قائداعظم نے دو مرتبہ ایک ‘غدار’ کا مقدمہ لڑا

SAMAA | - Posted: Oct 7, 2020 | Last Updated: 8 months ago
Posted: Oct 7, 2020 | Last Updated: 8 months ago

بھارت اور پاکستان کے بغاوت کے قوانین کا ماخذ انڈین پینل کوڈ 1860 ہے۔ برطانوی سامراج نے 1870 میں ان قوانین میں سیکشن 124 اے ( ملک کے خلاف بغاوت کا قانون) متعارف کروایا۔ یہ قانون اس وقت سے آج پاکستان اور بھارت میں مقدس صحیفے کی طرح اپنی اصل شکل میں برقرار ہے جبکہ اس قانون کو نافذ کرنے والی سامراجی قوت یعنی برطانیہ نے 2010 میں اس کو ختم کردیا ہے۔

برصغیر پاک و ہند کے دانشور اور تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ برطانیہ نے یہ قانون برصغیر کے آزادی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کی آوازیں دبانے کیلئے متعارف کروایا تھا۔ برطانوی راج کے خلاف ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے دوران بے شمار لوگوں کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمات درج کرکے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔

تحریک آزادی کے ایک بڑے رہنما موہنداس گاندھی پر 1922  میں جب تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے کے تحت مقدمہ درج ہوا تو انہوں نے احمد آباد کی برٹش عدالت میں پیش ہوکر اس قانون کے بارے میں کچھ اس طرح اظہار خیال کیا۔ ‘دفعہ 124 اے تعزیرات ہند کی سیاسی دفعات کا شہزادہ ہے۔ اس قانون کا واحد مقصد شہریوں کی آزادی سلب کرنا ہے۔’ موہنداس گاندھی کو بہر حال اس قانون کے تحت 6 سال قید کی سزا ہوئی۔

موہنداس گاندھی سے قبل ایک اور آزادی پسند رہنما ‘بال گنگا دھار تلک’ کے خلاف 3 مرتبہ دفعہ 124 اے ( بغاوت) کے تحت مقدمات درج ہوئے۔ بال گنگا دھار تلک معروف صحافی، مشہور ریاضی دان، فلسفی اور قوم پرست رہنما تھے جنھوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بال گنگا دھار تلک کے افکار اور اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برطانوی سامراج نے انہیں ہندوستان میں بدامنی کا باپ قرار دے دیا تھا۔ دوسری جانب تحریک آزادی کیلئے ان کی خدمات اور کردار کا اعتراف کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے انہیں جدید ہندوستان کا بانی قرار دیا۔

بال گنگا دھار تلک سوراج (اپنے دیس میں اپنی حکومت، خود حکمرانی) کے علمبردار تھے۔ کہاجاتا ہے کہ ہندوستان میں سوراج کا نظریہ گلی گلی تک پہنچانے میں ان کا بنیادی کردار رہا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں مراٹھی میں ایک جملہ کہا جو بڑا مشہور ہے۔ اس کا آسان اردو ترجمہ یوں کیا جاسکتا ہے۔ سوراجیا میرا پیدائشی حق ہے اور میں اسے حاصل کرکے رہوں گا۔ تلک کے یہ الفاظ آگے چل کر ہندوستان کی تحریک آزادی کا مرکزی نعرہ بن گئے۔

بال گنگا دھار تلک نے کانگریس کے مرکزی رہنماؤں کے ساتھ قریبی مراسم رکھے۔ ان رہنماؤں میں اس وقت کے محمد علی جناح اور آج کے قائداعظم بھی شامل تھے۔

بال گنگا دھار تلک زندگی بھر برطانوی سامراج کے مقدمات کا سامنا کرتے رہے۔ ان کے خلاف دیگر سیاسی مقدمات کے ساتھ ساتھ تین مرتبہ بغاوت کے مقدمات چلے۔ پہلا مقدمہ 1897، دوسرا 1909 اور تیسرا مقدمہ 1916 میں درج کیا گیا۔ پہلا مقدمہ 1897 میں چلا اور ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ برطانوی سامراج کے خلاف شورش برپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس الزام کے تحت ان کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

دوسری مرتبہ 1909 میں ان پر دوسرا مقدمہ چلا اور اس میں یہ الزامات عائد کیے گئے کہ تلک سامراج کے خلاف بغاوت اور شدت پسندی کو فروغ دینے کے ساتھ انگریز اور ہندوستان کے لوگوں کے مابین نسلی عداوت کا پرچار کر رہے ہیں۔ اس کیس میں بمبئی کے شہرت یافتہ وکیل محمد علی جناح تلک کا دفاع کرنے کیلئے پیش ہوئے۔ مگر ایک بار پھر انہیں ایک متنازع فیصلے کے تحت 6 سال قید کے ساتھ ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا ہوئی۔

اس فیصلے کی ایک دلچسپ بات یہ ہے جس جج نے تلک کو سزا سنائی، وہی جج تلک کے خلاف بغاوت کے پہلے مقدمہ میں ان کے وکیل صفائی کے طور پر پیش ہوئے تھے۔ بعد میں وہ جج بن گئے اور دوسرے مقدمہ میں تلک کو سزا سنادی۔ اس لیے تاریخ میں اس مقدمہ کو متنازع کہا گیا ہے۔

سماعت کے دوران جج نے ان سے پوچھا کہ آپ کچھ کہنا چاہیں گے۔ تلک نے مختصر الفاظ میں کہا کہ ‘میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ جیوری کے فیصلے کے باوجود میں خود کو بے قصور سمجھتا ہوں۔ یہاں اعلی طاقتیں ہیں جو افراد اور قوموں کی تقدیر پر حکمرانی کرتی ہیں۔ اور میرے خیال میں یہ قدرت کی مرضی ہوسکتی ہے کہ میں جس مقصد کے لیے جدوجہد کر رہا ہوں، شاید میرے قلم اور زبان کے مقابلے میں اس مقصد کو میری تکالیف سے زیادہ فائدہ پہنچ جائے۔’

تیسری مرتبہ 1916 میں بال گنگا دھار تلک نے سوراج پر ایک لیکچر دیا اور اس کے پاداش میں ان پر غداری کا مقدمہ درج ہوا۔ یہاں بمبئی کے محمد علی جناح دوسری مرتبہ ان کے وکیل بن گئے اور عدالت نے انہیں الزامات سے بری کردیا۔

پاکستان اور انڈیا کی آزادی کے بعد جب دونوں قوموں کا سوراج کا مطالبہ پورا ہوا تو یہاں ایک اور قسم کا سامراج مسلط ہوا۔ جنہیں عوامی زبان میں کالے انگریز کہا جاسکتا ہے۔ بھارت کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی بات کریں تو یہاں 1948 سے ہی سیاست دانوں کے خلاف اس قانون کا استعمال شروع ہوا۔ اس کا شکار ہونے والے چیدہ افراد میں، غوث بخش بزنجو، گل خان نصیر، خان عبدالغفار خان، عبدالصمد اچکزئی، جی ایم سید، حسین شہید سہروردی، شیخ مجیب الرحمان، انقلابی شاعر فیض احمد فیض اور بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی شامل ہیں۔

فیض احمد فیض نے دوران قید یہی اشعار کہے۔۔

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبوئی ہے اُنگلیاں میں نے
لبوں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے

جنرل ایوب خان نے فاطمہ جناح کو بھی غدار قرار دیا مگر ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

ماضی قریب میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں منظور پشتین اور عالمزیب و دیگر سمیت اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر بھی اس قانون کے تحت مقدمات درج ہوئے جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ آج کل مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اس کا ہدف ہیں۔

کمال کی بات مگر یہ ہے کہ 14 اگست 1947 سے قبل پورا برصغیر انگریز کے اس کالے قانون کا سخت مخالف تھا مگر انگریز کے جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان دونوں نے اس قانون کو سینے سے لگا رکھا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube