Monday, August 10, 2020  | 19 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

افغان مہاجرین، پاکستانی معاشرہ اور معیشت

SAMAA | - Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 1 month ago

تینتیس سالہ علی خان جن کے آبا و اجداد نے سوویت یونین کے افغانستان میں حملے کے نتیجے میں پاکستان میں پناہ لی، اس وقت سے آج تک علی خان کا خاندان پاکستان میں آباد ہے۔ علی خان پاکستان میں پیدا ہوئے، بقول خود علی کے انہوں نے آج تک افغانستان دیکھا نہ وہاں گیا۔ لیکن ان کے بڑے افغانستان کے شہر قندوز سے تعلق رکھتے ہیں۔ علی خان نے ہر طرح کی مزدوری کی، ایک دینی مدرسے میں 20 سال مذہب کی تعلیم بھی دی۔ پھر انہوں نے ٹیلرنگ بھی کی، اینٹیں بھی اٹھائیں اور کاریگر بھی بنے غرض ہر طرح کی مزدوری کی اور محنت کرکے اپنا اور اپنے کنبے کا معاش کو چلایا۔ آج کل علی خان کراچی کے علاقے شاہ فیصل ٹاون میں چپل بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ روز کی اوسط مزدوری بارہ سو سے پندرہ سو کے درمیان بن جاتی ہے جس سے ان کے چار بچوں کا خرچ چلتا ہے۔

علی خان کی طرح پاکستان میں آباد ہزاروں افغانی محنت مزدوری کرکے گزر بسر کر رہے ہیں۔ کراچی میٹروویل کی رہائشی افغان خاتون شریفہ بی بی نے دو ہزار سات میں جب پناہ کی خاطر پاکستان میں سکونت اختیار کی تو اپنے بچوں کی پڑھائی اور روٹی روزی کے لئے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کیا، پھر یو این ایچ سی آر کی جانب سے تربیت حاصل کیے جانے پر معروف پاکستانی ڈیزائینر ہما عدنان کے جیولری برانڈ کے لئے ہاتھ سے بنی جیولری ڈیزائن کرتیں ہیں۔ شریفہ خود ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ مزید اور بھی افغانی خواتین جیولری ڈیزائین کرکے اس سے حاصل ہونے والی آمدن سے اپنے گھر کا گزر بسر کرتیں ہیں۔ شریفہ کے دو بیٹے ہیں جو پڑھائی کے ساتھ ہوٹل میں مزدوری کرتے ہیں۔ شریفہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے انہیں تحفظ دیا، سر چھپانے کے لئے سائبان دیا اور پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے مزدوری کے مواقع دیئے، وہ پاکستان سے واپس افغانستان نہیں جانا چاہتی کیونکہ شریفہ کہتی ہیں کہ افغانستان میں انسان نہیں جانور رہتے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق پاکستان میں چودہ لاکھ ایسے افغان مہاجرین آباد ہیں، جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن یعنی پی او آر کارڈز موجود ہیں۔ ان افراد کو پاکستان میں بینک اکاؤنٹ کھلوانے اور تعلیم کے ساتھ کسی حد تک اپنا کاروبار کرنے کی اجازت بھی ہے۔ آج کل ان کارڈ ہولڈرز کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کروانے کے لئے بھی یو این ایچ سی آر اور حکومت پاکستان کے مابین بات چیت ہو رہی ہے۔

اسٹیٹز اینڈ فرنٹیئر ریجن کے مطابق پاکستان میں پی او آر اور اے سی سی کارڈ کے حامل افراد کا ڈیٹا نادرا کے پاس محفوظ ہے اور انہیں پاکستانی حکومت نے بہت سے قانونی حقوق دے رکھیں ہیں۔ تاہم یو این ایچ سی آر کی جانب سے انفرادی طور پر جاری کردہ پروٹیکشن کارڈ ہولڈرز کا ڈیٹا نادرا ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔

معروف ماہر معاشیات مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان نے گو کہ مکمل طور پر افغان مہاجرین کے لئے بجٹ کا کوئی حصہ مختص نہیں کر رکھا۔ لیکن اب افغانستان سے آئے پناہ گزینوں کو چار دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور بہت بڑی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں۔ بدقسمتی سے غیر سرکاری سطح پر ان مہاجرین کا ایک بہت بڑا حصہ ان لیبر فورس پر مشتمل ہے جبکہ سبزی اور فورٹ منڈیوں میں افغانیوں کی بہت بڑی تعداد بطور آڑھتی منافع کما رہے ہیں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی افغانیوں کی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے مختلف ممالک سے درآمد شدہ مال افغانستان اور پھر پاکستان اسمگل ہو کر واپس آرہا ہے، جس کا چیک ان بیلنس ہی نہیں۔ گذشتہ حکومت میں جب افغانیوں کو واپس وطن بھیجنے کی بات ہوئی، تو ایسے میں بہت سے تاجروں نے یورپی ممالک سمیت سنگاپور میں سکونت اختیار کرلی اور پاکستان نے انہیں اتنا سب کچھ دینے کے باوجود بھی بہت سے افغان مہاجرین کا رویہ پاکستان سے مخلص نہ تھا۔ مزمل اسلم نے اس نقطے کو بیان کرنے کے بعد گذشتہ سال برطانیہ کے ہیڈنگلے اسٹیڈیم میں ہونے والے پاک افغان کرکٹ میچ کا ذکر کیا کہ جس میں افغانی تماشائیوں نے پاکستانی تماشائیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا، یعنی یہاں سے تعلیم مکمل کرکے ہجرت کر جانے والے افغانیوں کا رویہ پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ معتصبانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسا امریکا میں میکسیکو کے پناہ گزین ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اصل مسئلہ وہ غریب افغانی ہیں کیونکہ وہ پڑھے لکھے نہیں انکو نوکریاں مہیا کرنا ہیں، یا پھر وہ افغانی بھی جن کے پاس اگر مزدوری کے ذرائع کو محدود کر لیا جائے تو وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے چھوٹے جرائم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے بڑا اکنومک کرائسز کے پیچھے جسے ہنڈی حوالہ کہا جاتا ہے افغانی ہی اس کے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں، جس کی وجہ سے معیشت کمزور ہو رہی ہے۔

افغان امور کے ماہر اور دفاعی تجزیہ کار برگیڈئیر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی وجہ سے ملکی معیشت پر بار ہے، افغانیوں نے معاشرے میں جرائم کو متعارف کرایا، یہاں اب بھی سنگین ترین جرم میں ملوث افراد کے سگنلز افغان مہاجرین سے ہی ملتے ہیں۔ یہاں افغان مہاجرین نے معاش کو چلانے کے لئے مزدوری کی لیکن ان کی جانب سے انتہائی کم مزدوری طلب کرنے کی وجہ سے مقامی مزدوروں کا استحصال ہوا اور انہیں مزدوری کے کم مواقع میسر آنے لگے۔ برگیڈئیر ریٹائیرڈ محمود شاہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ افغانستان میں مکمل استحکام ہو جائے اور امن کا قیام عمل میں آئے تو یہ افغانی بھی ایک دن یہاں سے چلے جائیں لیکن بین الاقوامی قوتیں ایسا نہیں چاہتی۔ افغانستان کی سرحد قبائلی علاقہ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے بھی یہاں بڑے پیمانے پر اسلحہ لایا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ کراچی میں پشتون آبادی سب سے زیادہ ہے اور اس میں نصف سے زائد آبادی انہی افغان مہاجرین پر مشتمل ہے۔ کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ الاآصف اسکوائر کی آبادی جہاں افغان مہاجرین اکثریت میں ہیں وہاں انہی کی وجہ سے وہ آبادی قبائلی علاقہ کے منظر پیش کرنے لگی۔ وہ افغان جو پڑھ لکھ جاتے ہیں ان کی مائینڈ سیٹز کو تبدیل کرنے میں ابھی بھی وقت لگے گا لیکن جب یہ باہر کسی ملک میں ملازمت کرتے ہیں تو بطور پاکستانی شناخت ہی کراتے ہیں۔ اور ایسے میں یہ کوئی جرائم کرتے ہیں تو بھی پاکستان کے نام کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور ہوم منسٹر انہوں نے کئی مرتبہ کوشش کی اور اقوام متحدہ کے نمائندوں سے بات کی کہ افغان مہاجرین کو با عزت طریقے سے واپس ان کے ملک بھیجا جائے لیکن اس پر پیش رفت نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت نہ ہونے کی اصل وجہ بیرونی قوتوں کا ملوث ہونا ہے کیونکہ وہ اس خطے میں عدم استحکام کے خواہاں ہیں۔ دوران انٹرویو محمود شاہ نے کابل میں ایک سینمار کا حوالہ دیا کہ جس میں ایک افغان پارلیمنٹرین موجود تھا جو پاکستان کی مخالفت کر رہا ہے حالانکہ اس افغان پارلیمنٹرین کی جائیداد پاکستان میں تھی۔

بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر ہما بقائی کہتی ہیں کہ پاکستان کے افغانی مہاجرین کو جذبہ خیر سگالی کے تحت خوش آمدید کہا لیکن اب وقت بہت زیادہ گزر گیا ہے اور بہت بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین پاکستان میں آباد ہیں جن کا اثر پاکستانی معاشرے اور معیشت دونوں پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے قد سے بڑھ کر افغان مہاجرین کا ساتھ دیا لیکن ملکی انفراسٹکچر اتنا مضبوط نہیں ہے کہ مہاجرین کو مزید برداشت کر سکے۔ یہاں پہلے ہی مقامی افراد کے لئے صحت اور تعلیم کی سہولیات کا فقدان اور نوکریوں کے مواقع بہت کم ہیں۔ ایسے میں دوسرے ملک سے آئے مہاجرین میں یہ سہولیات تقسیم ہو رہی ہیں۔ یہ وجہ بھی ہے کہ مقامی افراد ان سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کراچی افغانستان کے بعد دوسرا ایسا شہر ہے جو سب سے زیادہ پشتون آبادی کو سموئے ہوئے ہے۔ پاکستان نے مذاکرات کے ذریعے بارہا مطالبہ کیا کہ افغانی اپنے وطن کو لوٹ جائیں۔ پاکستان میں اب بھی افغان مہاجرین کے حوالے سے نرم گوشہ اختیار کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی جو افغانی وطن واپس لوٹتے ہیں وہ پاکستان کے خلاف تعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔

کراچی میں تعینات افغان قونصل خانے کے نمائندہ حاجی عبدااللہ بخاری کہتے ہیں کہ کراچی میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ پچھتر ہزار افغان سیٹیزن کارڈ کے حامل افراد آباد ہیں۔ صوبہ سندھ میں تین لاکھ کے قریب افغان آباد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین پاکستانی حکومت کے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انیس سو اناسی اور اسی سے اب تک افغانی یہاں پناہ لے رہے ہیں اب تک تین نسلیں جوان ہو چکی ہیں۔ بیشتر افغانی تو ایسے ہیں جنہوں نے شاید ہی اپنا ملک دیکھا ہو اور وہ پاکستان کو ہی اپنا وطن مانتے ہیں۔ کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ پر بہت سے افغانی آباد ہیں جو مختلف کاروبار سے وابستہ ہیں اور بہت سے تو مزدوری کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ افغانیوں کے لئے پاکستان کا دروازہ کبھی نہیں بند ہوا یہ در ہمیشہ کھولا ہوا ہے جہاں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ پاک افغان حکومتوں کے مابین جو بھی پالیسی یا معاملات ہو اس میں افغان مہاجرین کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ہم نے کہیں مرتبہ پولیس کو کہا کہ انکے علاقے کی امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنائیں، اس سلسلے میں بہت سے جرگے ہوئے اور پولیس کے اعلی حکام سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر آفریدی کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کے لئے جذبہ خیر سگالی واقعی قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ افغان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر بوجھ ہے اور اسی کو کم کرنے کے لئے یو این ایچ سی آر سے بہت سے ایسے پروگرامز لانچ کیے جن سے پاکستان کو فائدہ پہنچ سکے۔ یو این ایچ سی آر کے تحت راحا یعنی ریفیجی افیکٹڈ اینڈ ہوسنٹنگ ایریاز کے ذریعے 2009 کے بعد سے، راحا پروگرام نے 220 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے لگ بھگ 4،260 منصوبوں پر عمل درآمد کیا جن میں 12.4 ملین افراد مستفید ہوئے، جن میں سے 15 فیصد افغان مہاجرین ہیں، جبکہ اس پروگرام سے پچاسی فی صد پاکستانی مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت، تعلیم اور لائفلی ہوڈ کے انفراسٹکچر کو فائدہ پہنچانے کے لئے مختلف شعبوں میں فنڈز جاری کیے گئے، جیسے پشاور شوکت خانم اسپتال میں سات ملین ڈالر کی لاگت سے اسپتال کو آلات عطیہ کیے جسے افغانی ہی نہیں پاکستانی بھی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ افغان مہاجرین کو واپس ان کے وطن بھیجنے پر زور نہ دیئے جانے کے سوال پر یو این ایچ سی آر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تاحال امن قائم نہیں ہوسکا مہاجرین کیسے لوٹ سکتے ہیں۔ افغانستان میں جو بھی پلیئرز ہیں ان کو افغانستان میں امن کے قیام کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اگر مہاجرین کی واپسی ہو تو ان کو بینادی سہولیات مسیر آ سکیں۔ اگر زبردستی ان مہاجرین کو افغانستان بھیجا جاتا ہے تو ان میں سے بہت سے مہاجرین یہاں ہجرت کے بعد سے اپنی جائیداد سے محروم ہو چکے ہیں۔ جو بھی پی او آر کارڈ ہولڈرز افغان مہاجر اپنے وطن لوٹتا ہے اس کا کارڈ منسوخ کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ پاکستان لوٹتا ہے تو یہاں اسکی قانونی حیثیت قانونی نہیں رہ جاتی۔ ایسے ہی افغان مہاجرین وطن لوٹنے کے بعد کشتیوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہوئے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے افغان مہاجرین کو بینک اکاونٹ کھلوانے کا اعلان کیا، جس سے یہ منی ٹریل پتہ لگ سکے گا کہ یہاں استعمال ہونے والا پیسہ افغان مہاجرین کیسے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چودہ لاکھ افغانیوں میں سے 64 فی صد افغانیوں کی عمریں چوبیس سال سے کم ہیں جن کو تعلیم اور وکیشنل ٹرینگ دے کر انہیں با اختیار بنایا جا سکتا ہے۔ تاکہ وہ یہاں رہتے ہوئے بھی اور پھر اپنے وطن لوٹ کر ترقی میں اپنا مثبت کردارادا کر سکیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube