Saturday, July 11, 2020  | 19 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والا ادارہ مشکلات کا شکار

SAMAA | - Posted: Jun 5, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 5, 2020 | Last Updated: 1 month ago

انفرادی اور اجتماعی مشکل کی ہر گھڑی میں مصیبت زدہ افراد کو مفت سہولیات فراہم کرنے واحد ادارہ ریسکیو 1122 ہے، ریسکیو اہلکار اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ایک فون کال پر عوام کی خدمت کے لیے موقع پر پہنچتے ہیں۔ حادثات ہوں یا قدرتی آفات، دہشتگردی ہو یا کرونا کی وبائی صورتحال ریسکیو اہلکار اپنا فریضہ احسن طریقہ سے سرانجام دے رہے ہیں۔ پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122) کا آغاز 2004 میں ایک قیاس آرائی کےساتھ ہوا تھا کہ اگر آپ کسی ہنگامی صورتحال کے لئے بھی تیار نہیں ہیں تو ڈیزاسٹر کی صورت میں کسی معجزے کی توقع نہیں کریں گے۔ ہنگامی صورتحال اور آفات سے نمٹنے کے لئے محدود صلاحیت شہریوں کی جانوں اور املاک کو خطرے میں ڈال رہی تھی، ایمرجنسی منیجمنٹ پاکستان میں طویل عرصے سے نظر انداز کی جا رہی تھی اور تدریسی اسپتالوں کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں بھی کوئی تربیت یافتہ ایمرجنسی پیرا میڈکس موجود نہیں تھے۔ مریضوں اور مصیبت زدہ افراد کے لئے اسپتال پہنچنے سے پہلے ایمرجنسی ایمبولینس، ریسکیو اور تربیت یافتہ فائر فائٹر سروسز یا آفات سے نمٹنے والے کوئی ذرائع دستیاب نہیں تھے جو اکتوبر 2005 میں زلزلے کے دوران یہ کمی واضح طور پر بےنقاب ہوگئی تھی۔

غیرسرکاری تنظیموں کے پاس دستیاب کچھ ایمبولینسوں میں ضروری سامان اور تربیت یافتہ عملے کی کمی تھی۔ اس طرح کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں شہری بروقت ہنگامی دیکھ بھال کے بنیادی حق سے بھی محروم تھے۔ 2006 میں پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ کے تحت پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کا دائرہ کار پنجاب کے تمام اضلاع تک بڑھایا گیا۔ انہی اضلاع میں جنوبی پنجاب کا پسماندہ ضلع مظفرگڑھ بھی شامل تھا۔ اکتوبر 2009 میں مظفرگڑھ ریسکیو آفس کا افتتاح ہوا۔ مظفرگڑھ دو دریاؤں میں گھرا ہوا ہے۔ 2010 میں ایک بڑے تباہ کن سیلاب نے مظفرگڑھ کو متاثر کیا۔ 2013 اور 2014 میں بھی سیلاب نے کئی علاقوں کو متاثر کیا۔ مصیبت کی ہر گھڑی میں دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والا ادارہ ریسکیو 1122 آج خود مشکلات کا شکار ہے۔ پنجاب حکومت کی عدم توجہ کے باعث نئی گاڑیاں اور ریسکیو سروسز کے لئے فنڈز کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔ ایس او پی کے تحت ایک گاڑی 1لاکھ کلومیٹر تک کی مائیلج کرسکتی ہے لیکن مظفرگڑھ میں یہی گاڑیاں کئی گنا زیادہ مائیلج کرچکی ہیں۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر ارشاد الحق کے مطابق 2009 میں ریسکیو سروس کے آغاز کے فوراً بعد ہمیں 2010 کے سیلاب کا مقابلہ کرنا پڑا جو ایک بہت بڑا ڈیزاسٹر تھا۔ اس میں ہماری گاڑیوں نے بہت زیادہ سروسز دیں، انکی اندرونی اور بیرونی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اسی لئے بہت فکرمند ہیں کہ ہماری گاڑیاں تبدیل ہوجائیں تاحال اس سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہماری گاڑیاں 5 سے 6 لاکھ کلومیٹرمائیلج کرچکی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ گاڑیاں سروسز اور ورکنگ کے اعتبار سے اپنی عمر پوری کرچکی ہیں۔ ہمارے ادارے میں گاڑیوں کی مرمت پر خاص توجہ دی جاری ہے لیکن اسکے باوجود ہمارے پاس 11 ایسی گاڑیاں موجود ہیں جن کی حالت اچھی نہیں ہے انکے انجن کئی مرتبہ اوورہال ہوچکے ہیں جبکہ اس وقت ہماری 14 گاڑیاں آف روڈ ہیں۔

بیمار گاڑیوں کے باوجود بروقت ایمرجنسی رسپانس سے مظفرگڑھ کے ریسکیو ورکرز تو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں لیکن ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان پنجاب حکومت پنجاب سے نئی ایمبولینس اور فنڈز مانگنے کی جسارت نہیں کر رہے۔ ریسکیو پنجاب کا واحد ادارہ ہے جسکی ٹرانسفر پالیسی نہیں بن سکی فیلڈ سٹاف اور ہیڈکوارٹر میں بیٹھے افسران کی کارکردگی میں واضح تضاد ہے فیلڈ سٹاف 24 گھنٹے انسانیت کی خدمت کرنےمیں مصروف ہے لیکن ریسکیو ہیڈکوارٹرمیں تعینات بااختیار افسران فیلڈ سٹاف کی حق تلفی میں لگے ہیں۔ پنجاب کے کئی علاقوں میں پرانی اور مرمت شدہ ایمبولینس حادثات کا شکار ہوچکی ہیں، مخلتف حادثات میں 22 ریسکیو اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔

مظفرگڑھ ایمرجنسی سینٹر میں 31 مئی تک 32 لاکھ 5 ہزار 710 کالز موصول ہوچکی ہیں۔ جن میں 1 لاکھ 38ہزار 645 ایمرجنسی، 34ہزار 160روڈ حادثات، 81ہزار 310 میڈیکل ایمرجنسی، 1247 آگ لگنے، 177 کالز عمارت گرنے، 3ہزار 914 کرائم کیسز، 264 ڈوبنے کے واقعات، 17بارود/بلاسٹ اور17ہزار556 مخلتف نوعیت کی ایمرجنسی کیسز اٹینڈ کئےگئے۔ ان تمام ایمرجنسی کیسز کا رسپانس ٹائم 6منٹ 89 سیکنڈ رہا جبکہ آگ بجھانے کے واقعات پر رسپانس ٹائم 12منٹ رہا ان تمام کیسز میں 1لاکھ 92ہزار 398 مریضوں کو ریسکیو کیا گیا، جائے حادثہ پر 29ہزار 804 افراد کو طبی امداد دی گئی، 1لاکھ 28ہزار 369 زندہ افراد کو اسپتال منتقل کیا جو ایک بڑی تعداد ہے۔

عوامی راج پارٹی کے چئیرمین جمشید دستی نے کہا کہ پرویزالہیٰ نے ریسکیو 1122 کی بنیاد رکھی یہ اچھا ادارہ ہے لیکن افسوس کےساتھ کہنا پڑ رہا ہے سابقہ حکومت نے ابتداء میں ریسکیو 1122 کو نظر انداز کیا اسکے فنڈز کو محدود کر دیا گیا لیکن 2010 کے سیلاب میں ریسکیو کی کارکردگی دیکھ کر انہیں اعتراف کرنا پڑا اور پنجاب میں تحصیل سطح پر بھی ریسکیو سینٹر قائم کئے گئے، ریسکیو واحد ادارہ ہے جو ہر مصیبت میں ایک فون کال پر مفت ایمرجنسی سروسز فراہم کرتا ہے موجودہ دور میں بھی کرونا کےخلاف جنگ میں ریسکیو اہلکار فرنٹ لائن پر ہیں، مریضوں کی شناخت سے لیکر قرنطینہ تک کا مرحلہ ہو یا کرونا سے متاثرہ مریض کی تدفین کا معاملہ ہو ریسکیو اہلکار ہی یہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس وقت پنجاب میں 500 سے زائد نئی ایمبولینس کی اشد ضرورت ہے موجودہ حکومت کو چاہیے جلد از جلد ریسکیو کو نئی ایمبولینس فراہم کرے۔

ایک شہری رانا عاطف نے بتایا ایک بار والدہ کی طبیعت خراب ہونے پر ریسکیو کو مدد کےلئے بلایا والدہ ک وایمبولینس میں اسپتال منتقل کیا۔ گاڑی کی حالت بہت خراب تھی اندر لگی تمام اشیاء بری طرح کھڑک رہی تھیں حتیٰ کہ اسٹریچر کی آٹو میٹک گرپ بھی خراب تھی اسٹریچر کو عارضی طور پر رکھا ہوا تھا خدا خدا کرکے اسپتال پہنچے عملہ کو شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ دو دن پہلے مرمت کرایا تھا ایمرجنسی کیسز زیادہ ہیں ایک مریض اسپتال چھوڑتے ہیں دوسری ایمرجنسی کال انتظار میں ہوتی ہے۔ ریسکیو 1122 بالکل مفت سروسز فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ ہر ایمبولینس میں 1 ڈرائیور اور 2 میڈیکل کی تربیت یافتہ 2 اہکار تعینات ہوتے ہیں جو موقع پر مریض کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہیں ہر گاڑی میں ایمرجنسی سے متعلقہ ادویات کےساتھ ایک آکسیجن سلنڈر بھی موجود ہوتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے فنڈز کی کمی کے باعث آکسیجن سلنڈر کی قلت ہے۔

مقامی شہری ثاقب خان لودھی نے بتایا کہ چند ماہ قبل تھل جیپ ریلی دیکھنے ہیڈ محمد والہ کے علاقے میں گئے راستے میں دیکھا کہ ایک جگہ 2ریسکیو اہلکار ایمبولینس کو دھکا لگا رہے تھے ہم بھی انکی مدد کےلئے رک گئے اسی اثناء میں اور لوگ بھی آگئے گاڑی کو دھکیل کر اس جگہ سے نکالا۔ ریسکیو اہلکار سے پوچھا دوسری گاڑیاں تو باآسانی گزر رہی ہیں آپکی گاڑی یہاں کیوں پھنس گئی۔ اہلکار کا جواب حیران کن تھا کہ گاڑی کا انجن کمزور ہے اس لئے زیادہ زور نہیں لگا سکتی پھنس گئی پہلے بھی اوورہال کراچکے ہیں اب پھر انجن مسئلہ کر رہا۔ افسران سنتے نہیں شکایت درج کرائیں تو دوسرے اضلاع ٹرانسفر کرنے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔

پنجاب میں ریسکیو کے مسائل بارے پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب نیاز حسین گشکوری میں بات ہوئی تو انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو اہلکار بڑی محنت سے شہریوں کی جانیں بچا رہے ہیں خاص طور پر کرونا سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ جان کی پرواہ کئے بغیر فرائض سرانجام دے رہے ہیں اج تک ان کے مسائل بارے علم نہیں تھا، انہوں نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں اپنے ساتھی ممبران صوبائی اسمبلی کے ساتھ ملکر صوبائی اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھاؤں گا، وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرکے ریسکیو کو نئی گاڑیوں کی جلد فراہمی اور فنڈز کی عدم دستیابی بارے آگاہ کروں گا۔

مظفرگڑھ میں 2 بڑی آئل ریفائنری اے ای ایس لعل پیر اور پاک عرب آئل ریفائنری، پاکستان اسٹیٹ آئل کا ڈپو اور فرنس آئل سے چلنے والے 3 تھرمل پاور اسٹیشن قائم ہیں اس وجہ سے مظفرگڑھ میں آئل ٹینکرز کی آمدورفت زیادہ ہے۔ اکثر آئل ٹینکرز الٹنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اتنے حساس ترین ضلع میں ریسکیو 1122 کے زیر استعمال پرانی گاڑیوں کی جگہ نئی گاڑیاں فراہم کرنا بہت اہم ہے۔ رواں سال ممکنہ سیلاب کے پیش نظر مظفرگڑھ میں ہنگامی حالات سے نمٹنا مشکل ہوسکتا ہے۔

ریسکیو ہیڈکواٹرز میں لگے آن لائن مانیٹرنگ ڈیش بورڈ ٹریکر کے زریعے پنجاب بھر کی ناکارہ ایمبولینس کی نشاندہی کر رہے ہیں، ڈی جی ریسکیو پنجاب اپنے ادارے میں وسائل کی کمی اور ریسکیو سروسز میں درپیش مسائل بارے وفاقی وصوبائی حکومت کو بروقت آگاہ کرکے ریسکیو1122 کو مصیبت سے نکال سکتے تھے لیکن اب انتظامی امور سنبھالنے والے ہاتھ کمزور پڑتے جارہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube