Monday, October 26, 2020  | 8 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

فرنچ اوپن:رافیل نڈال،سرینا ولیمز ریکارڈ برابر کرنے کیلئے کوشاں

SAMAA | - Posted: Sep 19, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 19, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Nadal, Serena

فوٹو: گیٹی امیجز

کرونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر کے نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیا لیکن اس کے ساتھ کھیلوں کے مقابلوں کا شیڈول بھی درہم برہم ہو کررہ گیا تھا۔ اس صورت حال سے ٹینس کا کھیل اس لیے شدید متاثر ہوا کہ اس کے مقابلے ہر سال کیلنڈر کے مطابق ترتیب وار منعقد ہوتے ہیں۔ سال رواں کا پہلا گرینڈ سلیم ایونٹ آسٹریلین اوپن جنوری کے آخر میں منعقد ہوا تھا اس کے بعد وبا کے پھیلاؤ کے نتیجے میں ٹینس کے مقابلے منسوخ کر دیئے گئے۔ کیلنڈر کے مطابق دوسرا گرینڈ سلیم فرنچ اوپن 27 مئی سے 7 جون تک  اور تیسرا گرینڈ سلیم ومبلڈن اوپن جولائی کے آغاز میں منعقد ہوتا ہے لیکن ان دونوں ایونٹس کو منسوخ کر دیا گیا تھا اور اب فرنچ اوپن کے کوالیفائنگ راؤنڈ  21 ستمبر سے شروع ہو رہے ہیں۔

سن 1947 میں جب سے فرنچ چیمپئن شپ کا آغاز ہوا ہے یہ پہلا موقع ہے کہ ٹورنامنٹ اپنے مئی جون کے روایتی شیڈول پر نہیں ہو رہا۔  عالمی وبا کی وجہ سے روایتی شیڈول پر ٹورنامنٹ کے منعقد نہ ہونے پر منتظمین نے اس کو ری شیڈول کیا اور پہلے اس کیلئے 20 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی تاہم  یو ایس اوپن کا فائنل 13 ستمبر اور درمیان میں اٹالین اوپن کے انعقاد کی وجہ سے اسے مزید موخر کیا گیا۔

ٹورنامنٹ کا مین راؤنڈ 27 ستمبر سے شروع ہوگا لیکن کوالیفائنگ راؤنڈ کے مقابلے 21 ستمبر سے شروع ہو جائیں گے۔ مینز سنگلز کیلئے 16 اور ویمنز سنگلز میں 12 کھلاڑی کوالیفائنگ راؤنڈ میں حصہ لیں گے اور یہاں سے کامیابی حاصل کرنے والے مین راؤنڈ میں جائیں گے جہاں دونوں کیٹیگریز میں 128‘128  ٹائٹل کے حصول کی جنگ میں ایک دوسرے سے بنرد آزما ہوں گے۔ ٹورنامنٹ میں مینز ویمنز سنگلز‘ ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز کے مقابلے  ہوں گے۔

فرنچ ٹینس فیڈریشن نے پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ ٹورنامنٹ دیکھنے کیلئے 11 ہزار 500 تماشائیوں کو  اسٹیڈیم میں  داخلے کی اجازت دی جائے گی لیکن اب کرونا کے  دوبارہ پھیلاؤ کی وجہ سے تماشائیوں کی تعداد کو کم کر کے 5 ہزار تک محدود کر دیا گیا ہے اگر صورت حال مزید خراب ہوئی تو یہ تعداد اور بھی کم کی جا سکتی ہے۔

جمعرات کو فرانس میں کرونا وائرس کے ریکارڈ  10 ہزار 593 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جو وبا کے شروع ہونے کے بعد سے فرانس میں ایک دن میں متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کیلئے بائیو ببل رولز یوایس اوپن سے بھی زیادہ سخت ہیں اور کوئی بھی کھلاڑی صرف اپنا میچ کھیلنے کیلئے ہی اسٹیڈیم میں آ سکتا ہے۔ ٹورنامنٹ میں مینز ویمنز سنگلز‘ ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز کے مقابلے  ہوں گے۔

Serena

فوٹو: اے ایف پی

فرنچ اوپن ٹینس چیمپئن شپ فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے رولینڈ گیروس اسٹیڈیم کے سرخ کلے کورٹ پر کھیلی جاتی ہے۔ فرنچ اوپن کے 124 ویں ایڈیشن میں اسپین سے تعلق رکھنے والے کلے کورٹ کے ماہر رافیل نڈال اپنے اعزاز کا دفاع کریں گے۔ وہ 12 مرتبہ فرنچ اوپن سنگلز کے ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہیں اور اس بار بھی انہیں ہی فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے لیکن ان کیلئے اعزاز کا دفاع کرنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ وہ 7 ماہ  کے بعد کورٹ میں واپس آ رہے ہیں۔ فٹنس مسائل اور وبا کی وجہ وہ مقابلوں میں حصہ نہیں لے رہے تھے۔ انہوں نے یو ایس اوپن سے بھی اپنا نام واپس لے لیا تھا تاہم اب وہ فرنچ اوپن سے قبل ایک اور کلے کورٹ ایونٹ اٹالین اوپن میں حصہ لے رہے ہیں وہ یہ ٹورنامنٹ 9 مرتبہ اپنے نام کرچکے ہیں اور اگر اس باربھی فاتح رہے تو وہ 10 مرتبہ اٹالین اوپن  جیتنے والے پہلے کھلاڑی ہوں گے۔

 آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی عالمی نمبر ایک اور فرنچ اوپن کی دفاعی چیمپئن ایشلے بارٹی کرونا وائرس خدشات کی وجہ سے اپنے اعزاز کے دفاع کیلئے پیرس کا سفر نہیں کریں گی۔ انہی خدشات کی وجہ سے بارٹی نے یوایس اوپن سے بھی اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ جبکہ یوایس اوپن  کااعزاز جیتنے والی جاپانی کھلاڑی اور عالمی نمبر 3 ناؤمی اوساکا نے بھی ٹورنامنٹ حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمسٹرنگ انجری کی شکار ہیں اور ان کی ٹانگ میں شدید تکلیف ہے۔ اسی انجری کی وجہ سے انہوں نے اٹالین اوپن میں عدم شرکت کا فیصلہ کیا تھا تاکہ جلد صحت یاب ہو سکیں لیکن صورت حال بہتر نہ ہونے پر انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تکلیف کی وجہ سے میں ٹورنامنٹ کیلئے تیاری نہیں کر سکوں گی کیونکہ یہ مختلف کورٹ پر کھیلا جاتا ہے۔ ویسے بھی کلے کورٹ پر اوساکا کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں ہے اور وہ  فرنچ اوپن میں کبھی تیسرے راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی ہیں۔

 ٹینس کی تاریخ میں سب سے زیادہ 20 گرینڈ سلیم اعزازات جیتنے والے سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر، آسٹریلیا کے نک کرگیوس، فرانس کے لوکاس پولی اور جو ولفریڈ سونگا نے ٹورنامنٹ سے اپنے نام واپس لے لیے ہیں جبکہ  ایشلے بارٹی، اوساکا اور ابق عالمی نمبر ایک پنگ شوائی، سمانتھا سٹروسر سمیت 12 خواتین نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں جن کے متبادل کو ٹورنامنٹ میں جگہ دے دی گئی ہے۔

 ٹورنامنٹ میں مینز اور ویمنز سنگلز دونوں کیٹیگریز میں آٹھ آٹھ کھلاڑیوں کو وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی ہے جو براہ راست مین راؤنڈ میں کھیلیں گے۔ مردوں میں برطانیہ کے اینڈی مرے جبکہ میزبان ملک فرانس کے سات کھلاڑی  ایلیٹ بینچارٹ، ہیگو گسٹن، کوئنٹن ہیلس، انتوئنگ ہوانگ، مکیسم جینوئر، ہیرالڈ میوٹ اور آرتھر رینڈرکنچ جبکہ خواتین میں کینیڈا کی یوجین بوچارڈ، یوایس اوپن 2020 کی کوارٹر فائنلسٹ پرونکووا  کے علاوہ  6 فرانسیسی کھلاڑی شامل ہیں۔ اسی طرح  3 خواتین اور 2 مرد کھلاڑیوں کو خصوصی محفوظ رینکنگ کو استعمال کرتے ہوئے مین ڈرا میں انٹری دی گئی ہے مردوں میں جنوبی افریقہ کے کیون اینڈرسن اور امریکہ کے میکنزی میبکڈونلڈ جبکہ خواتین میں امریکہ کی کیتھرائن بیل، آسٹریلیا کی ڈرایا گیوریلووا اور سلواکیہ کی ایناکیرولینا شامل ہیں۔ کینیڈا کی یوجین بوچارڈ نے 2014 میں فرنچ اوپن اور ومبلڈن اوپن کے کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی تھی۔ گزشتہ سال یوجین بوچارڈ  فرنچ اوپن کے پہلے راؤنڈ میں ہی شکست کھا گئی تھی۔

 سابق عالمی نمبر 1 اور 3 گرینڈ سلیم اعزازت جیتنے والے33 سالہ برطانوی اینڈی مرے فرنچ اوپن کیلئے وائلڈ کارڈ انٹری ملنے پر خوش ہیں۔ وہ یوایس اوپن کے دوسرے راؤنڈ میں شکست کھا گئے تھے۔ وہ عالمی  رینکنگ  میں 110 ویں نمبر پر ہیں۔ وہ ہپ سرجری کی وجہ سے کافی عرصے تک ٹینس کورٹ سے دور رہے تھے۔ اینڈی مرے کو سن 2011 اور پھر اس کے بعد سن 2014 سے سن 2017 تک مسلسل 4 سال فرنچ اوپن کے سیمی فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے وہ سن 2016 میں رولینڈ گیروس پر رنرز اپ تھے جہاں فائنل میں سربیا کے نواک جوکووچ نے انہیں ہراکر اپنے کیریئر کا پہلا فرنچ اوپن ٹائٹل جیتا تھا۔ مرے  سن 2018  اور سن 2019 میں فرنچ اوپن میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

  پیرس میں رافیل نڈال اور سرینا ولیمز دونوں کیلئے بالترتیب  مینز اور ویمنز کیٹیگری میں سب سے گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کا ریکارڈ برابر کرنے کا موقع ہے۔ رافیل نڈال 19 گرینڈ سلیم اعزازات کے ساتھ  راجر فیڈرر20  کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ 23 گرینڈ سلیم جیتنے والی سرینا ولیمز آسٹریلیا کی مارگریٹ کورٹ کا 24 گرینڈ سلام ٹائٹلز کا ریکارڈ  برابر کرنے کی متمنی ہیں۔ انہیں یوایس اوپن کے سیمی فائنل میں وکٹوریہ آزارینکا نے زیر کیا تھا جبکہ اس کوشش میں وہ چار گرینڈ سلیم فائنلز میں شکست سے دو چار ہوئی ہیں۔ وہ فرنچ اوپن کی تیاری کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میں یہ ریکارڈ توڑ کر دم لوں گی میں حوصلہ ہارنے والی نہیں ہوں۔

سرینا ولیمز اگر یہ فرنچ اوپن جیت جاتی ہیں تو وہ  مارگریٹ کورٹ کا ریکارڈ برابر کرنے کے علاوہ ایک منفرد ریکارڈ  اپنے نام کرلیں گی جس کو شائد ہی کوئی توڑ سکے اور وہ ریکارڈ چاروں گرینڈ سلیم اعزازات چار چار مرتبہ اپنے نام کرنا ہے۔ مردوں اور خواتین کی کیٹیگری میں آج تک کوئی بھی کھلاڑی یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا ہے۔ سرینا ولیمز نے  7 آسٹریلین اوپن‘ 3 فرنچ اوپن‘7 ومبلڈن اوپن اور 6 یوایس اوپن سنگلز ٹائٹل اپنے نام کیے ہیں۔ انہوں نے اپنا آخری گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن سن 2017 میں جیتا تھا۔ 2016 کے فرنچ اوپن میں سرینا دفاعی چیمپئن تھی گاربین موگوروزا کے ہاتھوں فائنل میں شکست کھا گئی تھی۔ سن 2017 کے فرنچ اوپن میں سرینا نے حصہ نہیں لیا تھا جبکہ سن 2018 میں سرینا چوتھے اور 2019 میں تیسرے راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔

فرنچ اوپن میں رافیل نڈال کیلئے ٹاپ سیڈ اور 17 گرینڈ سلیم جیتنے والے نواک جوکووچ،  یوایس اوپن چیمپئن ڈومینک تھیم، ڈینیل میڈیڈیف، سٹیفانو سیسیپاس، الیگزینڈر زیوریف اور گائیل مونفلز سخت جاں حریف ثابت ہو سکتے ہیں۔ فرنچ اوپن  2018 اور 2019 کے فائنلز میں مسلسل 2 سال رافیل نڈال نے ڈومینک تھیم کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ اور یوایس اوپن جیتنے کے بعد تھیم کے اعتماد میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔ یو ایس اوپن سے ڈرامائی انداز میں ڈس کوالیفائی ہونے والے جوکووچ بھی سخت جاں حریف ثابت ہو ں گے۔ وہ سن 2016 میں اینڈ ی مرے کو ہرا کر فرنچ اوپن چیمپئن بنے تھے۔ انہیں گزشتہ سال سیمی فائنل میں ڈومینک تھیم نے زیر کیا تھا۔ الیگزینڈر زیوریف کو سن 2018 کے فرنچ اوپن کوارٹر فائنل میں ڈومینک تھیم اور سن 2019 کے کوارٹر فائنل میں نواک جوکوچ نے زیر کیا تھا۔

 خواتین کی کیٹگری میں دو گرینڈ سلیم جیتنے والی رومانیہ کی سیمونا ہالیپ کو ٹاپ سیڈ قرار دیاگیا ہے اور وہ اب ٹائٹل کیلئے فیوریٹ بھی ہیں سیمونا ہالیپ نے سن 2018 میں فرانچ اوپن اور سن 2019 میں ومبلڈن اوپن کے اعزاز اپنے نام کیے تھے۔ گزشتہ سال وہ کوارٹر فائنل میں امریکہ کی ایمنڈا اینیسمووا سے ہار گئی تھیں۔

جمہوریہ چیک کی کیرولینا پلسکووا کوئی گرینڈ سلیم اعزاز جیتے بغیر عالمی نمبر 1 کی پوزیشن پر فائز ہوئی تھی۔ وہ  بھی اس بار فیورٹ کی فہرست میں ہے۔ وہ کلے کورٹ پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ سن 2017 میں فرنچ اوپن کے سیمی فائنل میں پلسکووا کو سیمونا ہالیپ نے ہرا دیا تھا جبکہ گزشتہ 2 سال سے وہ تیسرے راؤنڈ میں شکست سے دوچار ہو رہی ہے۔

ٹینس اپ سیٹ کا کھیل ہے اور اس میں کوئی بھی غیر معروف کھلاڑی اپ سیٹ کر کے کسی نامور کو زیر کر دیتا ہے۔ لیکن رافیل نڈال اور سرینتا ولیمز کیلئے یہ ٹورنامنٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاہم یہ وقت ہی بتائے گا کہ وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube