Monday, July 6, 2020  | 14 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

بجٹ 2020-21 کا تقابلی جائزہ

SAMAA | - Posted: Jun 16, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: Jun 16, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago

مالی سال 2020-21 کے بجٹ کا کل حجم 71 کھرب 37 ارب روپے ہے جس میں حکومتی آمدنی کا تخمینہ ایف بی آر کی جانب سے محصولات کی صورت میں 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدنی کی مد میں 1610 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق این ایف سی کے تحت وفاق صوبوں کو 2874 ارب روپے کی ادائیگی کرے گا جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے وفاق کی خالص آمدنی کا تخمینہ 3700 ارب روپے اور اخراجات کا تخمینہ 7137 ارب روپے  لگایا گیا ہے۔ اس حساب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 3437 ارب روپے کا خسارہ ہے جو کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا 7 فیصد بنتا ہے۔

گزشتہ مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں اس بار دفاعی بجٹ میں 11.8 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے، تاہم گزشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں یہ 61 ارب کا اضافہ ہے۔ گذشتہ برس ابتداء میں پیش کیے جانے والا دفاعی بجٹ 11 کھرب 52 ارب کا تھا جس میں ترمیم کر کے اسے 12 کھرب 27 ارب کر دیا گیا تھا۔ تاہم اس برس یہ رقم بڑھا کر 12 کھرب 89 ارب کر دی گئی ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج کو 2016، 2017 اور 2018 کے مالیاتی بجٹ میں 10، 10 فیصد کا ایڈہاک ریلیف دیا گیا۔ جبکہ 2019-20 کے مالیاتی سال میں یہ ریلیف پانچ فیصد تھا۔ اس کے علاوہ 2018 میں المیزان ریلیف فنڈ بھی 10 فیصد دیا گیا۔ اس سے قبل 2015 میں بھی مسلح افواج کے گزشتہ چند برسوں کی ایڈہاک فنڈ کو تنخواہ کا حصہ بنا کر مجموعی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا تھا۔ 2015 کے بعد بنیادی تنخواہ میں کسی بھی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ ایڈہاک ریلیف دیا گیا۔ ایڈہاک ریلیف دینے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ بنیادی تنخواہ میں اضافے کی وجہ سے تنخواہ کے ساتھ منسلک دیگر مراعات، جن میں پینشن بھی شامل ہے، میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو قومی خزانے پر بوجھ کا باعث بنتا ہے۔

ماضی میں مسلح افواج کے ارکان کی تنخواہوں میں بڑا اضافہ دو مواقع پر کیا گیا۔ پہلی مرتبہ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے فروری 1999 میں کارگل کا دورہ کیا اور انھوں نے اس سال اعلان کیا تها کہ فوجیوں کی تنخواہ میں بڑا اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد 2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے مسلح افواج کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا تها۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے دلیل دی تهی کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری بڑے فوجی آپریشنز کے باوجود اہلکاروں کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں۔ اس وقت ایک تقابلی رپورٹ بهی پیش کی گئی جس کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کے اہلکاروں کی تنخواہیں خطے میں موجود دیگر افواج سے جن میں بنگلہ دیش بهی شامل ہے، کم تهیں۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی خبر نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے حالانکہ کہ تاریخ گواہ ہے کہ روز اول سے یہ طبقہ ہر بجٹ میں نوازا جاتا رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے 2009 کے مالی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 20فیصد بڑھائی تھیں اسی طرح 2010 میں 15فیصد، 2011 میں 50 فیصد، 2012 میں بھی 15 فیصد اور 2013 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 20فیصد اضافہ کیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے 2014 میں پہلا مالی بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 10 فیصد بڑھانے کا اعلان کیا تھا اور اسی طرح بلترتیب 2018 تک ہر سال مالی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 10 فیصد ہی بڑھتی رہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2019 میں پہلا مالی بجٹ پیش کرتے ہوئے گریڈ 17 سے نچلے ملازمین کی تنخواہیں 10 فیصد بڑھائیں اور گریڈ 17 سے اوپر والے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ 5 فیصد کیا جس پر کافی واویلہ ہوا تھا۔ اس وقت ملک بحران کی صورت حال سے دوچار ہے تو مالی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جا سکیں جس پر سرکاری ملازمین کافی پریشان اور غم و غصے میں دکھائی دے رہے ہیں۔

جبکہ مالی سال 2020-21 کے لیے پینشن کی مد میں 470 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جو گذشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں رکھی گئی رقم میں ایک اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہے۔

تعلیم اور صحت

حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لیے ایچ ای سی کو گزشتہ برس کے مقابلے پانچ ارب اضافے کے ساتھ 64 ارب روپے دیے گئے ہیں۔یکساں نصاب کی تیاری، معیاری نظام، امتحانات وضع کرنے، اسمارٹ اسکولوں کا قیام، مدرسوں کی قومی دھارے میں شمولیت سے تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ تحقیق اور دیگر جدید شعبہ جات مثلاً مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، آٹومیشن اور سپیس ٹیکنالوجی کے حوالے سے تعلیم کے شعبے میں جدت اور حصول کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

قدرتی آفات کی روک تھام

وفاقی وزیر نے کہا کہ زرعی شعبے میں ریلیف پہنچانے کے لیے اور ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حکومت نے کرونا اور دیگر آفات کی وجہ سے انسانی زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کرونا وائرس سے متعلقہ 61 اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے جبکہ کرونا اور کینسر کی تشخیصی کٹس پر بھی ڈیوٹی و ٹیکسز ختم کر دیئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق طبی آلات کی خریداری، حفاظتی لباس اور طبی شعبے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ملک میں ترقیاتی مقاصد کے لیے مختص پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

گذشتہ سال بجٹ میں احساس پروگرام کے لیے 187 ارب روپے رکھے گئے تھے جسے بڑھا کر 208 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس میں سماجی تحفظ کے دیگر پروگرام جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال اور دیگر محکمے شامل ہیں۔

کن چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے؟

بجٹ دستاویزات کے مطابق درآمدی سگریٹس، الیکٹرانک سگریٹس، بیڑی، سگارز اور تمباکو کی دیگر اشیا پرعائد ایف ای ڈی میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

کیفین پر مشتمل درآمد شدہ اور مقامی مشروبات پر ایف ای ڈی 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ڈبل کیبن پک اپ پر ایف ای ڈی کا نفاذ کیا گیا ہے اور اس پر بھی دیگر گاڑیوں کے مطابق ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مہنگائی کو 9.1 فیصد سے کم کرکے 6.5 فیصد تک لانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

اقتصادی مالی سروے 20-2019

مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے مطابق کرونا کی وباء سے قبل معاشی ترقی کی شرح تین فیصد سے بڑھنے کی امید تھی تاہم مالی سال 20-2019 میں جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی ہے۔ رواں مالی سال میں زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 2.67 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبہ متاثر ہوا اور اس میں ترقی کی شرح منفی 2.64 رہی ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں یہ شرح منفی 3.4 فیصد ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube