Monday, August 10, 2020  | 19 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

بلوچستان حکومت کی سرپرستی سے محروم کھیل معدومیت کا شکار

SAMAA | - Posted: Jun 23, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 23, 2020 | Last Updated: 2 months ago

تحریر: ارباز شاہ

بلوچستان میں 30 سے زیادہ کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ یہاں کے نوجوان سب سے زیادہ کرکٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے بعد فٹبال کے شاٸق بلوچستان میں زیادہ ہیں۔ بلوچستان کے بلوچ بیلٹ میں فٹبال نوجوانوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے جبکہ اس کے برعکس بلوچستان کے پشتون بیلٹ میں نوجوان کرکٹ زیادہ کھیلتے ہیں اور اسے پسند کرتے ہیں۔

یوں تو پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے لیکن بلوچستان میں کرکٹ کو زیادہ اہمیت ملنے کی وجہ سے بلوچستان سے ہاکی سمیت دیگر کھیل وقت کے ساتھ  ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ شیر محمد کاکڑ کا تعلق بلوچستان کے ضلع ژوب سے ہے۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے انہوں نے ہاکی اسٹک کے بجائے عام لکڑی سے گھر میں اپنے کزنز کے ساتھ ہاکی کھلینا شروع کیا۔ ژوب میں ہاکی سہولیات اور گراؤنڈ نہ ہونے کی وجہ سے شیر محمد کاکڑ ہاکی سیکھنے اور اپنے شوق کو پائے تکمیل تک پہنچانے کیلئے 2016 میں کوئٹہ منتقل ہوئے۔ انہوں نے کوئٹہ کے چھوٹے گراؤنڈز میں ہاکی کھیلی اور پاکستان انٹرنيشنل جونيئر ہاکی ٹیم تک رسائی حاصل کی۔ شیر محمد سمجھتے ہیں کہ ’’بلوچستان میں ہاکی کی تنزلی کی وجہ گراؤنڈز کی کمی اور سہوليات کا فقدان ہیں۔ شیر محمد کاکڑ کے بقول بلوچستان سے ہاکی سمیت دیگر کھیل اب بالکل ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہاکی کے کھلاڑیوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے بڑا مسٸلہ گراؤنڈز کی کمی ہے اور اس کے بعد بلوچستان حکومت کی عدم دلچسپی اور کرکٹ کے علاوہ دیگر سپورٹس سے متعلق واضح حکمت عملی نہ ہونا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بلوچستان کے ہاکی کے کھلاڑیوں کو بہتر سہوليات فراہم کرے کیونکہ بلوچستان کے قبائلی علاقوں میں بچے غریب ہیں۔ جو کہ زیادہ خرچہ برداشت نہیں کر سکتے ہیں‘‘۔

بلوچستان سے کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کے ختم ہونے کی وجہ شیر محمد کے مطابق اسپانسرشپ نہ ملنا اور میڈیا کا صرف کرکٹ کو ہی ترجیح دینا ہے۔ شیر محمد مزید کہتے ہیں کہ ’’بلوچستان میں اب بھی وہ کرکٹ موجود نہیں ہے جو پاکستان کے دوسرے صوبوں میں ہے جس طرح دوسرے شہروں کے کھلاڑیوں کو سپورٹ ملتی ہے ویسی سپورٹ بلوچستان کے کھلاڑیوں کو نہیں ملتی ہے۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں کرکٹ کو سب سے زیادہ میڈیا کی معاونت حاصل ہے اس کے بعد کرکٹ کو مختلف محکموں کا تعاون حاصل ہیں اور ساتھ میں مختلف کمپنیاں (اسپانسرز) بھی انھیں اسپانسر شپ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں کرکٹ کو زیادہ ترجيح دی جاتی ہے‘‘۔

اشرف خان بلوچستان کے دارالحکومت کوٸٹہ میں کھیلوں کا سامان بیچتا ہے۔ ان کا کام کوئٹہ سے لیکر افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میری دکان سے شہری زیادہ تر کرکٹ کے ہی سامان کو لے کر جاتے ہیں یہاں کے لوگوں کا پسندیدہ کھیل کرکٹ ہے۔ کبهی کبھار کوٸی شہری آتا ہے تو دیگر کھیلوں کا سامان خرید لیتا ہے اور یہ بھی شاذ و نادار ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے مطابق یہاں زیادہ تر کرکٹ کے سامان کی مانگ ہے۔ خاص طور پر جب کرکٹ کا کوٸی بڑا ٹورنامنٹ جیسے کہ پاکستان سپر لیگ کا آغاز ہوتے ہی میری دکان میں پہلے سے ذیادہ رش بڑھ جاتا ہے‘‘۔

عادل خان باسکٹ بال کا کھلاڑی ہیں۔ عادل خان کہتے ہیں کہ ’’میں جب روزانہ صبح ایوب اسٹیڈیم پریکٹس کیلئے آتا ہوں۔ تو دیکھتا ہوں زیادہ تر کھلاڑی کرکٹ کے ہوتے ہیں۔ ہاکی، باسکٹ بال وغيرہ کے کھلاڑی نظر نہیں آتے ہیں۔ میرا بھی تعلق اسپورٹس سے ہے میں باسکٹ بال کا کھلاڑی ہوں لیکن اب بلوچستان میں باسکٹ بال صرف دیکهنے کی حد تک رہ گٸی ہیں۔ پہلے اس کھیل کے مداح بلوچستان میں ہوا کرتے تھے کیونکہ باسکٹ بال گراؤنڈز میں کھیلا جاتا تھا۔ اب حکومت کی باسکٹ بال کی جانب عدم دلچسپی اور کرکٹ پر مزکور توجہ نے باسکٹ بال کو متاثر کر رکھا ہے۔ بلوچستان کی حکومت کو چاہیے کہ کرکٹ کے ساتھ دیگر کھیلوں کی بھی سرپرستی کرے تاکہ ہم صوبے اور ملک کا نام روشن کرسکیں لیکن بدقسمتی سے صوبائی حکومت اس معاملے میں غفلت برت رہی ہیں‘‘۔

بلوچستان میں کھیلوں کی سرگرمياں اور صورتحال پاکستان کے دوسرے صوبوں کی نسبت مختلف ہے۔ بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کوٸی کمی نہیں لیکن یہاں پر کھلاڑیوں کو سہوليات میسر نہیں ہے۔ سہوليات میسر نہ ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کی عدم دلچسپی کے ساتھ اسپانسرشپ اور گراؤنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کھلاڑی دل برداشتہ ہو کر کھیلوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت میں کھیلوں کے چند ہی گراؤنڈز باقی رہ گٸے ہیں جن میں سرفہرست ایوب اسٹیڈیم، صادق شہید گراؤنڈ اور ہاکی گراؤنڈز ہیں جہاں کھلاڑی ہیں لیکن ان گراؤنڈز کو بھی سیاست کی نذر کیا گیا ہے۔

بلوچستان اسپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے انفارميشن سیکرٹری منور شاہوانی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’’بلوچستان میں تمام سیاسی جماعتوں کے سیاسی جلسے کھیل کے میدانوں میں ہوتے ہیں لیکن جب یہی جماعتیں حکومت میں آجاتی ہیں تو ان میدانوں پر توجہ نہیں دیتے۔ جلسوں کے دوران عوام کے ہجوم گراؤنڈز کے اندر جاتے ہی بےدردی سے کٸی مہینوں کی محنت سے اُگائے گٸی گھاس کو پیروں تلے روند کر خراب کر دیتے ہیں جس کے بعد گراؤنڈز کھیلنے کے قابل ہی نہیں ہوتے‘‘۔

منور شاہوانی مزید کہتے ہیں کہ ’’بلوچستان سے کرکٹ کے علاوہ دوسرے کھیلوں کے مدھم ہونے کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی اور کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم نہ کرنا ہے، اگر کچھ کھلاڑی اپنے محنت اور لگن جبکہ اپنے جیب خرچی سے سامان لے کر تیار ہو بھی جائیں تو نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر کھیلنے کیلئے اسپانسر نہیں کیا جاتا ہے، اگر پھر بھی کچھ کھلاڑی اپنے خرچے پر ملک کی نمائندگی کریں اور گولڈ میڈل لے کر آٸیں تو کھلاڑیوں کے استقبال تک کے لٸے کوئی حکومتی ارکان نہیں جاتا جس کے باعث کھلاڑی دل برداشتہ ہو کر کھیل سے دور ہوجاتے ہیں‘‘۔

اپنے حالیہ بین الاقوامی دورے پر گولڈ میڈل جیتنے والے بلوچستان کے واحد باکسر وسیم خان کا کوئٹہ ائرپورٹ پر کوئی استقبال نہیں ہوا تھا جس کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں وسیم خان نے دل برداشتہ ہو کر کہا کہ ’’بلوچستان کے ٹیلنٹ کو حکومتی سطح پر کوئی تعاون حاصل نہیں‘‘۔

حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے خواتين کھلاڑیوں کو بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتين کھلاڑیوں کے پاس الگ سے اپنا کوٸی گراؤنڈ نہیں ہے جہاں وہ پریکٹس وغیرہ کر سکیں۔ بلوچستان کرکٹ ٹیم کی کپتان امن بلوچ کہتی ہیں کہ ’’بلوچستان میں جس طرح مردوں کی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کیا جاتا ہے ویسے خواتین کرکٹ ٹیم کو سپورٹ نہیں کیا جاتا ہے۔ بلوچستان سے خواتين کرکٹ ختم ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ کوٸی ٹورنامنٹ وغیرہ نہیں ہوتے ہیں۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ سال میں ایک یا دو دفعہ خواتين کے ٹورنامنٹس کروائے‘‘۔

امن بلوچ کا مزید کہنا ہے کہ ’’میڈیا جس طرح مردوں کی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرتا ہے اسی طرح میڈیا کو چاہیے خواتين کرکٹ ٹیم کو بھی سپورٹ کرے۔ ہمارے مساٸل کو میڈیا ہی اجاگر کر سکتا ہے میڈیا ہی ہماری آواز حکومت تک پہنچا سکتی ہے۔ اگر ہمارے مسائل حل نہ ہوئے تو بلوچستان سے خواتين کرکٹ بلکل ہی ختم ہو جائے گی‘‘۔

کرکٹ کے علاوہ دوسرے کھیلوں کے نظر انداز ہونے پر میڈیا بھی قصور وار ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک کرکٹ ٹیسٹ میچ کھیلنے والا کھلاڑی ذیادہ کوریج لے جاتا ہے جبکہ دوسری طرف کوٸٹہ سے تعلق رکھنے والے ڈبليو بی سی چیمپیئن محمد وسیم جیسے باکسر جنہوں نے بیرون ملک میں کئی بار پاکستان کا نام روشن کیا ہے یا پھر کم عمری میں 38 گولڈ میڈلز جیتنے والی پاکستان کی کراٹے چیمپیئن کلثوم ہزارہ ہوجائے یا دیگر اسپورٹس کے کھلاڑی ہوں جنہیں کرکٹ کی وجہ سے میڈیا میں زیادہ توجہ نہیں ملتی ہے۔ بلوچستان میں دیگر کھیلوں کے بہت سے ایسے بڑے نام موجود ہیں جنہوں نے انٹرنيشنل سطح پر پاکستان کا نام متعدد بار روشن کیا ہے لیکن کرکٹ کی وجہ سے میڈیا میں ذیادہ نمایاں نہیں ہوتے ہیں۔

بلوچستان کے کھلاڑیوں کے ساتھ کئی بار نا انصافی پر میڈیا ان کی آواز بھی بنا ہے۔ میڈیا نے جب بھی کسی کھلاڑی کے لٸے آواز اٹھاٸی ہے تو فوری طور محکمہ کھیل کی جانب سے نوٹس لے کر کھلاڑیوں سے ملاقات کے لیے مدعو بھی کیا گیا ہے لیکن ایسے بہت ہی کم کھلاڑی ہوں گے کہ جن کے مطالبات مانے گئے ہو۔ اکثر کھلاڑی تاحال مشیر کھیل، سیکرٹری کھیل اور ڈی جی کھیل کے دفتر کے طواف کرنے پر مجبور ہیں جس کے بعد پھر کھلاڑی دل برداشتہ ہو کر کھیل کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیتے ہیں‘‘۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ کھیل بلوچستان درا بلوچ اس بات کو من گھڑت سمجھتے ہیں کہ ’’محکمہ کھیل صرف کرکٹ کو پروموٹ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں دیگر کھیلوں کے فروغ کیلئے محکمہ کھیل اقدامات اٹھا رہا ہے۔ مختلف کھیلوں سے منسلک کھلاڑیوں کے دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ کھیل بلوچستان گراؤنڈز کی تعمیر اور لوجسٹکس کی فراہمی پر توجہ دے رہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ باہر سے ٹیمیں لاکر بلوچستان کے مختلف کھیلوں سے منسلک کھلاڑیوں کو ٹریننگ دیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں صوبے کی نمائندگی کرسکیں‘‘۔

درا بلوچ کے مطابق بلوچستان کے رواں مالی سال کے بجٹ میں بلوچستان کے ہر ضلع میں اسپورٹس کمپلکس بنانے کی تجویز دی گئی ہیں بجٹ پاس ہونے کے بعد ہر ضلع میں اسپورٹس کمپلکس تعمیر کئے جائیگی جو کہ بلوچستان میں کھیلوں کیلئے ایک بہترین اقدام ہے اس سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

  1. Small dullah  June 23, 2020 11:25 pm/ Reply

    Nice piece

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube