Saturday, August 15, 2020  | 24 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

تل پترا کا شہید

SAMAA | - Posted: Jul 27, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago
Posted: Jul 27, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago
Captain-Sarwar-Shaheed

فوٹو: آئی ایس پی آر

میں کیرن پہاڑ کے چوٹی پر بیٹھا، دوربین سے مقبوضہ وادی کے حسن کا نظارہ کر رہا تھا، میرے قدموں میں اوڑی کے مناظر تھے جبکہ میرے بالکل سامنے پانڈو پہاڑ، تل پترا کی چوٹی، کھلانہ کے مناظر تھے۔ یہ تینوں خوبصورت مقامات مقبوضہ کشمیر میں ہیں۔ تل پترا کی پہاڑی پر ایک مقام نے میری بے چین روح کو قید کرلیا تھا۔ میری روح اس مقام کی طرف جارہی تھی، میں خود کو اس سے آزاد کرانا چاہتا تھا لیکن لاکھ جتن کرنے کے باوجود خود کو روک نہ پایا۔ تل پترا کی پہاڑی پر کیپٹن سرور شہید کی قبر تھی، گوجر خان کے اس راجپوت  کی قبر جو اپنے علاقے میں سخی سرور کے نام سے مشہور تھا۔ یہاں پاک فوج کا وہ سپاہی مدفون تھا، جو پانڈو کا فاتح کہلاتا تھا۔ جو بھارتی فوج کے اقدامات کیخلاف مسلسل لڑ رہا تھا، جو تل پاترا کی چوٹی فتح کرکے کشمیر کی آزادی کی بنیاد تعمیر کر رہا تھا۔

گوجر خان کا گاؤں سنگوڑی بارشیں نہ ہونے کے باعث ایک بنجر علاقہ ہے لیکن اسی گاوں نے ارض مقدس کو اپنے خون سے سیراب کرنے والے بہادر سپوت پیدا کئے، انہی انمول ہیروں میں ایک نام کیپٹن سرور شہید کا ہے۔ گوجر خان کا یہ راجپوت 1948 میں پاک بھارت جنگ کے دوران تربیت پر تھا لیکن انہوں نے ارض مقدس پر دشمن کے حملے کا جواب دینے کیلئے رضا کارانہ طور پر خود کو پیش کیا۔ اعلیٰ افسران نے انہیں تربیت مکمل کرنا کا کہا مگر راجپوتی خون میں وطن سے محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ کیپٹن سرور شہید کو وادی جہلم کے علاقے کھلانہ میں اپنی صلاحیتیں  دکھانے کا موقع ملا۔ اس علاقے کی بلند ترین چوٹی تل پترا تھی، جس پر بھارتی فوج کا ایک مضبوط مورچہ موجود تھا۔ 9 ہزار فٹ بلند تل پترا پر دشمن موجود تھا جوکہ پاکستانی فوج کی نقل و حمل پر مکمل نظر رکھے ہوئے تھا۔ تل پترا کے مورچے کو فتح کرنے کیلئے منصوبہ بنایا گیا، یہ منصوبہ ایک خود کش مشن تھا، جس میں زندہ بچ جانے کی کوئی امید نہیں تھی۔ کیپٹن سرور نے اس منصوبے کیلئے خود کو پیش کیا۔ ان کیساتھ چھے نوجوان رضا کارانہ طور پر شامل ہوگئے۔ جنت کے متلاشی یہ سات جوان تل پترا کی جانب بڑھ رہے تھے، ساون کی دھند نے پوری پہاڑی کو گھیرے ہوئے تھا، یہ دھند اور بادل انہیں مسلسل آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کر رہے تھے۔ کیپٹن سرور جونہی بھارتی مورچے کے پاس پہنچے تو ان کا سامنا مورچے کے گرد لگی خاردار تاروں سے ہوا۔ انہوں نے مورچے کی حفاظتی تاریں کاٹنا شروع کردیں، اسی دوران کیپٹن سرور دشمن کی نظروں میں آگئے۔ دشمن نے پاک فوج کے اس بہادر دستے پر فائرنگ شروع کردی، کیپٹن سرور کا ایک ساتھی شہید ہوگیا جبکہ ان کے کندھے میں گولی لگی، اپنی تکلیف کو بھولتے ہوئے کیپٹن سرور نے تار کاٹنے کا کام جاری رکھا، تار کاٹنے کے بعد پاک فوج کے ان بہادر سپوتوں نے دشمن کے مورچے پر بھی قبضہ کرلیا لیکن اس دوران کیپٹن سرور کا جسم گولیوں سے چھلنی ہوچکا تھا۔ گوجر خان کا راجپوت 9 ہزار فٹ بلندی پر اپنی جان کی بازی ہار چکا تھا مگر اس بہادر راجپوت نے آنے والے نسلوں کیلئے جرات اور بہادری کی ایک عظیم داستان رقم کردی تھی۔

یہ 27 جولائی محض کیلنڈر میں موجود ایک دن ہی نہیں بلکہ یہ دن عسکری تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ کیپٹن سرور شہید کی قربانی نے اس تاریخ میں اپنے خون سے رنگ بھرا ہے۔ آج بھی کیرن پہاڑ کے بالکل سامنے اوڑی سیکٹر کی بلند و بالا چوٹیوں پر کیپٹن سرور کی روح یہ اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ بہادر پاکستانی قوم کو کشمیر پر بھارتی تسلط قبول نہیں ہے۔ 1947 سے لے کر آج تک پاکستان کا مؤقف کبھی تبدیل ہوا ہے اور نہ ہی اس میں لچک نظر آئی ہے۔ پاکستان آج بھی کشمیریوں کے حق خود اردیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے لیکن آج کیپٹن سرور شہید کی روح  ہم سے سوال  کر رہی ہے، کیا ہم نے کشمیریوں کی جدوجہد کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کیا؟ کیا ہم گذشتہ 72 سالوں سے کشمیری عوام کا ساتھ دینے کیلئے چند تقاریر، سیمینارز اور جلسوں سے آگے بڑھ پائے؟ بھارت مقبوضہ وادی میں ہر روز ظلم و بربریت کی ایک نئی داستان رقم کر رہا ہے، لیکن ہم دنیا کے سامنے اس کا پردہ فاش کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ کیا کشمیری عوام ہمارے اقدامات سے مطمئن ہیں؟ ان سوالات کا جواب یقینا ہمیں اپنے ضمیر سے ضرور پوچھنا چاہیے۔

آج کیپٹن سرور شہید کا یوم شہادت ہمارے لئے بہادری، جرات، حب الوطنی کا پیغام ہے۔ گوجر خان کے راجپوت کی روح ہمیں درس دیتی ہے کہ جب حوصلے جوان ہوں تو مسائل کا اضافہ اور وسائل کی کمی آپ کا راستہ نہیں روک سکتی، جب کچھ کرنے کا جنون سر پر سوار ہو تو سمندر کے گہرائیاں اور 9 ہزار فٹ بلند چوٹیاں بھی اس جنون کو کم نہیں کر سکتیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube