Monday, August 10, 2020  | 19 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

پڑھے لکھے بلوچ نوجوان علیحدگی پسند کیوں بن رہے ہیں؟

SAMAA | - Posted: Jul 4, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jul 4, 2020 | Last Updated: 1 month ago

جون 29 صبح 10 بجے 4 مسلح افراد نے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 2 نجی سیکورٹی گارڈ اور ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے، تاہم پولیس کی بروقت کارروائی کی وجہ سے چاروں مسلح افراد مارے گئے اور اسٹاک ایکس چینج کی عمارتوں کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ یہ علیحدگی پسند تنظیم صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں تقریباً 20 سالوں سے سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر قومیت کے لوگوں کے اوپر حملے کرتی آئی ہے، لیکن کراچی اسٹاک ایکس چینج پر حالیہ حملہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہ علیحدگی پسند تنظیم صوبہ بلوچستان سے باہر بھی مسلح حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ کراچی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کا دوسرا حملہ تھا، اس سے قبل یہ علیحدگی پسند تنظیم نومبر 2018ء میں چینی قونصل خانے کو بھی نشانہ بنا چکی ہے، اس واقعے میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد جان بحق ہوئے تھے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں کا ملوث ہونا ان کے نزدیک زیادہ پریشان کن بات ہے۔

تفتیش کاروں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کرنے والے چاروں مسلح افراد کی شناخت کرلی ہے، ان میں سے ایک شخص کی شناخت سلمان کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق بلوچستان کے علاقے تربت سے بتایا جاتا ہے۔

صوبہ سندھ میں محکمہ انسداد دہشتگردی کے سربراہ ڈاکٹر جمیل احمد نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ سلمان ایک پڑھا لکھا نوجوان معلوم ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ آور ’’اگر گریجویٹ نہیں تو کم از کم انٹر پاس ضرور ہوگا‘‘۔

کراچی میں موجود ایک انٹیلیجنس افسر ڈاکٹر جمیل احمد کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سلمان کی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک پڑھا لکھا شخص تھا، جسے ‘‘شاعری میں دلچسپی تھی’’۔

ان افسران کے مطابق پڑھے لکھے نوجوانوں کا شدت پسند تنظیموں کا حصہ بننا ایک ’’خطرناک‘‘ اور ’’الارمنگ‘‘ بات ہے۔

اسی طرح نومبر 2018ء میں چین کے قونصل خانے پر حملہ کرنیوالے تین افراد میں سے بھی ایک تعلیم یافتہ شخص تھا۔ انٹیلیجنس افسر نے نام نے ظاہر کرنے کی شرط پر سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ یہ یقیناً ایک پریشان کن رجحان ہے، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں میں علیحدگی پسندوں کا بیانیہ پھیل رہا ہے تاہم انہوں نے اس کی وجوہات بتانے سے گریز کیا۔

ان دو واقعات کے علاوہ بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں انتہائی پڑھے لکھے نوجوان علیحدگی پسند تنظیموں میں شامل ہوئے اور ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھائے۔ رواں سال مئی کے مہینے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے دو نوجوانوں کی تصاویر شائع کیں جو بلوچستان کے علاقے کیچ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔ دونوں نوجوان شہداد بلوچ اور احسان بلوچ اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے طالبعلم تھے۔

قائداعظم یونیورسٹی کے ایک طالبعلم کے مطابق شہداد بلوچ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان اسٹدیز سے ایم فل کررہے تھے۔ یہ طالبعلم معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی شہداد بلوچ کے ہی ڈپارٹمنٹ میں زیر تعلیم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شہداد بلوچ انہیں ہمیشہ ایک غیرسنجیدہ نوجوان نظر آئے جو کہ ’’اوسط درجے کے طالبعلم تھے لیکن کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتے تھے‘‘۔ انہیں یہ تو نہیں پتہ کہ کس وجہ سے شہداد بلوچ نے علیحدگی پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کو ہمیشہ ارباب اختیار سے شکایات رہتی تھیں۔

شہداد بلوچ اور احسان بلوچ کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستانی صحافی حامد میر کے ایک پروگرام کی کلپ وائرل ہوئی، جس میں اس وقت کے وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ احسن اقبال مدعو تھے اور یہ پروگرام قائداعظم یونیورسٹی میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کلپ میں شہداد بلوچ کو احسن اقبال سے سوال کرتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔

اپنے سوال میں ان کا احسن اقبال سے پوچھنا تھا کہ صوبہ بلوچستان میں ریکوڈک، سیندک کی کانیں پہلے سے موجود ہیں اور سوئی گیس بھی موجود ہے لیکن یہ تمام منصوبے بلوچستان اور اس کے لوگوں کی تقدیر نہیں بدل پائے تو چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کیسے بلوچستان کی تقدیر بدلے گی؟، اپنے سوال میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر حکومت آتی اور دینے کے نام پر کچھ لے جاتی ہے تو کیا انہیں چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری سے کچھ ملے گا؟۔

ان کے سوالات سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے صوبے کے حالات سے کچھ زیادہ خوش نہیں تھے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کالعدم علیحدگی پسند تنظیمیں بلوچستان میں چین کے منصوبوں کی مخالفت کرتی ہیں اور چین کو ایک ’’قابض قوت‘‘ قرار دیتی ہیں۔

سندھ کے محکمہ انسداد دہشتگردی کے سربراہ کہتے ہیں کہ کراچی میں اسٹاک ایکس چینج پر حملے کا اصلی ہدف پاکستان کی معیشت تھی، جہاں چینی کمپنیوں نے بھی بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر جمیل احمد کا مزید کہنا تھا کہ اگر اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کامیاب ہوجاتا اور مارکیٹ کریش کرجاتی تو لوگ پاکستان میں سرمایہ لگانا بند کردیتے جس سے پاکستان کی معیشت کو بھاری نقصان ہوسکتا تھا۔

پڑھے لکھے نوجوانوں کے شدت پسندی میں ملوث ہونے کے حوالے سے محکمہ انسداد دہشتگردی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ ملک کیلئے کوئی اچھی بات نہیں، پڑھے لکھے نوجوانوں کو شدت پسند مسلح تنظیموں کا حصہ نہیں بننا چاہئے بلکہ ملک کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

نوجوان شدت پسند تنظیموں کی طرف کیوں جاتے ہیں؟

بلوچ طالبعلموں کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیموں یا ان کی کارروائیوں کا حصہ نہیں بننا چاہتے، تاہم ان میں سے کئی لوگ ایسا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ تربت سے تعلق رکھنے والی طالبہ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ’’علیحدگی پسندوں کا بیانیہ طالبعلموں میں زیادہ مقبول تو نہیں ہے لیکن ہمیں اس طرف سوچنے کیلئے مجبور کیا جاتا ہے‘‘۔

طالبہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں لوگوں کو اغواء کیا جاتا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تاہم انہوں نے اغواء کاروں کی شناخت کے حوالے سے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 2018ء میں ان کے منگیتر بھی تقریباً ایک ماہ تک لاپتہ رہے کیونکہ انہوں نے اس سے قبل کوئٹہ میں لاپتہ افراد کیلئے ہونیوالے ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی۔

کراچی کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم 27 سالہ طالبہ کہتی ہیں کہ ان کے نزدیک بلوچستان میں موجود ’’احساس محرومی‘‘ ایک ایسی وجہ ہے جو لوگوں کو علیحدگی پسند تنظیموں کے قریب لاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے صوبے کے بیشتر علاقوں میں آج بھی بجلی کی سہولت موجود نہیں اور جب ان کے گھر والوں کو ان سے فون پر بات کرنا ہوتی ہے تو انہیں موبائل سگنلز کیلئے پہاڑوں پر چڑھنا پڑتا ہے۔

جبری گمشدگیاں اور بلوچ نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت

خطے میں شدت پسند گروہوں پر نگاہ رکھنے والے تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کا علیحدگی پسند تنظیموں کی طرف راغب ہونے کے پیچھے جبری گمشدگیاں بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ علیحدگی پسند تنظیمیں جبری گمشدگیوں اور صوبے میں موجود احساس محرومی جیسے موضوعات کو نوجوانوں کو بھرتی کرنے کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ماہ اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی نے تحریک انصاف کی حکومت سے راہیں جدا کرلیں، جس کی وجوہات میں سے لاپتہ افراد کا بازیاب نہ ہونا بھی شامل تھی۔ ان کے نزدیک اختر مینگل کے مطالبات جائز تھے وہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری میں بلوچستان کا حصہ چاہتے تھے۔

اختر مینگل نے کچھ ہفتوں پہلے بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے دو سالہ دور حکومت میں اب تک مزید 1500 افراد لاپتہ ہوئے ہیں جبکہ صرف 418 افراد کی واپسی عمل میں آئی ہے۔

اس حوالے سے عامر رانا کہتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کو بلوچستان میں مفاہمتی عمل شروع کرنا چاہئے تاکہ نوجوانوں کو شدت پسند تنظیموں سے دور رکھا جاسکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عمل پہلے بلوچستان کی سیاسی جماعتوں سے شروع ہونا چاہئے جس کے بعد وہ مسلح افراد جن سے بات چیت ہوسکتی ہے، ان سے بھی بات چیت کرنی چاہئے۔ عامر رانا کہتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگوں کو قومی دھارے میں لانا انتہائی ضروری ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube