Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

مولانا! میں سفید کاغذ پر دستخط کرنے کیلئے تیار ہوں

SAMAA | - Posted: Sep 22, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
Posted: Sep 22, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

آج سے 43 برس پہلے یعنی 1977 میں پاکستان میں بالکل ایسا ہی سیاسی انتشار اور پراگندگی تھی جیسی آج کل ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو مسند اقتدار پر فائز تھے جبکہ اپوزیشن کی ساری جماعتیں دھاندلی کیخلاف سڑکوں پر نکلی تھیں۔ بھٹو نے شہروں میں فوج طلب کرلی تھی مگر احتجاجی تحریک اس قدر متحرک تھی کہ فوج اور پولیس کے ہاتھوں درجنوں مظاہرین کی ہلاکت کے باوجود عوامی احتجاج ختم نہ کیا جاسکا۔

اس وقت کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں بھٹو کے خلاف تھیں اور متعدد مذہبی رہنماؤں نے بھٹو کے خلاف فتوے بھی دیے مگر ذوالفقار علی بھٹو یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ان کے حقیقی سیاسی مخالف مولانا مودودی ہیں۔ اس لیے بھٹو اور پیپلز پارٹی کے ہمنوا پریس نے بھی مولانا مودودی کی ذات پر بھرپور کیچڑ اچھالا۔

نوائے وقت کے سنیئر کالم نگار یسین وٹو نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات نے ایک اداکارہ کے دھڑ پر مولانا مودودی کا سر جوڑ کر اسے صفحہ اول پر شائع کیا اور وہ اخبار مفت میں تقسیم کیا گیا۔ یسین وٹو اس وقت خود بھی جیالے تھے، وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس اخبار کی تقسیم میں انہوں نے خود بھی حصہ لیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یسین وٹو بعد میں مولانا مودودی کے نزدیک ہوئے اور باقاعدہ ان کے فکری شاگردوں میں شامل ہوگئے۔ ایک عصری نشست میں یسین وٹو نے اپنی ماضی کی اس سرگرمی کا احوال مولانا کو سناکر ان سے معذرت کی جس پر مولانا نے مسکراہٹ پر اکتفا کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے مذاکرات اور طاقت کے استعمال کے بعد آخر میں اپنے گرد گھیرا تنگ ہوتے دیکھا تو آخری امید کے طور پر وہ مولانا مودودی سے ملاقات کیلئے پہنچ گئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے وزیر اطلاعات کوثر نیازی نے بھٹو اور مودودی کے ملاقات کا احوال اپنی کتاب ’اور لائن کٹ گئی‘ میں تفصیل سے لکھا ہے۔

کوثر نیازی لکھتے ہیں کہ اپوزیشن کی قومی تحریک کے دوران افضل سعید خان مولانا مودودی سے ملتے رہے اور انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ بھٹو صاحب سے ملاقات کرلیں لیکن حالات بہت خراب تھے اور عوام میں بدگمانیاں پھیلنے کا خدشہ تھا۔ اس لیے مولانا اس پر آمادہ نہیں ہوئے۔

بعد میں راؤ رشید نے اپنے دیرینہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس وقت کے امیر جماعت اسلامی پنجاب پیر محمد اشرف کو رابطے کا ذریعہ بنایا۔ پیر صاحب کو مولانا مودودی کے مزاج میں کافی دخل تھا۔ وہ ایک دن راؤ رشید کے ہمراہ مولانا کی خدمت میں پہنچے اور انہیں ملاقات کیلئے منا کر ہی چھوڑا۔ 14 مئی کو نو بجے رات ملاقات کا وقت طے ہوا۔

چودہ مئی کا دن ہنگاموں کا دن تھا۔ لاہور کی پیلی بلڈنگ سے مسلسل فائرنگ ہو رہی تھی۔ ہجوم نے اسے آگ لگا دی۔ شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ لاہور سے صوبائی اسمبلی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے رہنما طارق وحید بٹ کی قیادت میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا جس سے فضا میں کچھاؤ اور بڑھ گیا۔ اسی فضا میں بھٹو صاحب لاہور پہنچے تاکہ وہ مولانا مودودی کو بیچ میں ڈال کر اپوزیشن کو تحریک بند کرنے پر آمادہ کر سکیں۔

کوثر نیازی کے بقول لاہور آنے سے پہلے بھٹو صاحب نے کابینہ کے کسی وزیر سے اس سلسلے میں مشورہ نہیں کیا تھا۔ اگر ہم سے پوچھتے تو ہم انہیں بتاتے کہ ان کی یہ کوشش کتنی ’بعد از وقت‘ ہے۔ اتنی کہ اگر خود پی این اے بھی تحریک کو ختم کرنا چاہیے تو اس میں کامیابی نہیں ہوگی۔

ٹھیک 9 بجکر 29 منٹ پر بھٹو صاحب اپنے ملٹری سیکرٹری جنرل امتیاز کے ہمراہ مولانا کے قیام کا پر پہنچے۔ مولانا کے صاحبزادے فاروق مودودی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا۔ راؤ رشید نے تعارف کرایا تو بھٹو صاحب نے فاروق سے پوچھا، کیا تعلیم حاصل کر رہے ہو۔ فاروق نے جواب دیا، کچھ نہیں۔ بھٹو صاحب نے پھر پوچھا، کیا کاروبار کرتے ہو۔ فاروق نے کھردرے لہجے میں جواب دیا۔ میں نہ پڑھتا ہوں اور نہ کاروبار کرتا ہوں۔ پوری قوم آج کل جلسے جلوس کر رہی ہے، میں بھی یہی کام کرتا ہوں۔ پوری قوم آپ کا استعفیٰ مانگ رہی ہے، میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ آپ استعفیٰ کب دے رہے ہیں۔

بھٹو صاحب کا ’شاندار استقبال‘ پر خون تو کھول اٹھا ہوگا مگر وہ موقع محل دیکھ کر غصہ پی گئے۔ ابھی بھٹو صاحب کچھ کہنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ فاروق نے نہلے پہ دہلا مارا کہ آپ مجھ سے کیا بات کریں گے، آپ ایک بہت ہی شریف آدمی (مولانا مودودی) سے بات کرنے آئے ہیں۔ چلیں میں آپ کو ان کے پاس لے چلتا ہوں۔

مولانا ان دنوں بیمار تھے، انہیں بخار اور جوڑوں میں درد بھی تھا۔ بھٹو صاحب ان کے ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھے تو پانچ منٹ کے بعد مولانا تشریف لے آئے۔ بھٹو صاحب نے کھڑے ہو کر بڑے ادب سے ان کے ساتھ مصافحہ کیا اور خیر خیریت دریافت کی۔ رسمیات کے تبادلے کے بعد دونوں بیٹھ گئے۔ فاروق ساتھ والے کمرے میں چلے گئے۔ اب یہ دونوں اکیلے تھے مگر ان کی بات چیت ساتھ والے کمرے میں سنائی دے رہی تھی۔ ملازم کولڈ ڈرنک لایا تو بھٹو صاحب نے اسے چکھا اور گلاس رکھ دیا۔ 20 منٹ بعد چائے آئی۔ اس کے ساتھ دوسرے لوازمات بھی تھے لیکن بھٹو صاحب باتیں ہی کرتے رہے۔ انہوں نے کھانے پینے سے احتراز کیا۔ فاروق ساتھ والے کمرے میں ان کی آواز سن رہا تھا۔

بھٹو صاحب نے مولانا سے کہا ’میں سفید کاغذ پر دستخط کر کے دینے کو تیار ہوں۔ آپ اس پر جو لکھنا چاہیں میرے لیے قابلِ قبول ہوگا۔‘ مولانا نے فرمایا، میں نے آج سے دو ماہ پہلے کچھ نکات آپ کے سامنے رکھے۔ اگر آپ اس وقت انہیں تسلیم کرلیتے تو آپ کا اقتدار بچ سکتا تھا مگر وہ وقت آپ نے ضائع کردیا۔ آج پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو سڑکوں پر لاکر عوام سے ان کا مسلح تصادم کروایا گیا ہے اور ملک خانہ جنگی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ اب صرف ایک ہی صورت ہے کہ آپ استعفیٰ دے دیں ورنہ آپ کی زندگی خطرے میں ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ نے استعفیٰ دے دیا تو آپ کی جان بچانے کی کوشش کروں گا۔

بھٹو صاحب نے یہ سنا تو انہوں نے ایک طویل تقریر کی۔ بین الاقوامی صورتحال میں امریکا کا کردار اور سرحدوں کی نزاکت سمیت دیگر موضوعات ان کی تقریر میں شامل تھے۔ یہ ملاقات تقریبا 45 منٹ پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس دوران مولانا مودودی صرف دس منٹ بولے ہوں گے۔ ان کے آخری جملے بھی وہی تھے جو انہوں نے شروع میں کہے۔ بھٹو صاحب نے اس کے جواب میں صرف اتنا کہا۔ مولانا صاحب میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔ آپ کی ہر بات مانتا ہوں مگر استعفیٰ نہیں دے سکتا۔

ملاقات ختم ہوئی تو مولانا مودودی بھی بھٹو صاحب کے ساتھ باہر نکلے۔ انہیں کار میں بٹھایا اور اندر تشریف لے گئے گئے۔ باہر موڑ پر ایک ہجوم جمع ہوگیا تھا۔ بھٹو صاحب کی آمد کتنی ہی خفیہ کیوں نہیں رکھی جاتی، یہ اتنا معمولی واقعہ نہیں تھا کہ لوگوں کو اس کی خبر نہ ہوتی۔

مولانا نے پہلے ہی فاروق کے ذریعے باہر جمع ہونے والے لوگوں کو کہہ دیا تھا کہ بھٹو صاحب ان کے مہمان ہیں، ان کے خلاف کوئی نعرہ نہ لگنے پائے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے جوشیلے کارکنوں سے خطرہ تھا کہ کہیں وہ اس موقع پر کوئی بدمزگی نہ پیدا کردیں۔ ان کا مرکزی دفتر اسی گلی میں کوٹھی نمبر ایک میں واقع تھا۔ بھٹو صاحب کے کمانڈوز بھی سفید کپڑوں میں گلی میں گھوم پھر رہے تھے لیکن مولانا مودودی کی شرافت سے بعید تھا کہ وہ گھر آئے ہوئے ایک معزز مہمان کی عزت و تکریم میں کسی طرح کا بھی کوئی فرق آنے دیں۔ انہوں نے یہ فرق نہیں آنے دیا۔

ادھر یہ ملاقات جاری تھی، ادھر منٹوں سیکنڈوں میں ہوا کے دوش پر یہ خبر لاہور کے گلی کوچوں میں پھیل گئی۔ 15 منٹ کے اندر چالیس کے قریب اخباری نمائندے مولانا کی قیام گاہ پر پہنچ چکے تھے۔ مولانا نے ایک مختصر سا تحریری بیان پڑھا جس میں صرف اتنا بتایا گیا کہ انہوں نے بھٹو کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا ہے۔

یوں بڑے سیاسی حریفوں کے مابین یہ آخری ملاقات اعلیٰ ظرفی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی مگر نہ بھٹو نے استعفیٰ دیا اور نہ ہی مولانا مودودی ان کی زندگی بچا سکے۔ کوئی ڈیڑھ مہینہ ملک گیر ہنگاموں کے بعد ذولفقار علی بھٹو کے سرکاری رہائش گاہ کی ٹیلی فون لائن کٹ گئی اور دو سال بعداڈیالہ جیل میں زندگی کی ڈور کٹ گئی۔

ذولفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے چند ماہ بعد ہی 22 ستمبر 1979 کو مولانا مودودی بھی امریکی شہر نیویارک میں دوران علاج انتقال کرگئے۔ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’پولیٹیکل اسلام‘ کے علمبردار مولانا مودودی کا یوم وفات عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube