Monday, October 26, 2020  | 8 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

بادینی سرحد، اہم تجارتی گزرگاہ

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago

وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اِن کی حکومت ایران اور افغانستان کی سرحدوں پر بارڈر مارکیٹیں بنانے جارہی ہے، افغان سرحد پر 12 اور ایران سے ملحقہ سرحد پر 6 مارکیٹیں تعمیر کی جائیں گی۔ ایران سرحد پوری کی پوری بلوچستان سے منسلک ہے، اس طرح یہ مارکیٹیں بلوچستان میں بنائی جائیں گی، البتہ افغانستان کے ساتھ ملکی سرحد بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ لگتی ہے، چنانچہ یہ 12 مارکیٹیں دونوں صوبوں میں افغان سرحد کے ساتھ بنائی جائیں گی۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان قدیم روایتی راستے موجود ہیں، جن پر صدیوں سے نقل مکانی، تجارتی اور کاروباری اور عسکری آمد و رفت ہوتی رہی ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک اور دیگر یورپی ممالک کیلئے افغانستان کا راستہ ہند کیلئے موزوں رہا ہے، ان سرحدات کی تزویراتی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدوں پر آمد و رفت چنداں مشکل نہیں رہی ہے، خصوصاً افغانستان کی جانب سے پاکستان آمد پر کبھی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ باوجود اس کے سرحد کے اُس پار سے پاکستان کیلئے پیہم مسائل رہے ہیں، خانہ بدوش سال بھر آتے جاتے ہیں، بلا تعطل تجارت ہورہی ہے، دونوں ممالک و اطراف کے عوام معاشی اور تجارتی ثمرات سے مستفید ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے 16 ستمبر 2020ء کو پاک افغان سرحد ”بادینی“ کے مقام پر ٹریڈ ٹرمینل کا افتتاح کیا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف ان کے ہمراہ تھے۔ سول و عسکری حکام، علاقے کے معتبرین اور تاجر بھی اس تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ پاک افغان سرحد پر طویل خندقیں کھودی گئیں ہیں، یہ اقدامات بالخصوص دہشتگردوں کی سرحد کے اُس پار سے آمد و رفت روکنے کیلئے اٹھائے گئے ہیں۔

بادینی کا یہ مقام بھی صدیوں پرانی روایتی گزر گاہ ہے، جسے سہل بنانے اور تجارتی مقاصد کیلئے استعمال نہ کیا جاسکا، ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ سے ”مرغہ فقیر زئی“ کے بعد بادینی کا مقام آتا ہے، کوئٹہ سے بادینی سرحد کا فاصلہ محض 200 کلو میٹر بنتا ہے، چمن سرحد کی بجائے یہ مقام لورالائی کے راستے ڈیرہ غازی خان اور ژوب کے راستے ڈیرہ اسماعیل خان کو قریب پڑتا ہے، یعنی مال بردار گاڑیوں کیلئے یہ راستہ چمن کی نسبت بہت مختصر ہے اور پنجاب اس سرحد کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک کے قریب ہوجاتا ہے۔

افغانستان کا صوبہ زابل بادینی سے متصل ہے، زابل کے بعد مختصر فاصلے پر صوبہ غزنی اور پکتیکا آتے ہیں، چمن کی نسبت یہ راستہ کابل کیلئے بھی نزدیک ہے، اس قدر اہمیت کی حامل سرحدی گزرگاہ قیام پاکستان سے آج تلک نظر انداز ہے، اب ٹریڈ ٹرمینل کا افتتاح تو کردیا گیا ہے، مگر عالم یہ ہے کہ بادینی سے مسلم باغ تک پکی سڑک موجود نہیں ہے، سرحد کے دونوں اطراف کا بڑا علاقہ غیر آباد ہے، پہاڑی راستہ آمد و رفت کو کٹھن بناتا ہے، اس وقت تک مواصلاتی رابطہ بھی موجود نہیں ہے۔

بادینی کو دوسرے شہروں اور صوبوں سے منسلک کرنے کیلئے حکومت کو کئی سال درکار ہیں، چناںچہ پہلے پہل بجلی، ٹیلیفون، پانی کی سہولیات، لیویز تھانہ، کسٹم ہاﺅس کی تعمیر و فعالیت تیز رفتاری کے ساتھ ہونی چاہئے تھی۔ صوبائی حکومت کہتی ہے کہ مغربی روٹ کا منصوبہ ژوب، کوئٹہ اور چمن سے ہوتا ہوا گوادر اور کراچی تک جائے گا، جس پر 400 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ بادینی سرحد کوئٹہ ژوب شاہراہ کے قریب ہی ہے، تو کیوں نہ اسے بھی سی پیک کا حصہ بنایا جائے تاکہ فوری طور سرحدی علاقوں کے عوام کو معاشی و تجارتی فوائد حاصل ہوں، نیز معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔

بقول وزیراعظم کے وفاقی پی ایس ڈی پی میں زیادہ فنڈز بلوچستان کیلئے مختص کئے گئے ہیں، جنوبی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے خصوصی پیکیج مرتب کرنے کا کہا ہے، ویسٹرن کوریڈور شروع کرنے اور کراچی چمن شاہراہ دو رویہ کرنے کی منصوبہ بندی کا عمل شروع کرنے کا بھی کہہ چکے ہیں۔ خصوصی پیکیج کا ویسے پورا بلوچستان مستحق ہے کہ پورا صوبہ ہی گو نا گوں مسائل و سہولیات کے فقدان کا شکار ہے۔

بادینی سمیت ٹریڈ ٹرمینل اور بارڈر مارکیٹوں کی بات تو ہوئی ہے مگر بدقسمتی سے بارڈر مارکیٹ اب تک چمن و تفتان سرحد پر بھی نہ بن سکی ہیں، لہٰذا اس جانب پیشرفت اعلانات سے بڑھ کر جنگی بنیادوں پر ہونی چاہئے۔

بلوچستان کی افغانستان کے ساتھ 1200 کلو میٹر سے طویل سرحد ہے، صوبے کے 7 اضلاع کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، پشین، ژوب، نوشکی اور چاغی کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں۔ صوبے میں باقی اہم سرحدی گزرگاہوں پر بھی بارڈر مارکیٹیں بنانی چاہیئں، اسی طرح ایران کے ساتھ 900 کلو میٹر طویل سرحد پر بھی یہی ٹریڈ ٹرمینلز جلد سے جلد قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

بادینی ٹریڈ ٹرمینل کے افتتاح کے بعد بلوچستان اسمبلی کے 18 ستمبر کے اجلاس میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں صنعتی زون کے قیام کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ حزب اختلاف کی جانب سے کہا گیا کہ صوبے کے وسائل کو صنفی ترقی اور انسانی وسائل کے فروغ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جائے، غیر پیداواری منصوبوں کو ترک کرکے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں صنعتی زون اور عالمی معیار کے ٹیکنیکل و تربیتی ادارے قائم ہوں۔ گویا حاضر وقت صوبے میں سی پیک کے تحت کوئی صنعتی زون اور بارڈر مارکیٹ کا وجود نہیں ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube