Sunday, September 27, 2020  | 8 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

چین اور ایران معاہدہ: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

SAMAA | - Posted: Aug 6, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 6, 2020 | Last Updated: 2 months ago
Iran China

فوٹو: اے ایف پی

چین اور ایران کے درمیان طے ہونے والا معاہدہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے شی جن پنگ کی قیادت میں چین اس خطے میں اور خصوصاً مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا کہ چین کی نظریں صرف ان ممالک پر ہیں جہاں سے امریکا یا تو جا رہا ہے یا پھر وہاں ’’انکل سیم‘‘ کی دلچسپی کم ہوچکی ہے۔ لیکن چین کے لئے ان علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ بھارت کے لئے ایک بات یہ تشویش کا باعث ہوسکتی ہے کہ چین پاکستان اور ایران کے درمیان اختلافات کم کروا دے گا اور شاید اس طرح سے نئی دہلی اور تہران کے درمیان بھی دوریاں بڑھ جائیں۔

خطے میں چین کے مقاصد

ایران اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت بیجنگ اگلے 25 سال کے دوران ایران میں 400ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ بڑا سرمایہ ایران کے مختلف سیکٹرز بشمول آئل و گیس، دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، سیاحت اور ٹیلی کام پر خرچ کیا جائے گا۔

دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ ’’دی پرنٹ‘‘ میں اپنے کالم میں لکھتی ہیں کہ چین اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ سی پیک سے تھوڑا اس لیے مختلف ہے کیونکہ اس معاہدے کے بعد عراق اور شام میں بھی ایران اور چین کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری کی بات کی جا رہی ہے جس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران سے اس بات کی توقع کی جائے گی کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے اپنے مقاصد کو تھوڑا نرم کرے کیونکہ چین سے اسرائیل کے آزاد مراسم ہیں۔

سی پیک اور ایران، چین معاہدہ

سی پیک ڈیل کی طرح ایران چین معاہدے میں بھی ایران کو وسطی ایشیا سے جوڑنے کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کے بعد چین کی پہنچ  میں یہ علاقے بھی ہونگے۔ ایران اور چین کے درمیان معاہدے کا مسودہ کوئی معاہدہ نہیں فی الحال ایک وژن لگتا ہے جو کہ 18 صفحوں پر مشتمل ہے جب کہ سی پیک کا اپنا ایک 234 صفحوں پر مشتمل ایک ایگزیکیوشن پلان ہے۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے مطابق دونوں منصوبوں میں ایک بات جو مشترک ہے وہ رازدای اور شفافیت کی کمی ہے۔ ان کے مطابق سی پیک کے ٹرمز و بزنس اور چین کی جانب سے پاکستانی حکومت کو دیے جانے والے قرضوں کی معلومات اب تک منظر عام پر نہیں لائی گئی ہیں۔

پاکستان میں سی پیک منصوبوں کو دیکھنے کے لئے ایک علیحدہ سی پیک اتھارٹی کا قیام ہوچکا ہے جس کی سربراہی جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کر رہے ہیں۔ یہ اتھارٹی آزادانہ طور پر کام کرے گی، ہوسکتا ہے اس اتھارٹی کے قیام کے پیچھے چین کی خواہش نہ ہو لیکن اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہونے سے فرق نہیں پڑے گا اور یہ جاری رہیں گے۔

عالمی پابندیوں کی وجہ سے ایران کو ابھی بیرونی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے اور اس کے لئے اسے پاکستان کی طرز پر ایک سیکیورٹی فورس تشکیل دینی پڑے گی جس کو چین کی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والے منصوبوں کی حفاظت پر تعینات کیا جاسکے۔ یہ بات بھی سننے میں آرہی ہے کہ چین 5 ہزار لوگوں پر مشتمل ایک فورس ایران کے اندر اپنے منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے معمورکرے گا۔ پاکستان میں بھی یہی ہوا تھا کہ چین کے دباؤ کی وجہ سے پاکستان کو 10 ہزار لوگوں پر مشتمل ایک فورس بنانی پڑی جس کا کام سی پیک کے منصوبوں اور ان پر کام کرنے والے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔

سی پیک اور ایران چین معاہدے میں ایک بات مشترک یہ بھی ہے کہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ چین اپنا پیسہ ان ممالک پر لگا رہا ہے جو اس وقت معاشی بحران کا شکار ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی معیشت کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

ایران میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ایران کے اپنے اوپر بھی منحصر ہے، یہاں یہ بھی سوچا جا رہا ہوگا کہ کیا ایران میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اس معاہدے میں موجود منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے؟ سی پیک منصوبے جو تعطل کا شکار ہوئے اس کے پیچھے بھی ایک وجہ پاکستان کی اندرونی صلاحیت میں کمی ہونا ہے۔

پاکستان میں سیکیورٹی کمیونٹی بھی ایران اور چین معاہدے پر خوش نظر آتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو بھارت سے دور کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان چاہ بہار منصوبہ بھی ختم ہوجائے گا۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایران کے چین کے بیلٹ اور روڈ منصوبے میں شامل ہونے کے بعد پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔

یہ تحریر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی دی پرنٹ میں چھپنے والے کالم کا خلاصہ ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube