Thursday, August 6, 2020  | 15 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

پاکستان اسٹاک ایکس چینج حملہ اور منصوبہ ساز

SAMAA | - Posted: Jul 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jul 2, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو : آن لائن

کراچی میں واقع پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر (29 جون 2020ء کو) کالعدم بلوچ مسلح تنظیم کے 4 نوجوانوں کا حملہ اگرچہ ناکام بنادیا گیا ہے، یقیناً یہ لوگ بڑی تباہی کی نیت سے آئے تھے، یہ حملہ نوعیت کے لحاظ سے سنگین ہی ہے۔ ایسی ہی حکمت عملی کے تحت کراچی میں قائم چین کے قونصل خانہ پر نومبر 2018ء میں حملہ ہوا تھا جبکہ مئی 2019ء میں گوادر میں ‘‘کوہ باطل’’ پر واقع پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں بھی مسلح تنظیم کے جنگجو گھس گئے تھے۔

گویا ان تینوں واقعات کی منصوبہ بندی، اہداف اور مقاصد یکساں ہیں، تینوں واقعات کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے، حالیہ کارروائی میں مرنے والوں کی شناخت بھی ظاہر کردی ہے، ہلاک ہونے والوں میں سلمان حمل عرف نوتک بلوچستان کے ضلع تربت کے علاقے مند، تسلیم بلوچ عرف مسلم تربت کے دشت، سراج کنگر عرف یاگی تربت کے مقام شاپک کے رہائشی تھے، چوتھا نوجوان شہزاد بلوچ المعروف کوبرا کا تعلق ضلع پنجگور کے علاقے پروم سے تعلق تھا۔

اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کرنیوالے یہ سب بی ایل اے کے فدائی یونٹ ‘‘مجید بریگیڈ’’ کے ارکان تھے، یہ دھڑا اسلم اچھو کی سربراہی میں حیر بیار مری کی بی ایل اے سے الگ ہوا تھا۔ ایک وجہ یہ تھی کہ مری خاندان سے فکری، نظریاتی قربت اور عقیدت رکھنے والے اسلم اچھو مارچ 2016ء میں سبی کے قریب سنگان کے پہاڑوں میں سیکیورٹی فورسز کے ایک بڑے آپریشن میں زخمی ہوگیا تھا، ان کی موجودگی کی اطلاع بی ایل اے ہی کے ایک کمانڈر ‘‘بزرگ مری’’ نے ساز باز کے تحت دی تھی۔

واقعے کے بعد فوری طور پر بلوچستان حکومت نے اسلم اچھو کی ہلاکت کا اعلان کردیا مگر اسلم اچھو شدید زخمی حالت میں افغانستان پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اسے وہاں سے مزید علاج کیلئے نئی دہلی کے ایک اسپتال پہنچایا گیا، صحتیابی کے بعد اس نے حیر بیار مری سے راہیں جدا کرلیں، بزرگ مری نے کچھ عرصہ بعد حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور

سرکاری مراعات وصول کیں۔ بی ایل اے نے بزرگ مری کو نومبر 2019ء میں کوئٹہ کے کلی شابو میں بھائی سمیت قتل کردیا اور ذمہ داری بھی قبول کرلی۔

بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان کے اندر 70ء کی دہائی میں قدم جمائے، مسلح کارروائیاں شروع کیں، یہاں تک کہ مجید نامی شخص نے کوئٹہ کے ہاکی چوک پر اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم حملے کی کوشش کی، جس کی زد میں آکر وہ خود ہلاک ہوگیا تھا۔

اس زمانے میں عبدالولی خان کی سوچ کے تحت ‘‘پشتون زلمئی’’ کے نام سے مسلح تحریک بھی اٹھی تھی۔ ان جنگجوﺅں کی تربیت بھی افغانستان میں ہوتی تھی، جنہیں افغانستان کے حکمراں ظاہر شاہ اور سردار داﺅد، بھارت اور پاکستان کے پشتون قوم پرستوں نے فریب میں ڈال کر استعمال کیا۔ جنہوں نے پشتونستان اور آزاد بلوچستان کے نعروں کو حکومتی پالیسی کا حصہ بناکر حمایت و عملی تعاون کیا۔ یہ سارا تخریبی و سازشی نقشہ بھارت کا تیار کیا گیا تھا۔ افغان حکومتوں کے ذریعے ان کی تمام ضروریات پوری کی جاتیں۔

اس زمانے میں نواب مری، سردار عطاء اللہ کے بھائی اور کئی بلوچ رہنماء کابل میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ اجمل خٹک، افراسیاب خٹک وغیرہ، سندھ اور پنجاب کے لیفٹ سے تعلق رکھنے والے بھی کابل میں جلاوطن ہوگئے تھے۔ مقاصد یہ تھے کہ پشتونستان کے نام سے الگ ملک، آزاد بلوچستان اور سندھو دیش بنایا جائے اور ایک طبقہ کمیونسٹوں کا تھا جو پاکستان میں کمیونسٹ انقلاب یا بغاوت کی سازشوں میں لگے تھے۔ افغانستان پر روسی قبضے کیخلاف افغان جہاد کے شروع ہونے کے بعد یہ ساری خواہشات دم توڑ گئیں۔

بی ایل اے البتہ ایک دبی چنگاری تھی، جس کی قیادت نواب خیر بخش مری مرحوم کے خاندان کے ہاتھ میں تھی۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے انہدام کے بعد نواب مری فیملی اور مری قبیلے کے جلاوطن خاندان پاکستان کے تعاون سے لوٹ آئے۔ نواب مری فیملی کے آنے کے بعد 90ء کی دہائی کے اوائل میں ہی صوبے میں اکا دکا واقعات رونما ہونا شروع ہوئے۔ نواب مری کے فرزندوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے، وزارتیں حاصل کیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں، خصوصاً افغانستان پر امریکی اور نیٹو افواج کے حملے کے بعد بھارت کابل میں کرتا دھرتا بنا تو بلوچستان میں ایک بار پھر باغیانہ سوچ کو تقویت ملی، صوبے کے اندر شورش کے آثار واضح ہونا شروع ہوئے۔

نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے نوابزادہ بالاچ مری در پردہ بلوچ لبریشن آرمی کو پھر سے فعال و منظم کرتے رہے، حالانکہ بالاچ مری 2002ء کی بلوچستان اسمبلی کے رکن بھی تھے، جو اسمبلی کے فقط حلف برداری کے اجلاس میں ہی شریک ہوئے اور کچھ عرصہ بعد پہاڑوں پر چلے گئے، یوں مسلح کارروائیاں پھر سے شروع ہوگئیں۔

نواب اکبر خان بگٹی کی 26 اگست 2006ء کو موت کے واقعے سے اس سوچ کو مزید تقویت ملی، رفتہ رفتہ کئی دیگر مسلح تنظیمیں بنیں، متوسط بلوچ گھرانے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اللہ نذر نے بلوچ لبریشن فرنٹ کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھ لی۔ سردار اختر مینگل کے بھائی میر جاوید مینگل نے لشکر بلوچستان کے نام سے مسلح گروہ تشکیل دیا۔ نواب بگٹی کے پوتے نوابزادہ براہمداغ بگٹی نے بلوچ ری پبلکن آرمی کے نام سے مسلح تنظیم بنالی۔ بالاچ مری کے افغانستان میں انتقال کے بعد نواب مری کے صاحبزادوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور حیربیار مری نے بی ایل اے کی قیادت سنبھال لی جبکہ زامران مری نے یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے نام سے الگ کارروائیاں شروع کردیں، نواب مری کے خود ساختہ جلا وطن بیٹے گزین مری البتہ بلوچستان لوٹ آئے اور عدالتوں کا سامنا کیا۔

واشنگٹن نے 2 جولائی 2020ء کو بلوچستان تنظیم بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرلیا۔ گویا ان گروہوں نے صوبے میں تباہی مچا رکھی ہے، انہیں قوم پرست سیاسی حلقوں کی حمایت حاصل تھی، وکلاء، ڈاکٹروں، طلبہ، اساتذہ، ادیبوں، صحافیوں اور بیورو کریسی وغیرہ میں بھی یہ سوچ سرایت کرچکی ہے۔ افغانستان ان کی پناہ گاہ، تربیت گاہ اور مالی اور اسلحہ کی کمک کا مرکز بن گیا ہے، صوبے کا غالب حصہ شورش کی زد میں آگیا۔

ان تنظیموں کی جانب سے بلوچستان میں دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد موت کے گھاٹ اُتارے جانے لگے، اسی طرح سرکاری ملازمین خواہ تعلق تعلیمی اداروں سے ہو، اسپتالوں سے، پولیس، لیویز، ایف سی اور فوجی اہلکاروں کو بالخصوص نشانے پر لیا گیا، صحافیوں کو بھی نہ بخشا گیا، سیاسی و قبائلی اہم شخصیات پر حملے ہوئے، بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس نواز مری کو قتل کردیا گیا۔

ایسی ہی کارروائیوں میں کوئٹہ میں صوبائی وزیر تعلیم شفیق احمد خان کا گھر کے سامنے ہدفی قتل ہوا، نواب ثناء اللہ زہری کے بیٹے سمیت خاندان کے افراد کو بم حملے میں قتل کیا گیا، بلوچستان یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر صفدر کیانی اور شعبہ ابلاغ عامہ کی خاتون پروفیسر ناظمہ طالب، لائبریری سائنس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر خورشید انصاری سمیت کئی پروفیسر اور دوسرے اساتذہ کی زندگیاں بھی چھین لی گئیں۔

شدت پسندوں کا نشانہ بننے کے خوف سے جامعہ بلوچستان اور دیگر تعلیمی اداروں کے غیر مقامی اساتذہ سمیت کئی دیگر شعبوں کے ماہرین صوبہ چھوڑ کر چلے گئے، مسلح تنظیموں کی جانب سے سرکاری تنصیبات کو تباہ کیا جاتا، بجلی کی مرکزی ٹرانسمیشن لائنیں، گیس پائپ لائنیں اڑائی جاتی ہیں، ریلوے ٹریک اور ریل گاڑیوں پر بھاری اسلحہ سے حملے ہوتے ہیں۔

قومی شاہراہوں پر بسیں روک کر مقامی و غیر مقامی افراد کو اتار کر شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد قتل کردیا جاتا ہے، لوگ اغواء ہوتے بدلے میں تاوان طلب کیا جاتا۔ سرمایہ داروں اور تاجروں سے بھتے لئے جاتے ہیں، تعمیراتی منصوبوں کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا ہے۔ تعمیراتی کمپنیوں کے ماہرین اور مزدور مارے جاتے، حتیٰ کہ آغاز میں صنعتی شہر حب اور گوادر میں چینی انجینئرز کو بھی قتل کیا گیا۔

غیرقانونی طور پر ایران جاتے ہوئے دوسرے صوبے کے نوجوانوں اور افغان باشندوں کو بسوں سے اتار کر بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے، کالعدم مذہبی تنظیموں نے بھی ان حالات سے فائدہ اٹھایا، صوبے کو بھاری نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئیں۔ عدلیہ، پولیس اور لیویز کا پورا نظام ان کے سامنے بے بس ہوگیا، پاک فوج، آئی ایس آئی اور ایم آئی نے ہاتھ ڈالا تو رفتہ رفتہ یہ تنظیمیں پیچھے ہٹتی گئیں، نتیجتاً حالات بہتر ہونا شروع ہوئے۔ یقیناً اس وقت بلوچستان میں ان تنظیموں کی عملیات پہلے جیسی نہ رہی ہیں، البتہ وقتاً فوقتاً کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔

ان تنظیموں سے وابستہ افراد گرفتار ہوتے ہیں تو انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ان کی اپنی بنائی ہوئی تنظیمیں جبری گمشدگیوں کا شور بلند کردیتی ہیں۔ ایک عمومی مشاہدہ یہ بھی ہے کہ اکثر جنگجوﺅں کی گمشدگی کی ابتدائی رپورٹ متعلقہ تھانوں میں درج کرائی جاتی ہے۔ جب کسی آپریشن کے نتیجے میں گرفتاری ہوتی ہے یا لاپتہ کردیا جاتا ہے تو ان تنظیموں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فلاں بے گناہ ہے جس کی گمشدگی کی رپورٹ پہلے ہی تھانے میں درج کرائی جاچکی ہے، دوسری جانب یہ تنظیمیں اپنے لوگوں کا جھڑپ میں مارا جانا تسلیم بھی کرتی ہیں، اپنے لوگوں کو خراج تحسین بھی پیش کرتی ہیں۔

بی ایل اے کا کمانڈر اسلم اچھو انتہائی مطلوب شخص تھا، اس نے فدائی حملوں کی حکمت عملی اپنائی، سب سے پہلے اپنے نوجوان بیٹے کو منتخب کیا، جس نے اگست 2018ء میں دالبندین میں چینی انجینئرز کی بس پر خودکش حملہ کیا، چینی قونصل خانے، گوادر میں پی سی ہوٹل جیسے واقعات نے چین اور پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا۔ یہ کمانڈر دسمبر 2019ء میں قندھار میں بم دھماکے میں چند دوسرے بلوچ کمانڈروں کے ساتھ مارا جاچکا ہے۔

اس بات میں شک نہیں کہ ان تنظیموں، جس میں اب پی ٹی ایم کا اضافہ کرایا جاچکا ہے کی پوری کمک افغانستان سے ہورہی ہے اور راہ نما بھارت ہی ہے، ان تنظیموں اور بنگلہ دیش کی عوامی لیگ اور مکتی باہنی کی سیاسی پروپیگنڈے، جنگی اصول و طریقۂ کار اور ابلاغ میں گہری مماثلت ہے۔

یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube