Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بلاگز

سکھوں کاقدیم رتن تلاؤ گردوارہ اپنی شان وشوکت کھوچکاہے

SAMAA | - Posted: Jun 19, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 19, 2020 | Last Updated: 4 months ago

تحریر: اقراء مجاہد بیگ

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آئینی سطح پر اکثریت میں مقیم مسلم آبادی کی طرح غیر مسلم اقلیتوں کو بھی مذہبی آزادی حاصل ہے اور مذہبی ہم آہنگی کے قوانین آئین پاکستان میں واضع ہیں جن میں سے اہم آرٹیکل 20 ہے۔ جو پاکستان میں مقیم اقلیتیوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ قانون، امن و عامہ اور اخلاق کے تابع رہتے ہوئے اپنے مذاہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے میں آزاد ہیں۔ کوئی بھی اکثریتی یا اقلیتی مذہب کے ماننے والے مذہبی گروہ یا فرقہ کو اپنے مذہبی ادارے بنانے اور انکا نظام چلانے میں مکمل آزاد کرتا ہے۔ آرٹیکل 26 بھی مذہبی ہم آہنگی کو بڑھاتا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ کسی بھی پبلک مقامات پر مذہب رنگ نسل و فرقہ کی بنیاد پر کسی امتیازی سلوک کی اجازت نہیں ہے۔ مختلف اقلیتیوں کی طرح سکھ مذہب کے ماننے والے بھی مذہبی ہم آہنگی کے قوانین پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔
صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں رامیش سنگھ خالصاً بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے بہت عرصے سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خدمت خلق اور سکھ کمیونٹی کے درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے 16 برس سے وہ اپنا کردار نبھا رہے ہی۔ رامیش بتاتے ہیں کہ 2005 میں انہوں نے اس وقت کی وزیر تعلیم انیتا غلام علی کو ایک درخواست جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ قیام پاکستان سے قبل 1933 میں موجودہ پریڈی تھانہ کے سامنے سکھوں کی جانب سے اس علاقہ کے پہلے گردوارا رتن تلاو کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گردوارا رتن تلاو تقسیم پاک و ہند کے بعد حکومت پاکستان کی ملکیت میں لیا گیا جسے بعد ازاں محکمہ تعلیم کے سپرد کر دیا گیا۔ اس گردوارا اور یہاں کی جانے والی عبادات کے بارے میں 1945 کے بعد سے کوئی نشان نہیں ملتے مگر 1994 سے سکھ برادری نے اس گردوارا کے حصول کے لئے کوششیں تیز کی ہیں جو اب تک سرکاری دفاتر اور کاغذی درخواستوں سے باہر نہیں نکل سکیں اور حکومتی سطح اس معاملے پر اقدامات سست روی کا شکار ہیں۔
گردورا رتن تلاو کے عمارت خستہ حال ہو چکی ہے اور اترے ہوئے پلاستر اور کچرے کے جا بجا ڈھیڑ یہاں نظر ڈالنے والوں کو چیخ چیخ کر وقت کی ستم ظریفی دیکھاتے ہیں جبکہ یہ خستہ حال عمارت نبی باغ کالج کے وسط میں آج بھی موجود ہے۔
پاکستان سکھ کونسل کراچی کے سربراہ رامیش سنگھ کے مطابق کراچی میں لگ بھگ پانچ ہزار بابا گرو نانک کی تعلمیات پر عمل کرنے والے سکھ آباد ہیں۔ سکھ کمیونٹی کے لئے کوئی ایسا کمیونٹی سینٹر قائم نہیں جہاں وہ مذہب سے لیکر اپنی کمیونٹی کے افراد کے ساتھ سماجی رابطے میں رہتے ہوئے کمیونٹی کی خوشی اور غم میں ساتھ شریک ہو سکیں۔ سکھ کمیونٹی سینٹر کے قیام کے لئے اکتوبر 2019 میں آواز اٹھائی گئی جس کے سلسلے میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی سکھ وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ  جلد از جلد ایسے سکھ کمیونٹی سینٹر یا گردوارا کا قیام عمل میں لائے گے جہاں مشترکہ طور پر زیادہ سے زیادہ سکھ افراد شامل ہو اس میں مگر 8 ماہ گزرنے کے باوجود بھی اس پر عمل درآمد ہوتا دیکھائی نہیں دے رہا۔
سکھ کونسل پاکستان کے مطابق کراچی میں مجموعی طور پر  سکھ گردواروں کی تعداد پانچ ہے جو شہر کے گنجان علاقوں میں قائم ہیں جبکہ سندھ بھر میں 18 گردوارے ہیں۔ رنچھوڑ لائن میں قائم گردوارے کے گرنتی دیپک سنگھ کہتے ہیں کہ وہ مکمل مذہبی آزادی سے اپنی عبادات کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اقتدار کے ایوانوں میں اس کمیونٹی کے مسائل کو لے جانے کے لئے سندھ اسمبلی سے کوئی نمائندہ ضرور  موجود ہونا چاہیے۔
رامیش سنگھ خالصا نے اسی مقصد کے لئے دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی اقلیتی نسشت کے لئے درخواست جمع کرائی جسے مسترد کر دیا گیا اب سندھ اسمبلی میں اقلیتوں کی نو ریزرو نشستوں میں عیسائی اور ہندو مذاہب سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی شامل ہیں جن میں پانچ اقلیتی نشستوں میں پیپلز پارٹی کے امیدوار، دو نشستیں پاکستان تحریک انصاف، ایک نشست جی ڈی اے اور ایک ہی نشست متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے پاس ہے۔
رامیش کا کہنا ہے کہ لائٹ ہاؤس میں واقع خالصا اسکول بھی سکھوں کی ملکیت تھا، اس مقام کی ملکیت بھی اب صوبائی محکمہ تعلیم کے سپرد ہے۔ یہی حال سکھوں کے قدیم گردوارے رتن تلاو کا بھی ہے جو عدم توجہی اور محکمہ تعلیم کی انتظامی غفلت کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہے۔ ان قدیم مقامات کی بحالی کے حوالے سے رامیش اور انکی کمیونٹی کے افراد جلد موجودہ وزیر تعلیم سعید غنی سے ملاقات کریں گے اور اس مسئلے کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ادھر جب پروفیسر عبدالحمید چنّڑ ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ کو نبی باغ زیڈ ایم کالج کے احاطے میں قائم گردوارے کے حوالے سے رابطہ کیا گیا جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی گردوارے کے حوالے سے لاعلم ہیں جبکہ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی جو خود کراچی کے ہی باسی ہیں انہوں نے بھی اس گردوارے کے بارے آگاہی سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق ویر جی کوہلی نے گردوارے کے حوالے سے کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی درخواست جمع کرائی جائے گی تو وہ ضرور اس اہم معاملے کو سنجیدہ لیں گے اور اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے گا۔
بیوروکریسی اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہے لیکن سکھوں کا قدیم رتن تلاؤ گردوارا کھنڈر کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کالج کے ایک استاد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ گردوارا تو یہاں قائم لیکن یہاں سکھ سال یا ڈیڑھ سال بعد کہیں چکر لگاتے ہیں۔
رامیش کہتے ہیں کہ جب رتن تلاو ہمارا گردوارا ہے لیکن یہاں جانے کے لئے بھی کالج کے پرنسپل سے اجازت لینی پڑتی ہے نہیں تو یہاں جانے نہیں دیا جاتا۔ انکا کہنا ہے کہ اگر اس میں کوئی قانونی پیچیدگیاں ہیں تو انہیں جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ اس قدیم گردوارا میں دوبارہ سکھ آذادی سے اپنی عبادات کر سکیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube