Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

سیمنٹ کےشئیرزدوبارہ زورپکڑنےلگے

SAMAA | and - Posted: Jul 22, 2020 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Jul 22, 2020 | Last Updated: 3 months ago

تین سال کی مندی کے بعد سیمنٹ کے شئیرز میں دوبارہ تیزی دیکھی جارہی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ ٹریڈنگ میں سیمنٹ کے شیئرزچھائےرہے۔

نیاپاکستان ہاؤسنگ اسکیم کو مراعات یافتہ تعمیراتی پیکج کا سہارا حاصل ہے۔ اس اسکیم نے سرمایہ کاروں کی توجہ پھرسےاپنی جانب مرکوزکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا حالیہ دورہ دیامر بھاشا ڈیم اس سلسلے کی کڑی ہے اوراس نےسرمایہ کاری کومزید اعتماد دیا ہے۔

کےایس ای 100 انڈیکس میں مارچ سے اب تک 10ہزارسےزائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔ اس میں مسلسل 4 ہفتے کاروبار کےاختتام پرمثبت ٹریڈنگ شامل ہے۔حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ اسکیم متعارف کروانے اور ڈیم کے تعمیراتی کام کےآغازنے اس کودوام بخشا۔20 جولائی تک، رواں ماہ اسٹاک مارکیٹ میں سیمنٹ کے شیئرز 10 بہترین سرفہرست سیکٹرزمیں سےایک رہے۔

سیمنٹ کا شمارپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے پسندیدہ شیئرزمیں سے ہوتا ہے۔لسٹ ٹیڈ کمپنیوں نے سال 2011 سے 2016 کے درمیان 10 گُنا سرمایہ کاروں کومنافع دیا۔ سیمنٹ سیکٹرنےاسٹاک مارکیٹ کی تیزی میں 20 فیصد حصہ ڈالا اور اس دورانیےمیں سرفہرست رہاہے۔

سیمنٹ سیکٹر کی حالیہ کارکردگی 2011 سے2016 کی کارکردگی کی عکاس تو نہیں لیکن پھر بھی سرمایہ کار اس سیکٹر میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

متحرک اقدامات:۔

حکومت نےوعدے کےمطابق اپنےہاؤسنگ منصوبےکومراعات سےمنسلک کرکےمتعارف کروایا،ماہرین کاخیال ہے کہ اس کوبھرپورپذیرائی ملی اوریہ منصوبہ کامیاب ہوسکتاہے۔وزیراعظم عمران خان نےاعلان کیا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کےتحت ابتدائی طور پر1لاکھ مکانات کی تعمیرکےلیے30 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

اس سلسلےمیں اسٹیٹ بینک نےکمرشل بینکوں کےلیےلازم کیا ہےکہ وہ اپنےمجموعی قرضہ جات کا 5 فیصدحصہ تعمیراتی مقاصدکے لیے وقف کریں۔اس کے ذریعے200ارب روپے کا اضافی سرمایہ اس پروگرام کے لیے جمع ہوسکےگا۔عالمی بینک کی جانب سے ہاؤسنگ منصوبے کےلیےپاکستان کو 500 ملین روپے کی کریڈٹ لائن مختص کی گئی۔

حکومت کی جانب سے اپریل 2020 میں اعلان کردہ تعمیراتی پیکج  میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی شامل کی گئی ہے۔ اس پیکج کے تحت،تعمیراتی منصوبے میں لگائی جانے والی رقم کے ذرائع ظاہر کرنے کی شرائط میں نرمی کی گئی۔

انٹرمارکیٹ سیکورٹیزریسرچ کے ماہر راہول ہنس نے اپنی رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ اگلے 3 برس میں 10 لاکھ سے 15 لاکھ تک مکانات کی تعمیر ممکن ہوسکتی ہے اگراس کے لیےمالیاتی فوائد فراہم کئے جاتے رہیں۔

ان کےعلاوہ ٹاپ لائن سیکورٹیز نےبھی مثبت خیال ظاہرکرتے ہوئے بتایا ہے کہ تعمیراتی پیکج کی تکمیل کے معاہدےکرنےوالے بروکریج ہاؤس کی جانب سے شرح سود میں کمی،تیل اورکوئلے کی کم ہوتی قیمتیں سمینٹ کے شیئرز میں تیزی لانے کے لیے معاون ثابت ہوئی۔

کوئلے کا شمار سیمنٹ کی تیاری کے اہم جُز کے طور پر ہوتا ہے اور یہ پروڈکشن کے اخراجات کا40 فیصد حصہ ہوتا ہے۔

کراچی کی بروکریج فرم نے امید ظاہر کی ہے کہ سیمنٹ کمپنیوں کےلیے بجلی، تیل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم رکھے جائیں گےجس سے آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔ ڈیم کی تعمیر شروع ہونے سے سیمنٹ کی فروخت مستقبل میں بڑھ سکتی ہے۔

خدشات:۔

سیمنٹ کےشیئرز میں حالیہ بہتری کے امکانات اس کی طلب کے ساتھ حکومت کی حالیہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جن سے تعمیراتی سیکٹرکو فائدہ ہوتاہے تاہم خدشات موجود ہیں۔

پاکستان نے 68 برسوں میں پہلی بار منفی شرح نمو پیداوار دیکھی ہے۔ معاشی مستقبل قدرے واضح نہیں،کرونا وائرس کے باعث غیر یقینی صورتحال جلد ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔مارچ میں لاک ڈاؤن ہونے سے کئی افراد نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی بےروزگاری لوگوں کی مشکلات دگنا کرسکتی ہیں۔ حکومت مکانات تو تعمیرکررہی ہے لیکن اب ان کی طلب میں کمی یا بالکل ضرورت نہ پڑی توپھر کیا ہوسکتا ہے کیوں کہ ملکی معیشت خسارے میں ہے۔

بی ایم اے کیپیٹل ریسرچ کے سربراہ فیضان احمد نے بتایا ہے کہ امید ہے کہ کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ نہیں ہوگا لیکن اگر ایسا ہوتا ہے اور دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا پڑا تو اس سے صنعت کو نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر کوئلے کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں،منافع کی شرح کم ہوگی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا،اس سے بھی اس صنعت کو خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

فیضان احمد نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ٹیکس جمع کرنےکےغیر حقیقی اہداف مقرر کئے،ٹیکس کے اہداف اور اصل جمع ہونے والے ٹیکس کے درمیان فرق نے بھی اثر ڈالا ہے۔ اس سے پبلک سیکٹرکےلیے کنسٹریکشن مٹیریل کی طلب میں کمی ہوسکتی ہے۔ تاہم انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ حکومت کی جانب سے کئی اقدامات کی روشنی میں حالیہ دنوں میں سیمنٹ سیکٹر کا مستقبل روشن دکھائی دے رہا ہے۔

سیمنٹ کی فروخت میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم کچھ سیمنٹ کمپنیوں کو پچھلے ششماہی،جون 2020 میں خسارہ ہوا۔ ٹاپ لائن سیکورٹیز نےامکان ظاہر کیا ہے کہ چندکمپنیوں کوموجودہ ششماہی میں بھی خسارہ ہوسکتاہے تاہم یہ خسارہ پچھلے خسارے سے آدھا ہوگا۔

انٹرمارکیٹ سیکورٹیز کے رضا جعفری نے بتایا کہ سیمنٹ کے علاوہ دیگر سیکٹرز میں  طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق درمیانی مدت کےخدشات میں سیمنٹ کی فی بوری کی قیمت میں اضافہ اور منافع میں کمی ہے۔ حکومت کی فرٹیلائز اور فارما سمیت دیگر شعبوں میں قیمتوں کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں،اگر سیمنٹ کے شعبے کےلیے حکومت نے اپنی توجہ مرکوز نہ کی تو مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube