Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

ننھی مصباح کی کنگھی

SAMAA | - Posted: Oct 8, 2020 | Last Updated: 1 year ago
Posted: Oct 8, 2020 | Last Updated: 1 year ago

AJK pic

آزاد کشمیر میں 15 سال قبل آج ہی کے دن قیامت خیز زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں 86 ہزار سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد 70 ہزار سے زائد تھی جبکہ 28لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے تھے۔ اس اندوہناک وقت میں کسی کی موت کی خبر کوئی حیرت انگیز خبر نہیں تھی کہ گھر گھر لاشیں تھیں۔ ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اٹھ رہے تھے۔ موت کی خبر، ایک عام سی خبر لگتی تھی۔ کوئی کسی کیلئے تعزیتی کلمات کہتا بھی تو ساتھ ہی اپنے پیاروں کی موت کا ذکر شامل کر کے اس تعزیت کو غیر ارادی طور پر ہلکا کر دیتا تھا اور احساس دلاتا کہ یہ غم  صرف تمہارا نہیں، ہر ایک اس سے گزر رہا ہے۔ بربادیوں کی ان ہی ان گنت کہانیوں میں سے ایک کہانی گڑھی دوپٹہ کی معصوم مصباح کی بھی ہے جس کے والدین اور گھر کے دیگر افراد ناقابل بیان کرب سے گزرے۔

گڑھی دوپٹہ، دریائے جہلم کے کنارے آباد، وادی کشمیر کا ایک خوبصورت قصبہ ہے جہاں محکمہ زراعت کا تربیتی ادارہ ایکسٹینشن سروسز مینجمنٹ اکیڈمی قائم ہے۔ کشمیر دو بڑے دریاؤں کی وادی ہے۔ دریائے جہلم اور دریائے نیلم۔ دریائے جہلم چکوٹھی کے مقام پر آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے اور پھر چناری، ہٹیاں بالا اور گڑھی دوپٹہ سے گزرتا ہوا مظفر آباد پہنچتا ہے۔ دوسری طرف دریائے نیلم تاؤبٹ کے مقام پر آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے اور پھر کیل، شاردا، اٹھمقام، کنڈل شاہی اور پٹیکا کے قصبوں کو چھوتا ہوا مظفر آباد آتا ہے اور دریائے جہلم سے مل جاتا ہے۔ مظفر آباد ان دونوں دریاؤں کے سنگم پر آباد ہے۔ گڑھی دوپٹہ مظفر آباد سے 25 کلو میٹر دور ہے۔

سال 2004ء میں آزاد کشمیر کے محکمہ زراعت اور اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے باہمی اشتراک سے آزاد جموں و کشمیر کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے ٹیکنیکل کو آپریشن پروگرام کا آغاز ہوا تو اس کے لئے ملک و بیرون ملک سے مختلف کنسلٹنٹ بلائے گئے۔ ان ماہرین میں مجھے بھی منتخب کیا گیا اور میں بہ طور آڈیو ویژؤل اسپیشلسٹ اس ٹیم میں شامل ہوگیا۔ یہ پروجیکٹ تین سال تک چلتا رہا اور مجھے اس کی وجہ سے آزاد کشمیر کے تقریباً تمام علاقوں کو تفصیل سے دیکھنے کا سنہری موقع ملا۔ محکمۂ زراعت کا تربیتی ادارہ چونکہ گڑھی دوپٹہ میں تھا اس لیے سب سے زیادہ وقت تو یہیں گزرا، البتہ وادیٔ جہلم، وادیٔ نیلم، وادیٔ لیپہ، راولاکوٹ، باغ، کوٹلی، میرپور اور مظفر آباد سمیت بے شمار مقامات پر بھی قیام کے مواقع ملے۔ ستمبر 2005ء میں گڑھی دوپٹہ میں اکیڈمی کے ہاسٹل میں رہتے ہوئے میں نے کراچی سے اپنی اہلیہ اور دونوں بچیوں حمنہ اور حنین کو بھی بلوالیا، یوں آفس ٹائم کے بعد کا وقت اردگرد کی حسین اور خوابناک وادیوں کے سیر سپاٹے میں گزرنے لگا۔

گڑھی دوپٹہ میں قیام کے دوران جب میں اکیڈمی کی چار دیواری سے متصل جامع مسجد عمر بن خطابؓ میں نماز جمعہ کیلئے جاتا تو مسجد کے خطیب فضل الرحمن صاحب کا مدلل اور جاندار خطبہ سن کے بڑا متاثر ہوتا۔ کچھ ہی دن میں میری ان سے دوستی ہوگئی۔ ان کا گھر بھی مسجد سے متصل تھا لہٰذا میری فیملی کا بھی ان کے گھر آنا جانا ہوگیا۔ فضل الرحمان صاحب اصل میں تو اٹھمقام کے رہنے والے تھے مگر کراچی اور پھر سعودی عرب میں ایک طویل عرصہ گزار چکے تھے، لہٰذا ان کی سوچ وسیع اور تجربہ و مشاہدہ ہمہ گیر تھا۔ ان کے تین بچے تھے۔ دو لڑکے اور ایک پھول سی پیاری بچی مصباح، جو میری بیٹی حمنہ کی ہم عمر ہوگی۔ لہٰذا ان کی آپس میں خوب دوستی ہوگئی۔ 30 ستمبر 2005ء کو میرے اسائنمنٹ کا آخری دن تھا۔ چنانچہ ایک دن پہلے ہم گڑھی دوپٹہ سے مظفر آباد گئے اور وہاں مدینہ مارکیٹ سے جہاں خاندان بھر کیلئے مختلف تحائف خریدے وہیں، حمنہ نے اپنی ننھی سہیلی مصباح کیلئے بھی کچھ کھلونے لئے، جن میں پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی کنگھی بھی شامل تھی۔ اگلے دن ہمیں کراچی چلے جانا تھا اس لیے شام کو جب ہم الوداعی ملاقات کیلئے فضل الرحمان صاحب کے گھر گئے تو حمنہ نے مصباح کا تحفہ اس کے حوالے کر دیا۔ مصباح یہ کھلونے پاکر بہت خوش ہوئی اور ناچتی کودتی بار بار اپنے امی ابو اور بھائیوں کو یہ چیزیں دکھاتی رہی۔

اگلے دن ہم اپنی گاڑی میں گڑھی دوپٹہ سے نکلے اور دریائے جہلم کے کنارے کنارے حسین مناظر کے درمیان لہراتی ہوئی خوبصورت سڑک پر سفر کرتے ہوئے مظفر آباد تک آئے اور پھر وہاں سے براستہ مری جانے کے بجائے گڑھی حبیب اللہ، بالا کوٹ، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور حویلیاں کے راستے اسلام آباد آگئے۔ پانچ اکتوبر کو ہم کراچی پہنچ گئے۔ اگلے دن رمضان المبارک شروع ہوگیا۔ آٹھ اکتوبر کی صبح کو سحری کے بعد میں نے کچھ دیرتلاوتِ قرآن کی اور پھر سوگیا۔ کوئی دس بجے کا وقت ہوگا کہ میری اہلیہ نے مجھے جگا کر بتایا کہ اسلام آباد میں زلزلہ آیا ہے اور مرگلہ ٹاور کی بلڈنگ گر گئی ہے۔ میں جلدی سے اٹھ کر ٹی وی کے سامنے جا کھڑا ہوا جہاں مرگلہ ٹاور کی زمین بوس عمارت کو دکھایا جا رہا تھا۔ لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوتا جا رہا تھا اور کرینوں اور ایمبولینس کا شور سنائی دے رہا تھا۔ اکثریت کی طرح شروع کی اس خبر سے ہم بھی یہی سمجھے کہ یہ زلزلہ صرف اسلام آباد میں آیا ہے اور صرف مرگلہ ٹاور ہی کی عمارت گری ہے، لیکن شام تک اس زلزلے کی وسعت اور ہولناکیوں کے بارے میں آہستہ آہستہ خبریں موصول ہونا شروع ہوئیں تو درد و خوف کا احساس بھی گہرا اور وسیع ہوتا چلا گیا۔ میں کشمیر میں اپنے واقف کاروں سے رابطے کی کوشش کرنے لگا مگر کسی کا فون نہیں مل رہا تھا۔

اس وقت تک موبائل فون کی کشمیر میں کوئی سروس نہ تھی۔ بلکہ زلزلہ آنے کے کچھ ہی دن بعد تقریباً ساری موبائل فون کمپنیوں کے وہاں تیزی سے پھیل جانے والے نیٹ ورک سے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اسی زلزلے کا انتظار کر رہی تھیں۔ بڑی مشکل سے اسلام آباد میں مقیم ایک کشمیری دوست انعام سے رابطہ ہوا جو خود مظفر آباد میں مقیم اپنے اہل خانہ کی حالت سے بے خبر اور بے حد پریشان تھا۔ زلزلے کے دوسرے دن کشمیر اور شمالی علاقوں میں اس زلزلے کی لرزہ خیزیوں اور تباہ کاریوں کی تفصیلات آنا شروع ہوئیں تو پوری قوم غم و اندوہ میں ڈوب کر رہ گئی۔ پھر فوراً ہی ملک بھر میں زلزلہ زدگان کیلئے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔ میں نے اپنے کشمیر میں قیام کے دوران مسلسل فوٹو گرافی اور فلمبندی کرتے ہوئے لاتعداد ڈیجیٹل تصاویر اور وڈیوز کا ایک ذخیرہ جمع کرلیا تھا۔ میرے ذہن میں پروجیکٹ کے اختتام پر کشمیر کی سیاحت سے متعلق ایک تعارفی سی ڈی تیار کرنے کا منصوبہ تھا لیکن اس زلزلے نے کشمیر کے حسن کو داغ دار کر دیا تو کچھ دن تو میں سناٹے میں رہا۔ کشمیر کے حسین مناظر کی جو پریزنٹیشن میں نے تیار کر رکھی تھیں، انہیں دیکھ دیکھ کر آنسو بہاتا رہا۔ پھر ایک دن میں روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر محمود شام صاحب سے ملنے گیا تو اپنا لیپ ٹاپ ساتھ لے گیا اور انہیں یہ پریزنٹیشن دکھائیں۔ وہ بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے فوراً ہی جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمٰن سے میری ملاقات کروا دی۔

میر صاحب نے مجھ سے فرمائش کی کہ جن مقامات کی تصاویر میں نے زلزلے سے پہلے اتاری ہیں کیا ان ہی مقامات کی زلزلے کے بعد کی تصاویر کھینچ کر ایک موازنہ تیار کرکے انہیں دے سکتا ہوں؟․․․․․ میں نے حامی بھری تو انہوں نے اسی وقت میری کشمیر روانگی کا انتظام کر دیا۔ اگلے ہی دن صبح سویرے کی فلائٹ سے میں اسلام آباد پہنچا اور تھوڑی ہی دیر بعدجیو ٹی وی کے پروگرام ’’کیپیٹل ٹاک‘‘ کی ٹیم میں حامد میر کے ساتھ مظفر آباد کی طرف جا رہا تھا۔

صرف دو ہی ہفتے قبل میں جن خوبصورت مناظر کو دیکھتا ہوا یہاں سے گیا تھا آج ان کو برباد اور چکنا چور دیکھ کر میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔ مظفر آباد پہنچا تو وہاں موت کا رقص جاری دیکھا۔ زلزلے کی ہلاکت خیزیوں کی جو کہانیاں ملک بھر کے لوگوں تک پہنچ رہی تھیں‘ میں انکے درد ناک مناظر کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر سناٹے میں آگیا۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور فوٹو گرافی شروع کر دی۔ ہفتہ بھر میں بالاکوٹ سے راولاکوٹ تک مختلف مقامات پر گھومتا رہا اور تصویریں کھینچتا رہا۔

آخری دن میں گڑھی دوپٹہ گیا اور سیدھا ایکسٹینشن سروسز مینجمنٹ اکیڈمی پہنچا۔ لیکن یہ کیا؟․․․․․ اکیڈمی کی خوبصورت عمارات کا وسیع کمپلیکس زمین بوس اور ملبے کا ڈھیر بنا ہوا میرے سامنے تھا۔ گلابوں کی روشیں گرد آلود تھیں اور رنگارنگ پھولوں کے پودے مٹی چاٹ رہے تھے۔ اسٹاف میں سے وہاں کوئی نظر نہ آتا تھا۔ میرا دماغ ماؤف ہوگیا۔ میں گلاب کی شکستہ اور کانٹے دار جھاڑیوں میں کپڑے پھٹنے کی پروا کیے بغیر دیوانہ وار گھستا چلا گیا، لیکن وہاں کیا رکھا تھا۔ کچھ فوجیوں کے خیمے نظر آئے، جہاں مجھے بتایا گیا کہ اکیڈمی میں 40 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

میرے ذہن میں اکیڈمی میں زیرِ تعلیم طلبہ کے قہقہے، طالبات کے قدموں کی آہٹیں، دفاتر کے اندر چائے کی پیالیوں کی کھنکھناہٹیں اور لوکاٹ کے درختوں کی شاخوں میں سے تیزی سے گزرتی ہواؤں کی سرسراہٹیں گونجنے لگیں۔ یہ سب کچھ صرف دو ہفتوں میں ہی گم گشتہ ماضی کا حصہ بن چکا تھا۔ میں چکرا کر زمین پر بیٹھ گیا اور اپنا گھومتا ہوا سر تھام لیا۔ اچانک میرے ذہن میں فضل الرحمان صاحب کا خیال آیا اور میں نے اکیڈمی کے شمالی کنارے کی طرف دیکھا، جہاں چار دیواری سے متصل مسجد عمر بن خطابؓ کا گنبد نظر آیا کرتا تھا۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ وہاں گنبد نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں اٹھا اور دیوانہ وار دوڑتا ہوا اکیڈمی کی چاردیواری سے نکل کر دوسری طرف مسجد کے سامنے پہنچا اور ٹھٹک کر رہ گیا۔ مسجد زمین پر ملبے کے ایک ڈھیر کی صورت پڑی تھی اور مسجد کا گنبد ٹیڑھا ہو کر ایک طرف زمین سے آلگ تھا۔

میں اپنی جگہ ساکت کھڑا منہ کھولے مسجد کی طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ مسجد کے برابر میں ایستادہ ایک خیمے سے کوئی نکل کر میری طرف بڑھا۔ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ امام مسجد، فضل الرحمن صاحب تھے۔ مجھے پہچانتے ہی ان کے منہ سے ایک درد انگیز آہ نکلی اور وہ مجھ سے لپٹ گئے۔ آج سے صرف دو ہفتے پہلے یہ جگہ خوشیوں اور خوشبوؤں کا مرقع تھی اور یہاں مسجد کے اردگرد پھولوں کی کیاریوں میں فضل الرحمن صاحب کے بچے کلکاریاں مارتے کھیلتے کودتے پھرتے تھے۔

میں نے ان سے خیریت پوچھی تو کہا: ’’اللہ کا شکر ہے‘‘۔

میں نے بچوں کا پوچھا تو چپ ہوگئے۔

میں نے دوبارہ پوچھا تو جواب دینے کے بجائے ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کے قطرے جھلملانے لگے۔

کیا ہوا امام صاحب، بتاتے کیوں نہیں؟ میں بے چینی سے بلند آہنگ ہوا اور میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ انہوں نے جواب دینے کے بجائے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر پلاسٹک کی ایک چھوٹی سی کنگھی نکالی اور میرے ہاتھ میں دے کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ یہ وہی کنگھی تھی جو میری بیٹی حمنہ نے دو ہفتے قبل مصباح کو تحفے میں دی تھی۔ ’’مصباح اپنے اللہ کے پاس چلی گئی عبید اللہ بھائی‘‘۔

فضل الرحمان صاحب نے گلوگیر آواز میں بہ مشکل کہا اور میرا دل حلق میں آکر اٹک گیا۔

انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ کیسے․․․․․ کیسے․․․․․ یہ کس طرح ہوا امام صاحب؟

میری آواز خود میرے لیے اجنبی تھی۔

آٹھ اکتوبر کی صبح یہاں مسجد میں قرآن مجید کے خستہ نسخوں کی دوبارہ جلد بندی کرنے والے کام کر رہے تھے․․․․․ وہ بتانے لگے۔ ’’جس وقت زلزلہ آیا تو مصباح مسجد کے اندر ان جلد سازوں کے اردگرد کھیل کود رہی تھی۔ میں باہر دکان پر بیٹھا تھا۔ جیسے ہی زلزلے کے جھٹکے آنا شروع ہوئے تو میں دکان سے نکل کر سڑک کی طرف بھاگا۔ اسی وقت دونوں جلد ساز بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مسجد سے باہر نکلے اور میدان کی طرف بھاگ اٹھے۔ کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ مصباح بھی اندر ہے۔ مسجد کے درودیوار نے شروع میں تو جھٹکے برداشت کیے مگر وہ اتنے زیادہ اور شدید تھے کہ کچھ ہی دیر بعد ستونوں نے جگہ چھوڑ دی۔ مسجد گنبد سمیت زمین پر آ رہی اور مصباح بھی اس کے اندر کسی جگہ دب گئی۔ زلزلے کے کئی دن بعد تک تو ہمیں پتہ بھی نہ چل سکا کہ مصباح کہاں ہے۔ ابھی چار دن پہلے جب یہ ملبہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی تھی، تو مسجد کی سیڑھیوں کے پاس اس کی لاش ملی ہے۔ اس کے جسم پر کوئی زخم نہیں تھا۔ وہ معصوم صرف دہشت سے ختم ہوگئی‘‘۔

 فضل الرحمن صاحب نے تفصیل بتائی اور پھر رونے لگے۔

جس وقت میں نے اس کا پھول جیسا جسم اٹھایا تو یہ کنگھی اس کے ہاتھ سے نکل کر گر پڑی۔ عبید اللہ بھائی، اب میں اس کنگھی کو ہر وقت اپنی جیب میں اپنے ساتھ رکھتا ہوں، کیونکہ مصباح بھی اسے ہر وقت ساتھ ساتھ لیے پھرتی تھی اور مجھ سے بار بار اس کنگھی سے اپنے بال سنوارنے کی فرمائش کرتی تھی۔ یہ کنگھی میری مصباح کی نشانی ہے‘‘۔

میرا دل شدت غم سے پھٹ رہا تھا اور میں حیرت و دکھ سے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی اس ننھی منی پلاسٹک کی کنگھی کو دیکھ رہا تھا، جسے حمنہ نے مظفر آباد کی مدینہ مارکیٹ سے اپنی پیاری سہلی مصباح کیلئے آج سے صرف دو ہفتے قبل خریدا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube