Sunday, August 9, 2020  | 18 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

آیا صوفیہ، نیا جنگ کا میدان؟

SAMAA | - Posted: Jul 11, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Jul 11, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

سلطنتیں بدلیں، مذاہب بدلے، ایک شہر نے کئی روپ اور نام بدلے لیکن برقرار رہا تو ایک مسحور کن عمارت کا حسن جو لاکھوں سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور جس کے در و دیوار ماضی کی داستانوں کا حال بیان کرتے ہیں۔ جو کبھی ایک چرچ تو کبھی مسجد اور پھر ایک میوزم میں تبدیل ہوئی اور اب ترکی کی عدالت کے فیصلے کے بعد ایک بار پھر سے مسجد کا روپ دھار لے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آیا صوفیہ  ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ ہے؟۔

اس تاریخی فیصلے کے بعد خدشہ یہ ہے کہ ترکی کے مغرب خصوصاً یونان اور عیسائی برادری کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوسکتے ہیں۔ ایسا کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کو سماجی رابطے کی سائٹ پر یکم جولائی کو ترکی سے یہ اپیل کرنی پڑی کہ آیا صوفیہ کی میوزیم کی حیثیت کو نہ بدلا جائے۔ آئیے تاریخ سے اس عمارت کی اہمیت کا جائزہ لیتے ہیں۔

تقریبا 1600 سال پہلے جب ایسٹرن رومن ایمپائر یا بازنطینی سلطنت اپنے عروج پر تھی تو قسطنطنیہ وہاں کا دارالحکومت تھا، وہاں ایک عظیم الشان گرجا گھر بنانے کا سوچا گیا اور اس سلسلے میں سب سے پہلے 360 صدی عیسوی میں ایک عمارت تعمیر کی گئی جو کچھ سالوں میں آتشزدگی کی وجہ سے تباہ ہوگئی، پھر 415 صدی عیسوی میں بھی ایسا ہی ہوا، لکڑی سے بننے والی عمارت آگ اور لڑائی کے آگے نہ ٹھہر سکی۔ چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹینئن اول کے دور میں تعمیر نو کا آغاز ہوا اور 5 برسوں میں 10 ہزار مزدوروں نے ایک ایسی شاہکار عمارت بنائی جس نے تقریباً 900 سال تک دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر اور ایسٹرن آرتھوڈاکس چرچ کے ہیڈکوارٹر کی حیثیت اختیار کئے رکھی۔

پندرہویں صدی تک بازنطینی سلطنت سکڑ چکی تھی اور پھر 1453 صدی عیسوی میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کو فوراً مسجد میں تبدیل کروادیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس عمارت کی تزین و آرائش کی گئی اور مینار کا اضافہ کرکے اسے باقاعدہ مسجد میں ڈھال دیا گیا۔ واضح رہے کہ اس عمارت کو حاصل کرلینا معمولی بات نہیں تھی کیونکہ اس زمین سے متعلق حضور اکرم ﷺ کی حدیث اس خطہ (قسطنطنیہ) کو خاص تر بناتی ہے۔

جنگ عظیم اول میں سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد تقریبا 12 سال بعد 1934ء میں مصطفیٰ کمال پاشا (اتا ترک) کے دور حکومت میں سیکولر ترکی کی بنیاد ڈالی گئی اور آیا صوفیہ کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان تنازعات کے خاتمے کیلئے علامتی طور پر میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔

رجب طیب اردوان 2003ء میں حکومت میں آئے ان کی اے کے پارٹی کے معرض وجود میں آنے کے بعد ان کے مخالفین اور ناقدین انہیں قدامت پسند کہنے لگے۔ 2013ء میں آیا صوفیہ کے میناروں سے پہلی بار اذان دی گئی اور پہلی بار 2016ء میں اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیریٹیج فہرست میں شامل اس عمارت میں 85 سال میں پہلی مرتبہ نماز کی ادائیگی کی گئی۔

سال 2019ء میں استبول کے بلدیاتی انتخابات کے دوران اردوان نے اس عمارت کو مسجد میں بدلنے کی خواہش کا پھر سے اظہار کیا اور الیکشن میں شکست کے بعد بھی وہ آیا صوفیا سے متعلق بیانات دیتے رہے جبکہ سن 2020ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے 567ویں سال یہاں خصوصی عبادت کا انعقاد بھی کیا گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں اس معاملے کے باعث ترکی کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور دینا کس تنازع کا شکار ہوسکتی ہے؟۔

یونیسکو کی جانب سے آیا صوفیہ کو عالمی تاریخی ورثہ قرار دیا گیا اور اس وقت وہ عمارت ایک میوزیم کی حیثیت رکھتی تھی لہٰذا اس فیصلے کا ترکی بھی پابند ہے۔ اب اس حیثیت کی تبدیلی ترکی کیلئے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ علاوہ ازیں 900 سال تک ایسٹرن آرتھوڈاکس چرچ کا ہیڈکوارٹر رہنے کی وجہ سے بھی عیسائیوں کا ایک بڑا طبقہ اس عمارت سے جذباتی لگاؤ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس، امریکا اور خصوصاً یونان کی جانب سے عدالتی معاملے کے آغاز سے تحفظات، بیانات اور مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جو اب مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ روسی چرچ کی طرف سے بھی اس حوالے سے تحفظات سامنے آچکے ہیں کیونکہ وہاں 40 فیصد سے زائد آرتھوڈاکس کرسچن ہیں اور اس ملک کے ترکی کے ساتھ تعلقات بھی کوئی مثالی نہیں۔

اگرچہ یہ عدالتی معاملہ ہے لیکن پھر بھی داخلی اور خارجی سطح پر ناقدین اسے اردوان کی گرتی ساکھ، استبول الیکشن اور کمزور ہوتی معیشیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ سن 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ترکی کے اقدامات کو بیشتر ممالک اردوان کی مبینہ فاشسٹ سوچ  قرار دے رہے ہیں، ایسے میں عالمی سطح پر ترکی کو کس صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا یہ آنے والا وقت بتائے گا، لیکن ایک بات طے ہے خواہ یہ عمارت ایک مسجد میں ڈھلے یا میوزیم ٹھہرے یہ استنبول کی علامت رہے گی۔

بادشاہ جسٹینئن اول اس کی تعمیر کے بعد جب پہلی بار اس عمارت میں داخل ہوئے تھے تو بے اختیار کہہ اٹھے تھے کہ اے سیلمانؑ! میں نے آپ کو پیچھے چھوڑ دیا!۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube