Saturday, August 15, 2020  | 24 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

سیاست دانوں کی لڑائی میں نقصان کی عملی شکل

SAMAA | - Posted: Jul 30, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Jul 30, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago

Layyah

لیہ میں دریائے سندھ کا کٹاو گزشتہ 10 سالوں سے مشرقی جانب شدت اختیار کیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے اب تک ہزاروں ایکڑ آراضی دریا برد ہو چکی ہے۔ دریا کے قریب آباد شہریوں نے متعدد بار احتجاج کیے لیکن یہ مسئلہ بڑے ایوانوں کی توجہ حاصل نہ کر سکا۔

ہم نے رپورٹنگ کے دوران واڑاہ سیہڑاں کے مقام پر دریائی کٹاو کے باعث اسکول کی گرتی عمارت اور اپنے ہی گھروں کو توڑ پر ملبہ اٹھاتے لوگ بھی دیکھے۔ لوگ سسکیاں لے لے کر رو رہے تھے کہ ہماری زمینیں اور گھر سب دریا برد ہو چکا، اسی باگ دوڑ میں سب مال مویشی سب بک گیا مگر یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا۔

گزشتہ سال 20 جولائی کی سہ پہر پنجاب حکومت کی جانب سے دریائی کٹاو اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ٹیم نے انتہائی متاثرہ مقامات کا دورہ کیا۔ دورے کے وقت پاکستان تحریک انصاف کے مقامی ایم این اے عبدالمجید خان نیازی اور ممبر صوبائی اسمبلی ملک احمد علی اولکھ بھی ٹیم کے ہمراہ موجود تھے۔ ملک احمد علی اولکھ چونکہ آزاد حیثیت میں ممبر صوبائی اسمبلی تھے اور ن لیگ کے دور میں ان کے پاس 7 وزارتیں رہ چکی تھیں اس لیے ان کی رہنمائی ایم این اے کو مناسب نہ لگی۔ عبدالمجید خان نیازی نے غصے بھرے لہجے میں ملک احمد علی اولکھ سے سوالات کیے کہ تم یہاں کیا لینے آئے ہو؟ تم اس وقت کیوں لوگوں کے کام نہ آئے جب لوگوں کی زمینیں دریا برد پو رہی تھیں اور تم وزارتوں کے مزے لوٹ رہے تھے؟ تم نے اب تک اپنے غریب ووٹروں کے لیے کیا کیا؟

ان تمام سوالوں کے باوجود ملک احمد علی اولکھ خاموشی سے آگے بڑھ گئے۔ جس پر ایم این اے طیش میں آگیا اور ایم پی اے کو غلیظ قسم کی گالیوں سے نواز دیا۔ شاید کے دونوں طرف کے سپورٹرز میں گرما گرمی بھی ہوئی ہو مگر علاقے میں شریف النفس سیاست دان کہلانے والے ملک احمد علی اولکھ نے وہاں کچھ نہ بولا اور چلے گئے۔ میڈیا کو بعد میں موصول ہونے والی ویڈیو کے مطابق ایم این اے کے بیٹے عبدالرحیم خان نیازی نے ملک احمد علی اولکھ کو ان کے ڈیرے پر جا کر تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ایم پی اے موصوف کی 3 پسلیاں بھی ٹوٹ گئیں۔

تھانہ کروڑ لعل عیسن پولیس نے ایم پی اے ملک احمد علی اولکھ کی درخواست پر ایم این اے کے بیٹے عبدالرحیم خان نیازی کو ایم پی اے پر تشدد کے کیس میں ایف آئی آر درج کر کے گرفتار کرلیا۔ ایم این اے نے اپنے بیٹے کی ضمانت کے حصول کے لیے مقامی عدالت میں درخواست دائر کی جو کہ خارج کردی گئی۔ یہ مقدمہ ہائی کورٹ چلا گیا اور بلآخر عبدالرحیم کو ضمانت ملتے ملتے ایک سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔ 23 جولائی 2020 کو عبدالرحیم خان نیازی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ عبدالرحیم خان نیازی کی رہائی پر ایم این اے کی جانب سے جشن کا انعقاد کیا گیا جس میں آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کا مظاہرہ ہوا پورے شہر میں زردہ چاول تقسیم کیے گئے کہ عبدالرحیم ضمانت پر رہا ہوگیا ہے۔ اس بار پھر پولیس تھانہ کروڑ لعل عیسن نے آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کی وجہ سے مقدمہ درج کرکے کاروائی کا آغاز کردیا ہے۔

دریائی کٹاو مسلسل جاری ہے۔ سروے کے لیے آئی ٹیمیں واپس چلی گئیں لیکن لوگوں کے دکھوں کا مداوا نہ ہو سکا۔ غریب کسانوں کی حالات سے جنگ سیاستدانوں کے درمیان عدالتی جنگ بن گئی۔ کوئی ہوائی فائرنگ کر رہا ہے تو کوئی قانونی چالیں چل رہا ہے اس سارے کیس میں نقصان پھر کسان کا ہو رہا ہے۔ اس معاملے پر بار ایسوسی ایشن کے سینئر قانون دان مرزا عرفان بیگ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ کسی مجرم کا ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دوبارہ قانون شکنی کرنا ریاست کی رٹ کا چیلنج کرنے کے مصداق ہے اس پر عدالت ضمانت خارج کر سکتی ہے اور گرفتاری بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے تاکہ مزید شرانگیزی سے بچا جا سکے۔

مقامی سیاست دان دریاب شاہ قومی کا کہنا ہے کہ سیاست تہذیب و صبر کا سبق سکھاتی ہے مگر گالی کی سیاست نے آئندہ نسل کے لیے برا سبق چھوڑا ہے۔ اس مسئلے پر سب کو بیٹھ کر تحمل سے سوچنا چاہیے کہ دراصل لڑائی کیوں ہوئی اور اس کی وجہ سے نقصان کس کا ہو رہا ہے؟ اگر گزشتہ 10 سال میں کٹاو کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا تو مقامی ایم این اے کو لڑائی کر کے ٹیمیں واپس بھیجنے کا حق بھی نہیں تھا بلآخر نقصان متاثرین ہی برداشت کر رہے ہیں۔

دریائی کٹاو کے حل کے لیے متحرک سماجی رہنما بابا انجم صحرائی جو کہ بابائے لیہ کے نام سے جانے جاتے ہیں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 سال سے جاری کٹاو کے روک تھام کے لیے ہم نے بھوک ہڑتالیں کیں جس پر پنجاب حکومت متوجہ ہوئی لیکن صد افسوس مقامی سیاستدان پہلے کام آئے نہ اب کام ہونے دیا۔ زمینوں جائیدادوں کے مالک بے گھر ہوگئے ہیں لوگ اس مسئلے پر خود کشیاں کر رہے ہیں مگر اس لڑائی نے ہماری نسلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم سب کو احساس کے ساتھ ساتھ اخلاقیات بھی سکیھنی ہوگی۔

اس تمام قصے میں سوالات کو بنیاد بنایا جائے تو ایم این اے عبدالمجید خان نیازی درست دکھائی دیئے مگر انہیں غصے اور بد زبانی کی وجہ سے پڑھے لکھے طبقے میں شدید نفرت کا سامنا کرنا پڑا، سوشل میڈیا پر بھی لوگوں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اوپر سے بیٹے کی دست درازی نے بہت سارے شرفاء میں ان کی سیاسی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔ دریائے سندھ کے کٹاو کا مسئلہ دیرینہ ہے لیکن قابل حل، حکومت کو مقامی سیاستدانوں کی لڑائی کی وجہ سے کام نہیں روکنا چاہیے تھا۔ اگر سپر بند تعمیر کردیئے جائیں تو کئی جانوں کا نقصان ہونے سے بچ سکتا ہے وگرنہ یہ کٹاو مسلسل رہا تو دریا کے ساتھ آباد مشرقی شہر متاثر ہوں گے۔ اس مسئلے پر ہم سب کو ایک قوم بن کر سوچنا ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube