Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > بلاگز

ہماری سوچ پر تالا لگا ہے

SAMAA | - Posted: Sep 8, 2020 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 8, 2020 | Last Updated: 6 months ago
Virus Outbreak Pakistan

بشکریہ آن لائن

انسان کے بدن مادی میں نظام اعصاب کا مرکزی حصہ دماغ کہلاتا ہے، جس کو سوچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے، اس لیے کہ زیادہ سوچیں گے تو زیادہ پریشانی محسوس ہوگی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری سوچ پر تالا لگا ہے۔

اگر سوچیں، تو یہ ادراک ہوگا کہ چودہویں صدی میں پھیلنے والی عالمی وباء طاعون جس کو ’’کالی موت‘‘ بھی کہا گیا، یہ یورپ کی ایک تہائی آبادی کو نگل گیا تھی۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر ’’اسپینش فلو‘‘ نے جنم لیا تھا، جو برطانوی ہند کے سپاہيوں کو بھی لاحق ہوگیا۔ یہ فلو 2 کروڑ کے قریب افراد کو نگل کر چین سے بیٹھا نہیں بلکہ اندازے کے مطابق جنوری 1918 سے دسمبر 1920 کے درمیان 5 کروڑ لوگوں کو اپنا رزق بنا چکا تھا۔ لیکن ہم نے ماضی سے سبق حاصل کرنے بعد بھی کبھی سوچا ہی نہیں کہ یہ کرونا وائرس کتنی جانیں لے سکتا ہے۔

لیکن پھر وہی بات آگئی کہ ہماری سوچ پر تو تالا لگا ہے، جب ہی ہم سوچتے نہیں ہیں۔ جہاں ایک پَل کا بھی علم نہیں کہ کیا ہوگا، نہ جانے کب موت ہم سے مزاج پوچھ کر جسم سے چمٹ جائے گی، یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ مگر جہاں ہمارا اپنا اسٹیٹس گرتا جا رہا ہے وہیں ہم فیس بُک پر اسٹیٹس اپڈیٹ کرکے آنکھوں سے آنسوں نکلتے چہرے ایک دوسرے کو بھیج کر پتہ نہیں ہم اپنی جبلت کی کونسی تسکین حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ روز بروز انسانیت کا احساس بھی وقت کے ساتھ اپنی موت آپ مرتا جارہا ہے۔

ہمارا پورا ملک بھی اضطراب اور کرب کی حالت میں مبتلا تھا لیکن اب کچھ حالات بہتر ہوئے ہیں۔ مگر ہمیں نہیں معلوم کہ آنے والا وقت کیا ہوگا؟ کیا ہم اس بیماری کو شکست دے پائیں گے؟ جن ممالک کی معیشت مضبوط تھیں، انہوں نے اس کو اپنی قوتِ ارادی اور مضبوط مدافعتی نظام سے شکست سے دوچار کیا ہے۔ لیکن ہم تو اپنی مدد آپ کرنے کی حالت میں بھی نہیں ہیں۔

جبکہ امریکا کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس نے دو ہزار ارب ڈالرز کا کرونا پیکچ کی منظوری دی تھی، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکچ تھا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 500 ڈالرز متاثرہ صنعتوں کے لیے مختص کیے تھے، جبکہ 290 ارب ڈالرز کی رقم خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی، یعنی 3 ہزار ڈالرز فی کس امریکی خاندان کے لیے رقم مختص کی گئی تھی۔ چنانچہ پاکستان کی صورتحال دیکھیں، تو وفاقی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فی کس 3 ہزار روپے، سندھ حکومت نے 6 ہزار اور پختونخوا حکومت نے 5 ہزار روپے فی کس امدادی رقم کا اعلان کیا تھا۔ لیکن یہ رقم کس کو ملی یا نہیں ملی کچھ کہہ نہیں سکتے۔ بہر کیف یہ تو ہماری حکومت کی کارستانی تھی، جو ہمیشہ ایسی رہے گی۔

لیکن جو ہماری سوچ پر تالا لگا ہے، اسے توڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ دنیا کے کئی ممالک بشمول اٹلی، فرانس، اسپین اور امریکا کس قرب و اذیت میں مبتلا تھے، اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔ جہاں ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں سے بھی تجاوز کرچکی تھی۔ ہر انسان دوسرے انسان سے خوف کھا رہا تھا کہ مرنے کے بعد غسل، کفن کچھ نہیں دیا جائے گا بلکہ جراثیم کش اسپرے کرکے پلاسٹک میں پیک کرکے پولیس کی نگرانی میں دفن کر دیا جائے گا۔ صرف ایک نام یاد رکھنے کے لیے کافی ہوگا کہ وہ فلاں نمبر کا مردہ تھا۔

لیکن اب حالات بہتر ہوگئے ہیں، زندگی اپنے معمول پر آرہی ہے۔ ہمیں ساتھ ہی ساتھ یہ وبا عقل کے ناخن بھی دے گئی ہے کہ کم از کم صفائی کا خیال کریں، جو ہم پہلے نہیں کرتے تھے۔ جب جان پر پڑی تو ہم سب متحرک ہوگئے۔ اب ہاتھ جوڑ کر گزارش ہی کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ کوئی راستہ ہی نظر نہیں آتا ہے سوائے اپنی سوچ پر لگا تالا کھولیں۔ کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کر دیا ہے کہ تمام ممالک اس وائرس کی حقیقت کا ادارک کرلیں کیونکہ کرونا وائرس کے اثرات کافی وقت تک قائم رہیں گے۔ لیکن اس پر ہم حفاظتی تدابير اختیار کرکے قابو پاسکتے ہیں۔

لہٰذا اب بھی وقت ہے، ہم درست راہ کی جانب متوجہ ہوجائیں۔ کیونکہ کوئی فرد دودھ کا دھلا نہیں ہے، سب گناہ گار ہیں، تو براہ کرم سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ’’کِی بورڈ‘‘ کو تھام کر ایک دوسرے کے خلاف بے ہودہ گوئی، مذاق، مذہبی مغلظات، ناشائستہ گفتگو کرکے اپنے رب کے غضب کو مزید آواز دینے کے بجائے، درست سمت کا تعین کر لیجیئے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube