Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

ایک گرینڈ سلیم اور کئی ریکارڈز ڈومینک تھیم کے نام

SAMAA | - Posted: Sep 16, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 16, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago
Dominic Theim

فوٹو: اے ایف پی

یورپ کا ملک آسٹریا برف پوش چوٹیوں، سرسبز چرا گاہوں اور اسکی انگ کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے لیکن اب 27 سالہ ٹینس اسٹار ڈومینک تھیم نے 5 سیٹ کے مقابلے میں یو ایس اوپن مینز سنگلز 2020 کا اعزاز تاریخی انداز میں جیت کر ایک نئے حوالے سے اسے دنیا کے سامنے متعارف کروایا ہے اور ایک ٹائٹل جیتنے کے ساتھ کئی ریکارڈ ان کے نام کے ساتھ جڑ گئے ہیں۔

کرونا وائرس کوویڈ 19 کے حفاظتی پروٹوکول کے تحت تماشائیوں سے خالی نیویارک کے آرتھر ایش اسٹیڈیم میں یو ایس اوپن مینز فائنل کے اعصاب شکن معرکے میں ڈومینک تھیم نے تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کیریئر کا پہلا گرینڈم سلیم  ٹائٹل جیتا۔ اس سے قبل ان کی گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کی 3 کوششیں ناکامی سے دوچار ہو چکی تھیں۔ آسٹرین ٹینس اسٹار نے 4 گھٹنے میں 2 سیٹ سے خسارے میں جانے کے بعد اپنے 23 سالہ حریف الیگزینڈر زیوریف کو 2-6، 4-6، 6-4،6-3 اور 7-6(8-6) سے شکست دی۔

یو ایس اوپن کی تاریخ میں وہ 2 سیٹ سے خسارے میں جانے کے بعد فائنل جیتنے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ اعزاز بھی ڈومینک تھیم کے حصے میں آیا کہ یہ یو ایس اوپن ٹینس کی تاریخ میں پہلا فائنل میچ تھا جس میں پانچویں سیٹ کا فیصلہ ٹائی بریکر پر ہوا۔ زیوریف کو پانحویں سیٹ کی آخری گیم میں بھی ڈومینک تھیم پر 5-3 سے سبقت حاصل تھی اور اسے صرف 2 پوائنٹس کی ضرورت تھی لیکن اس مرحلے پر اس سے غلطیاں سرزد ہوئیں جو اس کی شکست کا سبب بن گئیں۔

تاہم اوپن ایرا سے قبل جب یہ ایونٹ صرف یو ایس چیمپیئن شپ تھی تو جب 1949 ء میں پینچو گونزالز نے فائنل میں ٹیڈ شروڈر کو 2 سیٹ سے خسارے میں جانے کے باوجود کامیابی حاصل کی تھی لیکن یوایس اوپن ایرا میں ایسی کوئی مثال نہیں تھی۔ زیوریف نے یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں اپنے ہسپانوی حریف پابلو سرینو بسٹا کے خلاف کامیابی بھی اسی طرح 2 ابتدائی سیٹ ہارنے کے بعد حاصل کی تھی جو اس کے کیریئر کا پہلا واقعہ تھا۔

یو ایس اوپن فائنل سے قبل چاروں گرینڈ سلیم اوپن ٹورنامنٹس کی تاریخ میں سے صرف 4 مرتبہ فائنل میچ ابتدائی 2 سیٹ ہارنے والے کھلاڑیوں نے اپنے نام کیے اور یہ چاروں فائنل میچ فرنچ اوپن ٹینس چیمپئن شپ کے ہیں۔ ایسا پہلی بار سن 1974 میں ہوا جب سویڈن کے کلے کورٹ کے ماہر کھلاڑی بیجورن بورگ اسپین کے مینوئل اورنٹیز کورل کے ہاتھوں فائنل میچ کے پہلے 2 سیٹ ہار گئے تھے اور پھر انہوں نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے باقی 3 سیٹ جیت کر اپنے کیریئر کا پہلا فرنچ اوپن ٹائٹل جیتا تھا جو ان کا پہلا گرینڈ سلیم اعزاز بھی تھا۔ اس وقت بورگ کی عمر 18 سال سے کم تھی۔ سن 1984 میں چیکوسلواکیہ کے ایوان لینڈل نے فرانچ اوپن فائنل میں پہلے 2 سیٹ کے خسارے کے بعد باقی 3 سیٹ جیت کر امریکا کے جان میکنرو کو زیر کیا تھا۔ سن 1999 کے فرنچ اوپن فائنل میں امریکا کے آندرے اگاسی نے روس کے آندرے میڈیڈیف کے خلاف ابتدائی 2 سیٹ گنوانے کے بعد باقی تین سیٹ جیت کر کامیابی حاصل کی تھی۔ سن 2004 میں ارجنٹینا کے گسٹن گاڈیو اپنے ہموطن گولیرمو کوریا کےخلاف ابتدائی 2 سیٹ ہارنے کے بعد باقی 3 سیٹ جیت کر فائنل کے فاتح قرار پائے تھے اور اس میچ میں بھی آخری سیٹ کا فیصلہ ٹائی بریکر پر ہوا تھا۔

ڈومینک تھیم اور الیگزینڈر زیوریف دونوں بہترین دوست ہیں اور سن 2014 میں پہلے رابطے کے بعد ان کی دوستی پروان چڑھی۔ دونوں کورٹ سے باہر فارغ وقت ساتھ گزارتے اور ایک دوسرے سے صلاح مشورے کرتے ہیں لیکن جب وہ کورٹ میں آمنے سامنے ہوں تو سخت جاں حریف ثابت ہوتے ہیں۔ سینیئر اور زیادہ تجربہ کار ہونے کی وجہ سے باہمی مقابلوں میں ڈومینک تھیم کو بالادستی حاصل ہے۔ یوایس اوپن جیتنے کے ساتھ ڈومینک تھیم کے ٹائٹلز کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔ اس فتح  سے ڈومینک تھیم کو تین ملین ڈالر اور رنرز اپ جرمن اسٹار زیوریف کو ڈیڑھ ملین ڈالر کی انعامی رقم ملی۔ زیوریف گزشتہ 10 برسوں میں کوئی بھی گرینڈ سلیم فائنل کھیلنے والا سب سے کم عمر کھلاڑی ہے۔

سن 2003 کی ومبلڈن چیمپئن شپ کے بعد یوایس اوپن میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سیمی فائنل میں چاروں ایسے کھلاڑیوں نے رسائی کی جنہوں نے کوئی گرینڈ سلیم نہیں جیتا تھا۔ سن 2003  کی ومبلڈن چیمپئن شپ میں سیمی فائنل میں پہنچنے والوں میں سوئیزرلینڈ کے راجرفیڈرر آسٹریلیا کے مارک فلپوسس، فرانس کے سباستین گروسژاں اور امریکہ کے اینڈی روڈک شامل تھے۔ ان میں سے کسی نے بھی گرینڈ سلیم نہیں جیتا تھا۔ ومبلڈن فائنل میں  فیڈرر نے فلپوسس کو سخت مقابلے بعد شکست دے کر اپنے کیریئرکا پہلا گرینڈ سلیم جیتا تھا اور اب وہ سب سے زیادہ 20 گرینڈ سلیم اعزازات جیتنے والے لیجنڈ ہیں۔

ڈومینک تھیم سن 2016 کے بعد راجر فیڈرر، رافیل نڈال اور نواک جوکووچ کے سوا کوئی گرینڈ سلام اعزاز جیتنے والا پہلا نیا کھلاڑی ہے۔ سن 2016 میں سوئیزرلینڈ کے سٹینسیلاس واورنکا نے قائنل میں نواک جوکووچ کو ہرا کر یوایس اوپن کا اعزاز جیتا تھا جو ان کا تیسرا اور آخری گرینڈ سلام ٹائٹل تھا۔

واورنکا سن 2014 میں آسٹریلین اور سن 2015 میں فرنچ اوپن کے اعزازت بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔ سن 2014  کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ یو ایس اوپن سے  دنیا کو نیا گرینڈ سلیم چیمپئن ملا ہے۔ سن 2014 میں کروشیا کے میرین سلچ نے یو ایس اوپن کے فائنل میں جاپان کے کی نشیکوری کو ہرا کر اپنا پہلا گرینڈ سلیم جیتا تھا۔ وہ صرف ایک بار ہی گرینڈ سلیم  ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچے تھے۔ راجر فیڈرر، نڈال اور جوکووچ کے سوا گزشتہ 17 برسوں میں یو ایس اوپن کو پانچواں نیا چیمپئن ملا ہے۔ سن 2009 میں مارٹن ڈل پیٹرو، میں اینڈی مرے، سن 2014 میں میرین سلچ اور سن 2016 میں واورنکا یوایس اوپن فاتح تھے۔ سن 2004 سے سن 2008 تک راجر فیڈرر، 2010,2013,2017,2019 میں رافیل نڈال اور 2011,2015, 2018 میں نواک جوکووچ نے یہ ٹائٹل اپنے نام کیے تھے۔

ٹینس لیجنڈ راجر فیڈرر اور یو ایس اوپن دفاعی چیمپئن رافیل نڈال کی یوایس اوپن میں عدم شرکت اور عالمی نمبر 1 نواک جوکووچ کی ڈرامائی انداز میں ڈس کوالیفیکیشن سے ڈومینک تھیم کو ممکنہ چیمپئن قرار دیا جا رہا تھا کیونکہ کارکردگی کے اعنبار سے وہ ٹورنامنٹ میں باقی وہ جانے والے کھلاڑیوں پربالادست تھے۔ ویسے بھی یوایس اوپن اعزاز سے قبل آسٹرین ٹینس اسٹار کو 3 گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کے فائنلز میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ انہیں سن 2020 کے آسٹریلین اوپن فائنل میں دفاعی چیمپیئن نواک جوکووچ نے 5 سیٹ کے سخت مقابلے کے بعد شکست سے دو چار کیا تھا۔ جبکہ سن 2018 کے فرنچ اوپن کے فائنل میں کلے کورٹ لیجنڈ راقیل نڈال نے 3 سیٹ میں شکست دے دی تھی اور اگلے سال یعنی سن 2019 کے فرنچ اوپن فائنل میں بھی رافیل نڈال ان کے گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کی راہ میں حائل ہوئے اور تھیم چارسیٹ کے مقابلے میں ہمت ہار گئے۔ اس طرح وہ مسلسل 3 سال سے کسی نہ کسی گرینڈ سلیم ایونٹ کے فائنل میں رسائی کر رہے ہیں۔ گراس کورٹ پر ان کی کارکردگی کوئی زیادہ بہتر نہیں ہے۔ گراس کورٹ پرکھیلے جانے والے ومبلڈن اوپن ٹینس چیمپئن شپ میں ڈومینک تھیم کی بہترین کارکردگی سن 2017 میں چوتھے راؤنڈ تک رسائی تھی جہاں جمہوریہ چیک کے ٹوماس برڈچ نے تھیم کو ہرادیا تھا۔

 ڈومینک تھیم کا کہنا ہے کہ میں نے یہ ٹرافی جیت کر اپنی زندگی کی منزل حاصل کر لی ہے۔ چاروں میں سے کوئی بھی گرینڈ سلیم جیتنا میرا خواب تھا۔ میں 3 بار اپنے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں ناکام رہا تھا لیکن اس بار اپنے قریبی اور جگری دوست کے خلاف انتہائی سخت اور جاں گسل مقابلے کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ آخری سیٹ میں ٹائی بریکر پر صورتحال یہ تھی کہ میچ کسی کے حق میں بھی جا سکتا تھا۔ تھیم بہت پریشان تھا کہ بگ تھری کی عدم موجودگی میں  اس کا یہ گولڈن چانس ضائع ہو گیا تو پھر ایسا موقع ملنے میں وقت لگے گا کیونکہ زیوریف بھی ٹائٹل جیتنے کیلئے جان لگا رہا تھا۔ تاہم آسٹرین کھلاڑی نے  اپنے ہوش و حواس کو قابو میں رکھا اور 4 گھنٹے کی طویل اور تھکا دینے والی جدوجہد نے فتح اس کا مقدر بن گئی۔

ڈومینک تھیم کا مزید کہنا تھا کہ یہ فائنل ایک سے زائد چیمپئن کا مستحق تھا۔ ٹرافیاں حاصل کرنے کے بعد دونوں دوست گلے ملے اور ایک دوسرے کومبارکباد دی۔ زیوریف کا کہنا تا کہ اسے فائنل ہارنے پر افسوس ہے لیکن یہ میرا آخری چانس نہیں تھا مجھے یقین ہے کہ ایک دن گرینڈ سلیم چیمپئن ضرور بنوں گا۔

تھامس مسٹر کے بعد ڈومینک تھیم گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے والا دوسرا آسٹرین کھلاڑی ہے۔ سن 1995 میں سابق عالمی نمبر 1 تھامس مسٹر نے فرنچ اوپن کے فائنل میں مائیکل چانگ کو شکست دی تھی۔ تھامس مسٹر کلے کورٹ کے ماہر کھلاڑی تھے اور وہ عالمی نمبر 1کی پوزیشن پر بھی فائز رہے۔ اس کے برعکس ڈومینک تھیم ہر طرح کے ٹینس کورٹ پر کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں اور وہ ٹینس سرکٹ میں تمام کورٹس پر اچھے کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ٹینس کے 3 بڑے ناموں فیڈرر، رافیل نڈال اور جوکووچ کے بعد ٹینس کے افق پر ڈومینک تھیم کا نام ہی جگمگاتا دکھائی دے گا۔

ڈومینک تھیم کے پاس  سال رواں میں گرینڈ سلیم اعزاز جیتنے کا ایک اور موقع ہو گا کیونکہ پیرس کی کلے کورٹ پر کھیلے جانے والی فرنچ اوپن ٹینس چیمپئن شپ کو کرونا وائرس کی وجہ سے ری شیڈول کر دیا گیا ہے۔ اور اگلے ہفتے اس کے ڈراز کا اعلان کردیا جائے گا۔

ٹورنامنٹ میں شائقین کو میچ دیکھنے کی اجازت دی جائے گی جس کی وجہ سے زیادہ جوش و خروش ہو گا۔ اس بار بھی رافیل نڈال دفاعی چیمپئن ہیں۔ یہ ان کا فیورٹ ٹورنامنٹ ہے اور وہ ریکارڈ 12 فرنچ اوپن ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہیں جبکہ ان کے گرینڈ سلیم اعزازات کی مجموعی تعداد 19 ہے۔ وہ 7 ماہ بعد ٹینس مقابلوں میں شرکت کریں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube