Thursday, October 22, 2020  | 4 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

جنسی تشدد: کیا ہم کچھ بھول رہے ہیں؟

SAMAA | - Posted: Sep 15, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 15, 2020 | Last Updated: 1 month ago

Violence

الانا کا تعلق امریکا کی ریاست کیلیفورنیا سے ہے۔ ان کا پورا نام الاناواگیانوس ہے۔ وہ ایک فیمینسٹ ہیں۔ وہ خواتین کے حقوق، ان کے اختیارات، تحفظ، مساوات اور معیشت میں ان کے مثبت کردار کی علمبردار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک صحافی بھی ہیں اور ہفنگٹن پوسٹ میں سیاست اور معاشرے میں پیش آنے والے جنسی مسائل پر لکھتی ہیں۔ 6 اپریل 2017 کو ان کی ایک رپورٹ شائع ہوتی ہے جس کا عنوان ہے: ’’30 ایسے پریشان کن اعداد و شمار جو امریکا میں جنسی تشدد کی اصل حقیقت کو واضح کرتے ہیں‘‘۔ اس رپورٹ میں وہ بتاتی ہیں کہ امریکا میں 1998 سے لے کر 2017 تک کے درمیان 20 سال کے عرصہ میں 1 کروڑ 77لاکھ خواتین ریپ یعنی زناء بالجبر کا شکار ہوئی ہیں۔ جس کا مطلب ہوا کہ ہر دن اوسطاً   2425 خواتین اس کا نشانہ بنی ہیں یعنی ہر 35 سیکنڈ کے بعد ایک عورت کا ریپ ہوا ہے۔ ان جنسی زیادتیاں کرنے والے لوگوں میں سے صرف ایک فیصد کو سزا ہوئی جبکہ باقی چلتے بنے اور جن خواتین کے ساتھ یہ ہوا ان میں سے 13 فیصد یعنی 23 لاکھ سے زیادہ خواتین نے خود کشی کر لی۔

میں یہاں پر اعداد و شمار کے انبار لگا کر آپ کو زچ نہیں کرنا چاہوں گا بلکہ اصل بات کی طرف آؤں گا کیونکہ مغربی معاشروں بالخصوص امریکا اور یورپ سے متعلق اس قسم کے اعداد و شمار کے بارے میں اکثر لوگ آگاہ ہیں۔ جو بات اس رپورٹ میں اہم ہے وہ الانا کی جانب سے ان کے معاشروں میں اس قسم کے جنسی جرائم کی وجہ کی تشخیص ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’جنسی تشدد ہماری ثقافت میں راسخ ہو چکا ہے‘‘ اور ’’یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی جڑ ہماری ثقافت میں بہت گہری ہے‘‘۔ ان کے مطابق ایسا ’’معروف ٹی وی شوز میں اس قسم کے مناظر کو عام کرنے اور لباس کے ایسے  ضوابط جو جنس پرستی پر مبنی ہوں‘‘ اور ان جیسی دیگر وجوہات کی بنیاد پر ہوا ہے۔

اسی طرح امریکی ریاست میشیگن کے ایک ہائی اسکول کے پرنسپل جم بیزن کی ایک پوسٹ 29 اکتوبر 2015 میں ایم لائیو ڈاٹ کام پر اس عنوان کے ساتھ شائع ہوئی کہ ’’لباس کے ضوابط بچیوں کو جنسی اشیاء بننے سے روکتے ہیں‘‘ جس میں وہ  وضاحت کرتے ہیں کہ اسکول اور کالجوں میں لباس کے ضوابط  اس لئے ضروری ہیں کہ وہ عورتیں جو عزت کا لباس  اوڑھتی ہیں انہیں لوگ ایک جنسی شےء کے طور پر دیکھنے کی بجائے اس نظر سے دیکھتے ہیں جو ان کی اصل پہچان ہے‘‘۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ لباس کے ضوابط کی ایسی پالیسی جس میں عورتوں سے کہا جائے کہ جو مرضی چاہے پہنو اور ساتھ ہی مردوں سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ ان سے اپنی نظریں پھیری رکھیں گے، ایسا ہی ہے جیسے ’’بارش میں چلنا لیکن اس امید کے ساتھ کہ آپ بھیگنے سے بچ جائیں گے‘‘۔ پھر لکھتے ہیں کہ ’’(اسکول میں) خواتین طلبہ سے معتدل  لباس استعمال کرنے کا تقاضا کر کے ہم ان کو سزا نہیں دے رہے۔ ہم ان کی حفاظت کر رہے ہیں!‘‘ لیکن مغرب میں ایسی آوازیں بہت کم ہیں۔ اس پوسٹ کے بعد مغرب میں ایک ’’ڈریس کوڈ ڈیبیٹ‘‘ چل پڑتی ہے جس میں ’’حقوق نسواں‘‘، ’’جنسی مساوات‘‘ اور ’’آزادیوں‘‘ کے علمبردار بہت سے لوگ بالخصوص فیمنسٹ خواتین اس موقف سے مکمل اختلاف کرتی ہیں۔

مغربی تہذیب کی جڑوں میں جنسی تشدد کے یوں راسخ ہو جانے کی وجہ ان کا زندگی گزارنے سے متعلق وہ نظریہ ہے جسے انہوں نے مذہب سے علیحدگی کے نتیجہ میں قبول کیا ہے۔ چونکہ پاپائیت کا نظام ان کے استحصال کا باعث بن رہا تھا اور ان کی مادی ترقی میں بھی رکاوٹ تھا تو اس سے چھٹکارا حاصل کر کے انہوں نے مذہب کے کاروبار زندگی سے علیحدگی کے فلسفے یعنی سیکیولرزم کو گلے لگا لیا جس کا پرچار برطانیہ میں جان لاک، فرانس میں روسو اور والٹیئر، اور امریکہ میں بنجمن فرانکلن اور ان جیسے دیگر مفکرین کر رہے تھے۔ چونکہ مذہب کو اب ان کے اجتماعی معاملات میں  رائے دینے کا اختیار نہیں تھا، لہٰذا وہ آزاد تھے کہ جس بھی معاملہ میں جو مرضی رائے چاہے اپنا لیں۔ چونکہ مذہب انسان پر چند حدود و قیود عائد کرتا ہے اور پاپائیت نے اسی بات کا نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کا استحصال کیا، تو اس مذہبی فکر کی ضد میں اب آزادیوں کی فکر سب سے زیادہ مقدس ٹھہری۔ یہی وہ فکر ہے جس کو مغرب میں اصل الاصول کے طور پر مانا جاتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں کوئی رائے قائم کرنے کا معاملہ ہو یا کسی بھی مسٔلہ پر کسی قسم کی قانون سازی درکار ہو تو اس سب کے لئے اسی فکر کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ شخصی آزادی یعنی پرسنل فریڈم اسی فکر کا ہی ایک شاخسانہ ہے جس کے مطابق کوئی شخص جو بھی عمل کرے وہ اس کا حق ہے سوائے اس کے کہ اس عمل سے کسی اور کی آزادی کو زک نہ پہنچتی ہو۔ لہٰذا ایک شخص جو مرضی کھائے پیئے، جو مرضی پہنے اوڑھے یا کچھ نہ بھی پہنے اوڑھے اور جو مرضی افعال انجام دے، وہ سب ٹھیک ہیں جب تک کہ کسی اور کی آزادی اس کے اس فعل سے بلا واسطہ طور پر سلب نہ ہوتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جنس پرستی کے علاوہ جانوروں کے ساتھ یہاں تک کہ اپنے مقدس رشتوں کے ساتھ جنسی افعال بھی ان کے ہاں آزادیوں کی اسی فکر کے تحت ان کا بنیادی حق ہونے کے باعث اصولی طور پر درست ٹھہرتے ہیں۔ ہمارے آقا رسول اللہ ﷺ نے یقیناً درست فرمایا تھا کہ ’’جب حیاء نہ رہے تو جو مرضی چاہے کرو‘‘۔ مغرب نے حیاء کے تصور کو دفن کرنے کے بعد پھر جو چاہا کیا، اس سے قطع نظر کہ یہ افعال بذات خود کس قدر قبیح ہیں۔

شخصی آزادی ہی کے نتیجہ میں مغرب میں عورت کا ایک جنسی شےء کے طور پر شدید استحصال ہوا۔ لہٰذا گاڑی بیچنی ہو یا موٹر سائیکل، اپارٹمنٹ بیچنا ہو یا کچھ اور، عورت کو ایسے روپ میں لا کھڑا کیا گیا جو دیکھنے والوں کی توجہ کا باعث بنے تاکہ ان کی پروڈکس کی فروخت کو بڑھایا جا سکے۔ دولت کے حصول کے لئے اس سے بڑھ کر عورت کی جسم فروشی اور کیا ہو سکتی ہے! لیکن ایک مغرب زدہ عورت نے اس ذلت کو دل سے قبول کر لیا۔ عورت کا یہ استحصال کاسمیٹکس اور ملبوسات کی مختلف قسم کی مصنوعات کی تشہیر میں مزید کھل کر نمایاں ہو جاتا ہے۔

عورت کے استحصال پر مبنی مغرب کی یہی تہذیب ہمارے یہاں بھی در آئی ہے۔ ہمارے میڈیا پر اشتہار ہوں یا ڈرامے عورت کی طرح طرح سے جسم فروشی کی جاتی ہے۔ پھر صرف یہی نہیں بلکہ ڈراموں میں میاں بیوی کے شادی کے علاوہ غیر مرد و عورت کے ساتھ  افئیر دکھائے جاتے ہیں۔ غیر شادی شدہ مرد اور عورتوں کے گرل اور بوائے فرینڈز ہونا تو اب اتنا مسلم ہو چکا ہے کہ اس سے تواب کوئی اختلاف ممکن ہی نہیں رہا۔ پھر دیور کا بھابھی کے ساتھ افیئر، یہاں تک کہ سسر اور بہو کے مقدس رشتے کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ کیا یہ مغرب کی اسی تعفن زدہ تہذیب کی تقلید نہیں جو کہ خود بھی مکمل بربادی کے دھانے پر کھڑی ہے؟ ایسے میں ان کے معاشروں کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی جنسی جرائم کے واقعات میں اضافہ نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا؟

اور ایسا صرف پاکستان ہی میں نہیں ہوا ہے۔ بھارت نے مغربی تہذیب کی تقلید میں جتنی تیزی دکھائی ہے، اتنی ہی تیزی سے اس کے یہاں بھی اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں بھارت کے دار الحکومت دہلی میں ایک 86 سالہ ضعیف عورت کے ساتھ ریپ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ جس شخص نے یہ غیر انسانی کام کیا وہ 30 سال کی عمر کی دہائی میں تھا اور اس بوڑھی عورت سے 50 سال سے بھی زیادہ چھوٹا تھا۔ پھر چند دن پہلے ہی بھارت میں ایمبولینس ڈرائیور نے 19 سالہ کرونا وائرس کی مریضہ کو اسپتال لے جاتے ہوئے رستے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اگرچہ  بھارت نے جنسی تشدد سے متعلق قوانین کو 2012 کے واقعے کے بعد مزید سخت کر دیا تھا، وہ واقعہ کہ جس میں بس ڈرائیور اور چند لوگوں نے مل کر چلتی بس میں ایک میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کر کے اسے قتل کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود بھارت میں بھی اس قسم کے واقعات میں کمی نہیں آ سکی ہے۔ 23 اپریل 2018 کو 6 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے اور اس دوران اس کی آنکھوں کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے تا کہ وہ مجرم کو پہچان نہ سکے۔ 16 اگست 2018 کو ایک 13 سالہ بچی کے ساتھ جنسی تشدد کر کے اسے قتل کر دیا جاتا ہے اور اس دوران اس کی آنکھیں نکال دی جاتی ہیں اور اس کی زبان کاٹ دی جاتی ہے تا کہ وہ دیکھ نہ سکے اور شور شرابا نہ کر سکے۔ ان واقعات کو بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے۔ یہاں تک کہ دہلی میں ریپ کے واقعات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ مودی کو 2014 میں اس مسٔلہ کو باقاعدہ اپنی الیکشن مہم کا حصہ بنانا پڑا۔ اس نے دہلی کو بھارت کے ’’ریپ کیپٹل‘‘ کا نام دیا۔ خود بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2017 میں ریپ کے کل 33ہزار سے زیادہ واقعات پولیس کے پاس درج ہوئے یعنی اوسطاً 92 واقعات ہر دن درج ہوئے جبکہ اصل واقعات اس سے بھی زیادہ ہیں۔ بی بی سی کی 7 اگست 2017 کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں صرف 2015 میں 10 ہزار بچوں کا ریپ کیا گیا یعنی ہر دن 27 بچوں کا، جو کہ خوفناک حد تک ایک بہت بڑا عدد ہے۔

یقیناً یہ ایک بہت بڑا مسٔلہ بن چکا ہے لیکن جو لوگ اس کے حل کے لئے بھی مغربی افکار کی طرف رجوع کرتے ہیں انہیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ مسٔلہ خود مغرب کی ’’شخصی آزادی‘‘ کی فکر سے پیدا ہوا ہے۔ اور اسی وجہ سے  مغرب خود بھی سب سے بڑھ کر اس مسٔلہ کا شکار ہے۔ ایسے میں اس مسٔلہ کا حل مغرب کی جانب سے بھلا کیسے آ سکتا ہے؟ ایک قوم جس آئیڈیولوجی کو درست سمجھتے ہوئے اپنے عقیدے کے طور پر اختیار کرتی ہے وہ زندگی گزارنے سے متعلق نظریہ بھی اسی آئیڈیولوجی سے اخذ کرتی ہے۔ مغرب نے چونکہ سیکیولرزم کو آئیڈیولوجی کے طور پر اختیار کیا  ہے تو ان کا زندگی بسر کرنے کا نظریہ بھی اسی آئیڈیولوجی سے آیا ہے اور یہ ’’آزادیوں‘‘ کا تصور ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے ہاں زندگی گزارنے کا نظریہ ان کی آئیڈیولوجی اسلام سے نکلتا ہے۔

اسلام کے تحت یہ مسلمانوں کی ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ معاشرے کے لئے ایسی تعلیمی پالیسی تشکیل دے جس کے تحت انسان کو اپنے اعمال میں مکمل طور پر آزاد قرار دیے جانے کی بجائے اسے یہ باور کرایا جائے کہ وہ اپنے ہر عمل کا ذمہ دار ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس نے اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے گئے احکامات ایک مسلمان کی پوری کی پوری زندگی کا اس طرح احاطہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہر ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انجام دیتا ہے۔ لہٰذا جس جس عمل سے اللہ تعالیٰ نے رکنے کا حکم دیا ہوتا ہے وہ اس سے رکتا ہے اور جس جس عمل کو کرنے کا حکم دیا ہوتا ہے اس کو وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔ یوں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول ہی اس کی زندگی کا اصل مقصد و محور قرار پاتا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے معاشرے میں مرد و زن کے آپسی تعلقات کو استوار کرنے کے حوالے سے تفصیلی ہدایات دی ہیں۔ محرم اور نامحرم کا تصور اور اس کے متعلقہ احکام اسی زمرہ میں آتے ہیں۔ کن رشتوں کے ساتھ کس قسم کا تعلق رکھا جا سکتا ہے اور کس قسم کا نہیں۔ پھر مرد و عورت کو معاشرے میں نکلتے وقت کن کن باتوں کا خیال رکھنا ہے۔ کس قسم کا لباس زیب تن کرنے کی اجازت ہے اور کس کی نہیں۔ اس قسم کے تعلیمی اور معاشرتی نظام کے نفاذ کے نتیجہ میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جس میں مرد و زن کے تعلقات اسلام کے اس تصور حیاء پر مبنی ہوتے ہیں۔ یوں اس معاشرے  میں برائی کی راہیں مسدود ہو کر رہ جاتی ہیں جس وجہ سے برائی کی طرف جانا نہایت مشکل ہوتا ہے جبکہ اچھائی کے بہت سے مواقع میسر ہوتے ہیں جن کو حاصل کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس سب کے باوجود بھی اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات سے سرکشی کرتا ہے، لوگوں کو دہشت زدہ کرتا ہے یا لوگوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کو نشانہ بناتا ہے تو ایسے میں اسلام کے عدالتی نظام کے تحت اللہ تعالیٰ کا کڑا قانون اس کا پہلے سے ہی منتظر ہوتا ہے۔ لہٰذا دین اسلام کے یکمشت اور ہماگیر نفاذ میں ہی اس مسٔلہ کا مکمل اور مستقل حل موجود ہے۔ اس میں مزید تاخیر نامعلوم کتنی اور معصوم جانوں کے قربان ہونے کا ذریعہ بنے گی۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الملک کی آیت نمبر 14 میں فرمایا ہے کہ ’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ (اس پر یہ کہ) وہ باریک بیں اور باخبر (بھی) ہے‘‘۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Ahmed  September 19, 2020 4:55 pm/ Reply

    بالکل درست بات، ہمارے یہاں یہ مسائل یقینا موجود ہیں لیکن مغرب میں یہ اس سے کئی زیادہ ہیں، اسی لیے اس کا حل مغرب میں نہیں مل سکتا.

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube