Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

فرنچ اوپن ٹینس اپ سیٹ سے بھرپور‘ سیڈڈ کھلاڑیوں کوشکست

SAMAA | - Posted: Oct 5, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 5, 2020 | Last Updated: 2 months ago
TENNIS

فوٹو: اے ایف پی

پیرس کے رولینڈ گیروس اسٹیڈیم کی سرخ کلے کورٹ پر کھیلے جانے والی فرنچ اوپن ٹینس چیمپئن شپ اس بار بھی اپ سیٹ سے بھرپور ہے۔ مردوں اور خواتین دونوں کیٹیگریز کے ٹاپ 32 سیڈڈ کھلاڑیوں میں سے ریکارڈ23 کو پہلے ہی راؤنڈ شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس سے قبل 2004 کے آسٹریلین اوپن اور 2018 کے ومبلڈن اوپن کے پہلے راؤنڈ میں 21، 21 سیڈڈ کھلاڑی شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ تاہم کلے کورٹ ماہر اور 12 فرنچ اوپن ٹائٹل جیتنے والے دفاعی چیمپئن رافیل نڈال کی کامیابیوں کا سفر جاری ہے جنہوں نے چوتھے راؤنڈ میں نوعمر امریکی کھلاڑی سباستین کورڈا کو بآسانی تین سیٹ میں شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی۔ نڈال نے سباستین کو 6-1,6-2,6-2 سے زیر کیا۔ خواتین کی کیٹیگری میں سب سے زیادہ اپ سیٹ ہو رہے ہیں جہاں فیورٹ اور سیڈڈ کھلاڑی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہیں۔ اتوار کو چوتھے راؤنڈ میں پولینڈ سے تعلق رکھنے والی عالمی نمبر 58 ایگا سوئٹیک نے ٹاپ سیڈ فیورٹ اور عالمی نمبر 2 سیمونا ہالیپ کو 68 منٹ میں با آسانی 6-1,6-2 سے شکست دے کر اپنے کیریئر میں پہلی بار گرینڈ سلام ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ گزشتہ سال کے فرنچ اوپن میں بھی سیمونا ہالیپ اور19 سالہ سوئٹیک مدمقابل تھیں جس میں رومانیہ کی تجریہ کار کھلاڑی سیمونا ہالیپ نے سوئٹیک کو صرف 45 منٹ میں زیر کر لیا تھا جس میں ایگا صرف ایک گیم جیت سکی تھی۔ اس طرح 19 سالہ ایگا سوئٹیک نے گزشتہ سال کی شکست کا ناصرف بدلہ چکا دیا بلکہ مسلسل تجربہ کار اور سینیئر کھلاڑیوں کو شکست دے کر حریفوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایگا کے جارحانہ کھیل کے سامنے ہالیپ بالکل بے بس نظر آئی۔

پری کوارٹر فائنل میچ سے قبل ہی ایگا نے ہالیپ کو متنبہ کیا تھا کہ اس بار وہ کلے کورٹ میں مختلف نظر آئے گی کیونکہ گزشتہ سال وہ ناتجربہ کار تھی۔ ایک سال میں اس نے اپنے کھیل کو خاصا بہتر کیا ہے اور ٹورنامنٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی اس کا ثبوت ہے۔ اس شکست کے ساتھ ہی سیمونا ہالیپ کا ٹائٹل جیت کر عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر فائز ہونے کا خواب چکنا چور اور 17 میچز میں فتوحات کا تسلسل بھی ٹوٹ گیا۔ پہلے راؤنڈ میں سوئٹیک نے سیڈڈ 15 وینڈروسووا کو ہرایا تھا جو 2019 کے فرنچ اوپن کی رنرز اپ تھی۔ سیمونا ہالیپ نے 2018 میں فرنچ اوپن جیتاتھا۔ ایگا 2013 میں ریڈوانسکا کے بعدفرنچ اوپن گرینڈ سلام کوارٹر فائنل میں رسائی کرنے والی پہلی پولش خاتون کھلاڑی ہے۔

اسی روز پری کوارٹر فائنل میں ایک اور سیڈڈ 5 کیکی برٹنز ٹورنامنٹ میں کوالیفائر کی حیثیت سے آنے والی اٹلی کی عالمی نمبر 159 مارٹینا ٹریوسان کے ہاتھوں 6-4,6-4  شکار ہو گئی۔ ٹریوسان نے تیسرے راؤنڈ میں سیڈڈ 20 سکاری کو پہلاسیٹ ہارنے کے باوجود سخت مقابلے کے بعد 6-1,6-7,3-6 سے زیر کیا تھا۔ منگل کو سوئٹیک اور مارٹینا ٹریوسان کوارٹر فائنل میں مد مقابل ہوں گی دونوں ہی پہلی مرتبہ اس گرینڈ سلام مرحلے میں پہنچی ہیں۔ اس طرح ان میں سے ایک کھلاڑی کی سیمی فائنل میں رسائی یقینی ہے۔

یوکرائن کی سیڈ 3 ایلینا سویٹولینا نے چوتھے راؤنڈ میں فرانس کی کیرولین گارسیا کو باآسانی 6-1,6-3 سے ہرا کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی جہاں ان کا مقابلہ ارجنٹینا کی عالمی نمبر 131 نادیہ پوڈروسکا سے ہے جس نے باربرا کراجیکووا کو 2-6,6-2,6-3  سے ہرا کر کوارٹر فائنل میں رسائی کی۔

ٹورنامنٹ کے دوسرے راؤنڈ میں انجری کی وجہ سے 39 سالہ امریکن ٹینس اسٹار سرینا ولیمز دوسرے راؤنڈ میں جمہوریہ بلغاریہ کی پرونکووا کے خلاف میچ سے دستبردار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں مارگریٹ کورٹ کا سب سے زیادہ  24 گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے کا ریکارڈ برابر کرنے کا ایک اور موقع سرینا ولیمز کے ہاتھ سے نکل گیا۔ سرینا ولیمز نے ایڑی اور پنڈلی کے پٹھے میں کچھاؤ سے ہونے والی تکلیف کے باعث ایسی کھلاڑی کے خلاف دوسرے راؤنڈ کا میچ کھیلنے سے دستبردار ہو گئی تھی جس کو انہوں نے یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں شکست سے دوچار کیا تھا۔ اب سرینا ولیمز کو ریکارڈ برابر کرنے کیلئے جنوری میں میلبورن میں ہونے والے آسٹریلین اوپن کا انتظار کرنا پڑے گا۔

سرینا ولیمز اپنے جارحانہ کھیل اور شاندار اسٹروکس کے ذریعے دو دہائی سے زیادہ عرصے سے خواتین ٹینس کی دنیا میں بالا دستی قائم کی ہوئی تھی اور اس کے طاقتور اور برق رفتار شاٹس کے سامنے حریف کھلاڑی زیادہ مزاحمت نہیں کر پاتی تھیں لیکن 2017 میں بیٹی اولمپیا کی پیدائش کے بعد وہ کوئی گرینڈ سلام اعزاز جیتنے سے محروم ہے حالانکہ اس نے چار مرتبہ گرینڈ سلام ایونٹس کے فائنل میں رسائی کی لیکن وہ اس رسائی کو کامیابی میں تبدیل نہیں کر پائی۔ سرینا ولیمز نے اپنے کیریئر کا 23 واں گرینڈ سلام ٹائٹل آسٹریلین اوپن 2017 میں جیتا تھا جب وہ دو ماہ کی حاملہ تھی۔ 2006 کے بعد 2020 پہلا سال ہے جس میں سرینا ولیمز کسی گرینڈ سلام ٹورنامنٹ کے فائنل میں کوالیفائی نہیں کر سکی۔ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ٹینس سمیت تمام کھیلوں کی سرگرمیاں معطل تھیں لیکن امریکی ٹینس حکام نے یو ایس اوپن بائیو ببل انتظامات کا کروانے کا فیصلہ کیا تھا جس میں کئی کھلاڑیوں نے خدشات کے پیش نظر شرکت نہیں کی تھی۔ خواتین ٹینس میں 10 ٹاپ رینکنگ کھلاڑیوں میں سے چھ کھلاڑیوں نے حصہ نہیں لیا تھا ان حالات میں سرینا ولیمز کے پاس یو ایس اوپن میں مارگریٹ کورٹ کے ریکارڈ کو برابر کرنے کا سنہری موقع تھا۔ اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے لیکر سیمی فائنل تک سرینا ولیمز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حریف کھلاڑیوں کو زیر کیا لیکن سیمی فائنل میں سرینا ولیمز کو یوکرائن کی وکٹوریہ آزارینکا کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی۔ اسی میچ میں سرینا ولیمز کو ایڑی کی تکلیف ہوئی تھی تاہم سرینا ولیمز نے مارگریٹ کورٹ کا ریکارڈ برابر کرنے کی کوشش میں فرنچ اوپن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ دفاعی چیمپئن اور عالمی نمبر ایک ایشلے بارٹی‘ یوایس اوپن چیمپئن ناؤمی اوساکا 2019 کی یو ایس چیمپئن بیانکا اینڈریسکو اور عالمی نمبر 10 بلینڈا بینچچ نے فرنچ اوپن میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بیٹی کی پیدائیش کے بعد سرینا ولیمز 2018 اور 2019 دونوں سال ومبلڈن اور یو ایس اوپن کے فائنل میں پہنچی تھی لیکن جیتنے میں ناکام رہی۔ 2020 میں آسٹریلین اوپن کے تیسرے راؤنڈ میں چین کی وانگ کیانگ سے تین سیٹ کے مقابلے میں ہار گئی تھی۔ فرنچ اوپن میں میچ سے دستبردار ہونے کے بعد سرینا کا کہنا تھا کہ وہ اس سال کسی اور ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے گی اور بھرپور آرام کرے گی۔ سرینا نے آسٹریلین اوپن میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے اور وہ مکمل صحت یابی اور تیاری کے ساتھ  ایک بار پھر مارگریٹ کورٹ کا ریکارڈ برابر کرنے کی کوشش کرے گی۔ سریناکو ایڑی میں تکلیف کی وجہ سے چلنے میں شدید تکلیف کا سامنا ہے لیکن وہ مشکلات سے ڈرنے والی نہیں۔ سرینا نے 2012، 2013 اور 2015 میں فرنچ اوپن سنگلز کے اعزازات اپنے نام کیے تھے اور 2016 میں رنرز اپ رہی تھی۔

خواتین سنگلز میں ٹاپ 32 کھلاڑیوں میں سے صرف چھ کھلاڑی ہی چوتھے راؤنڈ تک پہنجنے میں کامیاب ہوئیں تاہم ان میں سے بھی دو کھلاڑیوں ہالیپ اور کیکی برٹنز کو چوتھے راؤنڈ میں غیرمتوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سیڈ 2 کیرولینا پلسکووا کو 2017 کی فرنچ اوپن چیمپئن یلینا اوسٹاپنکو نے دوسرے راؤنڈ میں ہرایا۔ سیڈ 8 اریانا سبالینکا کو تیسرے راؤنڈ میں تیونس کی انس جابر نے 7-6,2-6,6-3 سے ہرا کر پری کوارٹر فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ انس جابر اس گرینڈ سلام مرحلے میں پہنچنے والی پہلی عرب خاتون ہے۔ سیڈ 9 یوہانا کونٹا کو پہلے راؤنڈ میں کوکو گواف نے ہرایا جبکہ گزشتہ ماہ یواس اوپن کی رنرز اپ سیڈ 10 وکٹوریہ آزارینکا کو دوسرے راؤنڈ میں اینا کیرولینا شمڈولووا نے زیر کر کے سنسی پھیلا دی تھی۔ دو گرینڈ سلام اعزازات جیتنے والی سیڈ 11گاربین موگوروزا کو تیسرے راونڈ میں ڈینیلی کولنز نے شکست سے دوچار کیا تھا۔ موگوروزا نے 2016 میں فرنچ اور 2017 میں ومبلڈن اوپن جیتا تھا۔

پیرس کی کلے کورٹ پر مردوں کی کیٹیگری میں بھی اپ سیٹ کا سلسلہ جاری رہا جہاں ٹاپ 32 میں سے 10 کھلاڑی چوتھے راؤنڈ میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔ سیڈ 4 ڈینیل میڈیڈیف سیڈ 7 میٹیو بریٹینی سیڈ 8 گائیل مونفلز سیڈ 10 ڈیوڈ گوفن سیڈ 14 فابیو فوگنینی پہلے ہی راؤنڈمیں ٹورنامنٹ سے آؤٹ ہو گئے تھے۔ رافیل نڈال چوتھے راونڈ میں امریکہ کے 20 سالہ سباستین کورڈا کو ہرا کر کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے۔ سباستین کورڈا سابق آسٹریلین اوپن چیمپئن پیٹر کورڈا کا بیٹا ہے جو 1992 کے فرنچ اوپن کے رنرز اپ تھے اور 1998 میں آسٹریلین اوپن کا ٹائٹل جیتا تھا۔ رافیل نڈال سباستین کورڈا کے آئیڈیل کھلاڑی ہیں۔ سباستین کا کہنا تھا کہ یہ میری زندگی کے یادگار ترین لمحات تھے کہ میں اپنے آئیڈیل کے مدمقابل تھا۔ ہار کے باوجود میں ان کے ساتھ کھیلنے کی خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔

کوارٹر فائنل میں رافیل نڈال کا مقابلہ اطالوی کھلاڑی جانک ایسنر سے ہوگا جس نے چوتھے راؤنڈ میں یو ایس اوپن 2020 کے رنرز اپ جرمن اسٹار الیگزینڈر زیوریف کو چار سیٹ کے مقابلے میں زیر کیا اور اپنے کیریئر میں پہلی بار کسی گرینڈ سلام ایونٹ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی۔ ایسنر نے پہلے راؤنڈ میں سیڈ 11 ڈیوڈ گوفن کو بھی شکست سے دوچار کیا تھا۔

رافیل نڈال کیریئر میں 19 گرینڈ سلام اعزازات جیت چکے ہیں اور اب انہیں سویئزرلینڈ کے راجر فیڈرر کے سب سے زیادہ 20 گرینڈ سلام ٹائٹلز کا ریکارڈ برابر کرنے کیلئے صرف ایک اعزاز کی ضرورت ہے۔ وہ فرنچ اوپن کے دفاعی چیمپئن ہیں جبکہ سربیا کے نواک چوکووچ ٹاپ سیڈ ہیں اور وہ بھی ٹائٹل کیلئے فیورٹ ہیں۔ یو ایس اوپن سے ڈرامائی انداز میں ڈس کوالیفائی ہونے کے بعد جوکووچ شاندار کھیل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube