Wednesday, August 5, 2020  | 14 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

سی پیک میں بلوچستان کی اہمیت

SAMAA | - Posted: Jul 14, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: Jul 14, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago

فوٹو: فائل

جام کمال خان اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی حکومت درست سمت میں عوام اور صوبے کی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ چناں چہ جام کمال خان یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر بلوچستان کی اہمیت تسلیم کی جائے تو ملک کو فائدہ ہوگا۔ اُن کے مطابق دراصل چین پاکستان اکنامک کاریڈور بلوچستان ہی ہے جو سرحدی شہر چمن سے افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک، اسی طرح ایران اور ترکی کے راستے یورپ تک رسائی کا واحد ذریعہ ہے، اور بلوچستان ہی درحقیقت مواقع کی سرزمین اور گیم چینجر صوبہ ہے، جس کا طویل ساحل اور سیاحت کے شعبے اور تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا گیس پائپ لائن کا منصوبہ (تاپی) بلوچستان کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں وزیراعلیٰ جام کمال توجہ دلاتے ہیں کہ سی پیک میں بلوچستان کی اہمیت جلد تسلیم کرلی جائے تو ملک کو فائدہ ہوگا۔ (3جولائی2020ء)۔

کوئٹہ کے اندر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں جام کمال نے وفاق کو بلوچستان کی اہمیت اور اس کے وسائل کی جانب توجہ دلائی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ دراصل وفاق صوبے کو نظر انداز کیے ہوئے ہے۔ گویا اس ضمن میں جام کمال اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کا مؤقف ایک ہی ہے۔ بلوچستان کے اندر وفاق کی معاندانہ روش کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے، ٹکراؤ اور عدم اعتماد کی فضا ہے، جس کے نتیجے میں صوبہ مشکلات کا سامنا کرچکا ہے، اور اس وقت بھی صوبے کے اندر اضطراب کی کیفیت ہے، جس سے صوبہ کامل اتحاد اور مشترکہ سیاسی مؤقف اپناکر نکل سکتا ہے۔ چوں کہ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کارکردگی نہیں دکھا سکی ہے، عوام کے اندر اس کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، لامحالہ وفاقی حکومت کے اثرات بلوچستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ بلوچستان حکومت اگر شاہ کی وفاداری چھوڑتی ہے تو مشترکات کے تحت بلوچستان کا مقدمہ یک صف ہوکر لڑا جاسکتا ہے۔ اگر صوبہ یا صوبے کی حکومت سی پیک کے تناظر میں فریق گردانی جائے گی تو یقیناً سی پیک کے تحت ترقی اور معاشی خوشحالی کا نیا سفر شروع ہوگا۔ مگر اس پورے منظرنامے میں بلوچستان کی حیثیت مالک اور فیصلہ کنندہ کے بجائے مجبور و درخواست گزار کی ہوگی۔ صوبے کے حقوق اور خود مختاری کے لیے آئینی، پارلیمانی اور سیاسی جدوجہد میں آخر تک جانا ہوگا، وگرنہ شاید صوبے میں امن کا خواب پورا نہ ہو۔ صوبے کی سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لینا چاہیے، خصوصاً بلوچستان اسمبلی کے اندر متحدہ حزبِ اختلاف اور حکومت کے درمیان صوبے کے مسائل اور وسائل پر مؤقف ایک ہو، اور مل کر ہی جنگ لڑی جائے۔ جماعتی و گروہی مقاصد کی سیاست سے مجموعی اہداف حاصل نہیں کیے جاسکیں گے۔

عالم یہ ہے کہ اسمبلی کے اندر حزبِ اختلاف کو 2020-21ء کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں (پی ایس ڈی پی) پر اعتماد میں نہیں لیا جاسکا ہے، اور آخر کار حزبِ اختلاف نے پی ایس ڈی پی کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔ عدالتِ عالیہ نے یکم جولائی کو ان کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی اور چیف سیکریٹری اور دوسرے فریقین کو طلب کرلیا۔ حزبِ اختلاف نے عدالت کے روبرو بھی وہی شکایات رکھی ہیں جن کا وہ اظہار کرتی آ رہی ہے کہ اس کے 22 ارکان کے حلقوں کو نظر انداز کرکے حکومتی جماعت ’’باپ‘‘ کے غیر منتخب افراد کو نوازا گیا ہے۔ غیر ضروری اسکیمیں پی ایس ڈی پی میں رکھنے کا الزام لگایا ہے، اور یہ بھی عدالت کے سامنے بیان کیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے صوابدیدی فنڈز کی مد میں بھی ساڑھے بارہ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یعنی حکومت حزبِ اختلاف کو مطمئن نہیں کرسکی ہے۔

بلوچستان حکومت نے ایئر ایمبولینس خریدنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن 2 جولائی کو بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ایئر ایمبولینس کی خریداری سے روک دیا۔ عدالت نے ایئر ٹریفکنگ اور پائلٹس کی ٹریننگ کے لیے بھی مزید اخراجات کرنے سے بھی روک دیا، بلکہ پچھلی حکومت میں خریدے گئے روسی ہیلی کاپٹر کے غیر ضروری استعمال پر اگلے احکامات تک پابندی عائد کردی ہے، نیز سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نوٹس جاری کیا کہ حکومت بلوچستان کے جہازوں اور ہیلی کاپٹرز کے استعمال، پرواز کے گھنٹوں اور اس پر آنے والے اخراجات کے ساتھ ساتھ گزشتہ ایک سال میں جن مریضوں و افراد نے استفادہ کیا ہے، کے بارے میں عدالت کو لاگ بک فراہم کی جائے۔ عدالت نے یہ احکامات ایک شہری کی جانب سے تربت سول اسپتال کی حالتِ زار سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کوئٹہ میں کرونا کے مریضوں کے لیے مختص شیخ زید اسپتال میں آکسیجن پریشر نہ ہونے کی وجہ سے حاضر سروس اسسٹنٹ کمشنر وکیل کاکڑ کی موت ہوگئی جبکہ حکومت ایئر ایمبولینس کی خریداری پر اربوں روپے خرچ کرنے جا رہی ہے۔ حال یہ ہے کہ ریکوڈک منصوبہ صوبے کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ کہا گیا کہ خود چلائیں گے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو ڈھائی ارب روپے جاری کرکے وقت اور صوبے کی دولت کا ضیاع کیا گیا۔ جبکہ ٹھتھیاں کمپنی گلے پڑ گئی۔

حکومتِ بلوچستان نے 29 جون کو سیندک منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنی ایم سی سی اور پاکستانی کمپنی ایس ایم ایل کے باہمی اشتراک کے معاہدے میں 15 سال کی توسیع کے معاہدے کی توثیق کردی ہے۔ دونوں کمپنیاں مل کر سیندک منصوبے کی کان کنی پر کام کر رہی ہیں۔ یہ معاہدہ 2022ء کو ختم ہونا تھا۔ بلوچستان حکومت نے سیندک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ کی مائنز لیز میں2017ء میں تیسری بار پانچ سالہ مدت کے لیے توسیع کی تھی۔ چینی کمپنی ایم سی سی کے حکام کا کہنا ہے کہ سیندک میں موجود تین میں سے دو کانوں کے ذخائر جون 2021ء تک ختم ہوجائیں گے۔ تیسری کان کے مائننگ لائسنس کے لیے کمپنی نے بلوچستان حکومت کو درخواست دے رکھی ہے، مگر حکومت نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ تیسری کان پر کام کرنے کی اجازت ملی تو اس سے مزید 19سال تک ذخائر نکالے جاسکیں گے، تاہم اس پر سرمایہ کاری مائننگ لیز میں توسیع کی ضمانت کے بغیر نہیں کی جائے گی۔ دیکھنا چاہیے کہ سیندک منصوبے میں کہاں تک بلوچستان اپنے وسائل سے مستفید ہورہا ہے۔ صوبے کے وسائل صوبہ کے اختیار کے لیے ہم آواز ہوکر جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جام کمال نے البتہ ایک اچھا قدم یہ اٹھایا ہے کہ لسبیلہ کے ساحلی علاقے سونمیانی میں پانچ ہزار ایکڑ اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے سرکاری عمل کو منسوخ کردیا۔ قدوس بزنجو کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں ایک عرب شیخ کے ملازم اسحاق دشتی کو اربوں روپے مالیت کی یہ زمین غیر قانونی طریقے سے الاٹ کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ سیٹلمنٹ کے عملے نے دشتی خاندان کے حق میں کاغذات تیار کرلیے تھے۔ بورڈ آف ریونیو کو معاملہ بھیجا گیا۔ جب معاملہ وزیراعلیٰ کے علم میں آیا تو انہوں نے نہ صرف یہ عمل روک دیا بلکہ تحقیقات کا بھی حکم دے دیا۔ یہ اراضی اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ یہاں ایئر ڈیفنس یونٹ بھی قائم ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube