد اس نے بتایا کہ ’بھائی میرے ٹک ٹاک پر 54 ہزار فالورز ہیں‘ اس کا کہنا تھا کہ کام کے بعد یہی ایک تفریح ہے جس سے ٹائم پاس ہوجاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک کو نیشنل سیکیورٹی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کرنے کی دھمکی دی مگر بعد میں اسے امریکی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی شرط پر چلانے کی مہلت دیدی۔ اس دوران ایک امریکی کمپنی کو ٹک ٹاک میں حصہ دار بنا کر پابندی سے بچایا گیا۔

پاکستان میں ٹک ٹاک کی پابندی کے حوالے سے ملاجلا ردعمل سامنے آیا کسی نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا تو کسی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں فحاشی جیسی کوئی چیز نہیں تاہم ناراض ہونے والوں کیلئے پی ٹی اے نے اُمید کی کرن دکھائی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی نے ٹک ٹاک کو اس پابندی سے متعلق مطلع کرتے ہوئے یہ بھی باور کروایا ہے کہ اس معاملے پر بات چیت کیلئے تیار ہے، اگر ٹک ٹاک غیرقانونی مواد کو ہٹانے سے متعلق نظام متعارف کرواتا ہے تو پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی۔

دوسری جانب آج وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ٹک ٹاک پر پابندی کے فیصلوں سے پاکستان کی ٹیکنالوجی بیٹھ جائے گی، انہوں نے کہا کہ ٹک ٹک پر پابندی کے فیصلے پر وزیراعظم کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ ٹیکنالوجی پر پابندی نہ لگائی جائے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور زرداری نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ٹک ٹاک سے نہ صرف لوگ پیسے کما رہے تھے بلکہ حکومت کی پالیسیوں، مہنگائی اور منافقت وغیرہ کو آزادانہ تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔

اس سے قبل رواں برس جولائی میں بھارتی حکومت نے لداخ تنازع کے بعد ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپلی کیشنز پر پابندی کا اعلان کیا تھا، اس تناظر میں کئی افراد طنزیہ تبصرہ کر رہے ہیں کہ کوئی تو ایسا موضوع ہے جس پر دونوں ممالک متحد ہوئے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube