Thursday, August 6, 2020  | 15 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

علامہ طالب جوہری کی زندگی کے پوشیدہ پہلو

SAMAA | - Posted: Jul 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jul 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago

علامہ طالب جوہری نے ایک مرتبہ اپنے خطاب کو اختتام کی جانب لے جاتے ہوئے کہا تھا کہ  بس! اب میں نے تمہاری زحمتوں کو تمام کیا، صرف یہ پیغام یاد رکھنا کہ یہ قُرآن وہ کتاب ہے جو باپ سے زیادہ شفیق اور ماں سے زیادہ مامتا والی  ہے، بس شرط یہ ہے کہ پڑھ کر دیکھو۔

سانحاتِ زمانہ میں سے سب سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ عظیم مفکر، مفسر قرآن اور بین المذاہبِ عالم و بین المسالکِ اسلامیہ ہم آہنگی کے ایک عظیم داعی علامہ طالب جوہری نے گزشتہ ہفتے اس جہانِ فانی کو الوداع کہا، ابھی کلینڈر میں تاریخ بدلی ہی تھی کہ ہر جانب علامہ طالب جوہری کے انتقال کی خبریں گردش کرنے لگیں، بے ساختہ ٹی وی سے رجوع کیا تو تقریباً ہر چینل پر یہی بریکنگ نیوز چل رہی تھی۔ دل سے ایک آہ نکلی اور بس اتنا ہی کہہ سکا کہ پاکستان میں دلیل سے بات کرنے کا زمانہ گزر گیا۔

سفر کی روح تھا وہ ذوق جستجو طالبؔ

جسے چراغ سرِ رہ گزر نے چھین لیا

علامہ طالب جوہری عالم اسلام کے ایک بلند پایہ خطیب، مفسر قرآن، فلسفی اور شاعر تھے، آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم کیلئے اپنے والد علامہ مصطفیٰ جوہر کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیا، جو کہ غیر منقسم ہندوستان کے بلند پایہ خطیب، مفکر، فلسفی، مصنف اور مناظر تھے، علم کلام میں آپ کے پائے کا کوئی عالم پورے برصغیر میں نہیں تھا۔

 تقسیم ہند کے بعد جب یہ خانوادہ پاکستان تشریف لایا تو مولانا مصطفیٰ جوہر محض اپنا کتب خانہ، استعمال کے چند برتن اور پہننے کیلئے کپڑے ساتھ لائے۔  مولانا مصطفیٰ جوہر لکھنؤ کے مدرسہ سلطان المدارس سے فارغ التحصیل تھے۔ اپنی عمر کے ڈھلتے حصے میں آپ اپنی بینائی سے محروم ہوچکے تھے، پھر بھی حافظہ اس قدر پختہ تھا کہ کتب خانے میں موجود ہزاروں کتابوں میں درج لاکھوں حوالے انہیں جلد، صفحہ اور سطور کی ترتیب کے ساتھ ازبر تھے۔

ایسے گرامی قدر عالم کے گھر میں طالب جوہری نے 27 اگست 1939ء کو بھارتی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں آنکھ کھولی اور آغوشِ پدر میں ہی علوم اسلامی کی تعلیم و تربیت حاصل کرنا شروع کی۔ ریاضت کی ابتدائی منزلیں علامہ مصطفیٰ جوہر جیسے مشفق والد اور بے مثل عالم کی نگرانی میں گزارنے کے بعد طالب جوہری اسلامی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے نجفِ اشرف عراق چلے گئے، جہاں کا حوزہ علمیہ صدر اسلام کی درسگاہوں میں شامل ہے۔ نجف میں آپ نے اس دور کے سب سے بڑے عالم آیت اللہ العظمی سید ابوالقاسم الخوئی کے زیر انتظام حوزہ میں داخلہ لیا، وہاں آپ آیت اللہ شہید باقر الصدر کے شاگرد رہے۔

اسی دوران طالب جوہری کئی دروس میں آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے ہم جماعت بھی رہے، حالانکہ سید علی سیستانی ان سے سینئر تھے۔ آج آیت اللہ سیستانی اور عراق کا نام ایک ساتھ لیا جاتا ہے اور ان کا شمار مراجع عظام میں ہوتا ہے۔ علامہ ذیشان حیدر جوادی بھی نجف میں علامہ طالب جوہری کے ہم مکتب رہے۔

پاکستان واپسی کے بعد علامہ طالب جوہری نے بطور عالم دین اور مفسرِ قرآن اپنی شناخت بنانا شروع کی اور 1980ء کی دہائی میں پی ٹی وی کے مشہور زمانہ پروگرام ‘فہم القرآن’ کے ذریعے قرآن کے معنی و مطالب اپنے منفرد لب و لہجے میں اس طرح بیان کرتے رہے کہ سننے والا اگر ایک معمولی علمیت کا حامل شخص ہو، تب بھی اللہ کے کلام کا پیغام اس کے سینے میں گھر کر جائے اور اگر سامع اہل علم ہے تو قرآن کے بیش بہا مفاہیم سے مقصدِ حیات کے حصول کیلئے ایسے ایسے نکتے چن لے کہ مقصد تخلیقِ بشر کو حاصل کرلے۔

کتب

علامہ طالب جوہری متعدد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں اول الذکر “احسن الحدیث” کے عنوان سے ان کی تفسیر قرآن ہے جو کہ ان کی شناخت کا سب سے بڑا حوالہ بھی ہے۔ حدیث کربلا کو مستند ترین مقتل کا درجہ حاصل ہے (مقتل اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں واقعہ کربلا تفصیل سے بیان کیا جائے)۔ اس کے علاوہ فلسفے جیسے دقیق موضوع پر “عقلیاتِ معاصر’’ کے نام سے ایک کتاب قلم بند کی۔ ذکرِ معصوم، نظامِ حیاتِ انسانی، خلفائے اثناء عشر اور علاماتِ ظہور مہدی کے عنوان سے بھی کتب ترتیب دیں۔ اس کے علاوہ معیشت کے موضوع پر اسلام کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ‘اسلامی معیشت’ کے عنوان سے بھی  ایک کتاب تحریر کی۔

اس کے علاوہ حرفِ نمو، پسِ آفاق اور شاخِ صدا کے نام سے تین شعری مجموعے، انہوں نے اپنی فکری میراث کے طور پر چھوڑے ہیں۔ انہیں لا یعنی شاعری میں بھی ملکہ حاصل تھا اور وہ اکثر شعراء کو اپنے اشعار سے شش و پنج میں مبتلا کردیا کرتے تھے۔

جیسے ہی زینہ بولا تہہ خانے کا

کنڈلی مار کے بیٹھا سانپ خزانے کا

کھڑکی سے بھاگتی تھی دلہن حادثات کی

گھوڑا لئے کھڑا تھا پتیلی حیات کی

علامہ طالب جوہری کے فرزند علامہ ریاض جوہری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بطور عالم دین، والد، حضرت کا وجود ان کے اور ان کے دونوں بھائیوں (امجد رضا جوہری اور اسد رضا جوہری) کیلئے ایک ایسی نعمت تھا کہ جس کا بدل ممکن نہیں، کسی بھی علمی مسئلے کے حل کیلئے انہیں کبھی نہ کسی اور سے رجوع کرنا پڑا اور نہ ہی کوئی سوال ایسا تھا کہ جس کا جواب علامہ طالب جوہری نے فی الفور نہ دیا ہو۔

 علامہ ریاض جوہری نے یہ بھی بتایا کہ بر صغیر پاک و ہند میں علامہ کی شہرت بطور خطیب عالم اسلام کی تھی لیکن مجتہدینِ عظام اور مراجع کرام کی جانب سے انہیں آیت اللہ کا درجہ حاصل تھا۔ آیت اللہ ایک اعزازی لقب ہے جو اہل تشیع میں درجہ اول اور درجہ دوم کے فقہاء و علماء کو دِیا جاتا ہے۔ اِس اعزازی لقب کو فقہاء اور علماء کے علمی مقام اور منزلت کی خاطر اطلاق کیا جاتا ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے اللہ کی نشانی۔ یہ صرف ان لوگوں کیلئے استعمال ہوتا ہے جو اصولِ دین اور فقہ اور شریعت میں مسلمہ علم رکھتے ہوں۔

ریاض جوہری کے مطابق علامہ طالب جوہری  ایران و عراق کے مجتہدین عظام میں سے معروف آیت اللہ باقر الصدر، آیت اللہ محسن الحکیم، آیت اللہ ابو القاسم الخوئی کی جانب سے فقہی مسائل کا حل دینے کیلئے جو اجازت نامے عطا کئے گئے، ان میں علامہ صاحب کو آیت اللہ علامہ طالب جوہری کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔ ان کی شخصیت و علمیت کا وہ اہم پہلو ہے جس سے شاید خواص تو واقف ہوں، برصغیر پاک و ہند کے کروڑوں افراد جو ان کے مداح ہیں، ان میں سے بیشتر اس سے ناواقف تھے، یہ حضرت کی شخصیت کی سادگی تھی کہ کبھی انہوں نے اس کی تشہیر بھی نہیں کی۔

علامہ طالب جوہری کی علمی میراث کے حوالے سے ریاض جوہری کا کہنا تھا کہ ان کے والد کی میراث، اب وہ اور ان کے دونوں بھائی آگے لے کر چلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ طالب جوہری کی لائبریری، طلب علم کے متوالوں کو سیراب کرتی رہے گی، ان کے مدرسے کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے اور اس کا افتتاح ہونا تھا کہ حضرت کی طبیعت ناساز ہوگئی، اب ان کے چہلم کے بعد اس کا افتتاح کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ  طالب جوہری بلا تفریق مسلک و مذہب سب کو علم سے سرفراز کرتے رہے، ان کے وصال پر صرف مکتب اہل تشیع نہیں بلکہ تمام مسالک اسلامیہ کے اکابرین، ہندو اور عیسائی اسکالرز نے بھی تعزیت کی۔ بھارت، ایران اور عراق کے وزراء اور علمائے کرام نے بھی تعزیت کیلئے رابطہ کیا۔ دنیا بھر بالخصوص امریکا اور یورپ میں اسلام پر ریسرچ کرنے والے افراد نے بھی ان کی تعزیت کی۔ اس سے قبل ان کی زندگی میں بھی جب فہم القرآن اور نشتر پارک میں منعقد ہونیوالی مجالس کے حوالے سے کئی عیسائی اور ہندو افراد خطوط کے ذریعے رہنمائی طلب کیا کرتے تھے، وہ تمام خطوط علامہ طالب جوہری کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔

فنِ شعر گوئی سے رغبت

عجز و انکساری اور شاعری سے رغبت ان کی شخصیت کا خاصا تھی، خود بھی بے مثال اور پر فکر شعر کہتے اور اچھے اشعار سننے کیلئے بے تاب رہا کرتے، سنہ 2006ء میں ایک بار انہوں نے اپنے رفیقِ دیرینہ انیس عباس سے سوال کیا کہ ان دنوں منفرد سلام (سلام شعر کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں خانوادہ اہلبیت پر سلام پیش کیا جاتا ہے) کون کہہ رہا ہے، انیس عباس نے معروف محقق اور اردو لغت بورڈ کے سابق ایڈیٹر عقیل عباس جعفری کا نام لیا۔ انہوں نے جعفری صاحب کے کچھ اشعار علامہ کے گوش گزار کیے، جس پر علامہ بے قرار ہوگئے اور کہا کہ ان سے ملاقات کو چلتے ہیں، اچھا کلام سننے کو ملے گا۔ فون کیا گیا تو عقیل عباس جعفری نے کہا کہ حضور آپ زحمت نہ کریں، میں خود حاضر ہوجاتا ہوں۔

اس واقعے کے کئی برس بعد جب عقیل عباس جعفری اردو لغت بورڈ کے مدیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو ایک ملاقات میں علامہ طالب جوہری نے انہیں پیشکش کی کہ ان کے کتب خانے میں اردو کی اولین لغت نفس اللغہ کا کم یاب قلمی نسخہ موجود ہے، اس کی اشاعت کا اہتمام کیا جائے۔ افسوس کے کچھ تکنیکی مسائل کے سبب وہ نسخہ شائع نہیں ہوسکا۔

نفس اللغہ اردو زبان کی ایک ابتدائی لغت ہے، جسے 1844ء میں میر علی اوسط شاگردِ شیخ امام بخش ناسخ نے تالیف کیا تھا، اس میں اردو الفاظ کے معنی فارسی زبان میں وضاحت کے ساتھ دیئے گئے ہیں۔ الفاظ کی تشریح کافی اختصار سے کی گئی ہے۔ اسی طرح محاورات بھی بہت کم دیئے گئے ہیں۔ کہیں کہیں تشریح ناقص بھی ملتی ہے۔ اس کے علاوہ اس لغت میں اردو الفاظ کی سند یا مثال پیش نہیں کی گئی ہے۔

کراچی کے علاقے گلبرگ میں مقیم پرویز جعفری مرحوم کا شمار علامہ طالب جوہری کے خاص رفقاء میں ہوتا تھا، دونوں گھرانوں میں ذاتی نوعیت کے مراسم ہیں، ان کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ علامہ طالب جوہری ایک بذلہ سنج شخصیت تھے، خوش خوراک تھے اور پلاؤ رغبت سے نوش کرتے تھے۔ سفید بطخوں سے انہیں خاص انسیت تھی اور اپنے رفقاء کو ہدایت کرتے تھے کہ گھر میں بطخیں پالنے سے خوشحالی آتی ہے۔

علم و عرفان کے مینارۂ نور، علامہ طالب جوہری 81 برس کی عمر تک مذہب اسلام کی بیش  بہا خدمات انجام دینے کے بعد 22 جون 2020ء کو کئی دن عارضہ قلب کے سبب اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد خالقِ حقیقی سے جاملے۔ ان کا مشہورِ زمانہ جملہ جب تک اردو اور ذکر کربلا رہے گا، دلوں کو گرماتا رہے گا کہ، بس! میں نے تمہاری زحمتوں کو تمام کیا، تم نے گریہ کیا، مجلس تمام ہوگئی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube