Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

کیا ساؤتھمپٹن ٹیسٹ بارش کی نذر ہوجائے گا؟

SAMAA | - Posted: Aug 12, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 12, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Southampton

فوٹو: اے ایف پی

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین دوسرا ٹیسٹ میچ جمعرات 13 اگست سے روز باؤل اسٹیڈیم ساؤتھمپٹن میں شروع ہو رہا ہے۔ میزبان انگلش کرکٹ ٹیم تین ٹیسٹ میچز کی اس سیریز میں 1-0 کی برتری کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے اور اس حوالے سے اسے پاکستان پر نفسیاتی برتری حاصل ہے۔

اظہر علی کی زیر قیادت پاکستانی کرکٹ ٹیم اس ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی اور اٹیکنگ کھیل کا مظاہرہ کر کے کم بیک کر سکتی ہے کیونکہ سیریز کے باقی ماندہ د ٹیسٹ میچز میں میزبان جو روٹ الیون کو اہم ترین کھلاڑی بین اسٹوکس کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی وہ اپنی خاندانی مصروفیات کی وجہ سے نیوزی لینڈ چلے گئے ہیں جہاں ان کے والدین رہائش پذیر ہیں۔ بین اسٹوکس دور حاضر کے بے مثال آل راونڈر ہیں جنہوں نے کئی مرتبہ انگلینڈ کی ڈوبتی کشتی کو تن تنہا پار لگانےکا کارنامہ انجام دیا۔ پاکستان کے خلاف مانچسٹر ٹیسٹ میں وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے تھے اور ان کی غیر موجودگی پاکستان کیلئے ایک ایڈوانٹیج ضرور ہے۔ یہ وہی گراؤنڈ ہے جہاں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو گزشتہ ماہ شکست سے دوچار کیا تھا اورپاکستان کے پاس ویسٹ انڈیز جیسی فاتحانہ کارکردگی دہرانے کا سنہری موقع ہے۔

روز باؤل اسٹیڈیم ساؤتھمپٹن ہمپشائر میں واقع ہے اور اس گراؤنڈ پر پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں پہلی بار ایک دوسرے کے سامنے آ رہی ہیں۔ اس اسٹیڈیم پر پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں حصہ لیا ہے۔ اس لیے یہ گراؤنڈ پاکستانی کرکٹرز کیلئے اجنبی نہیں ہے پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 2019 کے دورہ انگلینڈ میں یہاں ون ڈے میچ کھیلا تھا جس میں میزبان انگلینڈ فاتح رہا تھا۔ روز باؤل اسٹیڈیم میں ویسے بھی بہت زیادہ ٹیسٹ میچز نہیں کھیلے گئے ہیں۔ بائیو ببل سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے ایک ماہ میں یہ گراؤنڈ دوسری مرتبہ ٹیسٹ کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس گراؤنڈ کو ٹیسٹ سینٹر کا درجہ 16 جون 2011 کو ملا تھا جب میزبان انگلینڈ اور سری لنکا نے یہاں ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ یہ ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگیا تھا۔ اس ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے ای ین بیل اور سری لنکا کے کپتان سنگا کارا نے 119، 119 رنز کی اننگز کھیلی تھیں۔ 9 سال کے عرصے میں اس گراؤنڈ پر مجموعی طور پر چار ٹیسٹ میچ کھیلے گئے ہیں جن میں سے انگلینڈ دو میں فاتح رہا اور ایک میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک میچ برابری پر منتج ہوا تھا۔ انگلینڈ نے دو ٹیسٹ میچز میں بھارت کو زیر کیا۔ میزبان انگلش ٹیم نے جولائی 2014 ء میں بھارت کو266 رنز سے ہرایا جبکہ اگست 2018 میں بھارت کو 60 رنز سے زیر کیا تھا۔ جولائی 2020 ء میں ویسٹ اڈیز میزبان ملک کے خلاف چار وکٹوں کے مارجن سے فتح یاب ہوا تھا۔

اس گراؤنڈ کو 31 ون ڈے میچز کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے جس میں ورلڈ کپ کے کچھ میچ بھی شامل ہیں۔ روز باؤل اسٹیڈیم میں پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے مابین 10 جولائی 2003 کو ہوا تھا جو جنوبی افریقہ نے سات وکٹوں سے جیت لیا تھا۔ پاکستان نے چار ون ڈے کھیلے۔ پاکستان صرف ایک ون ڈے جیت سکا باقی تین انگلینڈ کے نام رہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے مابین پہلا ون ڈے کھیلا گیا تھا جو پاکستان نے جیت لیا تھا اس کے بعد ہونے والے تینوں ون ڈے میچز میں پاکستان کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

Southampton

فوٹو: اے ایف پی

ساؤتھمپٹن کے اس اسٹیڈیم کو کرونا وائرس کوویڈ 19 کے پھیلاؤ کے بعد دنیائے کرکٹ کی بحالی کیلئے بائیو ببل سیکیورٹی انتظامات میں اولین ٹیسٹ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے۔ کرونا پھیلاؤ کی وجہ سے دنیا بھر میں کرکٹ کی سرگرمیاں تقریبا 6 ماہ تک معطل رہی تھیں اور پھر ویسٹ انڈین کر کٹ ٹیم نے گزشتہ ماہ جیسن ہولڈر کی قیادت میں انگلینڈ کا دورہ کر کے کرکٹ کی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کیا۔ گو اس دورے میں ویسٹ انڈیز کے کئی بہترین کھلاڑیوں نے کرونا کے خطرات کی وجہ سے انگلینڈ کے دورے سے انکار کر دیا تھا اس کے باوجود ویسٹ انڈیز نے روز باؤل کرکٹ اسٹیڈیم ساؤتھمپٹن میں کھیلے جانے والے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں میزبان انگلینڈ کو زیر کر لیا تھا۔ یہ ٹیسٹ میچ نئے رولز کے تحت کھیلا گیا تھا جس میں کھلاڑیوں کو گیند پر تھوک لگانے اور آپس میں ہاتھ ملانے کی اجازت نہیں تھی۔ نہ ہی کوئی کھلاڑی بائیو ببل سیکیورٹی حصار سے باہر جاسکتا ہے۔ برطانوی فاسٹ بولر جوفرا آرچر نے بائیوببل سیکیورٹی رولز کی خلاف ورزی کی تھی تو انہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔ میچ کھیلنے والے تمام ممکنہ کھلاڑیوں کو لازمی طور پر سیکیورٹی حصار کے اندر رہنا پڑتا ہے۔

اس گراؤنڈ پر ٹیسٹ اننگز میں سب سے زیادہ 569 رنز انگلینڈ کے 2014 میں بھارت کے خلاف بنائے تھے جو ریکارڈ ہے۔ جبکہ اننگز کا سب سے کم اسکور بھی اسی ٹیسٹ میں بنا تھا جب بھارتی کرکٹ ٹیم صرف 176 رنز پڑ ڈھیر ہوگئی تھی۔ اسی ٹیسٹ میچ میں سب سے بڑی اننگز انگلش بیٹسمین ای ین بیل نے 167 رنزکی کھیلی تھی۔ ایک اننگز میں بہترین بولنگ کا اعزاز ویسٹ انڈین کپتان جیسن ہولڈر کو حاصل ہے جنہوں نے حالیہ ٹیسٹ میں 42 رنز کے عوض 6 انگلش بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا تھا۔ اسی میچ میں ویسٹ انڈین فاسٹ بولر شینن گیبریل نے کی جنہوں نے میچ میں 137 رنز دے کر 9 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی اور مین آف دی میچ رہے تھے۔ اس گراؤنڈ پر انگلش آل راونڈر معین علی نے دو ٹیسٹ میچز میں سب سے زیادہ 17 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور بھارت کے خلاف دونوں فتوحات میں انکا کردار کلیدی تھا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین دوسرے ٹیسٹ میچ میں پہلے روز سے ہی شدید بارش اور طوفان کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ  بارش میچ کے دوران وقفے وقفے سے ہوتی رہے گی جس سے اس کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ شاید پہلے دن کھیل ہی نہ ہونے پائے اور باقی 4 دنوں میں بھی کھیل بارش کی وجہ سے متاثر ہوگا۔ انگلینڈ کے کپتان روٹ کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ اس ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کر کے مسلسل دوسری سیریز کو اپنے نام کریں۔ انگلش سر زمین پر 2000 کے بعد دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان چار مرتبہ شکست سے دو چار ہوا اور صرف ایک بار جیتا ہے۔ اس گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے چار ٹیسٹ میچز میں اسپنرز کی کارکردگی فاسٹ بولرز کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔ دیکھنا ہے کہ پاکستان اپنے دونوں اسپنرز کو ٹیم میں برقرار رکھتا ہے یا جیسا کہ شاداب خان کو ڈراپ کرنے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ یہ ٹیسٹ میچ دونوں ٹیموں کیلئے اہمیت کا حامل ہے تاہم ان دونوں کا مقابلہ بارش سے بھی ہے۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

  1. Uk  August 13, 2020 8:22 am/ Reply

    You have write nothing regarding . Rain

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube